کرونا کا سبق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا کے بعد دنیا کو بہت صبر آزما دنوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے کیونکہ آج جتنی جدوجہد اس وائرس کے تدارک کے لئے کرنا پڑ رہی ہے اتنی ہی جدوجہد کل اقتصادیات کو پٹڑی پر لانے کے لئے کرنا پڑے گی اگر دنیا کے لیڈر صرف اس کی روک تھام کے لئے ہی سوچتے رہے اور ٹھوس عملی اقدامات نہ اٹھا سکے تو بہت سے لوگ کرونا کا رزق بننے کی بجائے غربت و افلاس کی نذر ہو جائیں گے۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلے کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں آج 82.1 کروڑ لوگ ہر رات بھوکے سو رہے ہیں اور اس رواں سال کے آخر تک تیرہ کروڑ لوگ انتہائی غربت کا شکار ہو جائیں گے۔

اگر کرونا وبا پر قابو نہ پایا گیا تو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں غربت و بیروزگاری میں کس حد تک اضافہ ہو سکتا ہے ماہرین اس ہولناک وبا کے خاتمہ کی پشین گوئی سے قبل اندازہ لگانے سے قاصر ہیں۔ ڈیوڈ بیسلے کا یہ بھی کہنا ہے کہ کل اگر اشیائے خورد و نوش کے فقدان کا دنیا کو سامنا کرنا پڑا تو پیسے ہونے کے باوجود خوردنی اشیا نہیں ملیں گی اس لئے زراعت پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کسی قیمت پر بھی اناج نہیں خرید سکیں گے ڈیوڈ بیسلے کا کہنا ہے کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کو امریکہ، برطانیہ، جرمنی، یورپی یونین، جاپان اور دیگر ممالک سے امداد ملتی ہے اگر ان ممالک کی اقتصادیات بگڑتی ہے تو اس سے ترقی پذیر ممالک کی اقتصادیات متاثر ہو گی۔

ڈیوڈ بیسلے عالمی لیڈروں کو بتا رہے ہیں کہ اشیا کی فراہمی کو برقرار رکھنا کتنا ضروری ہے اس وقت صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ عالمی لیڈروں کی سوچ اس وبا کے باعث محدود ہوتی نظر آ رہی ہے دنیا کے لیڈروں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ اس وبا سے لڑنے کے لئے توانائی درکار ہے اگر دنیا نے اپنی ساری توانائی اس وبا کی توسیع کو روکنے کے لئے صرف کر دی تو پھر اس وبا کے بعد پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لئے توانائی نہیں بچے گی۔

اس وبا کے بعد جو غربت و افلاس میں اضافہ ہوگا وہ تشویشناک ہوگا بیروزگاری ترقی یافتہ ممالک کے لئے باعث تشویش ہو سکتا ہے لیکن پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے لئے اصل مسئلہ بھوک ہو گی اس جان لیوا ہولناک مسئلہ سے نمٹنے کے لئے ہمیں ابھی سے تیاری کرنا ہو گی۔ پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے لئے مستقبل میں بیروزگاری، مفلسی اور بھوک بڑے مسئلے ہوں گے کئی ممالک کے پاس بہترین ہیلتھ سسٹم ہے لیکن کرونا نے اپنی تباہ کاریوں کی داستان رقم کرتے ہوئے وہاں بھی بدترین حالات پیدا کر دیے کیونکہ ان ممالک کے پاس بھی اس وائرس سے نمٹنے کے لئے کوئی ویکسین اور دوا موجود نہیں ہے اگر اس وبا کی شروعات سے ہی دنیا کے تمام ممالک نے متحد ہو کر اس کے تدارک کی تیاری کی ہوتی تو آج حالات اس حد تک سنگین صورتحال سے دوچار نہ ہوتے گزشتہ ایک صدی کے دوران کئی عالمی وباؤں سے دنیا دوچار ہو چکی ہے لیکن کرونا وبا نے دنیا کو اعصابی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

طاقتور ممالک حیاتیاتی ہتھیاروں پر ایک عرصہ سے کام کرتے چلے آرہے ہیں یہ ہتھیار انسانوں کو مارنے کے لئے بنائے جا رہے ہیں اگر جنگ یا کسی اور صورت میں ان ہتھیاروں کا استعمال کیا جائے تو خاص ممالک ہی اس کا نشانہ بنیں گے لیکن کرونا وائرس نے تو سرحدوں کی تفریق کیے بغیر ساری دنیا کو اپنی زد میں لے لیا ہے اور دنیا کے منصوبوں کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔ کرونا وبا یا کسی سازشی تھیوری کا حصہ سمجھ لیں کرونا وائرس کا خاتمہ آج یا کل ہو جائے گا لیکن اس کرونا وائرس سے دنیا کو ایک سبق ضرور سیکھنا چاہیے انسان کو جینے کے لئے جدید جنگی ساز و سامان کی ضرورت نہیں بلکہ غذا چاہیے عالمی دنیا کے لیڈروں کو ڈیوڈ بیسلے کی باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

کرونا کی آہٹ سے قبل ہی دنیا کو اس سے نمٹنے کے لئے منصوبہ بندی کرنا چاہیے تھی لیکن کسی بھی ملک کے پاس ایسے منصوبہ ساز نہیں جو اس وبا کے تدارک کا اہتمام کر سکیں۔ لاک ڈاؤن اس مسئلہ کا کوئی مستقل حل نہیں اس سے دنیا کی معیشتیں تباہی کی جانب گامزن ہیں پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کی معیشت بھی لاک ڈاؤن کے باعث کافی حد تک متاثر ہو چکی ہے جس کے اثرات سے عام آدمی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کو مزید طوالت دینا کوئی دانشمندی نہیں اگر حکومت کوئی قومی منصوبہ بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔

المیہ ہے کہ ہمارے درمیان نہ قیادت نہ کوئی رہنما اور نہ ہی ہم ملت پرست ہیں نہ شعور نہ ہی اتحادیوں سمجھ لیں کہ زوال و تباہی کی تمام تر علامات کے ہم پیکر بنے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان شروع دن سے لاک ڈاؤن کو اس مسئلہ کا حل نہیں سمجھتے لیکن ایس او پیز پر عمل کر کے اس وائرس سے بچا جا سکتا ہے حکومت کو چاہیے تھا کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایمرجنسی اعلان کے بعد تفصیلی منصوبے بنانے کی ضرورت تھی ابھی تک حکومت کے پاس اس وائرس پر قابو پانے کے لئے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں جو کہ المیہ ہے۔

اب تو ملک کے حالات اس نہج کو چھو رہے ہیں آئے روز کوئی نہ کوئی خود کشی کا واقعہ میڈیا کی زینت بن کر حالات کی ستم ظریفی کا ماتم کرتا نظر آتا ہے یقین کریں اس لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ سفید پوش طبقہ متاثر ہو رہا ہے جو دو وقت کی روٹی کے لئے کسی کے سامنے دست دراز نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ کسی صاحب ثروت یا حکومت کی لسٹ میں آتا ہے حالانکہ حکومت کو چاہییے تھا کہ جہاں دیہاڑی دار مزدور کے لئے ریلیف پیکج بنا رہی ہے وہیں متوسط طبقے کو بھی ریلیف فراہم کرنے کے منصوبے کا اعلان کرے۔

لاک ڈاؤن کھولنے کا حکومتی فیصلہ خوش آئند ہے لیکن عوام کو بھی احتیاطی تدابیر کے ساتھ اپنا کاروبار زندگی کی شروعات کرنا چاہیے لاک ڈاؤن کی وجہ سے تجارتی مراکز پر تالے پڑ چکے ہیں یہاں تک کہ ورکرز اور ملازمین کو تنخواہ دینے کے لئے پیسے نہیں اگر وہ تنخواہ ادا نہیں کریں گے تو ان پر جرمانے ہوں گے یعنی ایک مسئلہ کے بعد دوسرا سر اٹھائے کھڑا ہے۔

ملکی معیشت ایسے ہی مستحکم ہو سکتی ہے کہ عام آدمی کا روزگار چلے عوام کو راحت فراہم کرنے کے لئے ان کے کاروبار پر قفل نہ لگائیں بلکہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کروائیں اور عوام کو بھی چاہیے کہ شور کی بجائے شعور سے کام لیں اور اس وبا سے بچنے کے لئے حکومت اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر پر عمل کو ممکن بناتے ہوئے اپنا کاروبار زندگی پر کوئی قدغن نہ لگنے دیں۔ عام آدمی کو حکومت کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اس وبا سے بچنے کی عملاً سعی کرنی چاہیے اگر ہم اس وبا سے نمٹنے کے لئے احتیاط سے کام نہیں لیں گے تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ اپنے زوال و تباہی کی بنیاد ہم خود چن رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *