سول سروس کا شیر دل – جہاز حادثے نہیں نااہلی کا شکار ہوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا کہ اچانک سکرین پر ایک خبر نمودار ہوئی، پی آئی اے کا طیارہ کراچی میں اترتے ہوئے حادثے کا شکار، بے ساختہ منہ سے نکلا یا اللہ خیر۔ فوراً ٹی وی لگایا، ہر طرف کہرام مچا ہوا تھا اور طیارے کے حادثے کی تفصیلات بتائی جا رہی تھیں۔ چند منٹ بعد ایک ٹی وی چینل نے اس طیارے میں سوار مسافروں کے ناموں کی فہرست بھی سکرین پر دینی شروع کر دی، ایک نام نظر سے گزرا، خالد شیر دل، میں دھک سے رہ گیا، یک دم دل سے دعا نکلی کہ خدا کرے یہ جھوٹ ہو، مگر یہ بات مجھے اچھی طرح معلوم تھی کہ دنیا میں اس نام کا ایک ہی آدمی ہے اور وہ ہے میرا بیچ میٹ، خالد دی شیر دل۔

یہ کالم لکھنے تک جائے حادثہ سے 97 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، 2 افراد زندہ بچے ہیں جن میں سے ایک کی نشست خالد کے بالکل ساتھ تھی۔ حادثے کے فوراً بعد میں خالد کے گھر گیا، وہاں معلوم ہوا کہ اس کے فون پر گھنٹی بج رہی ہے، لوکیشن بھی آن ہے۔ اس وقت سے اب تک مجھ سمیت 24 ویں کامن کا پورا بیچ، سول سروس کے افسران اور خالد کے دوست رشتہ دار معجزے کے انتظار میں ہیں کہ کاش کہیں سے یہ خبر آ جائے کہ وہ زندہ ہے۔ ہنستا مسکراتا خالد شیر دل، سول سروس کا شیر دل۔

سول سروس کو اپنے جن افسران پر فخر ہونا چاہیے خالد بلاشبہ ان میں سے ایک ہے ( ’تھا‘ لکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں ) ، خدا جانے کتنی ڈگریاں ہیں اس کے پاس، سب کی سب بین الاقوامی جامعات کی، دنیا کا شاید ہی کوئی کام ہو جس کا اس نے تجربہ حاصل نہ کیا ہو۔ خالد کی یہ خصوصیت آج سے چوبیس سال پہلے سول سروس اکیڈمی میں ہی مجھ پر عیاں ہو گئی تھی جب ہم بطور زیر تربیت افسر وہاں داخل تھے۔ اس وقت تک میں نے خالد کے بارے میں صرف یہی سنا تھا کہ وہ اے زیڈ کے شیر دل صاحب کا بیٹا ہے۔

اکیڈمی میں تربیت کے دوران افسران کو کہا جاتا ہے کہ وہ کمیٹیاں اور مجالس تشکیل دیں، تقریبات منعقد کروائیں اور کھیلوں کے مقابلوں میں بھی حصہ لیں۔ اس وقت شاید ہی کوئی کمیٹی ہو جس کا خالد رکن نہ بنا ہو اور شاید ہی کوئی تقریب ہو جس کے انعقاد میں خالد نے عملاً کردار نہ ادا کیا ہو۔ مجھے یاد ہے میں نے اس سے پوچھا تھا کہ ان تمام کاموں کے لیے تم وقت کہا ں سے نکال لیتے ہو، اپنی روایتی کھلکھلاتی ہنسی کے ساتھ ا س نے جواب دیا تھا ”وقت بہت ہے میرے پاس!“

اس دن سے میں خالد شیر دل کا قائل ہو گیا تھا، اس نے ایک جملے میں مجھے وہ بات سکھا دی جو شاید کئی کتابیں پڑھنے کے بعد بھی لوگ نہیں سیکھ پاتے۔ خالد کی یہ بات میں آج بھی ان لوگوں کو مثال دینے کی غرض سے بتاتا ہوں جو دن بھر میں ایک آدھ کام کر کے کہتے ہیں کہ وقت ہی نہیں بچتا۔ کام کرنے کے معاملے میں خالد انسان نہیں جن ہے، آپ اسے کہیں بھی لگا دیں، کوئی بھی کام دے دیں، خالد الہ دین کے جن کی طر ح پرفارم کرے گا۔

خالد شیر دل کوئی سنجیدہ، مغرور یا احساس تفاخر سے لبریز افسر نہیں جو اپنی قابلیت کا رعب جماتا پھرے بلکہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جو پہلی ملاقات میں ہی آ پ کو ’انسپائر‘ کر دیتے ہیں اور آپ دل میں سوچتے ہیں کہ بندہ سول سروس میں ہو تو خالد شیر دل جیسا افسر ہو۔ جو لوگ خالد کو جانتے ہیں وہ کام کے علاوہ ا س کی حس مزاح اور دل آویز مسکراہٹ کے بھی عاشق ہیں، مجھے نہیں یاد پڑتا کہ میں نے خالد کو کبھی مسکراتے ہوئے نہ دیکھا ہو، اس کی سنجیدہ سے سنجیدہ بات میں بھی ایک عجیب طرح کی لطافت ہوتی ہے جو اس کی ہمہ جہت شخصیت کا ایک اور اچھوتا پہلو ہے۔ تین سال پہلے ہم نے کیپٹن مبین جیسا ہیرا کھویا تھا، فراست اقبال بھی ہمیں چھوڑ گیا تھا، خالد شیر دل کو مرحوم کہنے کی ہمت اب ہم نہیں!

سوال یہ ہے کہ کیا خالد شیر دل اور دیگر مسافر جو اس بد قسمت طیارے میں سوار تھے کسی حادثے کا شکار ہوئے؟ یہ جاننے کے لیے جاپان جانا پڑے گا۔ 1985 میں جاپانی ایئر لائن کا ایک طیارہ بوئنگ 747 ٹوکیو کے ہوائی اڈے سے اوساکا جانے کے لیے اڑا، عملے سمیت 524 افراد اس میں سوار تھے، پرواز بھرنے کے بارہ منٹ بعد طیارے میں خرابی پیدا ہو گئی اور پھر کچھ دیر بعد وہ زمین پر آ گرا، اس حادثے کے نتیجے میں صرف چار افراد معجزانہ طور پر زندہ بچے جبکہ 520 افراد ہلاک ہوئے، ہوا بازی کی تاریخ کا یہ بد ترین حادثہ ہے۔

حادثے کی تحقیقات شروع ہوئیں تو پتا چلا کہ سات سال پہلے اس جہاز کی دم میں کوئی خرابی پیدا ہوئی تھی جسے ٹھیک تو کر دیا گیا تھا مگر کچھ کسر رہ گئی تھی، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خرابی بڑھتی گئی اور بالآخر اس حادثے کا باعث بنی۔ جاپانی معیار کے اعتبار سے یہ بات ڈوب مرنے کا مقام تھی چنانچہ جاپانی ایئر لائن کے صدر نے استعفٰی دے دیا، مینٹننس مینیجر نے خود کشی کر لی، جس انجینئر نے جہاز کا معائنہ کر کے اسے اڑنے کے لیے موزوں قرار دیا تھا اس نے بھی خود کشی کر لی۔

جاپانی ایئر لائن نے (کوئی ذمہ داری قبول کیے بغیر) مسافروں کے لواحقین کو 6.7 ملین ڈالر کا ہرجانہ ادا کیا، فلائٹ نمبر 123 کا نمبر اس کے بعد جاپان کی کسی ایئر لائن نے استعمال نہیں کیا اور جاپانی ایئر لائن نے بتدریج 747 کی جگہ بوئنگ 767 اور 777 استعمال کرنے شروع کر دیے، اس کے بعد سے آج تک جاپانی ایئر لائن کا کوئی مسافر طیارہ تباہ نہیں ہوا۔ یہ ہوتی ہے قوم!

پاکستان واپس آتے ہیں۔ ساڑھے تین سال پہلے چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے ایک اے ٹی آر جہاز حادثے کا شکار ہوا تھا، جنید جمشید سمیت اس میں 47 افراد ہلاک ہوئے تھے، آج تک اس کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آ سکی۔ پی آئی اے کا جو طیارہ جمعہ کے روز کراچی میں حادثے کا شکار ہوا اس کی بھی کوئی با معنی رپورٹ سامنے نہیں آئے گی، وجہ بہت سادہ ہے۔ پی آئی اے ایک ایئر لائن ہے جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی ریگولیٹر ہے، اس ریگولیٹر کو اصولاً آزاد ادارہ ہونا چاہیے مگر یہ ہوابازی ڈویژن کے ماتحت ہے۔ پی آئی اے کے پائلٹ اور ایئر فورس کے افسران یہاں ڈیپوٹیشن پر تعینات ہوتے رہتے ہیں، اسی سی اے اے کے نیچے ’سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ‘ ہے جس کا کام حادثے کی تحقیقات کرنا ہے۔

یہ بات ایک دودھ پیتا بچہ بھی بتا سکتا ہے کہ حادثے کی تحقیقات وقت پر کیوں نہیں ہوتیں اور اگر ہوتی ہیں تو تمام ملبہ مرنے والے پائلٹ پر کیوں ڈال دیا جاتا ہے، اس لیے کہ اگر شفاف تحقیقات ہوں تو پرزوں کی خریداری سے لے کر جہاز کا معائنہ کرنے والے انجینئرز اور جعلی سندوں پر بھرتی ہونے والے پائلٹس سب اس کی زد میں آئیں گے اور یہ ممکن نہیں کہ کوئی تحقیقات کر کے اپنے ہی خلاف ثبوت اکٹھے کرے۔

جو ایئر لائن کوٹہ سسٹم کے تحت پائلٹ بھرتی کرتی ہو (دنیا میں شاید یہ کہیں نہیں ہوتا) ، یونین کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی ہو اور یورپ میں اس کے جہازوں کو غیر محفوظ قرار دے کر پابندی لگائی جاتی ہو، اس ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹو افسر نے بہت ’دانش مندی‘ سے کام لیا جو ایئر فورس کے جہاز میں بیٹھ کر کراچی آئے اور پریس کانفرنس کر کے بتایا کہ جہاز اور عملے میں کوئی خرابی نہیں تھی۔ بقول شیکسپئر:

The fault, dear Brutus, is not in our stars, But in ourselves, that we are underlings.

خالد شیر دل سمیت جتنے افراد اس بد قسمت جہاز میں سوار تھے وہ کسی حادثے کا شکار نہیں ہوئے، نا اہلی کا شکار ہوئے ہیں اور اس نا اہلی کا خمیازہ ہم سب بھگتیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 105 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

One thought on “سول سروس کا شیر دل – جہاز حادثے نہیں نااہلی کا شکار ہوا

  • 25/05/2020 at 11:51 am
    Permalink

    اللہ ان کی مغفرت فرمائے ۔پیر ذادا صاحب مجھے یہ کہنے کی اجازت دیں کہ کسی سول سرونٹ کی وفات پہ اس کے بارے لکھی جانے والی تحریر اور کسی سول سرونٹ کی آپ بیتی پڑھنے کے بعد یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ ہر سول سرونٹ ایک ہیرا تھا اور ہے۔ اس ک تمام بیچ میٹ اس کے سینئر اور جونیئر انتہا کے قابل اور اعلی صلاحیتوں کے مالک ہوتے۔ اور سب نے اپنی سروس کے دوران جس عہدے پے کام کیا اسے اعلی طریقے سے میں نبھایا۔ بقول ان کے ہر غیر قانونی دباو اور سیاسی مداخلت کے آگے سینہ تان کے کھڑے ھوئے۔ تو پھر اس ملک کا ان 70 سالوں میں یہ حال کیوں ھوا؟؟؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *