خود فریبی کے کنویں سے براہ راست


فطرت نے تمام انسانوں کو جسمانی طور پر تو ایک جیسا بنایا ہے لیکن ذہنی و شعوری اعتبار سے سبھی اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔

انسان کا رہن سہن، اس کا سماج، عمومی رویے اور وہ مخصوص لوگ جن کے ساتھ وہ زیادہ وقت گزارتا ہے ان کی جھلک اس کی شخصیت سے عیاں ہوتی ہے۔

جنگل کے قوانین کی طرح خود فریبی دنیا کے اپنے اصول و ضوابط ہوتے ہیں، لیکن یہ قوانین ایسے ہی نرالے ہوتے ہیں جیسے ہندو گاؤ ماتا کا نجس مادہ بھی آب شفا سمجھ کر پیتے ہیں جبکہ باقی دنیا اسی گائے کی تکا بوٹیاں کھاتے نہیں تھکتی۔

آپ کو زیادہ اچھے انداز میں اپنی بات سمجھانے کے لیے خود فریبی دنیا کو میں مختلف مرحلوں میں بیان کر رہا ہوں۔

(پہلا پہر )

صبح سویرے کان لوہے کا دروازہ بجنے کے منتظر ہوتے ہیں یا پھر گھر سے ایک آدھ بندے کو یہ کہتے ہوئے جاگتے رہنے کا درس کا دیا جاتا ہے کیونکہ اگر دودھ والا دستک دے کر نکل گیا تو شاید قیامت برپا ہو جائے گی، آنکھ کھلتے ہی مشرقی روایات کا بھرم رکھتے ہوئے بیوی ناشتہ ڈرتے ڈرتے بناتی ہے کیونکہ میاں جی میں مشرقی ساس کی روح بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔

خود فریبی کا شکار یہ مجسمہ خوف و ہیبت کا پرچار اپنی کچن کی ہانڈی سے شروع کرتا ہے جہاں وہ بیوی کو زیادہ گھی ڈالنے پر دنیا سے گھی کی کمی کی وعید سناتا ہے، اسی کھینچا تانی میں بچے اٹھتے ہیں تو انہیں رات سونے کے نقصانات بتاتے ہوئے اسے تاریک مستقبل سے جوڑا جاتا ہے اور یوں بچوں کے رات سونے کو غفلت اور بیوی کے کٹورے میں گھی ڈالنے کی خوفناک منظر کشی کر کے یہ صاحب آفس جانے ہی والے ہوتے ہیں کہ موٹر سائیکل میں دو ہفتے قبل ڈلوایا گیا پٹرول ختم ہوتا ہے جس پر مشرق وسطی اور خلیجی ممالک کے کنویں اس خود فریبی انسان کے گھر صبح صبح زیر بحث آتے ہیں۔

( دوسرا پہر )

اللہ اللہ کرتے ہوئے گھر سے آفس روانگی ہوتی ہے، راستے میں درختوں کے پتوں سے لے کر بلند و بالا عمارتوں میں نقائص نکالتے اپنے آپ کو کوستے ہوئے دفتر آمد ہوتی ہے، جہاں پنکچر شدہ موٹر سائیکل سٹینڈ پر لگانے سے پہلے وارداتی آنکھیں کسی شاطر کمانڈو کی سی پھرتی سے اردگرد کے حالات کا جائزہ لیتی ہیں، اگر دو بندے دفتر کے احاطے میں بغیر پریشانی کے کھڑے ہوں تو بس پھر ان کی شامت آئی۔

فوری طور پر مخصوص انداز میں توند لیے یہ صاحب ان کے پاس بجلی کی تیزی سے یہ پچھتاوا لیے پہنچیں گے کہ ہائے اللہ یہ کب سے اس طرح سکون سے کھڑے ہوں گے کاش تھوڑا پہلے آ جاتا۔ انہیں نوکری سے نکالے جانے کے اندیشوں سے خوب ڈراتے ہوئے جناب کی دفتر آمد ہو جائے گی۔

ہر کسی کو ڈرا دھمکا کے خود کو انتہائی محنتی انسان ثابت کرنے کی بھر پور کوشش میں خود ہی مطمئن ہو جاتے ہیں لیکن ایک بات کی تسلی ضرور کرتے ہیں کہ کہیں آج میں نے دوران ڈیوٹی سکون تو نہیں لیا، بند کنویں میں پابند سلاسل ذہن کو دوڑا کر جب اس بات کا یقین کر لیتے ہیں کہ آج کا دن درجن بھر بندوں کو ڈرایا ہے اور خود بھی مسکراہٹ تک چہرے پر نہیں لائی تو سکھ بھری لمبی سی سانس لے کر جناب جاتے جاتے آنے والے کل کی ہیبت ناکی کا پرچار کرنا کبھی نہیں بھولے۔

(تیسرا پہر )

ایسے لوگوں کا حلقہ احباب عموماً ان جیسے ہی لوگ ہوتے ہیں جو کہ خوفزدہ ہو کر اپنی مرضی سے سانس لینا تک بھول چکے ہوتے ہیں۔

گھر پہنچ کر کرنے کو کیونکہ ایسے لوگوں کے پاس کچھ نہیں ہوتا لہذا یہ تمام نئے شکاروں کو پکا کرنے کے لئے دوبارہ بلاتے ہیں، انہیں اس حد تک غلام بناتے ہیں کہ وہ اپنے جوتے گیٹ سے باہر تیار رکھتے ہیں کیونکہ بلاوا کسی بھی وقت آ سکتا، پھر یہ لوگ اپنے شکار کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کرتے ہیں، کب کہاں گیا، کس سے ملا، بات کس سے کی اور جب میں نے فون کیا تو کس کے ساتھ بزی تھے ان تمام چیزوں کا جواب نامہ ہر وقت تیار رکھنا پڑتا ہے ورنہ ناگہانی آفت جس کی وعید یہ لوگ پہلے دن سے سنا رہے ہوتے ہیں اس کو برپا کرنے کا فوری طور پر ماحول بنا دیا جاتا ہے۔

چھٹی کے دن بھی یہ لوگوں کو آئندہ خوفناک کل کی غضب ناکیاں سناتے نہیں تھکتے، اکثر ایسے لوگ کسی سے پانی تک بھی نہیں پوچھتے لیکن اگر کبھی یہ حاتم طائی کی قبر پر لات مار ہی دیں تو پھر ہر ایک نوالے کے ساتھ آپ کو نوحہ خوانی سننا پڑے گی۔

گھر بیٹھ کر لوگوں کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی مکمل چھان بین کر کے خود ہی سے ایک مخصوص نظریہ قائم کرتے ہیں۔ ان کی ہیبت ناکیوں کا شکار افراد سوشل میڈیا کا استعمال ہی چھوڑ کر انہیں مطمئن کرتے ہوئے سکھ کا سانس لیتے ہیں۔

دفتر میں کام کرنے والے تمام افراد کی نجی زندگی ان کی عقابی نظر سے کسی بھی صورت بچ نہیں پاتی کیونکہ یہ تمام ملازمین پر دور بین لگائے رکھنا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں اور یوں صبح چولہے سے بیوی کو زیادہ گھی ڈلنے پر ڈرانے والا سفر دن بھر کی مانیٹرنگ (حسد، بغض، جہالت ) کے بعد رات کو ایک ڈکار پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں خود فریبی کا شکار لوگ معصوم بھی ہوتے ہیں کیونکہ یہ اپنا تن من دھن حتی کہ ہنسنے تک کو ترک کر دیتے ہیں لیکن پھر بھی ان کے تنگی حالات دور نہیں کر پاتے۔

خود فریبی کا شکار لوگ اس مینڈک کی مانند ہیں جو چند فٹ کے بند کنویں میں چھلانگ لگا کر اسے دنیا کے دو کونوں کے درمیان جمپ سمجھ کر خود کو چیمپین سمجھ بیٹھتے ہیں۔

دوستو دنیا بہت وسیع ہے خود فریبی سے باہر نکلیں اس سے پہلے کہ جب آپ کنویں سے نکلیں تب ہر طرف پانی چڑھ چکا ہو۔
نوٹ ( یہ ایک عمومی تحریر ہے جو کہ روزمرہ کے انسانی رویوں پر مبنی ہے، لہذا اسے اپنے اوپر فٹ کرنے کی کوشش نہ کی جائے )

Facebook Comments HS