کورونا نے قوم میں تقسیم واضح کر دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا کے بارے میں دو نظریے مارکیٹ میں گردش کر رہے ہیں : ایک کے مطابق یہ سب فراڈ ہے جس کے ذریعے ایک ”نیو ورلڈ آرڈر“ دنیا میں لاگو ہونے جا رہا ہے۔ دوسرے کے مطابق یہ ایک حقیقت ہے اور اس کو بہت سنجیدہ سمجھ کر احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ دوسرا خیال درست ہے۔ شروع میں اس کا مقابلہ کرنے کے لئے جو دو ماڈل سامنے آئے ان میں سے ایک چین کا تھا کہ مکمل لاک ڈاؤن اور دوسرا ایران، اٹلی اور سپین وغیرہ کا کہ نیم لاک ڈاؤن یا کوئی لاک ڈاؤن نہیں۔

دونوں کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ چین میں ابتدائی نقصانات کے بعد صورتحال پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا اور باقی ممالک نے بے احتیاطی کے نتائج بھگتے اور شاید ابھی تک بھگت رہے ہیں۔ تائیوان سے خبر ہے کہ انہوں نے کوئی لاک ڈاؤن نہیں کیا، لیکن احتیاطی تدابیر کو اختیار کر کے اس کو پھیلنے نہیں دیا۔ سویڈن والوں نے بھی بالکل لاک ڈاؤن نہیں کیا، لیکن احتیاط بھی نہیں کی۔ وہاں سے نقصانات کی اطلاعات ہیں اور اس کی شرح ڈنمارک جیسے ہمسایہ ملک سے زیادہ ہے، جہاں لاک ڈاؤن کو اپنایا گیا۔ امریکہ کے مقابلے میں کینیڈا میں نقصانات کم دیکھنے کو مل رہے کہ وہاں امریکہ کہ نسبت لاک ڈاؤن کو زیادہ سنجیدگی سے لیا گیا۔

ہمارے سامنے تمام ماڈل تھے، لیکن ہم نے ”آدھا تیتر، آدھا بٹیر“ والی پالیسی اپنائی۔ ”بچے بچے“ کو پتہ چل گیا کہ حکومتی ٹیم میں کون لاک ڈاؤن کا حامی ہے اور کون نہیں چاہتا۔ ہر ایک کے پاس اپنے اپنے دلائل تھے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کوچ، کپتان اور ٹیم کے سینئر کھلاڑی ایک ہی پیج پر نہ ہوں تو ٹیم کی کارکردگی پر اثر تو پڑتا ہے۔ شروع میں اگرچہ صوبائی حکومتوں کے ذریعے لاک ڈاؤن کروایا گیا، لیکن کافی موثر تھا۔

وجہ یہی تھی کہ لاک ڈاؤن کروانے والے اور کرنے والے دونوں ہی اس مسئلے پر سنجیدہ تھے۔ اس کے بعد براہ راست پریس کانفرنسز کا ایک دور چلا، جس میں لاک ڈاؤن کے مخالف اعلٰی ترین عہدیداروں کی لاک ڈاؤن مخالف گفتگو کی وجہ سے غیر سنجیدگی کا پہلو نمایاں ہونے لگا۔ صورتحال یہاں تک پہنچی کہ ایسے لگا کہ ہم کرونا سے نہیں، آپس میں دست وگریباں ہیں کہ لاک ڈاؤن ہونا چاہیے یا نہیں۔ خاص طور پر سندھ اور وفاقی حکومت کے درمیان غیر ضروری گرما گرمی دیکھنے کو ملی۔

اوپر حکمران تقسیم ہوئے تو نیچے عوام میں بھی تقسیم واضح نظر آنے لگی۔ لاک ڈاؤن کے حامی اور مخالف لوگ آمنے سامنے کھڑے ہو گئے۔ ایسے لگا کہ حکومت اور عوام کے درمیان ایک غیر علانیہ ڈیل ہوگئی ہے کہ گھر میں رکے رہیں، بڑی اچھی بات ہے، باہر نکلیں گے، خطرہ تو ہے پر آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا، یعنی ”آپ کا جسم، آپ کی مرضی“ والی کیفیت نظر آنے لگی۔ اس ”ڈیل“ نے ڈھیل کامنظر پیش کرنا شروع کر دیا۔ شہروں اور بازاروں میں انتظامیہ کی طرف سے جو سختی نظر آ رہی تھی، وہ اب دم توڑ رہی تھی اور عملی طور پر لاک ڈاؤن نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا۔

وہ لوگ جو اس ”پیکج“ سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اب بھی ”گھر میں رہیں، محفوظ رہیں“ پر عمل پیرا تھے، ”سرکاری“ اور بین الاقوامی ہدایات کے تحت سماجی فاصلے کے اصول پر عمل درآمد کر رہے تھے، مذاق کا نشانہ بننا شروع ہوگئے۔ شادی اور دوسری تقریبات پر تو پابندی تھی، لیکن خدا نخواستہ رشتہ داروں اور دوست احباب کے ہاں کسی کی وفات کی صورت میں لوگوں میں ایک واضح تقسیم نظر آئی۔ زیادہ تر نے اکٹھ نہ کرنے کے حکومتی احکامات کی پروا نہ کرتے ہوئے جنازوں میں شرکت کی، وہ ”اچھے“ دوست اور رشتہ دارکہلائے اور پہلے درجے میں شمار ہوئے۔ جنہوں نے سرکاری احکامات پر عمل کرتے ہوئے احتیاط کا مظاہرہ کیا، وہ دوسرے اورتیسر ے درجوں میں شمار ہوئے۔

دنیا کے دوسرے اسلامی ملکوں کی طرح ہمارے ہاں بھی مساجد میں با جماعت نمازپر پابندی لگائی گئی۔ جب کچھ شعبوں میں انتظامی ڈھیل نظر آئی تو مساجد کھولنے کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا۔ کراچی میں عوام اور پولیس کے درمیان مسجد کے اندر ہاتھا پائی بھی دیکھنے کو ملی۔ دباؤ زیادہ بڑھا تو علماء اور انتظامیہ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا اورضروری احتیاطی تدابیر کے ساتھ مساجد کھولنے اور با جماعت نماز کی اجازت دے دی گئی۔

اس معاہدے کی شرائط پر کم جگہوں پرعمل درآمد ہوا، زیادہ جگہوں پر نہیں ہوا۔ یہاں بھی معاشرہ تقسیم ہوتا نظر آیا۔ کچھ لوگوں نے پھربھی احتیاط کی اور ہنگامی حالات میں گھر نماز ادا کرنے کی رعایت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گھر میں اس کی ادائیگی کو ترجیح دی تو انہیں طعنوں کاسامنا کرنا پڑا۔ نماز تراویح پر بھی یہی صورتحال نظر آئی کہ مساجد انتظامیہ نے اس کا بھر پور انتظام کیا اور زیادہ تر جگہوں پر کسی بھی قسم کی احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی گئیں۔

اب عید کی نماز کے لئے بھی واضح اعلانات سامنے آئے ہیں کہ ضرور ہوں گی اور کھلی جگہوں پر ہوں گی۔ مساجد، تراویح اور اب عید کی اجتماعی نمازوں پر ”اصرار“ کا معاشی پہلو بھی ہے۔ عرب اور کچھ دوسرے اسلامی ممالک میں جہاں مساجد کھولنے اور باجماعت نمازوں کی ادائیگی پر زیادہ زوراوردباؤ نظر نہیں آرہا، وہاں مساجد پر سرکاری کنٹرول ہے اور وہاں تعینات اماموں کی تنخواہیں بھی سرکاری طور پر ادا کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔

مساجد میں آنے والے نمازی ہی اماموں کی تنخواہ اور دوسری ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں۔ تراویح کی نماز پڑھانے والے حفاظ کی ختم قرآن کے موقع پر بھرپور خدمت کی جاتی ہے۔ اگر سرکاری طور پر ان کی معاشی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہو تا تو پھر شاید اتنا اصرار نظر نہ آتا۔ سرکاری سکولز کے اساتذہ کی طرف سے سکول کھولنے کا مطالبہ کم ہی سننے میں آ رہا ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ان کو تنخواہوں کی ادائیگی بلا روک ٹوک جاری ہے۔

عید کی نماز کی بھر پور ادائیگی پر زور کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس موقع پر بھی لوگ اماموں کی بھرپور خدمت کرتے ہیں۔ جب حکومت ان کی کوئی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں تو پھر وہ ایک سال کے انتظار کے بعد آنے والے اس مذہبی تہوار پر لوگوں کی طرف سے ہونے والی خدمت سے کیوں اپنے آپ کو محروم کریں۔ سکولوں کی بات چلی ہے تویہاں بھی سرکاری اور پرائیویٹ اساتذہ کے درمیان ایک واضح تقسیم دیکھنے کو ملی۔ سرد جنگ کے بعد سوشل میڈیا پر گرما گرمی بھی نظر آئی۔

یہاں بھی معاشی پہلو نمایاں ہے۔ پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ کی تنخواہوں کا انحصار بچوں کی فیسوں پر ہوتا ہے۔ بچے سکول نہیں آئیں گے تو نہ فیسیں اور نہ تنخواہیں والا مسئلہ پیدا ہوگا۔ اس فرسٹریشن میں مبتلاپرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ سرکاری سکولز کے اساتذہ کو بددعائیں دیتے بھی نظر آئے کہ اللہ کرے آپ کی تنخواہیں بھی بند ہوں اور آپ کو بھی ہمارے مسائل کا اندازہ ہو۔ اس معاملے میں سرکاری اساتذہ کا کیا قصور؟ سکول تو حکومت نے احتیاطی تدابیر کے طور پر بند کیے ہیں۔

خریداری کے معاملے پر بھی لوگوں کی رائے میں اختلاف نظر آیا۔ پابندی کے دنوں میں بھی چوری چھپے شاپنگ کا سلسلہ جاری رہا اور ”احتیاط پسند“ گھروں میں دبکے رہے۔ اب پابندی اٹھی ہے تو پھر بھی تقریباً یہی صورتحال ہے کہ ”بزدل“ اب بھی احتیاط کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور جلی کٹی باتیں بھی سن رہے ہیں اور ”بہادر“ دندناتے پھر رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے مسئلے پر دونوں فریق آمنے سامنے ہیں۔ جب تک کرونا کا معاملہ لٹکا رہے گا، معاشرے میں تقسیم کی یہ لکیریں گہری ہی رہیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *