عورت کے بارے میں ہمارا سماجی رویہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت سوال کو سمجھنے کے لئے ہمیں اپنے سماجی رویوں کا تنقیدی جائزہ لینا ہوگا۔ مشہور فرانسیسی رائٹر سیمون دی بوا  جنس کو ایک سماجی عمل یعنی سوشل فارمیشن کہتی ہیں، وہ عورت اور مرد کے درمیان فرق کو فطری کی بجائے سماجی نوعیت کا تصور کرتی ہیں۔

انسانی فطرت عادات و اطوار قطعی اور جامع نہیں ہوتے بلکہ ہر وقت ارتقائی عمل سے گزرتے رہتے ہیں جبکہ سماجی اور ثقافتی عوامل اس ارتقا پر اپنے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

مجھے بالی وُڈ کی مشہور زمانہ مووی ”پی کے“ میں سنجے دت کا وہ مشہور ڈائلاگ ”آدمی حرامی، کمینہ“ یاد آ رہا ہے، غالباً پہلی بار کسی فلم میں مرد ذات کو ایسے القابات سے نوازا گیا ہے۔

اوپر دیے گئے ڈائلاگ کے لکھنے کا مقصد اس ذہنیت یا مائنڈ سیٹ کی نشاندہی کرنا ہے۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ بطور ایک پدرسری نظام کے ہمارا سماج مردانہ حاکمیت کی بنیاد پر قائم ہے۔

یہ مخصوص مردانہ ذہنیت عورت اور مرد کے متعلق مختلف تصورات کو جنم دیتی ہے، جو ہم اکثر و بیشتر سنتے رہتے ہیں کہ عورت کم عقل اور جذباتی ہوتی ہے، عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے اور ایسے ہی دیگر کئی مفروضات۔ عورت کے متعلق اس قسم کے مفروضات صدیوں کے فسطائی ادوار کی پیداوار ہیں۔

عورت درحقیقت خود کم زور یا ناقص العقل نہیں بلکہ اس کی معاشرے میں دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت وہ سماجی اور تاریخی قوتیں ہیں جو عورت کی کم زوری کو اپنی طاقت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

مشہور فلاسفر فوکا کے مطابق جسمانی ساخت معاشرے میں نہایت ہی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ معاشرتی مت بھید اسی جسمانی ساخت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جو عورت کو محض ایک جسم جسے فوکا ڈوسل باڈیز کا نام دیتا ہے، کے بطور تسلیم کرتا ہے۔ ہمارا معاشرہ عورت کو اس کی جسمانی ساخت اور خد و خال کی بنیاد پر جانچتا پرکھتا ہے، جبکہ مردوں کو پرکھنے کے لئے ان کی ذہنی قابلیت، تعلیم، شعور اور سماجی حیثیت کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس عورت خواہ وہ ڈاکٹر ہے یا انجنیئر ہمارے معاشرے میں وہ محض جنس ہے۔

یہاں تک کے عورتوں کو تحفظ کا احساس دلانے کے لئے بھی انہیں ماں، بہن اور بیٹی کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے نا کے ایک فرد کی حیثیت میں جسے مذہب اور قانون نے برابری کے حقوق دیے ہیں۔یہی وجہ ہی کے پاکستانی سماج میں عورت اپ کو مشکل سے ایک آزاد فرد کے طور پر نظر آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ جب عورت اپنے حقوق مانگنے سڑکوں پہ نکلتی ہے یا مارچ کرتی ہے تو ہمارا سماج اسے بغاوت قرار دیتا ہے ان خود ساختہ معاشرتی اقدار سے جو عورت کے اوپر اس کی جسمانی ساخت کی بنیاد پر مسلط کی گئی ہیں۔

سب سے پہلے ہمیں اپنے سماجی رویے درست کرنے ہوں گے، عورت کو گوشت کی دکان نہیں بلکہ ایک فرد کی حیثیت میں دیکھنا اور سمجھنا ہو گا، سوچ بدلنے سے سماج بدلے گا۔

ہم جیسے پس ماندہ معاشروں میں عورت کی برابری واقعی میں ایک بڑی متھ ہے، کیونکہ عورت نہ غیرت کے نام پہ قتل کرتی ہے، نہ جنسی تشدد کرتی ہے، اور نا ہی جنسی ہراسانی کی مرتکب ہوتی ہے، ایسے میں عورت کو ایک آزاد فرد کے طور پہ تسلیم کرنا بھی بڑی بات یے۔

عورت کو عورت سمجھ کر مساوی حقوق دیے جائیں جو ہر انسان کا حق ہے، عورت کے جسم، حرکات اور سماج میں اس کی موبیلٹی کو کنٹرول کرنے سے معاشرے میں تضادات جنم لینے کے علاوہ اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلنے والا۔

ہمیں ضرورت ہے اس مائنڈ سیٹ کو دور کرنے کی جو عورت پر جنسی، ذہنی اور جسمانی تشدد کو ہوا دیتا ہے، عورت کو کم زور جسم بنا دیتا ہے۔

یہ ہمارا سماجی المیہ ہی ہے کہ ہم عورت کو محض بطور جنس یا کم زور جسم سمجھتے، جانتے اور کہتے ہیں، جبکہ مردوں کو جانچنے کا معیار ان کی تعلیم، شعور اور اسٹیٹس ہوتا ہے، عورت خواہ ڈاکٹر ہو انجنیئر یا استاد، ہمارے لیے وہ سب سے پہلے بس جنس ہے۔ یہاں تک کہ عورت کو آزادی اور تحفظ کا احساس دلانے کے لئے بھی اسے ماں، بہن اور بیٹی کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے، نہ کہ ایک فرد یا انسان کی حیثیت میں، بلکہ عزت، غیرت، حیا اور شرم کے سب ٹوکرے عورت کے سر پہ لاد کر مرد ہر طرح کے بوجھ سے آزاد ہو جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دنیا میں اب عورت کی اسپیس کو قابو کرنا ناممکن ہے۔ اس سے معاشرے میں تناو اور تضادات پیدا ہوں گے جہاں ترقی یافتہ ممالک میں عورت کو حکمرانی کو نا صرف تسلیم کیا جا رہا ہے بلکہ بہترین بھی قرار دیا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کے ہم اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کریں، جو عورتوں پر ذہنی، جسمانی اور جنسی تشدد کا سبب بنتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
صائمہ جعفری کی دیگر تحریریں

Leave a Reply