کراچی طیارہ حادثہ: ’اپنے والد کی طرح وہ وہاں موجود تھے‘

سعد سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’پہلے تو ہمیں گھبراہٹ بھری آواز میں لوگوں کی کال آئی کہ آگ لگ گئی ہے، جہاز کا کوئی پرزہ گرا ہے، پھر کسی نے اطلاع دی کہ جہاز کے تیل کی ٹینکی گر گئی ہے اور بالآخر یہ معلوم پڑا کہ جہاز ہی گر گیا ہے۔‘

یہ الفاظ پاکستان کے معروف فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے ہیں جو گذشتہ روز پی آئی اے کا طیارہ گرنے کے بعد دن بھر امدادی کارکنوں اور مقامی لوگوں کی مدد کرتے دکھائی دیے۔

پی کے 8303 میں سوار مسافر جہاں عید سے قبل اپنے گھروں کو جا رہے تھے تاکہ اپنے پیاروں کے ساتھ عید منائی جاسکے وہیں جناح گارڈن کے رہائشی بھی ماہ رمضان کے آخری جمعے کے افطار کی تیاریوں میں مگن تھے۔

البتہ ایک دھماکے کی آواز اور اس کے بعد اٹھنے والے کالے دھوئیں نے یہ دردناک حقیقت عیاں کی کہ لاہور سے کراچی آنے والا پی آئی کا طیارہ لینڈنگ سے قبل حادثے کا شکار ہوگیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس دل خراش واقعے سے جڑے وہ وعدے، وہ سرپرائز اور اُس امید کا ذکر ہورہا ہے جو اس حادثے میں ہلاک ہونے والے لوگ اس سفر سے پہلے نبھانے کے غرض سے اپنے ساتھ لے کر چلے تھے۔

جمعے کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے طیارے پی کے 8303 کو پیش آنے والے حادثے میں 97 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔

سوشل میڈیا پر صارفین جہاں غمزدہ ہیں اور لواحقین کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کررہے ہیں وہیں بہت سے صارفین ان لوگوں کے جزبے اور ہمت کو خراج تحسین پیش کررہے ہیں جنھوں نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر حادثے کے بعد بلا خوف رزاکارانہ طور پر امدادی کاموں میں مدد کی۔

فلاحی ادارے جعفریہ ڈزاسٹر سیل کے جنرل سیکریٹری ظفر عباس اور ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی اس سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کررہے ہیں۔

ٹوئٹر پر گذشتہ روز کے واقعے کی تصاویر گردش کررہی ہیں جن میں سے بہت سی تصاویر میں فیصل ایدھی کو ایک ماسک پہنے، نیلے شلوار قمیض میں ملبوس ملبہ ہٹاتے ہوئے لوگوں کی مدد کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

‘یہ شخصیات ہمیں ایک سچے پاکستانی ہونے کا تصور دیتی ہیں’

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ظفر عباس اور فیصل ایدھی امدادی کام سے فارغ ہو کر فُٹ پاتھ پر آرام کررہے ہیں۔

احسن نامی ایک صارف نے لکھا کہ ‘اس (تصویر) نے میرا دل جیت لیا۔ یہ طرز زندگی رکھنے والی شخصیات ہمیں ایک سچے پاکستانی ہونے کا تصور دیتی ہیں’

صارفین نے ان دو شخصیات کے علاوہ ان تمام افراد کو بھی ‘سوپر ہیرو’ کا لقب دیا جنھوں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں میں ہاتھ بٹایا۔

صارفین سے ملنے والے پیار اور ہمدردی کے پیغامات پر فیصل ایدھی نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادار کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں نے صرف اپنی ڈیوٹی کی اور اپنا کام کیا اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔’

‘اپنے والد کی طرح وہ وہاں موجود تھے’

ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبد الستار ایدھی کو بھی کل کے دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد کثرت سے یاد کیا جارہا ہے۔

عبدالستار ایدھی نے 1951 میں کراچی میں ایک ڈسپینسری سے سماجی خدمت کا آغاز کیا تھا مگر آج ملک بھر میں سب سے بڑی ایمبولینس سروس ایدھی فاؤنڈیشن کی ہی ہے۔

رضوان خان نامی صارف نے فیصل ایدھی کی ایک تصویر شئیر کی اور لکھا کہ ‘اپنے والد کی طرح وہ وہاں موجود تھے’

اپنے والد کے ساتھ موازنہ کیے جانے پرعبد الستار ایدھی کے صاحب زادے کا کہنا تھا کہ ‘وہ تو ایک عظیم شخصیت تھے میں ان کے نقش قدم پر ہی چلنے کوشش کرسکتا ہوں اور یہ کوشش کرسکتا ہوں کہ ان کا مشن قائم و دائم رہے۔’

امدادی کام میں دشواریاں

پی آئی اے کا طیارہ گنجان آباد جناح گارڈن کے علاقے میں گرا جس کے باعث تنگ گلیوں میں ہر طرف ملبہ بکھر گیا اور امدادی کارکنوں کو بھی کام کرنے میں دشواری کاسامنا کرنا پڑا۔

یہ طیارہ جس علاقے میں گرا وہاں کی بجلی کو معطل کردیا گیا تھا مگر سب سے بڑی دشواری ملبہ کو لگی آگ تھی جس کے باعث امدادی کارروائی متاثر ہوئی۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق حادثے کے بعد موبائل سگنلز بھی متاثر ہوئے جس کے باعث اس علاقے کے مکین لوگوں کے رشتے دار پریشانی کے عالم میں وہاں پہنچ گئے۔

فیصل ایدھی کے مطابق وہ حادثے رونما ہونے کے 25 منٹ بعد جائے وقوعہ پر پہنچے اور انھوں نے پہنچنے کے بعد آنکھوں دیکھا حال ہمیں بیان کیا۔

‘لوگ باہر کی طرف جمع تھے کیونکہ ملبے کو آگ لگی ہوئی تھی تو ‘عام چپل’ میں کام کرنے میں دشواری ہو رہی تھی۔ لوگ بغیر حفاظتی لباس یا سازو سامان کے لوگوں کی مدد کررہے تھے اور اسی باعث کچھ لوگوں کو چوٹیں بھی آئیں۔’

سوشل میڈیا پر صارفین نے شہر میں سرکاری سطح پر ریسکیو سروس کی ‘عدم موجودگی’ پر بھی سوالات اٹھائے۔ اس تنقید کے نشانے پر سندھ کی صوبائی حکومت اور کراچی شہر کی مقامی حکومت رہی۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے فیصل نامی ایک صارف نے کہا کہ ’ہم نے ہمیشہ عبداللہ شاہ غازی کی برکات اور ایدھی کے فلاحی کاموں پر ہی انحصار کیا ہے۔’

صارفین نے ایدھی فاؤنڈیشن، چھیپا اور جے ڈی سی جیسے فلاحی اداروں کی تعریف کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوج کے اہلکاروں کی کوششوں کو بھی سراہا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی حال ہی میں کورونا سے صحتیاب ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر لوگ ایک دوسرے کو یہ یاد دلاتے نظر آئے کہ فیصل ایدھی اس بیماری سے لڑنے کے بجائے لوگوں کی مدد کرتے رہے۔

ذاتی صحت کے حوالے سے جب ہم نے فیصل ایدھی سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں بہت کمزوری تھی کیونکہ نمونیا کا اثر اب بھی ختم نہیں ہوا تھا۔ انھیں ڈاکٹر نے کچھ دن تک آرام کا مشورہ بھی دیا تھا

فیصل ایدھی نے بتایا کہ ‘ابھی ایک دن ہی آرام کیا تھا کہ یہ واقعہ رونما ہوگیا اب بھی نمونیا کا اثر ہے مگر خدا نے ہمت دی اور مجھ سے یہ کام کروایا’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 13465 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp