متشدد ساتھی اور سٹاک ہوم سنڈروم میں مبتلا شکار کی نفسیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی نفسیات کا یہ حیران کن پہلو بیسویں صدی کے دوسرے نصف تک قریب قریب غیردریافت شدہ حقیقت تھا کہ ظلم، تشدد اور انتہائی ناانصافی کا شکار ہونے والا فرد خود پر ظلم کرنے والے فرد سے محبت کا شکار ہو جاتا ہے بلکہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو ظلم سمجھنے سے بھی قاصر ہو سکتا ہے۔ درحقیقت سٹاک ہوم سنڈروم کی اصطلاح 1973 میں وضع کی گئی جب سویڈن کے شہر سٹاک ہوم میں ایک بینک ڈکیتی کے دوران مجرموں نے تین عورتوں اور ایک مرد کو یرغمالی بنا لیا۔ چھ روز تک یرغمالی رہنے کے بعد یہ افراد بازیاب کرائے گئے تو انہوں نے اپنے اغوا کنندہ افراد کے خلاف عدالت میں گواہی دینے سے صاف انکار کر دیا۔ ابتدائی طور پر اسے مغوی افراد کے خوف کا نتیجہ سمجھا گیا تاہم تفصیلی نفسیاتی مطالعے کے بعد معلوم ہوا کہ سٹاک ہوم سنڈروم محض مغوی افراد ہی میں رونما نہیں ہوتی بلکہ بہت سے دوسرے جرائم بالخصوص متشدد جنسی رشتے کے نتیجے میں بھی جنم لیتا ہے۔ اس میں محض تشدد کا شکار ہونے فرد کی ذہنی تطہیر (Brain washing) ہی نہیں کی جاتی بلکہ بقا کے لئے درکار بنیادی ضروریات کی محتاجی سے پیدا ہونے والی شکر گزاری کو بھی دخل ہوتا ہے۔ اس میں جنسی تعلق کی پیچیدہ حرکیات بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ سیاسی مقاصد کے لئے یرغمالی بنانے والے افراد اور گروہ اپنے شکار کو نظریاتی طور پر متاثر کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کا خیال تھا کہ ظلم کا شکار ہونے والے افراد میں سٹاک ہوم سنڈروم کے رونما ہونے کا امکان بہت کم ہوتا ہے تاہم گھریلو تشدد کا شکار ہونے والی عورتوں اور مردوں کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ سٹاک ہوم سنڈروم کی شرح ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔

کچھ تحقیقی مطالعات سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ جذباتی استحصال (emotional abuse) سے متاثر افراد اپنے اوپر ظلم اور تشدد کرنے والے کی معمولی مہربانی اور بے پناہ استحصال کے چنگل سے، مناسب علاج کے باوجود خود کو نکال نہیں پاتے۔

عام طور پر متشدد جنونی افراد (Psychopaths) کے نشانے پر آئے افراد کے لیے ‘ victims’ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ میں ذاتی طور پر اس اصطلاح کے استعمال کے حق میں نہیں ہوں کیونکہ اس سے ایسے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے متاثرہ فریق کا متشدد جنونی افراد (Psychopaths) کی بے اعتدالی کے باوجود ان کے ساتھ تعلق بنائے رکھنے میں کوئی عمل دخل نہیں، خاص طور پر جب victims پر اصلیت ظاہر ہو جائے۔

ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ Psychopath جسمانی تشدد کا سہارا لے کر victim پر اپنی گرفت رکھیں۔ اس کے لیے زیادہ تر نفسیاتی حربے جیسے brain washing اور نقصان کی دھمکی کا خوف پیدا کرتے ہیں، عام طور پر victim ان کی ہر بات پر عمل کرتا ہے۔

یہ تاثر بھی غلط ثابت ہو چکا ہے کہ victim کے کسی فعل کی وجہ سے Psychopath کو کچھ غلط کرنے کی تحریک ملتی ہے۔ بظاہر مردو خواتین کو بغیر کسی وجہ کے تشدد اور دیگر جرائم کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ تاثر غلط ثابت ہوتا جا رہا ہے کہ victim کا کچھ نہ کچھ قصور تو ہوگا۔ کسی کو بھی اپنی بے گناہی کا یقین لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانے کے لیے خود کو فرشتہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس بات کا مشاہدہ بھی کیا گیا ہے کہ متشدد جنونی افراد (Psychopaths) اپنے شکار کو بڑے ماہرانہ طریقے سے پرکھتے ہیں اور اکثر دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنے والے، مثبت سوچ کے حامل اور محبت کی زبان سمجھنے والے ان کا نشانے پر بآسانی آجاتے ہیں، ایسے شفاف ذہن و دل کے مالک کسی بھی دھمکی، دھوکہ دہی اور ذہنی تطہیر کے مستحق نہیں ہوتے لیکن متشدد جنونی افراد (Psychopaths) ہر منفی راستہ اپناتے ہیں۔

میں پہلے ہی بتا چکی ہوں کہ میں victim کی اصطلاح سے متفق نہیں لیکن ان افراد کے لیے جو تمام مصائب کے باوجود اپنی مرضی سے متشدد جنونی افراد (Psychopaths)کے ساتھ رہتے ہیں ان کے لئے victim کی اصطلاح موزوں رہے گی۔

اس نکتے کی مزید وضاحت کے لیے Dr Joseph Carver’s کا آرٹیکل Love and Stockholm Syndrome: The Mystery of Loving an Abuser کا مطالعہ مناسب رہے گا۔

آرٹیکل میں Carver نے بتایا ہے کہ انہیں نفسیاتی مسائل کے علاج کرتے ہوئے بہت سی ایسی خواتین تھیراپی کے دوران اپنے psychopath پارٹنر کے بارے میں یہ کہتی ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ اس نے میرا استحصال کیا لیکن اس کے باوجود مجھے اس سے پیار ہے۔ ایسے انسان کے بارے میں محبت کے جذبات پیدا کر لینا جو مستقل بدسلوکی کرتا ہو سمجھ سے بالاتر ہے لیکن یہ بدقسمتی سے بہت سے کیسز میں ایسا دیکھنے میں آیا ہے۔

جنسی بدفعلی کا شکار بچے، گھریلو تشدد کا شکار خواتین، جنگی قیدی، اندھے مقلد (cult members) اور حبس بے جا میں رہنے والے افراد اپنے abusers سے انسیت کا تعلق پیدا کر لیتے ہیں، ایک psychological study کے مطابق بعض اوقات victims اپنے abusers کے دفاع میں انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے دنیا کے سامنے انہیں معصوم بنانے پر تل جاتے ہیں۔

اپنے abuser کی حمایت کا نفسیاتی مسئلہ اتنا گمبھیر ہے کہ اس کے لیے Stockholm Syndrome کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اس اصطلاح کا کچھ پس منظر ابتدا میں بیان کیا جا چکا ہے۔ 23 اگست، 1973 کو غیر متوقع طور پر یرغمال بننے والے افراد نے نہ صرف اپنے اغوا کنندگان کی مکالفت سے انکار کر دیا بلکہ پولیس اور میڈیا کے سامنے ان کا دفاع کرتے رہے۔ ایک خاتون نے ڈکیت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر لیا۔ ایک مغوی خاتون، ڈاکوؤں کے قانونی دفاع کے لئے مالی وسائل خرچ کرتی رہی۔

Stockholm Syndrome میں مبتلا افراد اپنے abusers کے ساتھ unhealthy positive attachment استوار کرنے لگتے ہیں۔ وہ abusers کے جھوٹ تسلیم کرنے لگتے ہیں اور ان کے برے سلوک کی تاویلیں بنانے لگتے ہیں۔ اور تو اور بعض دفعہ اپنے abusers کو کسی اور فرد کو Abuse کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس نفسیاتی بندش کی وجہ سے اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ہوتا ہے کہ victims اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو ظلم سمجھیں اور Abuser کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانے میں حصہ ڈالیں۔

یہ نامناسب تعلق پختہ ہوتا چلا جاتا ہے کیونکہ Abuser اذیت رسانی کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی محبت سے پیش آتا ہے۔ انگریزی میں اس کے لیے carrot and stick condition کی اصطلاح بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔

‌اس کی وضاحت ہمیں Drew and Stacy Peterson کے کیس کو دیکھنے کے بعد ملتی ہے۔ Drew نے دھمکی، بے وفائی، جھوٹ، دھوکے، مار پیٹ ساتھ ساتھ کبھی کبھی اچھا رویہ جیسے گفٹ دینا، رومانٹک کارڈز، باہر ریستوران پر کھانے کھانا اور تعریفی کلمات ادا کرنا بھی ساتھ ساتھ جاری رکھے۔ یہ بہت غیر منطقی سی بات لگتی ہے کہ اک متوازن شخصیت کا حامل انسان اک گفٹ کارڈ یا تعریفی کلمات کو سن کر اپنے اوپر برسوں سے جاری ظلم کو یکسر فراموش کردے۔ تاہم ایسی خاتون جس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت Psychopath کے ساتھ تواتر کے ساتھ روابط سے کھو چکی ہوتی ہے وہ اپنے اوپر ہوئے ظلم کو یکسر فراموش کر دیتی ہے۔ ایسی خاتون abuser کے طرف سے کئے گئے کھوکھلے وعدے یا معمولی سی مہربانی کو مثبت پیش رفت سمجھتی ہے۔ وہ اپنے abuser کے بدلے ہوئے عارضی رویے کو دائمی تبدیلی کی طرف پیش قدمی سمجھتی ہیے۔ وہ پر امید ہوتی ہے کہ اس کے abuser نے پیار سے بات کرنا سیکھ لیا ہے۔ وہ abuser کے تواتر کے ساتھ ظلم اس یقین پر نظر انداز کرتی جاتی ہے کہ یہ برا رویہ عارضی ہے۔ یہ مثال trauma bonding کی وضاحت کرتی ہے۔ ‌

یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ Stockholm Syndrome کا victim اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتا ہے کہ اپنے abuser سے غیر مشروط محبت اسے راہ راست پر لا سکتی ہے۔ جبکہ Abuser,اس جذبے کو بھانپتے ہوئے victim کا استحصال کرتا رہتا ہے۔ کبھی کبھار اچھے سلوک کی وجہ سے victimخود سے ہانے والے برے سلوک کا ذمہ دار خود کو سمجھتا ہے۔ Victim کے زندگی کا محور اور مقصد Abuser کی نظر التفات کا حصول رہ جاتا ہے۔ اس کا اٹھنا، بیٹھنا، گفتگو کرنا، لباس کا پہننا، جنسی ضرورت کا پورا کرنا، یعنی Psychopath کی انگلی کے اشاروں پر victim ناچتا ہے اور صرف اور صرف Abuser کی تائید کا متمنی رہتا ہے۔

سب جانتے ہیں کہ متشدد جنونی افراد (Psychopaths) اور narcissists کو خوش نہیں کیا جا سکتا۔ ان سے تعلق رکھنے کا مطلب ہے کہ فقط ان کی غلامی، باہمی احترام و محبت کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ جتنا متشدد جنونی افراد (Psychopaths) کو space دی جائے وہ اس سے زیادہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایسی خاتون جو اپنے Psychopath پارٹنر کی ہر خواہش کو پورا کرنا اپنی زندگی کا واحد مقصد بنا لیتی ہے بالآخر احساس کمتری self-esteem کا شکار ہو جاتی ہے۔

برسوں کی بدسلوکی سہنے کے بعد ایسی خاتون اپنے Abuser کو چھوڑنے کا خیال دل سے نکال دیتی ہے۔ وہ اس حد تک احساس کمتری کا شکار ہو چکی ہوتی ہے کہ اسے لگتا ہے کہ اسے abuser کے علاوہ کوئی دوسرا انسان قبول نہیں کرے گا۔ Carver نے اس ذہنی ابہام کو “cognitive dissonance” کا نام دیا ہے جو کہ متشدد جنونی افراد (Psychopaths) اپنے victims کے ذہن و دل میں بٹھا دیتے ہیں۔

اس بارے میں Craver کا مزید یہ کہنا ہے کہ سٹاک ہوم سنڈروم میں مبتلاافراد Cognitive dissonance کے زیر اثر سمجھنے لگتے ہیں کہ Abuser کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا ان کی زندگی کے لیے اہم ترین ہے۔ اور اگر یہ تعلق ختم ہوا تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ طویل مدتی تعلق میں متاثرہ افراد اپنا سب کچھ تعلق کو نبھانے میں لگا چکے ہوتے ہیں۔ ان کے abuser کے ساتھ تعلق کی نوعیت victim کے خیال میں ان کی عزت نفس اور جذباتی صحت کا تعین کرتی ہے۔

متشدد جنونی فرد (Psychopath) کے چنگل سے باہر نکلنے کا واحد حل اس سے مستقل قطع تعلق ہے۔ معمولی نوعیت کا رابطہ بھی victim کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ بعض cases میں دیکھا گیا ہے کہ victim کچھ عرصہ زیر عتاب رہنے کے بعد اپنے قوت ارادی کو استعمال۔ میں لا کر متشدد جنونی فرد (Psychopath)کے حصار سے خود کو باہر نکال لیتا ہے۔ اس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ victim کو Stockholm Syndrome نہیں ہے بلکہ وہ غالباً غیر صحت مند رشتے psychopathic bond سے متاثر ہوا ہے۔ دوسری طرف سٹاک ہوم سنڈروم میں مبتلا افراد تاریک راہوں کے مسافر بن جاتے ہیں انہیں خود سے کوئی راہ نہیں سوجھتی۔ انہیں کسی غم خوار و مددگار کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں بتا سکے کہ وہ تکلیف میں ہیں اور ان کی تکلیف کیسے کم ہو سکتی ہے۔؟ victims کے قریبی دوست رشتہ دار کیسے ان کی ان دیکھے زخموں پر مرہم رکھنے کا بندوبست کر سکتے ہیں؟

ان سوالوں کا جواب Liane leedom کے آرٹیکل, ” How Can I Get My X Away From the Psychopathic Con Artist ؟ سے مل سکتا ہے۔

ان کے مطابق ابتدائی طور پر victim کو معمولی بےاعتدالی کی طرف اشارہ کرنا چاہیے، اگر کوئی victim کو Abuser کی سفاک حرکتوں کی طرف توجہ دلائے تو victim سب کا دفاع کرنے لگے گا۔۔ متشدد جنونی افراد (Psychopaths) دراصل victims کے اعصاب پر مکمل قبضہ جمائے ہوتے ہیں۔ Laine Leedom نے متشدد جنونی افراد (Psychopaths) کے نفسیاتی ہتھیار کے لیے Bite کی اصطلاح استعمال کی ہے اس سے مراد behavior, information, thoughts and emotions۔ ہے یعنی متشدد جنونی افراد (Psychopaths) اپنے شکار کے حواس پر مکمل قابو پائے ہوتے ہیں۔

اگر psyopaths کی گرفت سے victims کو آزاد کروانا ہے تو victim کے لیے حقیقت شناسی اور جذباتی تعاون ضروری ہیں۔ اگر victim اپنے abuser کی ہرزہ سرائی کا ذکر کرنے لگے تو فوراً victim کی ہاں میں ہاں ملانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ پھر victim اپنے abuser کا دفاع کرنے لگے گا۔ آپ victim کی داستان توجہ سے سنتے جائیں۔ Victim کو دلیل کے ساتھ اس کی طرف سے بیان کردہ Abuses کے اس کی زندگی پر منفی اثرات کے بارے میں بتائیں۔ Victim کو اس بات کا احساس دلائیں کہ آپ اس کے ساتھ ہیں۔ آپ کے اچھا رویہ اختیار کرنے سے victim کا ذہن دو مختلف رویوں کا موازنہ کر سکے گا۔۔ ایک abuser کا اور دوسرا آپ کا رویہ۔ جیسے کہ ہمیں معلوم ہے کہ victim خود کو abuser کے ساتھ کے بغیر غیر محفوظ اور بے آسرا سمجھتا ہے۔ Victim کو زندگی میں خوشی و اطمینان تلاش کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کریں جس میں abuser کی پسند کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔

بہتری کی امید سب سے اہم ہوتی ہے۔ متشدد جنونی افراد (Psychopaths) کے زیر اثر رہنے والے خود کو فٹ رکھتے ہیں، اچھا لباس پہنتے ہیں، نئے مشاغل اختیار کرتے ہیں لیکن اگر یہ سب محض متشدد جنونی افراد (Psychopaths) کی خوشی یا ناراضی سے بچنے کے لیے ہو تو بے سود ہے۔ متشدد جنونی افراد (Psychopaths) سے اپنے ہر چھوٹے بڑے کام کی validation کا چکر victims کو ہمیشہ غیر مطمئن رکھتا ہے۔ کیونکہ متشدد جنونی افراد (Psychopaths) کبھی مستقل مطمئن ہونے کا تاثر نہیں دیتے۔ Leedem کی رائے میں victim کے خاندان اور دوستوں کو اس وقت victim کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے جب وہ متشدد جنونی فرد (Psychopath) سے علیحدہ ہوجائے۔ تاکہ victim کو اکیلا پن اور بے وقعتی نہ محسوس ہو بالکل ویسی جیسی عام طور پر متشدد جنونی افراد (Psychopaths) بڑے طریقے سے victims کو control کرنے کے لیے تنہائی کا خوف دل میں ڈال دیتے ہیں ۔

بعض اوقات victim کے خاندان اور دوستوں کو victim سے متشدد جنونی افراد (Psychopaths)جیسے رویے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے مثلاً دونوں جھوٹ بولتے ہیں۔ Leedem اور دیگر ماہرین نفسیات کے مطابق یہ victim کا عمومی رجحان بن جاتا ہے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ متشدد جنونی افراد (Psychopaths) بہت تباہ کن اور منفی رویے رکھتے ہیں بالکل کسی وائرس کی طرح، وہ victim کی حقیقت کو پرکھنے کی صلاحیت کو دھندلا دیتے ہیں، ان کی اخلاقی قدریں مختلف ہوتی ہیں اور دوسروں کے درد کو محسوس کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ Leedom اس لیے متشدد جنونی افراد (Psychopaths) سے مکمل رابطہ منقطع کرنے پر زور دیتی ہیں۔ متشدد جنونی افراد (Psychopaths) کا واحد مقصد طاقت اور مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اور مقصد پورا کرنے کی خواہش شدید ہوتی ہے۔ وہ یہ سب ایک وقت میں ایک انسان کے ساتھ کرتے ہیں۔ وہ سب بہت منظم طریقے سے کرتے ہیں۔ جب وہ کسی کو تکلیف پہچانے کامیاب ہو جاتے ہیں یا پھر کسی اور شخص کے ذریعے اپنے مقصد کو پورا کرتے ہیں تو بہت سرشاری محسوس کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہم نے دوبارہ کسی کو چت کر دیا۔

جیسے لوگ جنسی تسکین کے بعد پسندیدہ چاکلیٹ کھا کر یا پھر اپنی اولاد کو کامیابی حاصل کرتا دیکھ کر بے انتہا خوش ہوتے ہیں، بالکل ایسی خوشی متشدد جنونی فرد (Psychopath)کو اپنے partner کو تکلیف پہنچا کر ہوتی ہے۔ وہ اپنے partners کو بھی دھوکے باز اور بے حس بنا دیتے ہیں۔ متشدد جنونی افراد (Psychopaths) اپنے partners کی زندگی کو سوچنے سمجھنے کا زاویہ اس کی اخلاقی قدریں بگاڑ کر تبدیل کر دیتے ہیں اور یہ امر ان کے نزدیک بڑی کامیابی تصور کیا جاتا ہے۔ متشدد جنونی افراد (Psychopaths) سب سے پہلے کسی کو چنتے ہیں، اس کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں، اسے isolate کر کے، اس کو مسائل میں دھنساتے ہیں اور پھر آخر کار ایک وقت میں ایک victim کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کسی سے وفا کرتے ہیں بلکہ وہ یکسوئی سے اک وقت میں ایک زندگی برباد کرنے پر اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں۔

وہ خواتین جو کہ متشدد جنونی افراد (Psychopaths) کی طرف کشش محسوس کرتی ہیں ایسی خواتین hypnotic state میں داخل ہو جاتی ہیں۔ متشدد جنونی افراد (Psychopaths) ان پر حقیقت منکشف ہونے کے تمام راستے بند کر دیتے ہیں وہ صرف ان عوامل پر توجہ مرکوز کئے رکھتے ہیں جو انہوں نے اپنے partners پر ظاہر کئے ہوتے ہیں۔

ہمیں victim s کی بھرپور مدد اور حمایت کرنے چاہیے لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ جیسے منشیات کی عادت میں ہوتا ہے، victims کو ابتلا سے نکلنے کے لئے اپنی مدد آپ بھی کرنی ہوتی ہے۔

یہ بھی victim پر منحصر ہے کہ وہ متشدد جنونی فرد (Psychopath) کی تلخ حقیقت کا سامنا کرنے کی کس حد تک صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق اگر victim کا متشدد جنونی فرد (Psychopath) کے ساتھ طویل مدتی تعلق قائم رہا ہو اس کی بحالی کا امکان اتنا ہی کم ہو جاتا ہے۔ لیکن متشدد جنونی افراد (Psychopaths) کے لیے طویل عرصہ تک تعلق قائم رکھنا مشکل ہوتا ہے، اگر victim متشدد جنونی فرد (Psychopath) کو تنگ آکر نہ چھوڑے تو متشدد جنونی فرد (Psychopath) نئے شکار کے لئے ازخود تعلق ختم کر دیتا ہے۔ Leedom کے مطابق اہم سوال یہ ہے کہ کیا تعلق اتنی دیر قائم رہ پاتا ہے کہ victim اپنا سب کچھ کھو دے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ممکنہ طور پر اس کا نتیجہ خودکشی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ ہم جتنی آگاہی متشدد جنونی رویوں کے حوالے سے دنیا تک پہنچائیں گے اتنی ہی امید کی جا سکتی ہے کہ victims کو اپنی شخصیت کی توڑ پھوڑ پہچاننے میں آسانی ہوگی اور وہ علامات خود سے سمجھ پائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “متشدد ساتھی اور سٹاک ہوم سنڈروم میں مبتلا شکار کی نفسیات

  • 26/05/2020 at 3:37 pm
    Permalink

    مضمون اچھا ہے
    اپنے درد کی بستی میں دوبارہ جانا آسان نہیں ہوتا
    جرات اچھی لگی
    آپ نے جو لکھاوہ یوں انوکھا تجربہ ہے کہ یہ راز معالج کے لیے ہوتے ہیں یا آئینے کے لیے
    اس کو دو تین اور مظلومین اور کسی فکشن کو پڑھ کر دوبارہ لکھیں
    لوگوں کو راہ نمائی ملے گی

Leave a Reply