پاکستان کی جامعات اور عالمی درجہ بندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

14 اکتوبر 1882 کو جب برطانوی حکومت کا شملہ میں اجلاس ہوا تو ہندوستان کی چوتھی یونیورسٹی کی منظوری دی گئی، جس کا نام پنجاب یونیورسٹی رکھا گیا۔ اس سے پہلے کلکتہ، مدراس اور بمبئی میں تین جامعات کام کر رہی تھیں۔ اس یونیورسٹی نے جلد ہی معیاری تعلیم و تحقیق کی طرف سفر شروع کیا، جس میں پروفیسر اے سی وولنر کا بہت کردار رہا، جو کہ تقریباً 8 سال تک ( 1928 سے 1936 ) یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ (آج بھی پنجاب یونیورسٹی کے علامہ اقبال کیمپس کے باہر ان کا مجسمہ نصب ہے ) ۔

1947 کو تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے حصے میں آنے والی واحد یونیورسٹی پنجاب یونیورسٹی ہی تھی۔ تقسیم کی وجہ سے اس وقت بہت سے غیر مسلم اساتذہ پنجاب یونیورسٹی کو چھوڑ کر چلے گئے، اور اس کے نتیجے میں تعلیم کے معیار پہ بھی فرق پڑا، مگر بہت سے اچھے سکالرز کی موجودگی سے ادارے نے ایک بار پھر اپنے نئے سفر کا آغاز کیا، اور اس میں بہت بڑا کردار پاکستان بننے کے بعد جامعہ کے پہلے وائس چانسلر پروفیسر عمر حیات کا بھی رہا۔

اگرچہ آج ہماری بہت سی یونیورسٹیز ایسی ہیں جو قیام پاکستان سے پہلے موجود تو تھیں مگر تب وہ کالج کے طور پر کام کر رہے تھے، ان میں اسلامیہ کالج پشاور، گورنمنٹ کالج لاہور، گورنمنٹ کالج ملتان، این ای ڈی کراچی، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، گورنمنٹ کالج فیصل آباد، ایف سی کالج لاہور، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور، لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کراچی، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد، اور این سی اے لاہور شامل ہیں۔ جب 2002 میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی حیثیت دی گئی تو تب ملک میں جامعات ایک سو کے لگ بھگ تھے، مگر تب سے اب تک، یعنی پچھلے 17 سالوں میں جامعات کی مجموعی تعداد دوسو سے اوپر پہنچ چکی ہے۔

ان میں سب سے زیادہ تعداد پنجاب میں 70، اس کے بعد سندھ میں 57، خیبر پختونخوا میں 41، بلوچستان میں 8، اسلام آباد 21، آزاد جموں و کشمیر میں 7، جبکہ گلگت بلتستان میں 2 یونیورسٹیاں ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے ادارے تین مختلف کیٹیگریز پبلک، پرائیویٹ اور ملٹری میں تقسیم ہیں۔ مسلح افواج کے زیر نگرانی 4 ادارے ہیں، جن میں پاکستان ملٹری اکیڈمی ایبٹ آباد، پاکستان ایٔر فورس اکیڈمی رسالپور، پاکستان نیول اکیڈمی کراچی، اور ایک جنرل یونیورسٹی، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد شامل ہیں۔

ملک میں پرائیویٹ یونیورسٹیز کی تعداد 65 سے اوپر ہے۔ پاکستان میں تقریباً 16 ویمن یونیورسٹیز ہیں جو کہ کوئٹہ، پشاور، کراچی، لاہور، مردان، صوابی، باغ آزاد کشمیر، ملتان، بہاولپور، سیالکوٹ، فیصل آباد، راولپنڈی، نوابشاہ، اور سکھر میں امتیازی طور پر خواتین کے لئے بنائی گئی ہیں۔ پاکستان کی آبادی، بالخصوص نوجوانوں کی آبادی کے حساب سے موجودہ تعداد بھی تقاضوں سے کہیں کم ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے کچھ جامعات نے اپنے قریبی شہروں میں کیمپس کھول کر کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش کی۔

ملک میں جامعات کے قریبا 130 کیمپس ہیں، جبکہ چار پرائیویٹ یونیورسٹیز کے ملک سے باہر بھی کیمپس ہیں، جن میں آغا خان یونیورسٹی کا لندن، سرحد یونیورسٹی اور زیبسٹ کے متحدہ عرب عمارات، اور گرینچ یونیورسٹی کا ماریشئس کیمپس شامل ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کا شعبہ دنیا بھر میں، بہت پہلے سے اہم تھا، اور آج کے دور میں اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ گلوبلائزیشن، انٹرنیشنلائزیشن، اور انٹرنیشنل ایجوکیشن انڈسٹری، جیسی اصطلاحات عام ہو گئی ہیں، جدید دور کے تقاضے پورے کرنے کے لئے اداروں کو جدید لیبارٹریز، اچھی، اور متعلقہ کتابوں سے آراستہ لائبریریاں، پر کشش تنخواہوں پر سٹاف اور اچھی و پر کشش عمارت پر بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری کرنی ہوتی ہے، اور اس کے نتیجے میں طلبا اور والدین کو نسبتاً مہنگی فیسیں دینی پڑتی ہیں۔

اس وجہ سے، اب طلبا اور والدین اس تناظر میں سوچتے اور فیصلے لیتے ہیں کہ کون سی یونیورسٹی، ادارہ، یا ڈیپارٹمنٹ ان کے پیسے کا صحیح نعم البدل ہے۔ اس تبدیل ہوتے تناظر میں، کوالٹی اشورنس، رینکنگ، آؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن، ایکریڈیٹیشن، جدید تعلیمی نظم، جدید امتحانی طریقہ کار اور اس طرح کی دیگر اصطلاحات زبان زد عام ہو گئی ہیں۔ عوام اب بہت ساری چیزیں دیکھ کر، اور اداروں کا تقابلی جائزہ لے کر بچوں کی لئے فیصلہ لیتے ہیں۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے بھی، جامعات کی رینکنگ کا آغاز 2010 میں کیا تھا، اور اس کے بعد 2015، 2014، 2013، میں تسلسل سے یہ عمل جاری رہا۔ اس پریکٹس سے جامعات نے بھی اپنے تعلیمی اور انتظامی امور کو نئے سرے سے دیکھنا شروع کیا، ریکارڈ اور اعداد و شمار کو اکٹھا کیا، کیونکہ یہ سب کچھ رینکنگ میں حصہ لینے کے لئے ضروری تھا۔ یہ ریکارڈ اور ڈیٹا یونیوسٹی کے لیے خود بھی کافی کار آمد رہا ہے۔ دوسری طرف رینکنگ کے نتائج سے بھی ادارے کے اچھے اور کمزور پہلو سامنے آتے ہیں۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے رینکنگ کے لئے جامعات کو ان کی اسپیشلائزیشن کے حساب سے الگ الگ رکھا، اور چھ گروپس جن میں جنرل، انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، بزنس ایجوکیشن، ایگریکلچر اینڈ ویٹرنری، میڈیکل، آرٹس اینڈ ڈیزائن شامل تھے، بنائے گئے۔ جن عناصر کی بنیاد پر درجہ بندی اور اسکورنگ کی گئی، وہ کوالٹی اشورنس، تعلیمی معیار، تحقیق، سہولیات، سماجی ہم آہنگی، اور فنانس تھے۔

دنیا بھر میں رینکنگ کرنے والی تنظیموں اور ایجنسیوں کے طریقہ کار الگ الگ ہی رہے ہیں، اور ان میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ پاکستان کی کچھ جامعات نے پچھلے چند سالوں سے بین الاقوامی رینکنگ میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے، اور اس کے نتائج بھی اچھے رہے ہیں۔ ہمارے کچھ جامعات دنیا کی ٹاپ 500 اور کچھ 1000 میں شامل ہوچکی ہیں۔ اس وقت دنیا میں کافی ایجنسیز، یا تنظیمیں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی رینکنگ کے لیے ہر سال ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں اور پھر نتائج شائع کرتے ہیں۔ ان میں قابل ذکر نام یہ ہیں : یو۔ ایس نیوز، سنٹر فار ہائر ایجوکیشن جرمنی، اکیڈمک رینکنگ آف ورلڈ یونیورسٹیز چائنا، کیو۔ ایس رینکنگ برطانیہ، مائنز فرانس، سائمیگو سپین، ہائی امپیکٹ پرفارمنس یونیورسٹیز آسٹریلیا، یو۔ آئی گرین میٹرک انڈونیشیا، ٹائمز ہائر ایجوکیشن برطانیہ، اور کچھ دیگر۔

ان سب کا جامعات کو جانچنے کا پیمانہ، طریقہ کار، اور کیلنڈر الگ الگ ہے، مگر دیکھا یہ گیا ہے، کہ 15 سے 20 یونیورسٹیز ہیں جو ٹاپ پر ہی رہتی ہیں، اگرچہ ان کی پوزیشن میں تھوڑا بہت رد و بدل رہتا ہے۔ پہلے دس نمبر پر امریکا اور برطانیہ کی یونیورسٹیز ہی قابض ہیں۔ کیو ایس رینکنگ میں پچھلے کچھ سالوں سے سویٹزرلینڈ کی ای ٹی ایچ زیورخ پہلی دس یونیورسٹیز میں شامل ہوئی ہے۔ انٹرنیشنل رینکنگ میں زیادہ تر جن عناصر کی بنیاد پہ اسکورنگ ہوتی ہے ان میں کوالٹی ٹیچنگ، تحقیق، اساتذہ و طلبا کا تناسب، ریسرچ پبلیکیشنز، یونیورسٹی کی شہرت (ریپوٹیشن) ، اساتذہ کی کوالیفیکیشن، بین الاقوامی طلبا و اساتذہ، تحقیق کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی، انڈسٹری کے ساتھ لنک اور اس کے نتیجے میں آنے والی آمدنی شامل ہیں۔

ہمارے تعلیمی ادارے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (وفاقی اور صوبائی دونوں ) کمزوریوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں، روڈ میپ بنا سکتے ہیں، لیکن وہ زیادہ تر حکومتی پالیسیوں، ترجیحات اور سر پرستی پر انحصار کریں گے۔ اداروں کے اچھے، قابل، اور محنتی سربراہ، اچھے اقدامات، اور پھر ان میں تسلسل، اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا نظام جس میں میرٹ، انصاف اور شفافیت ہو، اور بہترین گورننس ہو۔

پاکستان کی جامعات میں مکمل صلاحیت ہے، کہ وہ بھی ایک دن دنیا کی اعلیٰ جامعات کی صف میں نظر آئیں۔ اس کے لیے ہمیں دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیز سے سیکھنا ہو گا۔ ہمیں خبر ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، مگر ہم یہ بھی پلان کر لیں کہ ہم نے کہاں پہنچنا ہے، کیا حاصل کرنا ہے۔ ہم طالب علموں کی تعداد تو بڑھا سکتے ہیں، مگر ان کے استعداد کے بارے کیا منصوبے ہیں؟ ہم ڈگریاں تو دے سکتے کیں مگر ان کی قدر کتنی بڑھے گی؟ خود احتسابی (سیلف اسیسمنٹ) ، ایک واضح اور قابل عمل منصوبہ بندی، شارٹ ٹرم بھی اور لانگ ٹرم بھی، اور رینکنگ کی فکر سے بے نیاز ہو کر، صرف اور صرف صحیح معنوں والا ”اعلیٰ“ تعلیم، اور اتنے ہی اعلیٰ معیار کی تحقیق، وہ تحقیق جو صرف ہمارے پروموشن کے لیے، یا ہمارے سی وی کے لیے نہ ہو، بلکہ ہمارے لیے، ہمارے معاشرے کے لئے، اور دنیا کے لئے فائدہ مند ہو، مسائل کا حل نکالنے والی تحقیق، خیر بانٹنے والی سائنسی تحقیق، انسانیت دوست معاشرہ تخلیق کرنے والا علم، لوگوں کو سکھ دینے والا ہنر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply