عید کے بارے میں چند معلومات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


عید عربی زبان کے لفظ ”عود“ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ”لوٹنا یا پلٹ کر آنا ہے۔“ مطلب وہ ”دن جو ڈھیر ساری خوشیوں سمیت بار بار لوٹ کر آئے“ ، یہ عید کا لفظی اور جنرل یعنی عمومی تعریف ہے۔

عید ایک وسیع اصطلاح ہے، دراصل عید سے مراد تہوار کے طور پر منایا جانے والا وہ دن ہے جس روز کسی فرد یا قوم و ملت کے اللہ‎ کے فضل و کرم سے مشکلات سے نکل کر راحتوں اور خوشیوں کی طرف پلٹ کر آتے ہیں اور انسانی فطرتی آلودگیوں کے ختم ہونے کے بعد پہلے کی طرح روحانی قدرتی پاکیزگی کے لوٹ کر آنا، یا کسی زحمت کے ختم ہونے کے بعد اللہ‎ کی نعمت کا پلٹ کر آنے کا نام عید ہے۔ جو کہ خوب خوشی منانے کا دن ہے اور یہی اللہ‎ تعالیٰ کے فرمان کا مفہوم بھی ہے کہ جب انسان اللہ‎ کے فضل و کرم سے نوازا جائے تو اللہ‎ کا شکر ادا کرتے ہوئے اللہ‎ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے احکامات کے اندر رہتے ہوئے خوب خوشی منائے۔

انسانی تاریخ کے مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہر دور میں ہر قوم اور ملت، ہر مذہب اور ثقافت سے تعلق رکھنے والے انسان مختلف تہواروں کی شکل میں عید مناتے آئے ہیں۔ اسی طرح اسلامی تاریخ میں بھی اس تہوار کو منایا جا چکا ہے اور منایا جاتا رہے گا۔

دنیا کی تاریخ میں پہلی عید اس دن منائی گئی، جس دن اللہ‎ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی۔ دوسری عید ہابیل اور قابیل کے مابین لڑائی کے اختتام پر منائی گئی۔ جس دن نمرود کی بھڑکائی ہوئی آگ ختم ہوئی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم نے اس دن عید منائی۔ یونس علیہ السلام کی قوم نے آپ کے مچھلی کے پیٹ سے اللہ‎ کے فضل سے چھٹکارا پانے کے دن عید منائی۔ جس دن موسیٰ علیہ السلام نے اللہ‎ کی مدد سے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلائی، اس دن آپ کی قوم نے عید منائی۔ اور حضرت عیسی ا علیہ السلام کی قوم آج تک آپ کی یوم پیدائش کو عید کے طور پر خوب جوش و خروش سے مناتے ہیں۔

خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے بعد اہل یثرب کے منائے جانے والے عید کے تہواروں کو آج تک پوری جوش و خروش سے منائے جانے والے دو عیدین مطلب عید الفطر اور عید الاضحی سے بدل کر پسند فرمایا۔

سن دو ہجری میں جب پہلی بار ماہ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو پہلی رمضان المبارک کے اختتام پر حضور ﷺ نے اہل یثرب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ

” ہر قوم کے لئے عید ہوتی ہے، تم بھی مختلف تہواروں کی شکل میں عیدیں مناتے تھے، اللہ‎ تعالیٰ نے تمہاری عیدوں کو ان دو عیدوں سے بدل دیا ہے، اب تم ہر سال شان سے عید الفطر اور عید الاضحی منایا کرو، یہی مسلمانوں کی عیدیں ہیں۔ ( مفہوم) ( ابو داؤد)

عید الفطر:

عید الفطر رمضان المبارک کے روزوں کے اختتام پر اسلامی ہجری کیلنڈر (قمری سال) کے یکم شوال کے چاند نظر آنے کے بعد اللہ‎ کی طرف سے مسلمانوں کے لئے ان کی ماہ رمضان کے روزوں، عبادات، ازکار، تلاوت کلام پاک اور قیام اللیل کے بدلے خصوصی انعام اور تحفے کے طور پر دیا جانے والا خوشی اور قلبی سکون دینے والا دن ہے جو پوری دنیا کے مسلمان خوشی اور شکرانے کی غرض سے انتہائی مسرت اور جوش خروش سے مناتے ہیں۔

پاکستان میں یہ چھوٹے عید سے بھی موسوم ہے، اس دن عید کی نماز ادا کرنے سے پہلے غریبوں اور مسکینوں کو بھی عید کی بابرکت خوشیوں میں شامل کرنے کے لئے فطرانہ دیا جاتا ہے، نماز عید دو رکعت پر مشتمل واجب نماز ہوتی ہے جس میں چھ زائد تکبیریں ہوتی ہیں، تین پہلی رکعت کے شروع میں تکبیر اولی اور اللہ‎ کی حمد و ثنا کے بعد ادا کی جاتی ہیں اور بقیہ تین تکبیریں دوسری رکعت میں رکوع میں جانے سے پہلے ادا کیے جاتے ہیں اور باقی نارمل نماز ہی کی طرح ادا کی جاتی ہے۔ نماز عید جامع مسجد یا عیدگاہ میں ادا کیا جاتا ہے۔

مسلمانوں کا ماننا ہے کہ عید کے لئے خریدے گئے کپڑے، جوتے اور کوئی بھی جائز ضرورت کے لئے لیا گیا سامان بہ روز قیامت حساب سے مستثنیٰ گردانا جائے گا۔

عید الاضحی :

پاکستان میں بڑی عید سے موسوم عید الاضحی وہ عظیم، بابرکت اور بہترین دن ہے جس کی بڑائی مختلف روایات سے ثابت ہے۔ ہجری قمری کیلنڈر کے بارہویں مہینے ”ذی الحجہ“ کے ”دس تاریخ“ کو منایا جانے والا عید ”عیدالاضحی“ کہلاتا ہے یہ وہ بابرکت دن ہے جس دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آج سے تقریباً چار ہزار سال پہلے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ‎ کے حکم کی تعمیل پر قربانی کے لئے پیش کیا تھا جسے اللہ‎ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش پر پورا اترنے کے بعد قبول فرما کر اپنے فضل سے جنت سے لائے گئے دنبے (بھیڑ) کی قربانی سے بدل دیا۔

اسی مناسبت سے اور حجاج کرام کی حج کی فضیلت جو ابراہیم علیہ السلام ہی کی سنت ہے ادا کرنے بعد انعام کے طور پر اللہ‎ کا دیا ہوا خوشی کا دن ہے۔ یہ محبت اور قربانی کا دن ہے اور مسلمان اس دن ابراہیم علیہ السلام کے اسماعیل علیہ السلام کی دی ہوئی قربانی کی یاد میں قربانی کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔ بہت سے احادیث مبارکہ میں اس دن کی فضیلت اور بطور عید منانے کا حکم دیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *