ادب ایک مخصوص لہجہ کی قید میں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلراج مینرا ہوں، انور سجاد، اکرام باگ ہوں یا قمراحسن، ایسے تمام لوگوں پر جدیدیت کے اثرات تو تھے مگر ایک حد تک ترقی پسندی بھی غالب تھی۔ 1960 تک آتے آتے ’انگارے‘ سرد پڑ گئے تھے۔ ترقی پسند کہانیوں کو پروپیگنڈا کہانیاں بتا کر مذاق اڑایا جا رہا تھا، مگر مذاق اڑانے والے بھول گئے تھے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب اس دور کی کہانیاں ہی یاد رکھی جائیں گی اور 60 کی جدیدیت کے ہیرو گمنام قرار دیے جائیں گے۔ اکرام باگ اور قمر احسن کی کہانیوں کو سنانے والے، ان کے فن پر گفتگو کرنے والے آج خاموش ہیں۔

قمر احسن نے کچھ اچھی کہانیاں ضرور دیں، مگر غور کریں تو ان کہانیو ں میں بھی ترقی پسندی کی جھلک موجودہے۔ انورسجاد قابل انسان تھے۔ ہر فن مولاتھے۔ مطالعہ بہت کیا، مگر جب لکھنا شروع کیا، اس وقت ادب کے مخصوص لہجہ نے اردو کے تمام ادیبو ں کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ ڈاکٹر انور سجاد کا لہجہ وہی تھا، جو اس وقت ادب کے بیشتر ادیبوں کا لہجہ تھا۔ مندرجہ بالا اقتباس پر غور کیجیے تو ایک جیسی کیفیت ہے اور اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ اندر کی ترقی پسندی، جدید الفاظ اور علامتوں کے درمیان راستہ بنارہی ہے۔

افق پر اترتے دن کی لپٹیں۔ ۔ ۔ گھروں کی کھڑکیوں اور دروازوں کا بند ہونا، ہر گھر کا آتش فشاں نظر آنا، بھڑکتی معدوم ہوتی روشنی۔ رات کی تاریکی کے آگے سمندر۔ دھندلی شام۔ 60 سے 80 کے درمیان کا ادب مخصوص کیفیت کا شکار تھا اور سب سے آسان تھا، بے جان فلسفوں سے کھیلنا۔ یہ اس دور کے تمام ادیبوں کا شغل تھا۔ اس لیے کردار جنم نہیں لیتے تھے۔ واقعات و حادثات پر گرفت نہیں تھی، بلکہ کہانیاں، ناولٹ محض کیفیات کے عکاس یا غلام بن کر رہ گئے تھے۔

جس جگہ اکرام باگ یا قمر احسن کھڑے تھے، ڈاکٹر انورسجاد بھی وہیں تھے۔ اور ایسا نہیں تھا کہ انورسجاد قمراحسن یا اکرام باگ سے بہت آگے نکل گئے تھے۔ اس دور میں بھی جب ہمارے جدیدیے علامت و تجرید سے کھیل رہے تھے، ترقی پسند کہانیوں کا جلوہ برقرار تھا۔ منٹو، عصمت، کرشن چندر، احمدندیم قاسمی، غلام عباس، ممتازمفتی، ملک راج آنند اور ایسے بہت سے ادیب تھے، جن کی کہانیاں 60 سے 80 کی کہانیوں پر سبقت رکھتی تھیں اور اس کی وجہ تھی کہ احمدندیم قاسمی تک فکری افق اور عمدہ تخلیقی ادب پیش کرنے کے لیے جو وژن ہونا چاہیے، وہ بہت صاف تھا۔

ان میں پیچیدگی نہیں تھی۔ علامت اور تجرید کے نام پر محض صفحے کے صفحے سیاہ نہیں کیے جا رہے تھے۔ اس زمانہ میں مشہور افسانہ نگار شوکت حیات نے ایک افسانے میں رنگوں کا حوالہ دیا تھا۔ جب شوکت سے رنگوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا: ’یہ کہانیاں مخصوص وقت اور کیفیت میں جنم لیتی ہیں۔ اس لیے یہ بتانا آسان نہیں کہ لکھتے وقت اس مخصوص رنگ کے بارے میں، میں نے کیا سوچا تھا۔‘ یہ تھا جدید افسانے کا حال۔ خوشیوں کا باغ سے ایک اور اقتباس دیکھئے :

”ساحل پر ہولے ہولے چلتی خنک ہوا جو ریت کے ذروں کو اڑانے کے بجائے ایک دوسرے سے چپکاتی ہے۔ دھیرے دھیرے بہتی لہروں پر ڈولتی بہت بڑی کشتی جو یہاں سے چھوٹی سی دکھائی دیتی ہے، اس کشتی کا اگلا آدھا حصہ وسیع ساحل کے سینے پر ساکت ہے اور پچھلا حصہ افق کی لکیر میں کھنچ گیا ہے۔ لکیر جو زمین اور آسمان کو جدا کرتی ہے۔

آسمان جس سے تاریکی امڈتی ہے لیکن دن کی لپٹیں اسے چاٹ لیتی ہیں۔

لوٹتا سمندری پرندہ اور اس کے حلق میں پھنسی چیخ۔ دھیمی دھیمی سنسناہٹوں، دستکوں، گھٹی چیخوں پر شہر کا غلاف۔ اتنا سکوت کہ سناٹے کی اپنی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔ ”

مندرجہ بالا اقتباس میں بھی دیکھئے تو الفاظ سے ایک تخیلی کولاز تیار کیا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے مصنف کے ذہن میں کچھ واقعات وحادثات جمع ہیں، جنہیں وہ ترتیب دے رہا ہے۔ اس کے برعکس اگر فرانزکفکا یا سارتر کی کہانیاں پڑھئے تو وہاں کردار بھی ملیں گے، واقعات بھی۔ یہ گرفت اور فن کاری 60 سے 80 کے درمیان لکھنے والوں میں بیشتر کے پاس نہیں تھی۔ انور سجاد نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ سماجی وابستگی، جدید فکشن اور سوشل ریلیونس کو کنکٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سوشل سسٹم پر Animalism کا راج ہو تو انسان کا وجود خطرے میں پڑجائے گا۔ اس بیان کو دیکھئے تو مینرا ہوں یا انور سجاد، یہ تمام فنکار الفاظ سے ایک دنیا سجانے اور ترتیب دینے کا کام کرتے ہیں۔ مگر یہ دنیا خالی خالی اس لیے لگتی ہے کہ اس دنیا میں نہ انسان ملتے ہیں نہ کردار۔ فلسفے کب تک ذہن کو بیدار کریں گے۔ Animalism کی بات کریں تو جارج آرویل کے ناول دیکھ لیجیے۔ انیمل فارم، وہ سماجی وابستگی اور سوشل ریلیونس کے لیے پوری فضا تیار کرتا ہے۔

کہانی بھی، کردار بھی، واقعات بھی۔ 1984 پڑھئے، ایک ہیبت ناک دنیا سامنے نظر آتی ہے۔ علامتوں اور تجرید کو ایکسپوز کرنے کا نام ادب نہیں۔ 60 سے 80 کے درمیان یہی ہوتا رہا۔ اور اب بھی کچھ لوگ یہی کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔ ہمارا ادب ایک مخصوص فکر اور رجحان رکھنے والوں کے درمیان قید ہے۔ یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ کہانی مینرا کی ہو، قمر احسن کی یا انور سجاد کی، جدید فکشن لکھنے کے باوجود یہ حضرات اندر کی ترقی پسندی کا گلا گھونٹنے میں ناکام رہے۔

بلراج مینرا کا ذکر اکثر کیا جاتا ہے۔ ’آتما رام‘ اور ’ماچس‘ پڑھئے۔ جب میں ’ماچس‘ پڑھ رہا تھا، مجھے آسکروائلڈ اور چیخوف کی یاد بطور خاص آ رہی تھی۔ چیخوف کی کہانی ’ایک کلرک کی موت کا اثر‘ ، ’ماچس‘ میں موجود ہے۔ سگریٹ پینے کے لیے ماچس کی تلاش میں بھٹکتے آدمی کو آپ چاہے دنیا کے کسی بھی بڑے فلسفے سے وابستہ کردیجیے، مگر ترقی پسندوں نے ’ماچس‘ سے کہیں بڑی کہانیاں ادب کو دی ہیں۔ دراصل ہوا یہ کہ ترقی پسندوں کے قد کو کم کرنے کے لیے مخصوص جدید لہجہ کو آگے کیا گیا اور یہ ’طاقت‘ آج بھی یہی عمل دہرا رہی ہے۔ انورسجاد کی کہانی سازشی سے ایک اقتباس دیکھئے :

”اٹھو اٹھو۔ کام کرو۔ بھاگنے کی سوچ رہے ہو؟ ۔ ۔ سازشی ان میں سے ایک آکے غرایا ہے۔
ہماری چپ سازش ہے اور ہم سوچتے رہتے ہیں کہ یہ نہر کب مکمل ہوگی۔ ”

یہاں بھی الفاظ کی تکرار ہے۔ سارتر کی کہانی ’دیوار‘ کا قیدی مختلف ہے۔ قیدی کو سمجھنے کے لیے سارتر سیاسی و سماجی منظرنامہ پر دھیان دیتا ہے۔ سارتر کا وژن اس کے فکشن کے لیے کام آتا ہے۔ اس دور کے ادیب خیالی گھوڑے زیادہ دوڑا رہے تھے۔ میں کون۔ ۔ ۔ ؟ میں کہاں ہوں؟ کہانی کہاں ہے۔ ۔ ۔ ؟ دس سطریں ’میں کون‘ کی وضاحت ہو رہی ہے۔

انورسجاد مختلف مقامات پر فنتاسی سے کام لیتے ہیں۔ ناکامی، نا امیدی، مایوسی، جبری طاقتوں کے لیے علامتیں تلاش کرتے ہیں۔ عدم تحفظ، معاشی ناہمواری، عالمی سیاست ان کے یہاں تمام مصالحے موجود ہیں۔ ناول ’خوشیوں کا باغ‘ سے لے کر ان کی چھوٹی بڑی کہانیوں تک۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی کہانیاں ایک کیفیت گزرجانے کے بعد یاد نہیں رہتیں۔ اس کے باوجود بلراج مینرا اور انور سجاد کا نام اہمیت رکھتا ہے کہ اس وقت جب جدیدیت فیشن کے طور پر استعمال ہو رہی تھی، یہ دونوں اپنے فن سے انفرادی لکیرکھینچنے میں مصروف تھے۔

المیہ یہ ہے کہ زبردست پروپیگنڈے کے باوجود 60 سے 80 کے درمیان کے بیشتر افسانوی ادب پر آج کوئی بھی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ موجودہ دور میں ہندوستان سے پاکستان تک جدیدیت کا ہی چل چلاؤ ہے۔ اس لیے بار بار کچھ نام ابھر کر سامنے آتے رہیں گے۔ انور سجاد کا ناول ’خوشیوں کا باغ‘ ایک ایسا ناول ضرور ہے جو کچھ برس اور ہماری یادوں میں محفوظ رہے گا۔

ترقی پسند فارمولوں سے آگے نکلنے کے بعد زندگی کے مسائل درپیش تھے۔ یہ مسائل جس تیزی سے سامنے آ رہے تھے، اسی تیزی سے پریشان بھی کر رہے تھے۔ یہ مسائل اچانک ہندستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں ابھر کر سامنے آئے تھے۔ محکومی اور غلامی کے بادل چھٹنے کے بعد اپنی جڑوں کی تلاش کا جو سلسلہ چلا اس نے ادب کو انتظار حسین جیسا ادیب دیا۔ انتظار حسین کی مجبوری تھی۔ جڑیں کہاں ہیں؟ ظاہر ہے، ان جڑوں کی تلاش دونوں طرف کی سرحدوں کے لوگ کر رہے تھے۔

یہ افسانوں کی تبدیلی کا عہد تھا۔ کہانی کا مجموعی ڈھانچہ بدلا جانا تھا۔ اس میں نئے پیوند لگنے تھے۔ کہانی نے علامت، تجزیہ اور فنتاسی کے نئے نئے راستوں کو دریافت کیا۔ انتظار حسین نے کہانی کو اساطیر اور پنچ تنتر کا مشکل راستہ بھی دکھا دیا۔ یعنی کہانی اپنی نصف صدی گزار کر ایک ایسے اردو منظرنامہ کی تلاش کر رہی تھی، جس کے پاس اپنا کلچر، اپنی زمین اور اپنی جڑیں ہوں، کہانی مغرب سے رشتہ توڑ کر ہندستانی آرٹ کی آغوش میں سانس لینا چاہتی تھی۔ یہ اور بات تھی کہ تب کی جدیدیت پر بھی فارن اسپونسرڈ تحریک کا الزام بھی لگا، لیکن میرے خیال سے اسے درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہندوستان میں قمر احسن جیسے ادیب مسلسل کہانی کی سمت و رفتار کے بارے میں غور کر رہے تھے۔ ایک اقتباس دیکھئے۔

”جس طرح گلیلیو کو پھانسی دینے کے باوجود زمین گول رہی اسی طرح اسپنگلر کے تاریخی تسلسل سے انکار کے باوجود تاریخی تسلسل کا نام ہی ارتقا رہا۔ اس لیے کہ تاریخ کا کھنچا ہوا خط امتیاز ریڈ کلف کی لکیروں سے زیادہ مبہم اور ناقابل گرفت ہوتا ہے۔ ا“

۔ قمر احسن (نیا اردو افسانہ، چند مسائل)

یہاں تک ٹھیک تھا۔ لیکن اس کے بعد کہانی کھو گیی۔ جدیدیت فیشن کا شکار ہو گیی۔ انور سجاد جیسا ذہین فنکار بھی جدیدیت کا شکار ہوا۔ بے سر پیر کے واقعات، فلسفے، علامتیں، استعارے کہانیوں میں جگہ پانے لگے۔ انتظار حسین کے اساطیری رنگ میں بھی یہی مکالمے، فلسفے اور آدمی حاوی تھے۔ ایڈ گرایلن پو، ورجینا وولف، جیمس جوائس اور کافکائی کہانیاں از سر نو لکھی جا رہی تھیں۔ تجریدیت غالب تھی۔ تحریروں میں بوجھل اورعالمانہ تقریریں، کہانی پن پر حاوی ہوتی چلی گئی تھیں۔ قمراحسن اور اکرام باگ ان باغی لوگوں میں مجھے سب سے بہتر معلوم ہوتے ہیں۔ مگر قمر احسن کی تحریر میں بھی فلسفے اور مکالموں کا یہی رنگ غالب تھا۔

”آخر کس پہاڑی پر؟ ابو زید جھلا گیا۔
”شاید وہیں جہاں سے مہاجر پرندوں کی آخری قطار اڑی تھی۔“ عارف عبداللہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ ”
۔ طلسمات (قمر احسن)

انور سجاد کے یہاں بھی اسی طرح کے مکالمے ملتے ہیں۔ یہ دور تجربوں کا تھا۔ انور سجاد نے بھی تجربہ کیا۔ کچھ تجربے اچھے بھی تھے۔ جیسے خوشیوں کا باغ۔ موضوع کے لحاظ سے اس ناول کو پسند بھی کیا گیا۔ شفق نے کانچ کا بازیگر لکھا۔ وقت کسی کا ساتھ نہیں دیتا۔ کانچ کا بازیگر کی چمک بھی گم ہو چکی ہے۔ لیکن عینی بی کے ناول آج بھی زندہ ہیں۔ خوشیوں کا باغ بھی یاد بن کر رہ گیا ہے۔

میں جدیدیت کا مخالف نہیں۔ اس جدیدیت کا مخالف ضرور ہوں جہاں مکمل فکشن پر غیر ضروری الفاظ اور کیفیت کا غلبہ نظر آتا ہے۔ انور سجاد کے آخری دن بہتر نہیں ر ہے۔ ایک طرح سے وہ زندگی کی جنگ ہار چکے تھے۔ ان کے اندر مایوسی آ چکی تھی۔ مینرا اور سجاد کے یہاں ایک بات مشترک تھی۔ مینرا اردو فکشن سے مایوس تھے۔ یہی مایوسی انور سجاد کے یہاں تھی۔ گویا ان دونوں نے جو فکشن لکھا، وہ حرف آخر تھا۔ اس کے بعد اچھا فکشن لکھا ہی نہیں گیا۔ جبکہ اس وقت بھی انتظار حسین سے خالدہ حسین تک بہتر مثالیں موجود تھیں۔ اور آج بھی موجود ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *