بادشاہ کی رحم دلی اور انصاف کی تلوار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برسوں پہلے کا قصہ ہے۔ ہر طرف خوشحالی تھی۔ راوی ہر وقت چین ہی چین لکھتا رہتا تھا۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پہ پانی پیتے رہتے تھے۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پہ پانی کیوں نہ پیتے بادشاہ سلامت جو انصاف پسند ہوئے۔ انصاف بھی وہ جس کے چرچے چار سو۔ کامیابی وہ جو دشمن مانے۔ اپنے تو اپنے بیگانے بھی بادشاہ سلامت کے انصاف کے تعریف کیے بنا نہ رہتے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں تھی مقدمہ اگر بادشاہ سلامت کے حضور پہنچا تو پھر انصاف ہو کے رہے گا۔

اکثر عوام اندر کھاتے خود ہی معاملات طے کرلیتے۔ اس کی پہلی وجہ تو یہی تھی کے انصاف کی تلوار بلا تردد و تاخیر چل جانی ہے۔ دوسری وجہ رعایا کی بادشاہ سلامت سے والہانہ محبت بلکہ عقیدت تھی۔ رعایا نہیں چاہتی تھی بادشاہ سلامت کو معمولی سی بھی تکلیف دی جائے اپنے لڑائی جھگڑے سنا کر بادشاہ کو آزردہ کیا جائے۔ عادل منصف ہونا تو اک وصف ٹھہرا۔ تاریخ میں کئی عادل کئی منصف گزرے۔ مگر اس بادشاہ کی وہ خوبی جو اسے ممتاز کرتی رحم دلی تھی۔

بادشاہ کے حضور مقدمہ پہنچا۔ مقدمہ کے فریقین اک سپاہی اور عورت۔ عورت نے عرض کی میں اپنی بگھی میں محو سفر تھی۔ سپاہی نے میرا رستہ روکا۔ میں نے اسے رستہ دینے کو کہا، چیخی چلائی بہت کوشش کی مگر اس نے سنی ان سنی کردی اور صرف اپنے افسر بالا کی مانی۔ اس نے مجھے روک کر میری ہتک کی ہے انصاف انصاف انصاف۔ بادشاہ سلامت سپاہی کی طرف متوجہ ہوئے۔ سپاہی کہہ سکتا تھا میں دھوپ میں کھڑا تھا میرا دماغ چل گیا تھا۔ مجھ سے غلطی ہوئی، میں نے نہیں روکا وغیرہ وغیرہ عقل عیار سو بھیس۔

مگر سپاہی نے کہہ دیا میں نے اپنا فرض ادا کیا میں آمد و رفت سنبھالے ہوئے تھا۔ آگے اک مسئلہ تھا جس کی وجہ سے آمد و رفت روکنا ضروری تھا۔ بادشاہ سلامت نے گواہان طلب کیے۔ سب نے عورت کے حق میں گواہی دی۔ گواہان نے مہر تصدیق ثبت کی فیصلہ ہوچکا۔ بادشاہ سلامت نے حکم دیا چہار شنبہ سپاہی کو گرم تیل کے کڑاہے میں ڈال دیا جائے۔ بادشاہ سلامت زندہ باد انصاف زندہ باد۔ عدالت برخاست۔

انصاف ہوگیا اگلے روز سپاہی کی ماں رحم کی اپیل لے کر بادشاہ کے حضور حاضر ہوئی۔ بادشاہ سلامت آپ کی رحم دلی کے چرچے چار سو ہیں رحم کریں کچھ رحم۔ سپاہی کی ماں ملتجیٰ نظروں سے بادشاہ کو دیکھنے لگی۔ رحم دلی آڑے آئی نیا شاہی فرمان جاری ہوا چہار شنبہ سپاہی کو گرم تیل کی بجائے گرم پانی میں ڈالا جائے۔ کاتب نے فرمان شاہی لکھ دیا۔ واہ واہ بادشاہ کی رحم دلی زندہ باد۔ سارا محل عش عش کر اٹھا۔

سپاہی کی ماں بھی آخر ماں تھی۔ ممتا کیسے دیکھتی بیٹا گرم پانی میں جلے۔ سو اس نے روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دوبارہ بادشاہ کی رحمت و شفقت کو آواز دی۔ حضور رحم، ظل الہیٰ رحم، شہنشاہ وقت رحم۔ سپاہی کی ماں کی آواز سن کر سارا محل حیران و پریشان۔ بادشاہ اور کتنا رحم کرے۔ سبھی دم سادھے کھڑے بادشاہ کو دیکھ رہے۔ کئی لوگ دل ہی دل میں اس بڑھیا کو کوس رہے۔ شاہوں کے فیصلے روز روز بدلے نہیں جاتے اور رحم کی اپیل بار بار نہیں ہوتی۔

سائل خالی جائے یہ بھی قصر شاہی کے شایان نہیں۔ وزرا، امراء، قاضی، وزیر، نائب وزیر، سپہ سالار، شاہی منصب دار محو حیرت اب کیا ہو۔ کون بولے کون سکوت توڑے زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔ کاٹو تو لہو نہیں۔ قبرستان کا سکوت جس میں بے ترتیب دھڑکنوں کا ساز۔ اس سے پہلے کبھی ایسا مرحلہ درپیش نہیں رہا۔ نائب وزیر کی نظریں وزیر پہ وزیر سپہ سالار کو تک رہا، سپہ سالار کی نظریں قاضی پہ، قاضی کی نظریں بادشاہ کے قدموں کو چھو رہیں۔

بادلوں نے بھی سورج سے دامن چھڑا لیا۔ عجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں۔ بالآخر وہ فیصلہ ہوا تاریخ میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔ بادشاہ کی رحم دلی نے جوش مارا۔ بادشاہ نے اپنے ہی قوانین، فرامین اور اصول پس پشت ڈال دیے۔ شاہی روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فیصلہ کیا سپاہی کو نہ تو گرم تیل میں ڈالا جائے نہ ہی گرم پانی کی تکلیف دی جائے۔ ایک وار سے اس کے کندھوں سے سر کا بوجھ اتار دیا جائے۔ یہ سنتے ہی بڑھیا خوشی سے توازن عقلی کھو بیٹھی۔ بادشاہ کی رحم دلی دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *