کیا واٹس ایپ سٹیٹس عید کارڈ کا متبادل ہو سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

90 کی دہائی ہمارے بچپن کا دور تھا۔ اس وقت کی بہت سی خوبصورت یادیں ذہن پر نقش ہو کر رہ گئیں ہیں۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں پہنچنے کے لیے ٹیکنالوجی نے بہت جلد ترقی کی اور ہماری زندگی اتنی سہل بنا دی ہے کہ شاید دو دہائی قبل ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ مگر کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اس ترقی اور ٹیکنالوجی کی بھینٹ چڑھ گئی اور کبھی کسی قیمت پر واپس نہیں آ سکتیں۔ ان کے لیے ہمیں اپنے دماغ کے دریچے میں دل سے جھانکنا پڑتا ہے اور وہ ہماری یادداشت میں کسی پرانی کتاب کے پیلے پنوں میں سوکھے گلاب کی مانند موجود ہوتی ہے اور جیسے ہی ہم اس پر لکھی گئی یادوں کی تحریر پڑھتے ہیں تو پیلے اور بوسیدہ صفحات دوبارہ سفید اور سوکھا گلاب دوبارہ سبز پتوں اور گلابی پنکھڑیوں کے ساتھ مہکنا شروع ہو جاتا ہے اور ایک خوشگوار احساس کے ساتھ دل و دماغ کو معطر کر دیتا ہے۔

رمضان المبارک کا آخری عشرہ قریب آتے ہی کپڑے جوتے کی دکانوں اور مہندی چوڑیوں کے سٹالز پر تو رش ہوتا ہی تھا مگر ایک سٹال ایسا بھی ہوتا تھا جہاں بڑے خریداری کرتے تھے اور مجھ سمیت ہر گزرنے والا بچہ ضرور رکتا تھا۔ اس سٹال پر رنگارنگ خوبصورت عید کارڈ سجے ہوتے تھے۔ کسی پر اللہ محمد لکھا ہوتا تھا کسی پر مکہ مدینہ کی تصاویر ہوتی تھیں۔ کسی پر کبوتر کے جوڑے چونچ میں محبت کے اظہار کے پیغام لئے موجود ہوتے تھے تو کسی پر فلمی ستاروں کی تصاویر ہوتی تھی۔ مطلب سٹال پر ہر طرح کے کارڈ اپنی جانب توجہ مبذول کرا رہے ہوتے تھے۔ ایک روپے کے چھوٹے عید کارڈ سے لے کر دیدہ زیب دلکش ڈیزائن والے عید کارڈ 200 سے 300 روپے تک کے بھی ہوتے تھے۔

اس وقت عید کارڈ بھیجنا اور موصول کرنا سچی اور خالص محبت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اور چند خاص دوست و احباب کو ہی عید کارڈ بھیجے جاتے تھے۔

عید کارڈ کے اندر کی جانب دونوں صفحات خالی ہوتے تھے درمیان میں خوشخطی کے ساتھ اردو انگلش یا عربی زبان میں ”عید مبارک“ نمایاں کر کے لکھا ہوتا تھا۔ اس ”عید مبارک“ سے پہلے ہم اپنے دوست احباب کو محبت بھرے القاب کے ساتھ مخاطب کر کے تحریر ایسے سیٹ کرتے تھے کہ خوبصورت رسم الخط میں پہلے سے لکھا گیا ”عید مبارک“ عید کی مبارکباد میں فٹ ہو جائے۔

پہلے صفحے پر محبت کے اظہار کے بعد اگر دوسرے صفحے پر مزاحیہ اشعار نہ لکھے جاتے تو عید کارڈ کا مزہ پھیکا پھیکا سا محسوس ہوتا تھا۔ کوشش کی جاتی تھی کہ اشعار کونوں میں ترچھے کر کے لکھے جائیں اور عید کارڈ کے لیے بڑے عام سے مزاحیہ اشعار مختص ہوتے تھے۔ جن میں چند بہت مشہور اور زبان زد عام تھے۔

عید آئی ہے زمانے میں
دوست گر گیا غسل خانے میں

ڈبے میں ڈبہ ڈبے میں کیک
میرا دوست لاکھوں میں ایک

سویاں کھاتے کھاتے نیند آ گئی
صبح اٹھ کر دیکھا تو عید آ گئی

پھر یوں ہوا کہ موبائل آیا۔ سوشل میڈیا پر دوسرے لوگوں سے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم پر لائیکس اور کمنٹس کی حد تک جڑ گئے اور اپنے لوگوں سے کسی حد تک دور ہوتے گئے۔ موبائل آنے کے بعد فری پیکج نہ ہونے سست اور مشکل مرحلے اور چند میسجز کی محدود میموری کے موبائل ہونے کے باوجود دل کھول کر ایس ایم ایس پر عید کے پیغامات بھیجے جاتے اور موصول کرتے۔ بلیک اینڈ وائٹ نوکیا میں عید مبارک کے تصویری میسج بھیجے جاتے۔ پھر ملٹی میڈیا میسج اور پھر واٹس ایپ میسجز اور الحمدللہ ہم اتنے ترقی یافتہ ہو چکے ہیں کہ واٹس ایپ پر بھی میسج بھیجنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ اس عید پر ہم صرف واٹس ایپ سٹیٹس لگائیں گے کوئی دیکھے دیکھ کر کمنٹ کرے یا وہ بھی نہ کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رمضان رانا کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *