پھیکے خربوزے، میٹھے روزے اور شوال کا چاند

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جب آپ فروٹ منڈی یا کسی فروٹ شاپ / ریڑھی سے خربوزے خریدتے ہیں تو آپ کا پہلا سوال اس خربوزے بیچنے والے سے یہ ہوتا ہے کہ ”بھائی میٹھے تو ہوں گے“ ، آپ کی تسلی کی خاطر وہ ایک دو خربوزوں کو آگے پیچھے کرے گا، ایک دو کو ہاتھ سے تھپ تھپائے گا، پھر جو دانہ آپ کو دینا ہو اس کو اپنے منہ کہ قریب کر کے کہے گا صاحب آپ کو بالکل میٹھے دانے نکال کر دیے ہیں، آپ بھی اپنی تسلی کی خاطر اس کو سونگھ کر اس کی خوشبو محسوس کریں گے، اور مکمل یقین کے ساتھ کے یہ میٹھے ہیں اس کو حسب ضرورت ناپ تول کرنے اور ریٹ کے متعلق بات کریں گے۔ جب آپ خرید کا یہ عمل مکمل کر لیتے ہیں تو ایک فاتحانہ مسکراہٹ آپ کے چہرے پر سج جاتی ہے۔ خربوزے والے نے نفسیاتی طور پر آپ کو باور کروا دیا ہوتا ہے کہ جو خربوزے وہ آپ کو دے رہا ہے، وہی اس پورے بازار میں سب سے میٹھے ہیں۔

اب آپ کے خربوزے واقع میٹھے ہیں یا پھیکے، اس کا فیصلہ کٹائی والے دن ہی ہونا، جس وقت خربوزہ چھری سے کٹ کر قاشوں کی صورت میں ہو گا، آپ ایک قاش اپنی زبان پر رکھیں گے اس وقت آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ خربوزہ کتنا میٹھا ہے یا پھیکا ہے۔ یہی وقت آپ کی میٹھے اور پھیکے کی پہچان کا اور خربوزے بیچنے والے کا امتحان بھی ہو گا۔ اگر تو میٹھا ہوا، آپ بہت شوق سے کھائیں گے، پھیکا ہوا یا تو بالکل نہیں کھائیں گے یا بے دلی سے کھائیں گے۔ لیکن چونکہ خربوزہ کٹ گیا ہے، اب نہ تو واپس اس کی قاشیں مل سکتی، نہ گودا واپس ہو سکتا اور نہ ہی چھلکے واپس چڑھ سکتے۔ یعنی کے اب وہ قابل واپسی نہیں رہے۔

حکیم لقمان کی دانائی اور حکمت سے تو ہم سب واقف ہیں، ان کی اپنے آقا سے محبت بے مثال تھی۔ لقمان کی وفاداری اور ادب نے ان کو اپنے آقا کی نظر میں بہت ممتاز کر دیا تھا، آقا بھی لقمان کو اپنا غلام نہیں بیٹا سمجھتا تھا۔ اپنے کھانے میں بھی ساتھ شریک کرتا، مشورہ میں ساتھ شریک کرتا تھا۔ ایک دن آقا نے لقمان کو کہا تو مجھے بہت عزیز ہے، آج میں تم کو اپنے ہاتھ سے خربوزہ کھلاتا ہوں، آقا نے خربوزہ کاٹا اور اس کی قاش لقمان کو دی، آپ نے کھائی اور بہت تعریف کی، آقا نے پھر دوسری قاش دی، لقمان نے بہت رغبت سے کھائی، غرض کہ آقا اپنے ہاتھ سے قاش کھلاتے جا رہا تھا، لقمان بہت شوق سے کھا رہا تھا اور کہتا جا رہا تھا، آقا، یہ خربوزہ شہد جیسا میٹھا ہے ذائقہ میں، جب آخری قاش بچی تو آقا نے کہا، اے لقمان تیری بات نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ میں بھی اس شہد جیسے مٹھاس والے خربوزہ کا ذائقہ چکھوں، جب آقا نے قاش اپنے منہ میں ڈالی، تو اس کی کڑواہٹ نے زبان بدذائقہ کر دی، حلق ترش ہو گیا، آقا نے فوراً باہر نکال دی اور پانی کا طلب گار ہوا۔

لقمان نے فوراً پانی پیش کیا، کچھ دیر بعد جب ترش ذائقہ کا اثر زائل ہوا تو آقا نے لقمان سے مخاطب ہو کر کہا، اے میرے وفادار یہ تو نے کیا ظلم کیا اپنی جان پر، خربوزہ اتنا بدذائقہ کہ قے کرنے کو دل کرے، مگر تو نے بڑی رغبت سے کھا لیا، بتا اس میں تیری کیا حکمت پوشیدہ تھی۔ لقمان نے کہا، آقا، جب آپ اپنے ہاتھ سے کھلا رہے تھے تب اس کا ذائقہ شیریں ہو گیا تھا، میں نے ساری زندگی خوش ذائقہ نعمتیں چکھی ہیں آپ کے گھر سے، اگر آج ایک ترش کھانا مل بھی گیا تو آپ سے شکوہ کیسا، شکایت کیسی، آپ کے خلوص اور پیار نے مجبور کیا کہ زبان سے بیان نہ ہو سکا اور آپ کی چاہت، خربوزہ کی قاشوں میں چاشنی بن کر اترتی رہی۔ آقا نے کہا، اے لقمان تو اسی لیے مجھے محبوب ہے کہ تیری زبان پر ہر وقت شکر دیکھتا ہوں۔ یہی شکر تیرا اصل ذائقہ ہے۔

ابھی کچھ دیر بعد سائنسی امور بمقابلہ مذہبی امور شروع ہونے والا ہے۔ سائنسی نمائندہ بن کر فواد چودھری صاحب نے اعلان کیا ہے کہ کل بروز اتوار عید الفطر ہو گی، سائنسی لحاظ سے چاند نکلنے کی شہادت ہے، اس بار انتیس روزے ہوں گے اور اور تمام عالم اسلام میں کل عید منائی جائے گی۔ جب کہ مذہبی امور اور رویت ہلال کمیٹی کے مفتی منیب صاحب کا کہنا ہے کہ وہ خود اپنی ٹیم کے ہمراہ فلکیاتی دوربین سے مشاہدہ کریں گے، اگر تو آنکھوں دیکھی چاند کی شہادت موصول ہوئی تب عید کا اعلان کیا جائے گا ورنہ تیس روزے پورے ہوں گے اور بروز سوموار عید منائی جائے گی۔

میرا معاملہ تو انتیس یا تیس روزوں کا نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو نہ سائنسی ہے نہ مذہبی ہے، یہ نفس کا معاملہ ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کے ساتھ بھی میرا والا معاملہ ہو، تو پھر بات دراصل یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو روزہ دار، نمازی، پرہیزگار، تہجد گزار، قرآن کو ختم کرنے والے، طاق راتوں کی سعادت حاصل کرنے، دل کھول کر چندہ، زکوۃ، صدقہ، خیرات کرنے والے لوگوں کی فہرست میں سے باہر نکال کر ایک خربوزہ فروش ریڑھی والا تصور کر لیتے ہیں۔

رمضان المبارک کا یہ بابرکت مہینہ گاہک بن کر ہماری ریڑھی پر آیا تھا، تاکہ ہم پوری ایمانداری کے ساتھ، ناپ تول کرتے ہوئے، میٹھے روزے اس کی جھولی میں ڈال کر اپنا نفع وصول کرتے، لیکن ہم نے دکھاوے کے لئے کبھی نماز اٹھا لی، کبھی قرآن اٹھا لیا، کبھی تہجد کو تھپتھپا کے گاہک کو تسلی دے دی کہ ہمارے روزے بہت میٹھے ہیں، ایسے میٹھے روزے، ایسی عبادت تو شاید ہی کرہ ارض پر کسی نے کی ہو اس رمضان المبارک میں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ہم نے اپنا سودا سلف بیچ دیا ہے۔ اب ہمارا سب کچھ شوال کا چاند نظر آتے ہی خربوزہ کی طرح کٹ جانا ہے اور پتہ لگ جانا کہ ہماری عبادت میں کتنا خلوص کا شہد شامل تھا یا دکھاوے کی ترش قاشیں باقی بچی ہیں۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم حکیم لقمان کی طرح شکر گزار نہیں ہیں کہ اگر ترش قاش بھی کھانا ہو گئی تب بھی کہتے واہ مالک، کیا میٹھی قاش ہے، کیا خوبصورت زندگی ہے، کیا عنایت ہے تیری، کیسے شکر ادا کریں تیرا۔ تیری رحمت کا۔ تیرے فضل کا۔

ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہمارا مالک حکیم لقمان کے مالک سے کہیں بڑھ کر ہماری چاہت کرنے والا ہے۔ ہماری جھوٹ موٹ کی عبادتوں اور باتوں کو بھی نظر انداز کر کے ہماری خطاؤں کو معاف کرنے والا ہے۔ تو پھر ہم سب مل کر اس کے حضور یہ التجاء کرتے ہیں۔

اے کائنات کے مالک شوال کا چاند نکلنے سے پہلے، ہمارے خلوص اور محبت سے خالی، عبادت اور روزے اور باقی اعمال قبول فرما لے۔ وبا اور وائرس اور حادثوں سے بھری اس دنیا میں۔ آپ نے ہم کو ابھی تک محفوظ رکھا ہے۔ ایک منٹ کی زندگی سے موت کا سفر طے کرنے والے جہاز میں ہم بھی ہو سکتے تھے، دنیا بھر کے ہسپتالوں میں پڑے کرونا کہ مریض ہم بھی ہو سکتے تھے، ناگہانی آفات میں مبتلاء ہم بھی ہو سکتے تھے۔ لیکن آپ کے فضل نے بچا لیا۔ ہمارا سر تا پا بدن سلامت ہے۔ یہ آپ کی رحمت کی انتہاء ہے۔ اے رحم کرنے والے رحم کر۔ اے معاف کرنے والے رب، آپ معاف کرنے کو پسند کرتے ہیں۔ آپ ہمیں معاف فرما دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply