پاکستان میں اقلیتی حقوق کی ادارہ سازی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

5 مئی کو موجودہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق سے یہ صاف ظاہر ہے کہ گذشتہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ و فروغ کے لیے اس اہم ترین اقدام کے بارے مطلوبہ سنجیدگی دکھانے سے قاصر رہی۔ 1990 سے ہی اس طرز کےعارضی کمیشن (بلکہ کمیٹی کہنا درست ہو گا) تشکیل دیئے جاتے رہے ہیں جن کا نہ تو کوئی دفتر ہوتا، نہ عملہ، نہ ہی واضح اصول و ضوابط، دائرہ کاراور اختیار(mandate) ہوتا، نیز یہ کمیٹی پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کے فروغ اور تحفظ سے متعلق موثر کردار ادا کرنے سے قاصر رہی۔ اسی بنا پر گذشتہ تین دہائیوں سے انسانی حقوق کی تنظیموں اور محافظین بطورِ خاص اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے محافظین کی جانب سے بار بار یہ تقاضا کیا جاتا ہے کےقومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کو باقاعدہ قانون سازی کے تحت تشکیل دیا جائے کیونکہ یہ کمیشن صرف اسی صورت میں موثر کردار ادا کر سکتا ہے اگر اس کی تشکیل قانون سازی کے ذریعے ایک آزاد، خودمختار اور غیرجانبدار ادارے کی حیثیت سے کی جائے نیز کمیشن کی موثر کارکردگی کے لیے درکار تمام انسانی و مالی وسائل مہیا کئے جائیں۔

پاکستان کی عدالتِ عظمی (سپریم کورٹ) نے 19 جون 2014 کو اقلیتوں کے حقوق سے متعلق تاریخ ساز فیصلے میں حکم صادر کیا تھا کہ”قومی کونسل برائے اقلیتی حقوق تشکیل دی جائےجس کے دائرہِ اختیارمیں منجملہ اور چیزوں کےیہ بھی شامل ہو کہ آئین اور قانون کے تحت اقلیتوں کو حاصل حقوق اور تحفظات کوعملی طور پر تسلیم کیا جائے۔ کونسل کو یہ ذمہ داری بھی سونپی جائے کہ وہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پالیسی سفارشات مرتب کرے” حکومت کی جانب سےتشکیل دیا گیا کمیشن مندرجہ بالا عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے۔ مزید برآں یہ اقدام پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے انتخابی منشور 2018 کےتحت کئے گئے وعدے کے بھی برعکس ہے جسں کے مطابق پی ٹی آئی” بنیادی اصلاح (structural reform) کے ذریعے قانونی سازی کے تحت بااختیار، آزاد اور بھرپور وسائل کے ساتھ قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق تشکیل دے گی نیز اس کے صوبائی کمیشن/ ڈیپارٹمنٹ بھی تشکیل دیئے جائیں گے”

اس کے علاوہ ریاستِ پاکستان پرانسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے تحت بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ باقاعدہ قانون سازی کے تحت، پیرس اصولوں (Paris Principles) کے مطابق قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق تشکیل دے تاکہ آئینِ پاکستان میں تعویض کردہ بنیادی حقوق نیز پاکستان کی جانب سے توثیق کردہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدات میں بیان کئے گئے تمام حقوق کی فراہمی پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے لیے یقینی بنائی جا سکے۔  اس لیے یہ از حد ضروری  ہے کہ ملک میں قائم کیے گئےدیگرانسانی حقوق کے اداروں بشمول قومی کمیشن برائے وقارِنسواں، قومی کمیشن برائےانسانی حقوق، قومی کمیشن برائےحقوقِ اطفال کی طرح قومی کمیشن برائےاقلیتی حقوق کا قیام بھی باقائدہ قانون سازی کے ذریعے عمل میں لایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی یہ انتہائی ضروری ہے کہ اس کمیشن میں پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتی برادریوں کو نمائندگی دی جائے، بشمول اقلیتی خواتین کے جن کی نمائندگی پہلےسے ہی مختلف فورمز پر نہ ہونے کے برابر ہےنیزاکثریتی آبادی سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی اس کمیشن کا حصہ بنایا جائے۔ کمیشن کی موثر کارکردگی کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ اس کے تمام ممبران انسانی حقوق کے کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہوں نیز انسانی حقوق کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کے مرتکب نہ پائے گئے ہوں۔ مزید برآں اس کمیشن میں کسی بھی برادری کے مذہبی رہنما نیزسایسی و مذہبی پارٹی اور اداروں کے نمائندوں کو شامل نہ کیا جائے تاکہ قومی کمیشن برائےاقلیتی حقوق بغیر کسی سیاسی اور مذہبی دبائو کےکام کر سکے۔ کیونکہ کمیشن کامقصداقلیتوں کودرپیش انسانی حقوق کے مسائل حل کرنا اوراقلیتوں کوانسانی حقوق کی فراہمی بشمول عقیدےاورمذہب کی آزادی کو یقینی بنانا شامل ہے نہ کہ اقلیتوں کے مذہبی امورومعاملات میں رہنمائی کرنا۔

پاکستان میں اقلیتی حقوق کی ادارہ سازی کے مقصد کی تکمیل کے لیے آئینی و قانونی حیثیت رکھنے والے قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کے قیام کے ساتھ ساتھ دیگر کئی اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ریاستِ پاکستان کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ تمام اقلیتی طالبِ علموں کی ہر سطح پرحقِ تعلیم تک رسائی بغیر کسی امتیازکے ممکن بنائےنیزاقلیتوں کے خلاف نصابی کُتب ،انٹرنیٹ اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں موجود نفرت انگیزمواد کا خاتمہ کرے۔ اقلیتوں کے لیے مختص کیے گئے 5  فیصد ملازمتوں کے کوٹہ پر عملدرآمد کو تمام سرکاری شعبوں میں یقینی بنایا جائےاوراقلیتی طالبِ علموں کے لیےتمام سرکاری تعلیمی و تکنیکی تربیت کے اداروں میں 5  فیصد تعلیمی  کوٹہ کا اجرا کیا جائے۔ اس کے علاوہ اشد ضروری ہے کہ حکومت انتظامی اور سماجی سطح پر ایسے پروگرامزاوراقدامات متعارف کروائے جن کی مدد سے انسانی برابری کےاصول پر مبنی غیر متعصبانہ سوچ کو پروان چڑھایا جا سکے۔ انسانی حقوق سے متعلق مواد کوہرسطح پرتعلیمی نصاب میں شامل کر کے اس مقصد کے حصول کی جانب انتہائی اہم قدم بڑھایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی عدالتِ عظمی نے19جون2014کو اقلیتوں کے حقوق سے متعلق تاریخی فیصلےمیں یہ حکم بھی صادر کیا تھا کہ “سکول اور کالج کےدرجات پرایسا مناسب نصاب تشکیل دیا جائے جو مذہبی اورسماجی رواداری کی ثقافت کو فروغ دے۔” اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے یہ حکم بھی دیا کہ”وفاقی حکومت ایسےمناسب اقدامات اُٹھائےجن کی بنا پرسوشل میڈیا پراقلیتوں کےخلاف نفرت انگیزتقاریرومواد کی حوصلہ شکنی کو یقینی بنایا جائےاورمرتکب افراد کوقانون کے مطابق سزا کےدائرہ میں لایا جائے۔” مزید برآں عدالتِ عظمی نے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو یہ ہدایات جاری کیں کہ اقلیتوں کے لیے مختص کیے گئے 5 فیصد ملازمتوں کے کوٹہ کے نفاذ کو تمام محکموں میں یقینی بنایا جائے۔

اگرچہ انسانی حقوق کے کارکنان کی جانب سے تمام سرکاری کالجز، یونیورسٹیز اور تکنیکی تربیت کےاداروں میں  اقلیتی طالبِ علموں کے لئے 5 فیصد تعلیمی کوٹہ مختص کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، لیکن حال ہی میں حکومتِ پنجاب کی جانب سےصرف سرکاری یونیورسٹیز میں اقلیتی طالبِ علموں کے لیے 2 فیصد تعلیمی کوٹہ کا اعلان کیا گیاہے، جو کہ بہرحال ایک مثبت قدم (affirmative action) ہےاوراس بنا پر یہ اُمید کی جا سکتی ہے کہ موجودہ حکومت سپریم کورٹ کے19جون2014کےتاریخ سازفیصلے پرعملدرآمدکو یقینی بنائے گی نیزپی ٹی آئی برسرِاقتدار سیاسی پارٹی ہونے کے ناطے 2018 کےعام انتخابات میں کئےاقلیتی حقوق سے متعلق وعدوں کی تکمیل کرے گی۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے2018 کےانتخابی منشورکے مطابق پارٹی اقلیتوں کے لیےآئینی حقوق کی فراہمی یقینی بنائے گی نیزاقلیتوں کےشہری، سماجی اورمذہبی حقوق،عبادت گاہوں،جائیداد اوراداروں کا تحفظ کرے گی، جیسا کہ آئینِ پاکستان میں درج ہے۔ یہ انتخابی منشوراس حقیقت کوتسلیم کرتا ہےکہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کو آئینی حقوق میسر نہیں رہے جوکہ قائدِاعظم کے نظریےکےمنافی ہے۔ اقلیتوں پرہونےوالا ظلم وجبرنیزان کی معاشی وسماجی زبوں حالی اوراقلیتی برادریوں میں انسانی ترقی کا پست معیاران کےساتھ مسلسل کیے جانے والے امتیازی سلوک اور نا انصافی کا نتیجہ ہے۔ اس لیے پی ٹی آئی بنیادی اصلاحات کے ذریعےباقاعدہ قانونی سازی کے تحت بااختیار، آزاد اور بھرپور وسائل کے ساتھ قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق تشکیل دے گی نیز اس کے صوبائی کمیشن/ ڈیپارٹمنٹ بھی تشکیل دیئے جائیں گے” پارٹی برابری کی بنیاد پر امن و امان سے متعلق معاملات میں اقلیتوں کی انصاف تک رسائی نیزامتیازی سلوک سے تحفظ یقینی بنائے گی۔ پارٹی اقلیتوں کےبارے نفرت انگیز موادو تقاریر اور تشدد کے خلاف ایکشن لے گی نیز اقلیتی کوٹہ کا نفاذ تمام سرکاری اداروں میں یقینی بنائے گی۔ پی ٹی آئی مذہبی ہم آہنگی کے لیے مکالمے کا آغاذ کرے گی بطورِ خاص نوجوانوں کے مابین تاکہ رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔

پاکستان میں اقلیتی حقوق کی ادارہ سازی ریاست کےاپنےحق میں ہے کیونکہ تجویز کردہ اقدامات کئی علاقائی اور بین الاقوامی سفارتی فورمز پر حکومت کے لیے نہایت مددگار ثابت ہوں گے، خاص طور پر دنیا اور بطورِ خاص جنوبی ایشیا میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے پر اقوامِ عالم پاکستان کوایک سنجیدہ مدِمقابل کےطورپر لیں گی۔ مگر یہ سب ریاستِ پاکستان پر منحصر ہے کیونکہ دُنیا بھر میں ریاست ہی اپنےتمام شہریوں بشمول اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی ،تحفظ اور فروغ کی ذمہ داری ہوتی ہے، اور انسانی حقوق کا کوئی بھی ادارہ بغیر کسی قانونی حیثیت کے اور کسی وزارت کےماتحت اپنےکام میں خود مختار، با اختیار، آزاد اورغیرجانبدار نہیں ہو سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نعمانہ سلیمان

نعمانہ سلیمان انسانی حقوق سے متعلق تحقیق اور تربیت کا کام کرتی ہیں۔وہ مئینارٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل کے ساتھ وابستہ ہیں اور اُن سے درج ذیل ٹویئٹراکاونٹ کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ @NaumanaSuleman

naumana-suleman has 5 posts and counting.See all posts by naumana-suleman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *