حوریم سلطان سے کوسم سلطان تک: سلطنتِ عثمانیہ کی شاہی کنیزیں جو کسی ملکہ جتنی بااثر تھیں

اسد علی - بی بی سی اردو، لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حریم سلطان اور قسم سلطان کے پورٹریٹ

Getty Images
حوریم سلطان اور کوسم سلطان کے پورٹریٹ

یہ سنہ ہے 1603 اور منظر ہے سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان احمد اول کے اقتدار کے پہلے سال میں ترک شاہی حرم کا!

یونان کے گاؤں سے سلطان کے لیے تحفے کے طور پر اغوا کر کے لائی گئی ایک دبلی پتلی سی لڑکی نئے سلطان کی دادی صفیہ سلطان کے قدموں میں گر کر گھر واپس جانے کی بھیک مانگ رہی ہے۔

صفیہ سلطان اسے بتاتی ہیں کہ اب یہ ناممکن ہے اور پھر پیار سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے ایک مشورہ دیتی ہیں۔ ’دیکھو بیٹی،ایک عورت کو اپنی زندگی میں کئی کردار نبھانے پڑتے ہیں۔ وہ زندگی کے ہر مرحلے میں ایک مختلف انسان ہوتی ہے۔ ایک بچی، ایک عورت، ایک ماں، اور، اگر وہ سمجھدار ہے اور اس پر خدا کی مہربانی ہے تو وہ سلطانہ بھی بن سکتی ہے۔ فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے کیا انتخاب کرتی ہے۔‘

پھر صفیہ سلطان اپنی بات ختم کرتے ہوئے انستاسیا نامی اس لڑکی سے کہتی ہیں کہ ’اطمینان رکھو، تمہارا مستقبل بہت روشن ہے۔‘

یہ تو تھا انستاسیا کی زندگی پر بنی ترک ٹی وی سیریز کوسم سلطان کا ایک منظر۔ اب سلطنت عثمانیہ کے مختلف حصوں سے اغوا ہو کر اور غلام بن کر شاہی حرم میں پہنچنے والی کچھ لڑکیوں کی حقیقی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جن کا بعد میں شمار اپنے دور کی طاقتور ترین عالمی شخیصات میں ہوا۔

سن 1520 کے ستمبر میں جب سلطان سلیمان کو سلطنت عثمانیہ کے 10 ویں حکمران کی حیثیت سے تخت ملا تو اس کی حدود میں مشرقی بحیرۂ روم، بحیرۂ اسود اور اس کے ساحلی علاقے، آج کے مشرق وسطیٰ میں شامل زیادہ تر علاقے اور جنوب مشرقی یورپ شامل تھا۔

ان کے دور کے ابتدائی برسوں میں ہی بلغراد اور بحیرۂ روم میں رہوڈز کے اہم جزیرے کی فتوحات سے شروع ہو کر سلطنت کی حدود مغرب میں یورپ اور مشرق میں ایشیا میں مزید پھیل گئیں۔

اس وسیع و عریض سلطنت پر تقریباً 50 سال حکمرانی کرنے والے سلطان سلیمان کو یورپ میں اپنی جاہ و حشم کی وجہ سے سلیمان محتشم اور ترکی میں، قانون میں اہم تبدیلیوں کی وجہ سے، سلیمان قانونی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن سلطان سلیمان کے دور میں بظاہر ایک دوررس اثرات والی پیشرفت ان کے حرم اور زندگی میں ایک کنیز کی آمد تھی جسے حرم میں خرم سلطان کا نام دیا گیا اور جسے آج حوریم سلطان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

سلطان سلیمان کے حرم میں اس سے پہلے بھی کنیزیں تھیں اور ان کے پہلے سے بچے بھی تھے لیکن ان کے اور حوریم سلطان کے تعلق کی اس سے پہلے مثال نہیں تھی اور ایک مؤرخ کے نزدیک سلطنت عثمانیہ کے اس دور کو ’سلیمان اور روکسیلانا کا دور‘ بھی کہا جا سکتا ہے۔

حوریم سلطان کی سلطان سلیمان کی زندگی میں آمد کے بعد، اُس سلطنت کی تاریخ میں، جس میں ملکہ کا کوئی باقاعدہ عہدہ نھیں تھا، اس دور کا آغاز ہوتا ہے جسے مؤرخ ’عورتوں کی سلطنت‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

مؤرخ لیسلی پیئرس سلطنت عثمانیہ میں شاہی حرم اور عورتوں کے کردار کے بارے میں اپنی کتاب ’امپیریئل حرم: ویمن اینڈ سوورینٹی ان دی اوٹومن ایمپائر‘ میں لکھتی ہیں کہ ’عثمان(پہلا سلطان) اور ان کے بیٹے اورہان کی نسلوں کے بعد بظاہر سلاطین کے سب بچے کنیز ماؤں سے پیدا ہوئے تھے۔‘

شاہی حرم کی کنیزیں
17ویں صدی کا ایک منظر جس میں شاہی حرم کی کنیز موسیقاروں کے ایک گروپ کے ساتھ آ رہی ہے

لیکن ’سنہ 1520 میں حوریم سلطان کے دور کے آغاز سے لے کر 17ویں صدی کے وسط میں کوسم سلطان کی موت تک سلطنت عثمانیہ کئی اعتبار سے ان خواتین کے زیر اثر تھی جن کی طاقت کی بنیاد اس بات پر تھی کہ وہ اپنے دور میں سلطان کی پسندیدہ کنیزیں تھیں۔ یہُ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حرم سیاست کا مرکز بن گیا تھا۔ ’حرم کا مرکزی رجحان سیکس نھیں بلکہ خاندانی سیاست تھا۔‘

کنیزوں کے اثر و رسوخ کے اس دور کے چار اہم کردار ہیں: خرم یا حوریم سلطان، ان کی بہو نور بانو سلطان اور پھر ان کی بہو صفیہ سلطان اور آخر میں صفیہ سلطان کے پوتے سلطان احمد اول کی پسندیدہ کنیز کوسم سلطان ۔

عثمانوی تاریخ میں ’عورتوں کی سلطنت‘ کا یہ زمانہ یورپ میں بھی طاقتور ملکاؤں کا زمانہ تھا جن میں انگلینڈ کی الزبتھ اول اور فرانس کی کیتھرین دا میدیچی شامل ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یورپ کے مختلف علاقوں سے اغوا ہو کر اور ’بازاد میں بِک کر‘ عثمانوی حرم میں پہنچنے والی ان کنیزوں کی دنیا کے دوسرے شاہی خاندانوں سے برابری کی سطح پر اور پورے شاہی ادب آداب کے ساتھ خط و کتابت بھی ہوئی۔ ’انگلینڈ کی ملکہ الزبتھ اول نے صفیہ سلطان کو سن 1593 میں تحفے میں اپنا پورٹریٹ بھی بھیجا تھا۔‘

مؤرخ لیسلی پیئرس کی حوریم سلطان کی زندگی پر سن 2020 میں شائع ہونے والی کتاب ’ایمپرس آف دی ایسٹ‘(مشرق کی ملکہ) کا موضوع بھی یہی ہے کہ ایک غلام لڑکی کیسے سلطنت عثمانیہ کی ملکہ بن جاتی ہے؟ انھوں نے لکھا کہ ’عثمانیوں میں ملکہ کا باقاعدہ عہدہ نہ ہونے کے باوجود روکسیلانا(حوریم سلطان) نے یہ کردار ادا کیا اور انھوں نے 16ویں صدی میں یورپ کی نامور ملکاؤں کی بھرپور انداز میں برابری کی۔‘

حوریم سلطان کہاں سے آئی تھیں

پیئرس نے ’ایمپرس آف دی ایسٹ‘ میں لکھا ہے کہ ہمیں روکسیلانا کے اصل نام، جائے پیدائش، تاریخ پیدائش اور والدین کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔ تاہم وہ لکھتی ہیں کہ ان کی اس زمانے میں بہت زیادہ اہمیت کے پیش نظر کچھ باتوں پر یقین کیا جا سکتا ہے جیسا کہ ان کا تعلق یوکرین کے علاقے رُتھینیا سے تھا جو اس وقت پولینڈ کا حصہ تھا۔ روکسیلانا کا مطلب بھی ’رتھینیا کی لڑکی‘ ہے اور یورپ والے انھیں اس نام سے پکارا کرتے تھے۔

پیئرس کے مطابق ایک بات مکمل یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کی پیدائش مسیحی خاندان میں ہوئی تھی۔ کچھ عثمانی روایات کے مطابق روکسیلانا ایک پادری کی بیٹی تھی۔

ترکی میں عثمانوی تاریخ اور قانون کے ایک پروفیسر اکرم بورا اکنجے نے حوریم سلطان کے بارے میں اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اس کا اصل نام الیگزانڈرا لیسووسکا تھا اور اسے 12 سال کی عمر میں کریمیا کے تاتاریوں نے اغوا کر کے استنبول بھیج دیا تھا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ شاہی حرم میں باقی کنیزوں کی طرح حوریم سلطان کی بھی کئی سال تک شاہی آداب، عثمانی علوم اور اسلام کے بارے میں تربیت ہوئی اور پھر انھیں ان کی خوش مزاج طبیعت اور مسکراتے چہرے کی وجہ سے خرم نام دیا گیا(جو جدید ترک میں حوریم بن گیا)۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 13420 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp