محبت میں کامیاب ہوئے تو خاوند، ناکام ٹھہرے تو فلسفی

کم و بیش تین لاکھ سال پہلے ہمارے آبا و اجداد ارتقاء کے عمل سے گزرتے ہوئے انسانی سطح تک پہنچے۔ انسان، یعنی قدرت کا وہ شاہکار جس نے ثابت کیا کہ زمین پر اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے زور بازو لازم و ملزوم نہیں، یہی کام دماغ کے بہتر استعمال سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ انسان کے اس وجود کا خاصہ ایک کمزور اور ناتواں جسم نہیں بلکہ تیزی سے ارتقائی عمل سے گزرتا دماغ تھا۔ اس دماغ نے جہاں اپنی ذہانت کے سر اس بات کو یقینی بنایا کہ انسان ہی اس دھرتی کا شہنشاہ و وارث کہلائے وہاں نسل انسانی کے لیے جوابات کی جستجو کی ایک لا محدود کہکشاں کو بھی جنم دیا۔ انسان خود کو دیکھتا، اپنے ماحول کو دیکھتا، اس کے ذہن میں سوال پنپتا، جواب کریدتا، جواب مزید سوالات کا سبب بنتا اور یوں ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔

انہی سوالات میں ایک سوال وجود محبت کا بھی ہے۔ فلسفے کی بھول بھلیوں سے لے کر مذہب کی تقلید تک، شاعری میں غزل سے لے کر ادب کی نفاست تک، لوک کہانیوں کی سحر انگیزی سے لے کر فلمی دنیا کی رنگینیوں تک، غریب بستیوں کی خاک چھاننے سے لے کر محلات کے ایوانوں تک، یہ سوال در در کی ٹھوکریں کھاتا اپنے مقام کا ہمیشہ متلاشی ہی رہا۔ کیوں محبت آج تک اپنا مقام متین نہیں کر سکی؟ کیوں محبت بہت سے اور سوالات کی طرح آج تک ایک سوال ہی ہے؟ اس کی وجہ سادہ سی مگر غور طلب ہے۔ ہم انسان خود فریبی کا شکار ہیں اور جواب جاننا ہی نہیں چاہتے۔ کیونکہ محبت کا اصل وجود ہماری توقعات اور آرزوؤں کے مطابق نہیں۔ آئیے ایک مدلل جائزہ لیتے ہیں۔ آئیے مسئلے کو جڑ سے پکڑتے ہیں۔

محبت کے لغوی معنی کی بات کی جائے تو محبت کا مطلب ہے کسی کے لیے رغبت محسوس کرنا۔ یہ انسان کون ہے، کیسا ہے، آپ کا اس سے کیا تعلق ہے، اس کی کوئی قید نہیں۔ انگریزی زبان میں اس کے لیے صرف ایک ہی جامع لفظ رائج ہے جبکہ اردو زبان میں محبت کے علاوہ ’پیار‘ اور ’عشق‘ بھی مستعمل ہیں۔ یہ ایک دلچسپ صورت حال ہے جسے لوگ مختلف جذباتی سطوحات سے تعبیر کرتے ہیں۔ محبت کی منازل طہ کی جاتی ہیں کہ اگر جذبات آفاقی سطح کے ہیں تو عشق ہے، اگر آنچ دھیمی ہے تو پیار ہے۔

یہ سب نتیجہ ہے ادب کی مبالغہ آرائیوں کا۔ محبت کے ان پیمانوں کا کوئی ٹھوس وجود سرے سے ہے ہی نہیں۔ مثال کے طور پر ہم میں سے تقریباً ہر کوئی سوہنی مہینوال کی لوک کہانی سے واقف ہے۔ سوہنی مہینوال سے ملنے کی خاطر دریا پار کرتے ہوئے ڈوب جاتی ہے۔ آج وہ پنجابی ادب میں امر ہے۔ محبت کے دلدادوں کے لیے ایک مثال کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن کیا اگر آج کے دور میں کوئی لڑکی اپنے محبوب سے ملنے کی جہت میں ایسے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو اسے بھی اسی نظر سے دیکھا جائے گا جس نظر سے سوہنی کو دیکھا جاتا ہے؟

کیا اس کی کردار کشی نہیں کی جائے گی؟ سوہنی نے اپنا سب لٹایا اور اپنے ’عشق‘ کو امر کر دیا۔ ایک عام لڑکی نے یہ سب کیا اور اپنی ’بدکرداری‘ کو امر کر دیا؟ یہ ہے وہ جنجال جو ادب، مذہب اور سماج کے ملاپ نے معاشرے کو دیا ہے۔ ادب کا یہی پرفریب مقام اب موشن پکچر یعنی فلم کے ہاتھ میں ہے۔ صوفیاء اور فلسفہ دانوں نے بھی محبت کے مضمون کو غیر معمولی اہمیت دے کر جانے انجانے میں مبالغہ آرائی کا ایسا تڑکا لگایا کہ محبت کے ماخذ کا پتہ معدوم ہو کر رہ گیا ہے۔ آئیے محبت کا ماخذ کریدتے ہیں۔

محبت کے متعلق دور حاضر کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ اس کا ماخذ بے غرضی ہے جسے ہم انگریزی میں selflessness سے تعبیر کرتے ہیں۔ گویا اگر آپ کسی شخص کا بغیر کسی غرض کے خیال رکھیں، اس کو سکون مہیا کریں، اس کی پسند ناپسند کا خیال رکھیں تو آپ کو اس سے محبت ہے۔ اور جب کسی سے اس بے غرض محبت کی مثال دریافت کی جائے تو کہا جاتا ہے کہ دیکھو جیسے تمہارے ماں باپ تم سے محبت کرتے ہیں۔ ’میرے‘ ماں باپ ’مجھ‘ سے ہی کیوں محبت کرتے ہیں؟

میرے کسی دوست سے ویسی محبت کیوں نہیں کرتے؟ میرے ماں باپ مجھ سے اس لیے محبت کرتے ہیں کیونکہ میں ان کی اولاد ہوں، میرا دوست ان کی اولاد نہیں۔ محبت کی سب سے واضح مثال نے یہ ثابت کیا کہ محبت کا ایک جزو خود غرضی ہے۔ آپ کہیں گے کہ نہیں ماں باپ کسی صلے کی غرض کے بغیر سب کرتے ہیں۔ سوال پھر وہیں کا وہیں ہے۔ کسی صلے کی غرض کے بغیر یہ سب کچھ کسی اور بچے کے لیے کیوں نہیں؟ یا فرض کر لیجیے اگر ہے بھی تو جنت کے حصول کی خاطر ہی نہ۔

پھر بے غرضی تو نکل گئی محبت سے۔ یہاں رچرڈ ڈاکنز کی مشہور زمانہ کتاب ’The Selfish Gene‘ اور ایسے ہی کئی مزید ریسرچ پیپرز ’محبت‘ کی کیمیائی تنظیم کو انفرادی وجود کی ’بقاء‘ کی جدوجہد کے ایک ’آلے‘ یا ٹول سے تعبیر کرتے نظر آتے ہیں۔ آسان الفاظ میں یہ کہ انسان غیر ارادی طور پر اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے منظم کیا گیا ہے۔ انسان اسی تناظر میں اپنا شریک حیات یا پارٹنر تلاش کرتا ہے۔ اسی قدرتی تلاش کو ہم پہلی نظر میں محبت، بچن کی دل لگی، جوانی کے خمار اور نکاح کے بعد کی پاکیزہ محبت جیسی اصطلاحات سے تعبیر کرتے ہیں۔

حقیقت میں ان اصطلاحات کا وہی وجود ہے جو شاعری میں چاند کا۔ دلفریب مگر پرفریب۔ اگر کوئی چیز واقع اپنا وجود رکھتی ہے تو وہ انسان کا کردار اور اس کا وقار ہے جسے محبت کی شماریات سے بڑھ کر ہونا چاہیے۔ ہماری موجودہ نسل اسی قسم کی موشگافیوں اور خود فریبیوں کا شکار ہے۔ جواب نہ مل پانے کی صورت میں مظلومیت میں پناہ پاتی ہے۔

آج کے دور میں ہر دوسرا نوجوان خود ترسی کا شکار اور محبت میں ناکامی کے رونے روتا نظر آتا ہے۔ دونوں اصناف اس میں کم و بیش برابر کی شریک ہیں۔ یہ بات ہر شخص کو سمجھ لینی چاہیے کہ محبت کر کے آپ نے کوئی سلطنت فتح نہیں کی اور نہ ہی کوئی سائنسی دریافت کی ہے۔ ذرا اپنے جذبات کو عقل کے میزان پر تو تولیے۔ کچھ دیر انہیں دلائل کی چھلنی سے تو چھانیے۔ محبت انسان اپنی ذات کے لیے ہی تو کرتا ہے۔ اگر دوسرا شخص آپ کی پیشکش قبول کر لیتا ہے تو اس سے بہتر اور کیا بات ہو سکتی ہے مگر اگر اسے آپ یا آپ کے دعوے میں وزن نظر نہیں آتا تو جان لیجیے کہ وہ اپنا فیصلہ کرنے کے حق میں آزاد ہے۔

اگر آپ بلند کردار کے مالک ہیں تو اسے جانے دیجیے۔ اپنے جذبات پر قابو پائیے، اپنا وقار بلند کیجیے۔ اداس شاعری اور اداس موسیقی سے دور رہیے۔ سب سے اہم بات یہ کہ خود ترسی اور مظلومیت کے احساس سے بچیے کیونکہ خود ترسی انسان کی صلاحیتوں کو زنگ لگا دیتی ہے اور انسان مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ محبت پر اس خشک بحث کا خاتمہ اس بات کے ساتھ کہ محبت میں دونوں طرف سے ہی فائدہ ہے۔ کامیاب ہوئے تو خاوند، ناکام ٹھہرے تو فلسفی!

Comments - User is solely responsible for his/her words
اسامہ خداداد کی دیگر تحریریں