آہ۔ ۔ ۔ خالد شیر دل: تجھے کس پھول کا کفن ہم دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خالد شیر دل۔ ۔ ۔ اکثر لوگوں کے لئے یہ نام شاید نیا ہو، ہماری خود بھی ان کے ساتھ محض تین یا چار ملاقاتیں رہیں اور وہ بھی موبائل فون کے ذریعے۔ ۔ ۔ خالد شیر دل صاحب ہمارے ملک کے ایک متحرک بیوروکریٹ اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے سرکردہ افسروں میں سے ایک تھے۔ 24 ویں سی ٹی پی میں وہ محمد فراست اقبال صاحب کے قریبی ساتھی اور انتہائی گہرے دوست تھے، گزشتہ روز کراچی میں طیارے کے افسوس ناک حادثے میں وہ انتقال کر گئے۔ ۔ ۔

آج فراست اقبال صاحب کے صاحب زادے عزیزم علی حیدر کے ذریعے خالد شیر دل صاحب کی وفات کی خبر ملی تو دل ناگہاں بجھ کر رہ گیا۔ جیسے کوئی قیمتی چیز کھو جائے۔ ۔ ۔ کوئی ویرانی سی ویرانی ہے۔ ۔ ۔ کیسے کیسے چاند چہرے تہہ خاک چلے جاتے ہیں۔ ۔ ۔ گاہے کچھ لوگوں سے ایک ہی ملاقات میں بے نام سا رشتہ استوار ہو جاتا ہے، خالد صاحب سے بھی ہمارا ایسا ہی تعلق تھا۔

خالد شیر دل سے پہلی بار ہم فراست اقبال صاحب کے توسط سے متعارف ہوئے تھے، جب وہ مظفر گڑھ میں ڈی سی او کے طور کے تعینات تھے، ایک خزاں رسیدہ شام فون پر کہنے لگے کہ ”میرے ایک قریبی دوست خالد صاحب ہیں، میں انہیں آپ کے“ شب بخیر ”والے ایس ایم ایس فارورڈ کرتا ہوں، وہ بھی میری طرح غائبانہ طور پر آپ کی تحریروں کے مداح ہیں، میں نے انہیں آپ کا نمبر دیا ہے، وہ آپ سے بات کریں گے“ ۔

اگلے روز رات کو ہم خیر پور ڈاہا روڈ پر بادیہ پیمائی کر رہے تھے جب ہمارے موبائل پر بجنے والی مترنم گھنٹی نے ہمارے قدم روک لیے، سکرین پر انجان نمبر جگمگا رہا تھا۔ ہم نے کال اٹینڈ کی تو نفاست اور نرماہٹ میں گندھی ایک خوبصورت سی آواز ہماری سماعتوں سے ٹکرائی۔ ”السلام علیکم! جی میں خالد شیر دل عرض کر رہا ہوں۔ آپ نعیم“ صاحب ”بات کر رہے ہیں؟“ اس رات ان کے خوبصورت انداز بیان، احترام، عاجزی، علمی و ادبی پیرایہ اظہار، کتابوں سے ان کی محبت اور عمدہ طنزیہ و رمزیہ ذوق سے لبریز ان کی گفتگو سے فیض یاب ہوتے ہوئے بیس پچیس منٹ پلک جھپکنے میں گزر گئے تھے۔

گفتگو کے دوران وہ ہماری تعلیمی قابلیت، مشغلہ، شہر، گاؤں کا احوال، ابو جی اور فراست صاحب کے حوالے سے پوچھتے رہے، کتابوں کی باتیں کرتے رہے اور ہمارے بے مایہ اور بے سروپا ”ایس ایم ایس“ کو اس انداز سے سراہتے رہے اور کھلے دل کے ساتھ حوصلہ افزائی کرتے رہے کہ ہمیں حیرانی و شرمندگی سی محسوس ہونے لگی کہ کہاں سات سمندر پار کی عالی نسب یونیورسٹیوں کا پڑھا لکھا شخص اور کہاں ہم جیسا ایک گم نام میٹرک پاس۔ ۔ ۔ اس پہلی ملاقات کی یاد ابھی تک دل میں مہکتی ہے۔

2016 ء کے موسم خزاں میں بہاول پور میں ڈپٹی کمشنر بیرسٹر ڈاکٹر احتشام انور مہر صاحب کے تبادلے کے بعد نجی ٹی وی پر خالد شیر دل صاحب کی بطور ڈپٹی کمشنر تعیناتی کی ”پٹی“ چلنے پر ہم نے ایس ایم ایس کر کے ان سے اس خبر کی تصدیق چاہی تاہم انہوں نے اپنی نئی تقرری کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا اور بعدازاں رانا محمد سلیم افضل کی تعیناتی عمل میں لائی گئی، شنید تھی کہ ”پرانے پاکستان“ کی حکمران جماعت کے ایک اہم سیاسی گرو گھنٹال کو خالد شیر دل صاحب کی قابلیت، صلاحیتوں اور اصول پسندی سے شدید تحفظات لاحق تھے سو ان کی بہاول پور میں تعیناتی نہ ہو سکی۔

جون 2017 ء میں فراست صاحب کی اچانک وفات کے چند دن بعد ان سے ہماری فون پر بات ہوئی تو کتنی ہی دیر فراست صاحب کو یاد کرتے رہے۔ خالد شیر دل صاحب نے اپنے دوست فراست صاحب کی وفات کے بعد اپنی کمٹ منٹ یوں پوری کی کہ ہمیشہ فراست صاحب کے اہل خانہ سے رابطے میں رہے۔ فراست صاحب کے خوش خصال صاحب زادے علی حیدر کی نہ صرف سی ایس ایس امتحان میں رہنمائی کی بلکہ ان کے اہل خانہ کو درپیش کسی بھی مسئلے سے نمٹنے میں مدد کے لئے وہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہے اور ان کے حوصلے بلند کرتے رہے۔

2017 ء کے رمضان المبارک میں بچھڑنے والے فراست صاحب کی داغ مفارقت کا غم ابھی تازہ تھا کہ 2020 ء کے رمضان المبارک میں فراست صاحب سے نسبت رکھنے والے خالد شیر دل صاحب بھی دل کی نگری کو اداس کر گئے۔ چاند رات کے ان لمحات میں یہ سطور لکھتے ہوئے پتہ نہیں کیوں آنکھوں میں نمی کی فصل سی اگ آئی ہے، جانے والوں اور یاد آنے والوں کا شمار بڑھتا جا رہا ہے۔ آس پاس سناٹا بڑھ رہا ہے اور۔ ۔ ۔ آہ۔ ۔ ۔ یہ زمین زاد اپنے مہربان خالد شیر دل کے لئے کیا دعا کرے؟ اگر وہ جنتی نہیں تو ایسی جنت بھلا کس کام کی؟ بس یہ کہ رب رحمان اس سعید روح کو اپنی بے کنار رحمتوں اور بے شمار برکتوں کے ساتھ دائمی سکون نصیب فرمائے اور سوگواران خصوصاً ان کی والدہ، ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو صبر جمیل عطا کرے۔

آہ۔ ۔ ۔ خالد شیر دل۔ ۔ ۔
تجھے کس پھول کا کفن ہم دیں
تو جدا ایسے موسموں میں ہوا
جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *