اماں جس پر لکھتے لکھتے یہ دن آ گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اور اماں دو پکی گوڑی سہیلیاں اوپر تلے کی جیسے دو بہنیں ایک گھر میں مثل دو سوکنیں میرے بہت سے رشتوں کی ابتدا اور انتہا ان کی ذات سے شروع ہو کر ان پر ہی ختم ہوتی تھی صبح اگر پانی پت کا میدان گرم ہوتا تو شام کو ہم گھنٹے سے گھٹنا جوڑے اپنا ”کیتھارسس“ سیشن جاری کرتیں پھر دل کی چال چلتی اماں کو برین ہیمرج ہو گیا اور میں نے پورے پچیس دن ان کا گو موت اٹھایا۔

تب میں نے خود سے کہا چلو یہ تندرست ہوں گی تو کہوں گی کہ ہمارا آپ کا حساب کتاب برابر ہوا پر وہ مجھے دکھ اور کرب کے لا متناہی سمندر میں دھکیل کر خود فرار ہو گئیں۔

میں چھم چھم روتی ہوں اور لمبے لمبے سجدے کرتی ہوں۔

پر مجھے یقین ہے کہ وہ اگر جنت کی کھڑکی سے جھانک کر میرے آنسوؤں کو دیکھ لیں تو ضرور کہیں گی چل ہٹ جھوٹی کہیں کی۔

یاروں کے لیے روتی ہے اور نام میرا لیتی ہے
اغراض کے لیے جھکتی ہے اور احسان مجھ پر دھرتی ہے

چنبیلی کے پھولوں جیسی رنگت والی میری اماں جن کے تیکھے خد و خال انہیں بہت دلکش بنائے ہوئے تھے، بیاہ کر جس کے لڑ لگیں وہ نہایت اکھڑ مزاج شخص تھا۔ اس کی موٹی موٹی باہر کو ابلتی ہوئی آنکھوں میں شاید کبھی نرمی اور حلاوت گھلی ہوئی نظر آئی ہو۔ سدا غصہ اور تناؤ ہی موجیں مارتا رہتا۔

کنوار پنے میں جب وہ ابھی اپنے میکے گھر میں قاری صاحب سے گلستان و بوستان پڑھ رہی ہوتیں، میرے ابا اپنے گھر کی چھت کی منڈیر پر بیٹھے کبوتروں کے غول اڑانے میں مصروف ہوتے۔ جونہی گلی میں سک سرمے والے بھا گامے کی آواز گونجتی، ابا منڈیر سے آدھا دھڑ گلی میں لڑھکا دیتے اور آواز لگانا نہ بھولتے۔

”پا گامیاں! میری ووہٹی نوں سک (دنداسہ) دیندا جائیں۔“
اور پا گاما زور سے ہنستے ہوئے کہتا۔
”کنجر دیا! پیسے توں دیویں گا یا تیرا پیو۔“
اور وہ سینے پر زور سے اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہتا۔
”میں دیواں گا، میں!“

ارد گرد کے گھروں میں بسنے والیاں شریکے کی چچیاں تائیاں یہ مکالمے سنتیں، ہنستیں اور اماں تک سب کچھ پہنچا دیتیں۔ بیچاری اماں شرم سے سر نہ اٹھا پاتیں۔

ان کے گھر میں ایسی باتیں کب تھیں۔ ان کا دانا باپ جوانی ہی میں اپنی دانائی کے بل پر گاؤں کا چودھری بنا ہوا تھا۔ گاؤں کے بڑے بوڑھے تک اہم فیصلوں میں اس جوان آدمی کی رائے کو خاص اہمیت دیتے تھے۔

ان کے بھائی صبح سویرے پانچ کوس کا پینڈا مار کر جالندھر سکول میں پڑھنے جاتے اور واپس آ کر یا کتابوں سے گھلتے یا باپ کے ساتھ کھیتی باڑی میں اس کا ہاتھ بٹاتے۔

ابا، اماں کا بہت قریبی رشتے دار تھا۔ لاڈلا اور بگڑا ہوا بچہ۔ اوپر تلے کے تین بیٹوں کی موت کے بعد بچا تھا اس لیے ماں بہنوں نے ہتھیلی کا چھالا بنا ڈالا تھا۔ بارہ سال تک گودیوں میں اٹھائے رکھا۔ اسکول میں پڑھنے جاتا تو میری دادی پیچھے دس چکر لگاتی۔ بیس بار منشی جی کے کانوں میں یہ ڈالتی: ”بڑا مہنگا پتر ہے جی۔ اس سے پہلے تین اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں، یہ بچا ہے۔“

یوں وہ تیسری میں تین بار اور چوتھی میں چار بار فیل ہو کر اب کوٹھوں پر کبوتر بازی نہ کرتا تو اور کیا کرتا۔

مزاج کے تند، ہنر سے عاری اور تعلیم سے بے بہرہ انسان کے ساتھ اماں نے کیسے گزارہ کیا میرے مشاہدوں کی تلخ یادیں ہمیشہ میرے ذہن میں ہلچل مچائے رکھتی ہیں۔

بڑی صابر عورت تھیں۔ قدرت نے جب ماں کا شرف بخشا اور بیٹا بیٹی سے نوازا۔ دونوں بچے گہری سانولی رنگت لے کر دنیا میں آئے تھے۔ شریکے کی کم وبیش سبھی عورتوں نے طنزاً کہا۔

”ارے سارے خانوادے میں ایسا کوئی نہیں۔ یہ کالے میراثی کس پر گئے ہیں۔“

دراصل وہ بھی کسی حد تک ٹھیک ہی کہتی تھیں کہ ہمارا ابا بڑا تگڑا جوان تھا۔ پینتالیس انچ چوڑی چھاتی کسرتی بدن اور پٹھانوں جیسا سرخ و سفید رنگ۔ ایسے میں جب ابا نے بھی ناک بھوں چڑھایا اور بڑی بوڑھیوں نے ہمدردانہ انداز میں اماں کے سرہانے بیٹھ کر گوہر افشانی کی۔

”اب یہ تو تمہاری ساس کو چاہیے تھا کہ تمہیں بتاتی کہ پوری چاند راتوں میں ملاپ کرنے اور پیٹ ہو جانے پر نو مہینے نہار منہ دہی کھانے سے بچہ خوبصورت ہوتا ہے۔“

اور میری ماں نے کتنے افسردہ لہجے میں اپنی چچیا ساس سے کہا تھا۔

”یہ سب تو مقدر کی باتیں ہیں۔ اس میں انسان کا کمال اور اس کی کاریگری کیا۔ کون مان چاہتی ہے اس کے بچے خوبصورت نہ ہوں۔“

تقسیم کے بعد لٹ لٹا کر پاکستان آئے تو اماں کے میکے والوں نے ایک کمرہ جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا باورچی خانہ تھا، اماں کو سر چھپانے کو دے دیا۔ چھوٹے موٹے کام پر ابا کو بھی لگا دیا۔

اب لاکھ اماں، ابا کے حلیے کو اچھا رکھنے پر زور دیتیں، وہاں وہی خستہ حال لنڈے کی پینٹ اور بے ڈھنگی سی قمیض، کندھے پر چار خانی لینن کا انگوچھا اور پاؤں میں پھٹا پرانا جوتا۔

پتہ نہیں انہیں ابا کو اچھے کپڑے پہنانے کا شوق تھا یا وہ اپنے میکے والوں سے شرمندہ رہتی تھیں۔ ان کے بھائی افسر آدمی تھے۔ کلیدی ملازمتوں پر بیٹھے تھے، محل نما گھر میں رہتے تھے۔ ایسے میں شاید وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ابا ان کے لیے شرمندگی اور خفت کا باعث بنے۔ وہ ابا کے کپڑوں کو سوڈے کے کھارے پانیوں میں غوطے دے دے کر ان پر ڈنڈوں کی بارش کر کے صاف کرتیں، نیل لگاتیں اور جب وہ کپڑے ہاتھوں میں پکڑ کر پہنانے کے لیے شوہر کے آگے کھڑی ہوتیں وہ انہیں ہاتھ مار کر جھٹک دیتا۔ اماں مسکینی سے کہتیں : ”اے ہے لوگ کیا کہیں گے ان کا داماد کیسا فجا سودائی ہے۔“

بس اماں کی اتنی بات کہنے کی دیر ہوتی کہ ابا کی لال لال آنکھیں یوں لگتا جیسے ابھی فرش پر گر پڑیں گی۔ ہونہہ کا ہنکارا ایسا طنزیہ اور زور دار ہوتا کہ بے چاری اماں سہم کر پیچھے ہٹ جاتیں۔

میرا باپ کیسا آتش مزاج تھا۔ ہنڈیا میں نمک تیز ہوجاتا وہ ہنڈیا اٹھا کر زمین پر مارتا۔ ذرا بات مزاج کے خلاف ہوئی اس نے گھونسوں سے اماں کا منہ سوجا دیا۔ کہیں اماں سے جواب دینے کی غلطی ہوگئی اس نے روئی کی طرح دھنک کر رکھ دیا۔ جب بھی ایسی صورت حال ہوئی اماں بہت ضبط سے اسے برداشت کرتیں اور ہونٹوں کو سی لیتیں۔ نہیں چاہتی تھیں کہ اس لڑائی جھگڑے کی بھنک اس کے میکے والوں کے کانوں میں پڑے۔ اپنے آپ کو کمرے میں قید کر لیتیں۔ کمرے سے باہر نکلتیں تو یوں ظاہر کرتیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

چالیس برس کی ازدواجی زندگی میں ایک بار ایسا نہیں ہوا کہ ابا نے اماں کی ہتھیلی پر تنخواہ رکھی ہو۔ ہفتے کا خرچ ملتا اسی میں وہ تھوڑی سی بچت کر لیتیں۔ کبھی کبھی ابا کے اچھے موڈ کا فائدہ اٹھا کر اس سے کچھ پیسے بٹور لیتیں۔

عجیب بات تھی کہ اماں کی کنواری بہنیں جب ابا کے لیے ناپسندیدہ الفاظ استعمال کرتیں تو اماں بہت برا مناتیں۔ باقاعدہ ان کے مقابلے پر جی داری سے صف آرا ہوتیں۔ پر اماں کی پسپائی ہمیشہ راجہ پورس کے ہاتھیوں جیسی ہوتی کہ جو اپنی ہی فوجوں کو روندتے ہوئے بھاگ جاتے۔ تب اماں اپنے کمرے میں آنسوؤں کے کھارے پانیوں میں غوطے کھاتے ہوئے گلستان، بوستان کی حکایتیں یاد کرتیں۔ مولانا غلام رسول کی یوسف زلیخا پڑھتیں اور اپنی بہنوں کو جی بھر کر کوستیں جو پڑھ لکھ کر بہت تیز طرار بن گئی تھیں۔

ارے کوئی حرام کی تھی جو کوڑھیوں کی طرح اٹھا کر کوڑے کے ڈھیر پر ڈال دیا۔ ساری عمر چنگڑوں اور شودروں جیسا سلوک کیا۔

شاید یہی وجہ تھی کہ عمر بھر وہ بہنوں کے مقابلے میں نندوں سے زیادہ قریب رہیں۔ وہ نندوں کے بچوں کے لیے بہت محبت کرنے والی ممانی تھیں۔ اپنا پیٹ کاٹ کر نندوں کو عید شبرات بھیجتیں۔ ان کے بچوں کی شادیوں پر دھوم دھڑکے سے جاتیں۔ بڑی پریت سے نانکی شک تیار کرتیں۔

وہ جگت ماسی جی تھیں۔ بڑوں کی ماسی، ان کے بچوں کی ماسی، ہمدرد و غمگسار۔ محلے میں کسی کو تکلیف ہو جاتی وہ حاضر، ہر کسی کے دکھ میں شریک۔ ایک بار گھر آئیں تو کان کی سونے کی ڈنڈی غائب۔ میں نے پوچھا : ”اماں! ڈنڈی کہاں گئی؟“

”ارے“ انہوں نے لوئیں چھوئیں اور یوں ظاہر کیا جیسے وہ کہیں گر گئی ہو۔

برسوں بعد مجھے پتہ چلا کہ کسی غرض مند کو ضرورت تھی، انہوں نے ڈنڈی اتار کر اسے دے دی تھی کہ چلو اپنی غرض پوری کر لو۔

میری یادوں کی چلمن سے میرے بچپن کا وہ واقعہ بھی کسی قطبی تارے کی مانند سدا جھلملاتا رہتا ہے۔ ہمارے ہمسائے میں سہارن پور سے آئے ہوئے خاندان آباد تھے۔ تین شادی شدہ بیٹوں کی بوڑھی ماں جسے سنبھالنے پر کوئی بہو تیار نہیں تھی۔ میری ماں ان کے گھر جاتیں۔ اس کے کپڑے دھوتیں، اسے نہلاتیں، بالوں میں تیل کی مالش کر کے کنگھی کرتیں۔ اس کے آخری دنوں میں تو اسے کھانا کھلانا بھی ان کی ذمہ داری تھی۔ مجھے یاد ہے۔ ایک بار انہیں کسی کام سے گاؤں جانا پڑا۔ انہوں نے سب سے زیادہ مجھے جس کام کی تاکید کی وہ اپنی منہ بولی ماں کی دیکھ بھال تھی۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ان کے گندے کپڑے کس مشکل سے دھوئے تھے۔

ابا چھ سال بیمار رہے۔ ایک کریلا دوسرے نیم چڑھا والی بات ہو گئی تھی۔ اماں ان کا کمرہ صاف کرتیں، الٹیوں اور بخار کے پسینے سے تر کپڑے دھوتیں، جسم کو اسفنج سے صاف کرتیں، دھلے کپڑے پہناتیں، سوپ بنا کر پلاتیں اور سارا دن بھاگی بھاگی پھرتیں اور اس کے ساتھ ساتھ ابا کی گھرکیاں اور گالیاں بھی سنتیں اور سہتیں۔ ہم جیسے کبھی کہتے۔

”اماں آپ نے تو ابا کو سر چڑھا رکھا ہے۔“
وہ ذرا سا مسکرا کر کہتیں۔
”کیا کروں؟ ساری عمر کا ایسا ہی ہے۔ میں بھی مجبور ہوں۔“

ابا کو فالج کا اٹیک ہوا۔ اسپتال میں داخل ہوئے دس دن تک وہ مسلسل بے ہوش رہے۔ ڈاکٹروں نے غذا کے لیے نالی لگانی چاہی، اماں نہیں مانیں۔ اصرار ہوا تو بولیں۔

”میں غذا خود کھلاؤں گی۔“

اور پھر پتہ نہیں کہ وہ کن کن جتنوں سے انہیں غذا کھلاتی رہیں۔ ڈاکٹر ریاض قدیر مرحوم ابا کے ہوش آنے پر حیران تھے۔

ان کی یہ خدمت صرف ابا تک محدود نہیں تھی، وہ وارڈ کے ہر اس مریض کے لیے دل و جان سے حاضر رہتیں جس کا کوئی تیمار دار نہ ہوتا۔ کسی کے کپڑے دھو رہی ہیں۔ کسی عورت کے بالوں میں کنگھی کر رہی ہیں۔ اور جب ابا اپنے پاؤں پر چل کر اسپتال سے گھر آئے، پتہ نہیں اماں کتنے لوگوں کی دعائیں اپنے ساتھ لائی تھیں۔

اردن کا وہ لڑکا مجھے کبھی نہیں بھولتا جو ابا کے ساتھ والے بیڈ پر یرقان کا مریض تھا۔ 1985 میں ہیپاٹائٹس بی سی کو کون جانتا تھا؟ پیلا اور کالا یرقان مانوس نام تھے۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے اس طالب علم کی میری ماں بہت جانفشانی سے تیمارداری کرتیں۔ اس پردیسی جوان بچے کے لیے آنسو بہاتیں۔ اس کے لیے دعا مانگتیں۔ اس کا باپ جب اسے لینے آیا اس نے کتنی ممنون آنکھوں سے ان کا شکریہ ادا کیا۔ ایڈریس لیا۔ اور جب وہ اردن جا کر فوت ہو گیا تو ماں کو اطلاع بھی دی۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ اس سارے دن ماں نے کھانا نہیں کھایا تھا۔

کیسی محبت بھری تھیں کہ سارے بوجھ خود ہی اٹھاتیں اور کبھی بیٹے بیٹی سے یہ نہ چاہتیں کہ وہ کسی دن اسپتال رہ جائیں اور وہ گھر جا کر آرام کر لیں۔ خدا گواہ ہے کہ ہمیں ایک ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ اسپتال میں رکنے نہ دیتیں۔

”بس اب جاؤ۔ بچے چھوٹے ہیں تم لوگوں کے میں جو ہوں۔“

اماں جب ساس بنیں تو بہت اچھی ساس نہیں تھیں۔ شاید انہیں اپنی اکلوتی بیٹی سے بہت پیار تھا۔ مگر گزرتے وقت میں جب انہیں احساس ہوا تو سب کچھ بہو کے حوالے کر کے خود اپنے شوہر کو لے کر ایک چھوٹے سے گھر میں منتقل ہو گئیں۔ کسی نے کہا۔
”تم ابھی سے کنارہ کش ہو گئی ہو۔ اپنی گدی نہیں چھوڑتے۔“
تو بڑی طمانیت سے بولیں۔
”میں نے بہتیرا راج کر لیا۔ اب جن کے کام ہیں وہ سنبھالیں۔“

بچیوں کو قرآن پاک پڑھانے سے انہیں عشق رہا۔ گھر میں جونہی شام کے سائے ڈھلنے لگتے ”ماسی جی سلاماں علیکم“ کی صدائیں گونجنے لگتیں۔ انگنائی لڑکیوں سے بھر جاتی۔ ہر ایک کو سبق خود دیتیں۔ پتہ نہیں کتنے سینکڑوں لڑکیوں لڑکوں کو پڑھایا۔

ہم ماں بیٹی میں بہت دوستانہ تھا۔ ہر بات ایک دوسرے سے کرتے۔ شادی کے اوائل میں سسرال کی سختی کی باتیں مجھ سے سنتیں تو کہتیں۔

” گھبراتے نہیں صبر کرو، اللہ اچھے دن لے آئے گا۔“

مجھے ہمیشہ دو ملال رہے۔ پہلا یہ کہ میری خوبصورت ماں کو میرے باپ کی بیماری نے ادھ موا کر دیا۔ کبھی کبھی جی چاہنے لگتا کاش! وہ اس بوجھ سے نجات حاصل کر لیں، مگر وہ تو ان خوش نصیب عورتوں میں شامل ہونا چاہتی تھیں جو شوہروں کی زندگی میں ہی وداع ہو جاتی ہیں۔

اور میرے دوسرے ملال نے بھی مجھے ہمیشہ مضطرب رکھا۔ وقت اور حالات نے مجھے جس قدر عزت اور دولت دی اپنی بیٹی کا یہ عروج وہ نہ دیکھ سکیں۔

پتہ بھی نہیں چلا کہ کب انہیں موت آ گئی دوڑتے بھاگتے وہ چلی گئیں۔ ان کی چارپائی آنگن میں پڑی تھی اور عورتوں کے غول اندر آ رہے تھے۔ میں نے ایسے ایسے چہرے دیکھے جو میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ ہر عورت جو دہلیز سے اندر آتی، ضرور کہتی تھی۔

”بڑی اخلاق والی عورت تھی۔“

ہمارے محلے میں یو پی کی طرف کا ایک بہت معزز گھرانہ تھا۔ جن کا بیٹا ڈاکٹر تھا۔ نماز جنازے میں شرکت کے بعد جب وہ گھر گیا اس نے اپنی ماں سے کہا۔

”آپ کو پتہ ہے آج کون فوت ہوا ہے؟“
ماں نے حیرت سے اسے دیکھا۔
”اس محلے کی بہت نیک اور با اخلاق عورت آج خدا کی مہمان ہوئی ہے۔“
وہ لوگ تعزیت کے لیے جب آئیں تو آنسوؤں بھری آنکھوں سے یہ واقعہ مجھے سنایا۔

اپنے صدر علاقے کے بازار میں میں جب بھی خریداری کے لیے نکلتی تو ایک مدت تک ریڑھیوں والوں اور دکانداروں نے مجھ سے اس انداز میں تعزیت کی۔ آپ کی والدہ جیسی اخلاق اور محبت والی عورتیں بہت کم ہوں گی۔ اگر شوہر کی وفاداری اور خدمت پر جنت مل سکتی ہے تو یقیناً میری ماں جنت کی سب سے زیادہ حقدار ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *