پاکستان اور ارطغرل کی فتح

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماضی میں جب پاکستان کی لڑکھڑاتی ہوئی فلم انڈسٹری لوگوں کے دلوں کو جیتنے میں لگی ہوئی تھی وہیں تب ٹیکنالوجی سے بھر پور ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلموں کو پاکستانی عوام میں متعارف کروایا گیا۔ جہاں پہلے پاکستانی فلمیں سینما گھروں کی زینت بنا کرتی تھیں وہیں ہمارے ہیروز کی جگہ ہندو ستانی سٹارز نے لے لی۔ ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی کی فلمیں دیکھنے کے بعد شان اور معمر رانا کا سیکڑوں گولیوں کے لگنے کے باوجود بھی دشمن کا زندہ دلی سے مقابلہ کرنا تسبیح کو ہوا میں پھینکنا اور وہاں سے اس کا تلوار بن کے واپس آنا یہ سب رنگ پھیکے پڑ گئے۔

پاکستانی فلم انڈسٹری ایک مذاق بن گئی۔ پھر کیا تھا پاکستانی سینما گھروں کی زینت بنیں ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلمیں جو اپنے ملکوں میں تو لوہا منوا ہی چکی تھیں تو پاکستان میں بھی انہوں نے زور شور سے اپنا اثر چھوڑا۔ اثر اس قدر بھرپور انداز میں تھا کہ پاکستان کی نوجوان نسل میں تیرے نام مووی کے رادھے کی خاصی تعداد پائی جاتی تھی کوئی دل جلے شاکا تھا تو کوئی دھڑکن مووی کا دیو بنا گھومتا تھا۔

جب پاکستانی فلم انڈسٹری تباہی کے کنارے پر لٹک رہی تھی تو پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری بھی کچن اور بیڈروم کے کلچر میں پھنسی ہوئی تھی۔ اس دوران بالی ووڈ ہر مہینے میں ایک مووی آتی جو اچھا خاصا بزنس بھی کرتی اور پاکستان کے کلچر میں اپنے رنگ بھی بکھیر جاتی۔ جہاں فلم کو تفریح ادب اور ثقافت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ وہاں رومانوی فلموں سے عاشق مزاج لوگ پاکستان میں ایسے ابھر کے سامنے آ جیسے کوئی پولیٹیکل پارٹی ایک نئے منشور کے ساتھ ابھری ہو۔

گلی گلی میں عاشق پائے جاتے تھے۔ درمیان کی مانگ سگریٹ سلگاتے ہوئے نوجوان پھر ہندی فلموں میں جدت آئی بالی ووڈ نے غنڈہ کلچر کو پروموٹ کیا ہمارے لونڈے بھی کہاں رکنے والے تھے کئی لڑکے رگھو بھائی بن کے پاکستان کی دھرتی پر ابھرے بہت سے تو سنجے دت (سنجو بابا) سے اتنے امپریس ہوئے کے ماؤں بہنوں کو زیور تک گلے میں پہن کر گلیوں میں گھوما کرتے تھے بہتوں نے تو اپنے ناموں کو ساتھ بابا لگانا شروع کوئی عون بابا تو کوئی راجو بابا اتنے وقت تک وہ لڑکھڑاتی پاکستانی فلم انڈسٹری میدان سے باہر ہو چکی تھی۔

پاکستان نے کئی بار بالی ووڈ موویز کو بین کرنے کی ناکام کوشش کی گئی مگر اب اس کا فائدہ کچھ خاص نہ ہوا کیوں کہ پاکستانی فلمی صنعت مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں بہت سے سینما گھر بھی کھنڈر بن چکے تھے۔ تین دہائیوں کے بعد 2013 میں شعیب منصور کی فلم سے پاکستانی فلمی صنعت کے زندہ ہونے کے آثار نظر آئے اور اس کے بعد ہر سال پاکستانی فلمی صنعت دو تین اچھی موویز دے رہی ہے یہ عروج و زوال پاکستانی فلمی صنعت کا مقدر بن چکی ہے۔

اس دوران پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کچن اور بیڈ کے کلچر سے نکل کر سماجی مسائل کی طرف آ گئی وہیں پاکستان کی جنتا نے سالوں سے راج کرنے والے انڈین ڈراموں کو خیرآباد کہہ دیا اسی دوران ملک میں ہمسایہ ملک سے تعلق خراب ہونے پر انڈین چینلز پاکستان میں بین ہو گئے یہ تو پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری کے لیے سونے پر سہاگا تھا اور اس سے فائدہ یہ ہوا کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری اور اس کے فنکاروں نے پاکستان میں تو اپنا لوہا منوایا ہی منوایا باہر ہمسایہ ملک سے بھی پذیرائی ملی۔

پھر اشرافیہ کو یہ بات کیسے شیریں لگتی کہ ملک کی کوئی صنعت ترقی کی طرف جا رہی ہو ملک میں پیسہ آ رہا ہو پھر کیا تھا ترک ڈراموں کی آمد ہوئی جس کی تشہیر ملک کے وزیراعظم اور کئی دوسرے وزیروں نے کی اور سرکاری چینل پر نشر کیا گیا تو وہ ڈرامہ کیسے تمام ریکارڈ نہ توڑتا مجھے ایک بار پھر فلم انڈسٹری ماضی ڈرامہ انڈسٹری کے حال میں نظر آ رہا ہے کیونکہ پھر اسی طرح ارطغرل کے آنے کے بعد پاکستانی ڈراموں کا مذاق بنایا گیا۔ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی کی تباہی تو ہوہی رہی ہے مگر پاکستان نے دنیا کو ارطغرل پاپڑ اور ارطغرل نسوار سے متعارف کروایا۔ بس اس بار الگ بات یہ ہے کہ نوجوانوں نے اپنا لباس انہی کی طرح زیب تن نہیں کیا شاید یہ بھی سیزن 4 تک ممکن ہو جائے اور سیزن 7 تک نوجوان نسل شاید گھوڑے بھی لے لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عثمان سعید منجوٹھہ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply