نیویارک میں میرے چینی مسافر اور کرونا کا خوف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے دو ماہ قبل 13 مارچ کا دن تھا اور وقت تھا رات دس بجے کا، جب اوبر کے ساتھ کام کے دوران میں نے ایک پسنجر کو نیویارک کے جے ایف کے ائرپورٹ کے ٹرمینل فور پر ڈراپ کیا۔ کہانی آگے بڑھانے سے پہلے ذرا ان دنوں کے ایمرجنسی حالات کی تھوڑی سی بیک گراؤنڈ بیان ہو جائے۔

یہ وہی دن تھے جب چین اور اٹلی میں تباہی پھیلانے کے بعد امریکہ میں کرونا وائرس کے نتیجے میں لاک ڈاؤن کے لیے دباؤ مسلسل بڑھ رہا تھا۔ تاہم ابھی تک نیویارک سمیت دیگر ریاستوں میں لاک ڈاؤن اور دیگر حفاظتی پابندیاں شروع نہیں ہوئیں تھیں۔

امریکہ نے ایک دن پہلے ہی یورپ سے امریکہ آنے والی تمام فلائٹس پر پابندی کا اعلان کر دیا تھا۔ تاہم ان پابندیوں کا اطلاق 16 مارچ رات 12 بجے کے بعد شروع ہونا تھا۔ ایک روز بعد ہی یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ انگلینڈ اور ریپبلک آف آئرلینڈ کو بھی ان میں شامل کر دیا گیا تھا۔ تاہم ان ممالک سے آنے والے امریکی شہریوں کو پابندیوں سے استثنا دیا گیا تھا کہ وہ دیگر ممالک سے پروازیں لے کر امریکہ آ سکتے ہیں۔

13 مارچ کو جے ایف کے ائرپورٹ پر معمول کے مطابق پروازیں آ جا رہی تھیں۔ تاہم ماحول میں ایک اداسی اور خاموشی کا عالم تھا۔ مسافر سہمے سہمے سے لگ رہے تھے۔ اور خوف ان کے چہروں سے عیاں تھا۔ میں نے اس دن واضح طور پر محسوس کیا کہ جے ایف کے ائرپورٹ جہاں روزانہ آنا جانا ہمارا معمول تھا۔ اور ہر وقت وہاں چہل پہل اور رنگا رنگی کا عالم ہوتا تھا۔ اس دن ایک افسردگی سی محسوس ہوئی۔ اور اس دن سے لے کر آج تک نیویارک کے کینڈی ائرپورٹ کی رونقیں حقیقی معنوں میں بحال نہیں ہو سکیں۔

ائرپورٹس کونسل انٹرنیشنل (اے سی آئی) کے اعداد و شمار کے مطابق نیویارک کا جان ایف کینڈی دینا کا اکیس واں، امریکہ کا پانچواں مصروف ترین ائرپورٹ ہے۔ جبکہ غیر ملکی مسافروں کے گیٹ وے کے طور پر یہ نارتھ امریکہ کا سب سے بڑا ائرپورٹ کہلاتا ہے۔

پورٹ اتھارٹی آف نیویارک اینڈ نیو جرسی جو دونوں ریاستوں کے چار ائرپورٹس، ٹنلز، پورٹس اور برجز کو کنٹرول کرتی ہے۔ اس کے مطابق 2019 کے دوران کینڈی ائرپورٹ نے چار لاکھ چھپن ہزار ساٹھ مسافر بردار پروازوں کو ہینڈل کیا۔ جس کے نتیجے میں چھ کروڑ پچیس لاکھ اکاون ہزار بہتر مسافروں نے اس ائرپورٹ سے سفر کیا۔ کارگو سائیڈ پر چودہ لاکھ پینتیس ہزار دو سو تیرہ لاکھ ٹن ریکارڈ کارگو کمرشل پروازوں کے ذریعے آپریٹ ہوا۔ عام حالات میں اس ائرپورٹ پر روزانہ 528 پروازیں روزانہ کا معمول تھیں۔

پاکستان انٹرنیشنل آئر لائن (پی آئی اے ) کی پروازیں 2017 کے بعد سے نہ صرف جے ایف کے بلکہ امریکہ کے کسی بھی شہر سے تاحال بند ہیں۔ صرف کرونا کی وجہ سے امریکہ نے پی آئی اے کو عارضی طور پر سپیشل چارٹرڈ پروازوں کی اجازت دی ہے۔

2017 سے پہلے گزشتہ پچاس سال سے پی آئی اے ریگولر پروازیں امریکہ اور خصوصاً جان ایف کینڈی ائرپورٹ آتی اور واپس جاتی رہی ہیں۔

2004 میں ”دی ٹرمینل“ کے نام سے ایک فلم بھی بنائی گئی تھی جس کی مرکزی کہانی اسی ائرپورٹ کے گرد گھومتی ہے۔ ٹام ہینکس اور ریٹا جونیز نے اس فلم میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہ فلم بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

جیسا کہ اوپر ذکر کیا کہ 13 مارچ کو جب کہ ابھی لاک ڈاؤن شروع نہیں ہوا تھا۔ جان ایف کینڈی ائرپورٹ پر پسنجر کو ڈراپ کرنے کے بعد میں ڈبل مائنڈ کے ساتھ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ مزید اب کام کیا جائے یا چھٹی کر کے گھر واپس جایا جائے۔ اسی اثنا میں اوبر کی جانب سے فون پر ائرپورٹ کے ٹرمینل فور سے پک اپ کی ریکوئسٹ آئی۔ جو میں نے یہ سوچ کر قبول کر لی کہ چلو آج کا یہ آخری ٹرپ ہو گا۔

ٹرمینل فور میں داخل ہو کر فون پر پک اپ پوائنٹ پر پہنچنے کا سٹیٹس دے دیا۔ پسنجر کا نام پڑھ کر کچھ کچھ اندازہ ہو گیا تھا۔ کہ کوئی چینی یا کورین ہو گا۔ دونوں قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بظاہر شکلیں تو ملتی جلتی ہی ہوتی ہیں۔ جب تک وہ بولیں نا پتہ نہیں چلتا کہ چینی ہے کورین۔

ائرپورٹ کا ٹرمینل 4 عام حالات میں مسافروں سے کھچا کھچ بھرا ہوتا ہے۔ یہاں پسنجر کو پک کرنا مشکل ترین کام ہوتا ہے۔ مگر اس دن 13 مارچ کو چند پسنجر ہی انتظار کرتے نظر آئے۔

میری نظریں ابھی مطلوبہ سواری کو ڈھونڈ ہی رہی تھیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک چینی جوڑا میری گاڑی کی نمبر پلیٹ کو پڑھتا ہوا پچاس ساٹھ فٹ کے فاصلے سے میری طرف تیزی سے بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ لڑکے نے ماسک لگایا ہوا تھا اور اس کی ساتھی ماسک کے بغیر تھی۔ میں نے ان کو آتے دیکھ کر ٹرپ سٹارٹ کر دیا تاکہ پتہ چل سکے کہ ان کی منزل مقصود کیا ہے۔

فوراً فون پر ظاہر ہوا کہ ائرپورٹ سے ان کی منزل مقصود ریاست پنسلوانیا کا شہر فلاڈیلفیا ہے اور وہاں تک پہنچنے کا فاصلہ 130 میل اور وقت تقریباً اڑھائی گھنٹے لگے گا۔ تجربے کی بنا پر اندازہ ہو گیا کہ اس سواری کا کرایہ کم سے کم بھی ساڑھے تین سو سے چار سو ڈالر کے درمیان بنے گا۔

اب دماغ میں ایک عجیب کشمکش شروع ہو چکی تھی۔ فیصلہ کرنے کے لیے چند سیکنڈ ہی تھے کہ سواری اٹھائی جائے یا انکار کر دیا جائے۔ دماغ میں تین سے چار سو ڈالر کرایہ، چین کا خطرناک شہر ووہان، کرونا وائرس لگنے کا خوف اور سامنے سے ماسک پہنے میری طرف تیزی آتا چینی جوڑا۔ کیا کیا جائے؟ وقت کوئی دس سیکنڈ سے بھی کم اور مقابلہ سخت۔ دل اور دماغ میں جاری خوف اور پیسے کی کشمکش کا انجام بالآخر ڈالروں کی جیت کی صورت میں ہوا۔

پھر بھی کرونا کے خوف سے ڈرتے ڈرتے جوڑے کو گاڑی میں خوش آمدید کہا اور ان کی منزل مقصود کی جانب سفر شروع ہو گیا۔ ان کی گفتگو سے اندازہ تو ہو گیا کہ اپنے چینی ”بہن بھائی“ ہیں۔ مگر پھر بھی خوف کے مارے پوچھنے کی ہمت بھی نہیں ہو رہی تھی کہ اگر پوچھ لیا اور خدا نخواستہ دوران گفتگو ان کی چھینک نکل گئی تو کہیں نیا ”مدعا“ نہ پڑ جائے۔

اسی ادھیڑ بن میں دبک کے بیٹھا گاڑی چلاتا رہا۔ نیویارک سے فلاڈیلفیا جانے کے لیے پہلے نیو جرسی میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ اور وہاں داخل ہونے کے چار رستے ہیں۔ ویریزونا برج، جارج واشنگٹن برج، لنکن ٹنل اور ہالینڈ ٹنل۔ میں اگر برجز لیتا تو پندرہ بیس ڈالر زائد ٹول ٹیکس کے پڑنے تھے۔ نیویارک سٹی کی ٹریفک چیک کی تو ویری زونا برج اور ہالینڈ ٹنل میں فرق صرف پندرہ بیس منٹ کا نظر آیا۔ جبکہ پسنجر کو کرائے میں کوئی فرق نہیں پڑنا تھا دونوں صورتوں میں۔ جبکہ مجھے ٹنل سے جاتے ہوئے کوئی بیس ڈالر کا فائدہ تھا۔ کیونکہ نیویارک سے نیو جرسی جاتے ہوئے ٹنل کا ٹول فری ہے اور صرف نیویارک واپسی کا ٹول دینا پڑتا ہے۔

ہالینڈ ٹنل سے نکل کر ہائی وے این۔ 95 ساؤتھ یا جرسی ٹرن پائیک لیتے ہوئے فلاڈیلفیا کی جانب بغیر گاڑی موڑے کوئی سیدھا 80 میل سفر تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *