بلیاں کمزور ہو گئی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”اس وبا نے تو بلیوں سے بھی رزق چھین لیا“ ۔ خاتون خانہ نے صاف کی ہوئی پالک کی مٹھی ایک جانب رکھی اور دکھ کے ساتھ اطلاع دی۔ گھر میں بلی کبھی ہوتی تھی، اب نہیں ہوتی۔ اس لیے بچے محلے کی بلیوں کو دودھ ڈال کر ہی خوش ہو جاتے ہیں۔ بلی گھر کی پلی ہو یا آوارہ، اس کی نفاست اور نخرے کا جواب نہیں۔ ہمارے ہاں دو بلیوں کا آنا جانا ہے، ایک سنہری اور دوسری مٹیالی۔ ان دونوں کا آپس میں شاید کوئی رشتہ بھی ہے، ہمیشہ اکٹھی آتی ہیں اور باورچی خانے کے اس دروازے کے پاس بیٹھ کر جو بالکونی میں کھلتا ہے، ہلکی سی میاؤں کر کے اپنی آمد کی اطلاع دیتیں۔

اس آواز پر بچے تڑپ کر اٹھتے ہیں اور کچھ نہ کچھ ان کی خدمت میں پیش کر دیتے۔ بلیاں اپنی خاطر تواضع کے لیے بچوں کی پھرتیوں پر نگاہ ڈالتیں پھر کھانے کے پیالے کو سونگھ کر فیصلہ کرتیں کہ ماحضر تناول فرمانا ہے یا حاضری لگا کر پلٹ جانا ہے۔ برسوں کے اس معمول میں ان دنوں فرق آ چکا ہے کیوں کہ بلیوں کے پیٹ پسلیوں سے جا لگے ہیں اور جو ڈالو فوراً ہی چٹ کر ڈالتی ہیں۔

بہت پرانی بات ہے، بچپن کی اور بچپن کے بھی اس حصے کی جب دستر خوان پر بزرگوں کی کہی ہوئی کوئی یاداشت میں کچھ ایسے محفوظ ہوتی ہے کہ کبھی محو نہیں ہوتی۔ یہی رمضان کے دن تھے۔ افطاری کا اہتمام ان دنوں بھی ہوا کرتا تھا لیکن کجھور سے روزہ کھولا، دو پکوڑے لیے اور شربت سے حلق تر کر کے نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ نماز کے وقفے کے بعد کھانے کی باری آتی۔ وہ شاید کھانے کی اسی نشست کا واقعہ رہا ہو گا۔ ا ن سطور کے لکھنے والے کی وہ پہلی افطاری ہو گی یا پھر دوسری۔

وہ چکن کا دور نہیں تھا، گوشت پکتا تھا، بکرے کا یا پھر گائے کا۔ اب یہ اندازہ تو بالکل نہیں ہے کہ اس دن کے دستر خوان میں گوشت کی کون سی قسم شامل تھی لیکن وہ تھا گوشت ہی کا کوئی پکوان، یقیناً بہت مزے کا رہا ہوگا، اس لیے میں نے کوئی ہڈی لے کر اس کی صفائی کچھ زیادہ ہی کر ڈالی۔ خلد آشیانی والد نے یہ کیفیت دیکھی تو مسکرائے، پھر کہا، حکم یہ ہے کہ کھاتے ہوئے ہڈی کو بالکل دھو کر نہ پھینکا جائے، کچھ چھوڑ بھی دیا جائے۔

”و ہ کیوں؟“ ۔ بچے نے ہڈی کو منہ میں رکھ کر اس کا گودا کھینچا اور اس کا مزہ لیتے ہوئے سوال کیا۔ ”اس لیے کہ اس رزق پر کچھ حق دوسری مخلوقات کا بھی ہے“ ۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب رات سونے سے قبل بچے کہانی سنا کرتے۔ ان کہانیوں میں شہزادے شہزادی کے علاوہ جن، پری اور آسیب چڑیل کا ذکر ضرور ہوتا۔ یہی سبب تھا کہ اس زمانے میں دوسری مخلوق کے ذکرپر صرف یہی مخلوق ذہن میں آتی لیکن آج اتنے زمانوں کے بعد جب بلیوں کے کمزور ہونے کا سنا تو پہلی بار سمجھ میں آیا کہ خشخشی داڑھی والے ابا جی نے جب کسی دوسری مخلوق کا ذکر کیا تھا تو اس سے ان کی مراد کیا تھی۔

تو واقعہ یہ ہوا ہے کہ اسٹریٹ فوڈ جب سے بند ہوئی ہیں، اس مخلوق کے رزق میں بھی کمی آ گئی ہے جس کی قسمت کبھی انسانوں کے ساتھ لکھی گئی ہوگی۔ گھر میں جب یہ بات ہو رہی تھی، عین اسی وقت عمران خان اپنے دیسی اور بدیسی مشیروں کے جلو میں بیٹھے لاک ڈاؤن کھولنے کے لیے دلائل دے رہے تھے۔ عمران لاک ڈاؤن کا کوئی ایک نقصان گنواتے پھر کسی مشیر کو اشارہ کرتے کہ ان کی تحقیق اس باب میں کیا کہتی ہے، وہ جھٹ سے اعداد و شمار کی مدد سے اس کی تائید کر دیتے۔ ہر چند کہ اس بات چیت میں کسی ایسی مخلوق، خاص طور پر بلیوں کا بیان ہرگز نہیں تھا جن کے رزق کا کچھ حصہ بھی انسانوں کے رزق میں شامل کرد یا گیا ہے، اس کے باوجود یہ بات دل کو لگی لیکن جیسے ہی انھوں نے ٹرانسپورٹ کھولنے کا حکم دیا، ماتھا ٹھنکا اور حمید شاہد کی یاد آئی۔

ہمارا افسانہ منٹو اور اشفاق احمد سے چلتا ہوا اب محمد حمید شاہد تک آپہنچا ہے۔ محمد حمید شاہد کی کہانی بھی عجب ہے، علم انھوں نے زراعت کا حاصل کیا یعنی زرعی سائنس دان ہیں، ملازمت انھیں بینک میں ملی اور اندر سے وہ آٹھوں گانٹھ کمیت ادیب تھے، لہٰذا بینکاری کے اعداد و شمار سے عمر بھر لڑنے جھگڑنے کے باوجود ان کے اندر کا ادیب پھلتا پھولتا رہا۔ سیرت نگاری کی، تنقید میں بھی معرکے مارے لیکن افسانے کے ساتھ ان کا رشتہ حقیقی اور اٹوٹ نکلا۔

یہ تو اب تحقیق کا موضوع ہے کہ عبداللہ حسین جیسے نامور ادیبوں کو چھوڑ کر ہمارے دیگر اہل قلم نے زمینی حقائق اور ان دکھوں کو اپنی تخلیقات میں جگہ کیوں نہ دی جن کی وجہ سے قسمت کی دیوی ہماری نسلوں سے روٹھ گئی اور قوم پے درپے ایسے مسائل میں الجھتی چلی گئی جن سے نکلنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ محمد حمید شاہد ہم عصر ادیبوں میں شاید واحد اور منفرد ادیب ہیں جنھوں نے اس روایت کو توڑا ا ور ایسے تجربات کیے جن کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

ان کا ایک ناول ہے، ”مٹی آدم کھاتی ہے“۔ اس ناول میں انھوں نے المیہ مشرقی پاکستان کو جس تخلیقی انداز میں پیش کیا ہے، وہ ان ہی کا حصہ ہے۔ ہمارے ہاں کہا گیا تھا کہ مشرقی پاکستان کا سانحہ بنگالیوں کا تجربہ ہے، ان کے ادب میں اس کی جھلک آئے تو آئے، ہمارا اس سے کیا لینا دینا لیکن ان کے ناول نے اس تصور (Myth) کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔ حمید شاہد کا تازہ ادبی تجربہ لاک ڈاؤن کی دین ہے۔ وبا کے خوف سے زندگی جب ٹھہر سی گئی اور فضاؤں کے زخم بھرنے لگے تو ایک روز ان کے ایک کردار کے گھٹنوں کا درد غائب ہو گیا اور وہ ایک صبح نوجوانوں کی طرح کدکڑے مارتا ہوا چھت پر جا پہنچا جہاں کثافت سے پاک آسمان میں اسے دور تک دکھانے دینے لگا، یہاں تک کہ گل مرگ کے پہاڑ بھی جن کے پیچھے ہمارے کشمیر ی بہن بھائی بھارتی فوج کے لاک ڈاؤن میں جیتے ہیں اور ایک ایسی صبح کے انتظار میں دست بدعا ہیں جس میں ظلم کا سورج ڈھل جائے اور امن و انصاف کی ایسی باد صبا چلے جس میں کوئی کسی کی گردن میں غلامی کا طوق نہ ڈال سکے۔

ہمارے آسمانوں اور ان کی فضاؤں میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران میں اتنا گرد و غبار چھا گیا تھا کہ گل مرگ کی پہاڑیاں نگاہ سے اوجھل ہوگئی تھیں۔ اب حمید شاہد کی نگاہ ان تک پہنچی ہے تو کیا عجب ہمارے مصلحت کیش ادیب کو بھی یہ چوٹیاں دکھائی دے جائیں نیز ان کی اوٹ میں صبح و شام جبرکی چکی میں پستے ہوئے کشمیری بھی۔ بس، اسی لیے میں سوچتا ہوں کہ عمران خان کی خواہش پر پبلک ٹرانسپورٹ چلے نہ چلے، میں چاہتا ہوں کہ ہماری فضائیں کچھ دن اور آلودگی سے بچی رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *