وبا کے موسم میں شادی اور شادی ہال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مارچ، اپریل اور رجب، شعبان شادیوں کا سیزن تھا۔ لوگوں نے مکمل تیاری کی ہوئی تھی۔ یک دم حکومت کی طرف سے حکم نامہ موصول ہوا کہ کل صبح کی شادیاں بھی منسوخ کر دی جائیں۔ شادی ہال سیل کر دیے گئے۔ اس کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ اس سال گندم کی کٹائی رمضان کے مہینے میں ہوئی۔ اس مہینے میں شادیاں نہیں ہوتیں۔ اس طرح شادیوں پر پچھلے تین ماہ سے مکمل پابندی ہے۔ گندم کی کٹائی کے بعد کسان دو ماہ تک فارغ ہوتا ہے۔ ان دنوں میں کسان کے پاس پیسے بھی ہوتے ہیں اس لئے یہ مہینے ہمارے دیہاتی علاقوں میں شادیوں کے لئے مثالی گنے جاتے ہیں۔ عید کے بعد ایک عام سال میں شادی ہال ملنا مشکل ہو جاتا تھا۔ لیکن اب کورونا کی وجہ سے سب کچھ تبدیل ہو گیا ہے۔

اب ہمیں پتا ہے کہ مستقبل قریب میں ویسی بڑی بڑی شادیاں ناممکن ہیں۔ لیکن شادیوں کو روکا نہیں جاسکتا۔ پورے کرہ ارض پر چھائی وبا نے سب کچھ بد ل دیا ہے۔ اس بیماری سے بچاؤ کے لئے اگلے کئی سال یا کم سے کم کئی مہینوں تک سماجی دوری اور ماسک ضروری ہو گئے ہیں۔ شادیوں میں اب بوڑھے بزرگوں کی شمولیت بھی مشکل ہو گئی ہے۔ اب پہلے جیسی شادیوں کی تقریبات منعقد کرنا ناممکن ہے۔ مستقبل قریب میں دوستوں اور رشتہ داروں کے میل ملاپ پر بھی قدغن لگانی پڑے گی۔ پوری دنیا میں لوگ نے اپنے رسم و رواج اور رہن سہن کے طریقوں کو اس کے مطابق بدلنا شروع کر دیا ہے۔

پاکستان میں شادی ہال اب کھربوں کا بزنس بن چکا ہے۔ شادی اور اس سے متعلقہ دوسرے کاروباروں کے ساتھ لاکھوں نہیں کروڑوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ تعمیرات کے بزنس کے بعد سرمایہ اور ملازمین کی تعداد کی لحاظ سے یہ دوسرا بڑا کاروبار بن چکا ہے۔ صرف لاہور میں شادی ہال اور مارکیوں کی کی تعداد پندرہ سو اور کراچی میں دو ہزار سے زائد ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے ہر ماہ ان میں دو سے تین کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ہر شادی ہال میں اوسطاً ستر افراد مستقل بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔ اس طرح صرف ان دو شہروں میں اس صنعت میں ملازمین کی تعداد ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یہ ڈھائی لاکھ افراد نہیں ڈھائی لاکھ خاندان ہیں۔ دیہاڑی دار عملہ اس سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹریشن، کک، بار بی کیو والے، مچھلی والے، لائٹنگ، کیمرہ، میوزک، پھولوں والے اور سینکڑوں دوسرے لوگ بھی روزانہ کی بنیاد پر شادی کے ایک فنکشن کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔

میک اپ، کپڑے، جہیز، فرنیچر اور الیکٹرانکس کے علاوہ اور بھی کئی قسم کے کاروبار شادی کی بنیاد پر چلتے ہیں۔ جلد اور دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس بھی شادیوں کے سیزن میں مریضوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے۔ اتنی بڑی انڈسٹری کو لمبے عرصہ تک بند نہیں کیا جا سکتا۔ شادیوں پر پابندی سے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ بے روز گار ہو چکے ہیں اور کروڑوں لوگوں کے بزنس متاثر ہوئے ہیں۔

انڈیا کی ریاست کیرالہ نے پچاس افراد سے زائد کی شادی پر پابندی لگا دی ہے۔ وبا کے دنوں میں امریکہ میں شادیوں پر مکمل پابندی نہیں لگائی گئی تھی صرف دس افراد سے زائد کے اجتماع پر پابندی تھی۔ اب اس میں بھی نرمی لانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ پاکستان میں تمام دوسرے کاروبار کھل چکے ہیں۔ عید کے بعد سینما ہال اور ریستوران بھی کھولے جا رہے ہیں۔ بازاروں میں کورونا کے متعلق ایس او پیز پر عملدرآمد بالکل نہیں ہو سکا لیکن ان کو پھر بھی کام کی اجازت دی گئی۔ شادی ہالز ہمیشہ سے ہر حکومتی پابندی پر من و عن عمل درآمد کرتے رہے ہیں۔ وہ ون ڈش کی پابندی ہو یا پھر رات دس بجے پروگرام ختم کرنے کی، اس کاروبار کے مالکان نے ہمیشہ ہر قانون پر عمل کیا ہے۔ انہوں نے تو بیس ہزار فی فنکشن کم از کم ٹیکس کے ظالمانہ قانون کی سزا بھی دو سال تک خوش دلی (؟) سے بھگتی ہے۔ اس لئے مناسب ہوگا کہ شادی ہالوں کو ایس او پیز بنا کر دے دیے جائیں اور ان کو بھی کام کی اجازت دی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *