کسی نے کہا تھا، کہ خواب وہ نہیں ہیں جو آپ کو سوتے میں نظر آئیں بلکہ خواب وہ ہیں جو آپ کو سونے نہ دیں۔ اور اصل میں یہ وہ خواب ہیں جو سوچنے کا انداز بدل دیتے ہیں، جینے کا ڈھنگ بتا دیتے ہیں، سیکھتے رہنے کی اہمیت سمجھا دیتے ہیں۔ اور میرے خیال میں ایسے خوابوں کے پیچھے جانے کے لیے یونیورسٹی سے بہتر جگہ نہیں ہو سکتی۔ اور یہاں یونیورسٹی سے میری مراد، اعلیٰ تعلیم کا وہ ادارہ جو اپنے وجود کے جواز سے واقف بھی ہو، اور اس چیز کو ثابت کرنے کی اسے ضرورت بھی نہ ہو۔ یعنی کہ وہ صحیح معنوں میں ”اعلیٰ“ تعلیم کا ادارہ ہو، جہاں تعلیم، تدریس، تحقیق، سوچ، کردار، نظریہ، عمل، غرض کہ سب کچھ اعلیٰ اور ارفع ہو۔
پاکستان میں اس وقت دو سو سے زائد جامعات ہیں، اور چند ایک کو چھوڑ کر سب کا شمار ینگ یونیورسٹیز ( young universities) میں کر سکتے ہیں (ٹائمز ہائر ایجوکیشن کے مطابق جن یونیورسٹیوں کو بنے پچاس سال سے کم عرصہ ہوا ہو، وہ ینگ یونیورسٹیز کی کیٹیگری میں آتے ہیں ) ۔ یہ تمام ادارے اپنی اپنی خصوصی حیثیت اور صلاحیتوں کے مطابق اپنی متعین کردہ منزل کی طرف گامزن ہیں۔
Read more