محبت میں کامیاب ہوئے تو خاوند، ناکام ٹھہرے تو فلسفی

کم و بیش تین لاکھ سال پہلے ہمارے آبا و اجداد ارتقاء کے عمل سے گزرتے ہوئے انسانی سطح تک پہنچے۔ انسان، یعنی قدرت کا وہ شاہکار جس نے ثابت کیا کہ زمین پر اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے زور بازو لازم و ملزوم نہیں، یہی کام دماغ کے بہتر استعمال سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ انسان کے اس وجود کا خاصہ ایک کمزور اور ناتواں جسم نہیں بلکہ تیزی سے ارتقائی عمل سے گزرتا دماغ تھا۔ اس دماغ نے جہاں اپنی ذہانت کے سر اس بات کو یقینی بنایا کہ انسان ہی اس دھرتی کا شہنشاہ و وارث کہلائے وہاں نسل انسانی کے لیے جوابات کی جستجو کی ایک لا محدود کہکشاں کو بھی جنم دیا۔ انسان خود کو دیکھتا، اپنے ماحول کو دیکھتا، اس کے ذہن میں سوال پنپتا، جواب کریدتا، جواب مزید سوالات کا سبب بنتا اور یوں ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔

Read more