ارطغرل۔ سافٹ پاور اور ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں دو طرح کی طاقتیں ہیں۔ اچھی اور بری نہیں بلکہ ہارڈ اور سافٹ پاور۔ ہارڈ پاور جیسے کہ عسکری طاقت جو بندوق کی نوک پر کامیابی حاصل کرے اس میں افغان اور عراق جنگ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ دوسری سافٹ پاور جس میں کسی بھی ہتھیار کا استعمال کیے بغیر لوگوں کے دل میں اپنی جگہ بناتے ہوئے انہیں اپنا بنایا جائے۔

امریکا سمیت دنیا کے تقریباً تمام بڑے ممالک اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے سافٹ پاور کا استعمال کر رہے ہیں۔ سرد جنگ اور افغانستان میں سویت یونین کی شکست کے بعد امریکا نے ہالی ووڈ فلموں کے ذریعے روس پر امریکی برتری کو گھر گھر تک پہنچایا ساتھ ہی جدید امریکی ہتھیاروں کو بھی دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔

نوے کی دہائی میں بھارت نے بھی اسی حکمت عملی کو اپنایا۔ مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کو دبانے، ہر برے کام کے پیچھے پاکستان اور مسلمانوں کو دکھانے کے لیے بالی ووڈ انڈسٹری کا بھرپور استعمال کیا۔ کارگل۔ ایل او سی۔ مشن کشمیر۔ فضا اور رفیوجی سمیت اس جیسی کئی فلمیں اسی مقصد کے لیے بنائی گئیں۔

اس میدان میں ترکی بھی اپنے قدم مضبوطی سے جما چکا ہے اور اسلامی دنیا میں کوئی دور دور تک اس کے مقابل نہیں ہے۔ اسی لیے مختلف اوقات اور واقعات میں ترک صدر رجب طیب اردوان کی شخصیت کو سحرانگیز بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستان سمیت دیگر اسلامی دنیا میں اردوان کی مقبولیت اس کا واضح ثبوت ہے۔

کسی وقت میں سعودی عرب اور شاہی خاندان سافٹ پاور اسٹریٹجی پر عمل کرتے ہوئے دنیا بھر میں مساجد اور مدارس قائم کرتے، انہیں فنڈنگ کر کے چلاتے اور لوگوں کی ذہن سازی کام انجام دیتے تھے۔ آج ترک حکومت کا ڈائریکٹوریٹ آف ریلیجیئس افیئرز اور اس کے زیر انتظام دیانت فاؤنڈیشن دنیا کے کئی ممالک میں اسی طرز پر کام کررہی ہے۔ دو ہزار پندرہ میں جب صدر اردوان کیوبا کے دورے پر پہنچے تو انہوں نے کیوبن ہم منصب سے ملاقات میں ہوانا میں مسجد کی تعمیر کی پیشکش کر کے سب کو حیران کر دیا کیونکہ اسی سال سعودی عرب کیوبن حکومت کو ہوانا میں مسجد تعمیر کرنے کے لیے فنڈ فراہم کرچکا تھا۔

جرمنی کے شہر کولون میں تعمیر ہونے والی یورپ کی سب سے بڑی مسجد بھی ترکی کے اسی دیانت فاؤنڈیشن کے تعاون سے قائم ہوئی اور دو ہزار اٹھارہ کے اواخر میں صدر رجب طیب اردوان نے خود اس مسجد کا افتتاح کیا۔ صرف یہ ہی نہیں جرمنی میں ترک حکومت کے تعاون سے تقریباً ایک ہزار مساجد چل رہی ہیں۔ جس سے یورپ کے دیگر ممالک میں ترکی کے تعاون سے چلنے والی مساجد کی تعداد کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

دیانت فاؤنڈیشن نہ صرف مساجد کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتا ہے بلکہ امام اور دیگر عملے کی تربیت کا اہتمام بھی کرتا ہے۔ کئی ممالک میں ان آئمہ پر الزام لگتا رہا ہے کہ یہ اردوان کے سیاسی الزام کی ترویج میں ملوث ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ جون میں آسٹرین چانسلر مذہب کی آڑ میں سرگرمیاں انجام دینے کے الزام میں سات مساجد کو بند اور اماموں کو ان کے خاندان کے ساتھ ڈی پورٹ کر دیا تھا لیکن ترکی ان تمام الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

اسی طرح فلمی اور ڈرامے کی صنعت میں بھی ترک حکومت کی سرمایہ کاری دیگر تمام اسلامی ممالک کی فلمی انڈسٹری سے کہیں زیادہ ہے۔ آج کل پاکستان میں مقبولیت کے ریکارڈ توڑنے والے ڈرامے ارطغرل کی کہانی، بجٹ اور پروڈکشن اس کی عکاس ہیں۔ صرف ارطغرل ہی نہیں سلطان عبدالحمید۔ یونس ایمرے اور فاتح جیسے عثمانی تاریخ پر مبنی دیگر ڈرامے ترک انڈسٹری کا شاہکار ہیں۔

اسلامی دنیا میں ترکی کا بڑھتا ہوا یہی اثر و رسوخ اور عربوں پر ترکوں کی برتری سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک کو بالکل بھی برداشت نہیں۔ اسی لیے عرب ممالک اپنے یہاں ارطغرل پر پابندی لگا چکے ہیں اور اب شاہ سلمان بھی اس میدان میں کودنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ حال ہی میں سعودی عرب میں کھلنے والے سینما اور کانسرٹ کا اہتمام اور تقریبات میں بالی ووڈ ہیرو شاہ رخ خان سمیت دیگر کی شرکت آنے والے مستقبل کے خاکے کے رنگوں کو عیاں کررہی ہے۔

اس ساری جنگ میں ہم کہاں ہیں؟ ہم اسلامی دنیا تو دور پڑوسی ممالک میں بھی کہیں نہیں دکھائی دیتے۔ ہم نے تیس سال تک افغانوں کی میزبانی کی۔ رہنے کو زمین اور سر چھپانے کو گھر دیے، روزگار دیا، تعلیم دی لیکن اس کے بدلے میں ہمیں صرف اور صرف نفرت ملی۔ آج افغانستان میں بھارت کا اثر و رسوخ پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ افغانی نوجوان بالی وڈ کی سحر انگیزی اور بھارتی معاشی قوت سے مرعوب نظر آتے ہیں اور اس کے گن گاتے دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستانی فلم انڈسٹری کے ستارے بھی ارطغرل پر تنقید کر رہے ہیں لیکن اس کی جگہ لینے کو تیار نہیں، اس جیسی مضبوط کہانی اور کردار اپنی اسکرین کو دینے کا نہیں سوچتے۔ ویسے تو ہم ففتھ جنریشن وار کا راگ الاپتے ہیں لیکن کاف کنگنا کے نام پر ایسی ناکام پروپیگنڈا فلمیں اسکرین کو دیتے ہیں جنہیں غیر تو کیا دیکھتے اپنوں نے بھی گھاس نہ ڈالی۔

ڈرامے پر تنقید کریں ضرور کریں لیکن عوام کو اس کا متبادل بھی تو دیں۔ سندھ کے حروں اور خیبرپختونخوا کے قبائلیوں کی بہادری کی داستانیں، قیام پاکستان کے وقت سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہجرت کرنے والے مسلمان، بھارتی جاسوس کی سرزمین پاکستان سے گرفتاریاں، نائن الیون کے بعد بدلتی صورتحال اور ہزاروں بے گناہ جانوں کی قربانیاں، یہ سب کہانیاں ہماری ہی ہیں۔ آگے آئیں اس محاذ پر قوم کی رہنمائی فرمائیں ورنہ یہ قوم یونہی ٹرک کی بتی کے پیچھے دوڑتی رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “ارطغرل۔ سافٹ پاور اور ہم

  • 24/05/2020 at 6:08 am
    Permalink

    بہت اہم مسئلہ اجا گر کِیا اور پھر اس کا حل بھی بہت اچھا دیا۔ سلامت رہیے معاذ احمد صاحِب۔

Leave a Reply