جتھے عاشق سجدہ کردے ہو


اس واقعے سے جڑے لے دے کے بس کل ساڑھے تین کردار ہیں۔ وہ کون ہیں، ہم بتائے دیتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کہ چراغ سحری ہیں۔ عدالت سے معتوب، بیماری سے نڈھال۔ دوسرے جنرل مظفر عثمانی جو کمانڈر پانچ کور تھے۔ تیسرے ہمارے مرشد کرنل محمد اختر رضوانی سکنہ جہلم۔ درویش رضائے الہی سے مقام بدل لیتا ہے۔ وقت آنے پر دنیا سے چلا جاتا ہے۔ وہ جا چکے ہیں۔

کرنل رضوانی ایک قلندرقسم کے بزرگ تھے۔ اللہ اللہ کیا قلب ذاکر تھا۔ جہلم میں قیام تھا۔ ہمیں آپ نصف میں شمار کریں۔ سی سی ٹی وی کیمرے جیسا۔ ایک اور کردار بھی اس میں آخر میں آن کر شامل ہوا۔ آنٹی عطیہ موجود۔ ان کا ذکر آپ ممتاز مفتی کی کتاب الکھ نگری میں سرسری اور ہماری کتب ”جسے رات لے اڑی ہوا“ اور”وہ ورق تھا دل کی کتاب کا “ دونوں میں قدرے تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں۔ ایسی صاحب کشف اور بے نیاز ہستی ہم نے نہیں دیکھی۔ ہماری پندرہ برس کی رفاقت رہی۔ بزرگ خاتون مگر ایک زمانہ دیکھ رکھا تھا۔ کئی زبانیں بولتی تھیں۔ دنیا مسائل کا گھر ہے سو آستانہ فیض جو ہزار گز کے بنگلے پر ڈیفنس کراچی میں کلب کے ساتھ ہی محیط تھا۔ وہاں لوگوں کی بہت آوک جاوک رہتی تھی۔ ۔

اگست 1978 میں بیگم بھٹو جب ان کے پاس بھٹو صاحب کا احوال جاننے کے لیے گئیں تو منظر نامہ یوں بیان کیا اور خوب بیان کیا۔ ایک کرسی ہے جس کی جانب بھٹو صاحب بڑھ رہے ہیں۔ سیاہ پس منظر۔ ساری اسپاٹ لائٹ کرسی اور چہرے پر مگر یہ دونوں دور ہوکر فیڈ آﺅٹ ہوتے جاتے ہیں۔ دونوں ہی دکھائی نہیں پڑتے۔ مجھے انجام بھیانک لگتا ہے۔ بیگم نصرت بھٹو کے لیے یہ بیانیہ ناقابل قبول تھا۔ تِنک کر جتانے لگیں۔ شام لیبیا الجزائر کے صدور بالترتیب حافظ الاسد، قدافی، بومدین، پی ایل او کے چئیرمین یاسر عرفات سب نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جنرل ضیا نے سابق وزیر اعظم کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو وہ اس کو ملیامیٹ کردیں گے۔ وہ یہ بات باور کرنے پر رضامند نہ تھیں کہ بھٹو صاحب اب چند ماہ کے مہمان ہیں۔ ہوا بھی ایسا ہی انہیں۔ آٹھ ماہ سے بھی کم میں 4 اپریل 1979 کو ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

ہم اس سلسلہ پیغام رسانی میں انہیں مہمان کا درجہ دیتے ہیں۔ خود وہ بتاتی ہیں کہ کراچی میں باتھ آئی لینڈ کلفٹن میں ان کے میاں موجود صاحب اور شہاب صاحب پڑوسی تھے۔ درمیان میں کچھ روحانی حوالے بھی تھے مگر ان کا یہاں محل نہیں۔ آئیں احوال ملاقات کریں۔ پار سال دسمبر 2019 میں آئین کی دفعہ چھ کے تحت قائم بغاوت کا ایک چھ برس پرانے مقدمہ کا فیصلہ آیا تو غلام گردشوں میں ہل چل مچ گئی۔ جسٹس وقار سیٹھ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے سن 2007 میں بطور آرمی چیف کے جنرل مشرف کی لگائی گئی ایمرجنسی کو آئین کی دفعہ چھ کی صریحاً خلاف ورزی جانا۔ 76 برس کے جنرل مشرف جو سن 2016 سے دوبئی میں خود ساختہ جلاوطنی کے کرب میں مبتلا ہیں۔ ان کے خلاف دو ایک کی اکثریت سے  Cling –Film  جیسے اس چپکو فیصلے کا نقطہ تجاہل عارفانہ یہ تکلیف دہ اور چونکا دینے والا جملہ تھا کہ”اگر وہ جہان فانی سے کوچ کرچکے ہوں تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر ڈی چوک اسلام آباد لا کر تین دن تک لٹکا دیا جائے“۔

 فیصلہ سن کرکسی کو سمجھ نہ آیا کہ گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں۔

ہوا یوں کہ 12 اکتوبر 1999 میں جنرل مشرف نے نواز شریف کی مینڈیٹ سے بوجھل اور سرکشی سے بھری سرکار کو گھر بھیج دیا تو مارچ 2000 سنہ میں ہمیں ہمارے مرشد کرنل محمد اختر رضوانی کا فون پر ایک لرزہ طاری کر دینے والا پیغام ملا کہ جنرل پرویز مشرف راہ راست سے بھٹک گیا ہے اس سے رابطہ کرو۔

 ہمارے مرشد کرنل محمد اختر رضوانی ہمیں تربیت دے کر لے کر فضاؤں میں اڑانا چاہتے تھے اور ہم تھے کہ لامبورگھینی نہ سہی، زمین پر سرکاری نمبر پلیٹ کی میلی گاڑیوں کو گھمائی جانے میں خوش تھے۔ سو اُن کے احکامات پر عمل درآمد کرنے سے لیت و لعل کرتے رہے۔ اس کے باوجود انہوں نے پیام رسانی کے لیے ہمیں ہی سان پر رکھا۔ ہمارا حال اپنا نبی موسیٰ علیہ سلام کا سا تھا۔ اوپر سے میمن۔ عالم کچھ یوں تھا کہ طاقت کے سامنے ہکلاتے تھے، قتل کی کسی واردات میں ملوث نہ تھے مگر پھر بھی ہراساں اور مفرور رہتے تھے۔ فرق اتنا تھا کہ اللہ نے انہیں نبی ہارون علیہ سلام جیسا بھائی دیا تھا۔ ان کے دست انسانی کو ید بیضا بھی بنایا تھا۔ آستین میں فرعونی سرکار کی نگاہ سے بچا کر خورشید چھپا دیے تھے۔

مرشد کاحکم ہوا کہ” جاؤ جنرل پرویز مشرف سے ملو اور اسے کہو کہ انسان کا بچہ بن جائے۔ دین اور پاکستان کی بھلائی اور عوام کی فلاح کے لیے کام کرے۔ مغرب کی غلامی میں اندھا نہ ہوجائے۔ ورنہ رسوائی و ذلت اس کا مقدر ہے“۔

پیغام سنتے ہی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاگیا۔ ہات پاﺅں پھول گئے۔ ممبئی کی پوری انڈر ورلڈ اور پاکستان کی آدھی دولت پر ایک عرصے تک بھلے سے ہم میمن گجراتیوں کا قبضہ رہا ہو مگر سوچیں تو سہی۔ یہ پیغام تو ایسا لرزہ طاری کرنے والا تھا کہ ہم بستر کے نیچے چھپ گئے۔

افسر ہونے کے باوجود ایسا منہ توڑ پیغام کراچی کے کسی پنجابی ایس۔ ایچ۔ او اور مہاجر چیف سیکرٹری کو دینے کی جرات نہیں کرسکتے تھے کجا باوردی، پستول سے فائرکرتے، مکے لہراتے، کتوں کو لے کر کیٹ واک کرتے کمانڈو، سپہ سالار۔ ہم سے قلندر وفا کی کل کائنات تھی ہی کیا صوبائی حکومت کا ایک چُرمرا سا گریڈ اٹھارہ۔ جسے نہ رفعت دوام تھی، نہ شہرت مقام۔ فون پر پیغام سن کر ہوں ہاں کرکے جان چھڑائی۔ دو ماہ یوں ہی چھپتے چھپاتے گزرے۔

مرشد صاحب کا ایک دن فون آیا تو مزاج پر سخاوت اور چھلکن طاری تھی۔ کہنے لگے جنرل مشرف سے ملنا دشوار ہے تو سندھ کے کور کمانڈر جنرل مظفر حسین عثمانی صاحب سے مل لو۔ وہ پیغام رسانی میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہم نے پھر وعدہ کرلیا۔ سن گن لی تو علم ہوا کہ جنرل عثمانی بہت روشن ضمیر، حلقہ یاراں میں بریشم کی طرح نرم، ایک درویش منش انسان ہیں۔ میمنوں کی کسی بات کا برا نہیں مانتے۔

جنرل مشرف کے اقتدار پر قبضے کے چند ماہ قبل سے ہی ہمارے ڈائریکٹر لینڈ کے ڈی اے کے دفتر میں خلائی مخلوق سے تعلق رکھنے والے ایک افسر کی آوک جاوک شروع ہوئی۔ پرانے واقف تھے۔ دھیما، بے رحم مزاج، ، بے اعتبار آنکھیں۔ خوش گفتار اور دل آویز شخصیت کے مالک۔ بھارتی جاسوس اجیت دوال کی جوانی لگتے تھے۔ یہ کم بخت میلا میلا اور گھنّا لگتا ہے۔ وہ اجلے، وطن دوست اور دلدار۔ ہمارا دفتر ان کا سیلز ڈسٹری بیوشن پوائنٹ تھا۔ ساتھ کے کمرے میں بیٹھ جاتے اور اپنے ہرکارے ہر طرف دوڑاتے رہتے تھے۔ چائے سموسے ہمارے دفتر کے اکاﺅنٹ سے۔ ہمارے قدرد دان۔

جس طرح پیر اچھے مرید، صحافی اچھی خبر کھوجتے ہیں اس طرح خفیہ ایجنسی والے بھی ایک اچھی رپورٹ کے چکر میں ہوتے ہیں۔ ہم نے ایک دن سرگوشی کی۔ کہا بہت اہم پیغام ہے جو جنرل مشرف صاحب کو دینا ہے۔ ملک کی اور ان کی سلامتی کے متعلق۔ ہم نے جب مزید تفصیلات شئیر کرنے سے گریز کیا تو منہ بسور کر، کراچی والوں اور میمنوں کی دوستی پر تف کرتے ہوئے چلے گئے۔ ہمیں لگا کہ تیر نشانے پر لگا ہے۔ اہل دل جانتے ہیں کہ معشوق اور فوج کی ناراضگی دیرپا نہیں ہوتی۔ آندھیوں کا جھکڑ مانو۔ برسات ہو تو چنری لہرانے لگتی ہے۔

 اگلے دن سوا نو بجے ہمارے دفتر پہنچنے سے پہلے کور ہیڈ کوارٹر سے کسی میجر صاحب کے پے در پے تین فون آنے پر ہمارا حلف یافتہ مہاجر پی اے رشید خوف سے کالی پیلی ٹیکسی بن گیا تھا۔ کال بیک کیا۔ بات ہوئی۔ بہت مہذب تو لگے۔ کہا فوراً پہنچیں۔ سیکورٹی کو آپ کی سرکاری کار کا نمبر دے دیا گیا۔ رکاوٹ نہیں ہوگی۔ جنرل صاحب کا دفتر سابقہ نیپئر بیرکیس اور موجودہ لیاقت بیریکس میں قائم تھا۔ یہ سندھ کی وہ پہلی عمارت ہے جو انگریزوں نے سندھ پر قبضے کے بعد حیدرآباد سے دار الحکومت کراچی منتقل کرکے سنہ 1845 میں تعمیر کی تھی۔

دفتر کے باہرمختلف رینکس کے افسر، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز کی بڑی کھڑکیوں میں سجے Mannequin کی طرح براجمان تھے۔ جنرل صاحب کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے چھوٹے سے احاطے میں رک کر میجر صاحب نے ہمیں اجتناب اور پروٹوکول کی گرم استری سے داغا۔ بتایا کہ کل پانچ منٹ آپ کو دیے گئے ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ تین میجر جنرل دو بریگیڈئیر کی میٹنگز کے درمیان آپ کو سینڈوچ کیا گیا ہے۔ جتایا کہ کمانڈر صاحب غریب پرور اور وضع دار انسان ہیں۔ کھانے پینے کا کہیں تو منع کیجئے گا۔ میں چار منٹ کے اختتام پر چہر ہ دکھاﺅں گا۔ یہ آپ کے لیے Wrap-Up سگنل ہے۔ اپنے لیے کسی پوسٹنگ کی بات نہیں کرنی۔ ہم نے بامحاورہ انگریزی میں کہا کہ یاد رکھیئے ملاقات کے لیے انہوں نے خواہش ظاہر کی ہے، ہم نے نہیں۔ ہماری افسری کسی کشکول گدائی میں پھینکا ہوا سکہ نہیں۔ مقابلے کے امتحان میں جیتا ہوا طرہ امتیاز ہے۔ ہمارے دادا بھی ریاست جوناگڑھ کے پولیس چیف تھے۔ ایسی پریشانی ہے تو واپس چلے جاتے ہیں۔ گھبرا سا گیا۔ سر پلیز ہماری مجبوری سمجھیں۔ میجر فیصل آپ کی بہت تعریف کررہے تھے۔ اب تصویر واضح تھی۔

جنرل عثمانی کا قد دراز، چہرہ روشن اور انداز بہت مشفقانہ تھا۔ گفتگو میں اعتماد، اور آنکھوں میں ہمارے حوالے سے تجسس۔ پہلا سوال تھا کہ آپ بھی دیوان ہیں اور ہمارے ایک دوست (یوسف) وہ بھی دیوان ہیں۔ دونوں میں کیا فرق ہے؟۔ ہم نے کہا بہت چھوٹا سا۔ بینک کی ایک بیلنس شیٹ کا۔ ہنس دیے۔ ایک مہذب سا ویل سیڈ ان کے لبوں سے ادا ہوا۔ دوسرا سوال تھا کہ ہم کہاں رہتے ہیں ہم اور جنرل صاحب دونوں ہی ان دنوں کراچی کے علاقے باتھ آئی لینڈ میں رہتے تھے۔

ہم نجی رہائش گاہ میں وہ سرکاری۔ ہم نے انگریزی میں کہا  "We are closed-door neighbors۔ ہماری انگریزی ترکیب پر وہ کچھ تعجب اور تذبذب کا کا شکار بھی ہوئے۔ انگریزی میں ہی کہنے لگے کہ میرا خیال ہے صحیح محاورہNext-Door Neighbor  ہے۔ ہم نے شرارت سے جواب دیا محاورہ تو بالکل ایسا ہی ہے مگر چونکہ آپ کے گھر کے دروازے ہم پر بطور پڑوسی بند رہتے ہیں لہذا انگریزی کو ہمیں رعایت دینی ہوگی کہ ہم آپ کو closed-door neighbors پکاریں۔ ایک زور کا قہقہہ لگا کر ہمارے حس مزاح کی تعریف کی۔ پوچھنے لگے کہ پیغام کیا ہے؟ ہم نے پوچھا Inverted Commas میں سنائیں یاWatered- Down Version میں۔

اتنے میں ان کے اسٹاف افسر نے دروازے میں چہرہ دکھایا تو ہم نے گفتگو روک لی۔ جنرل عثمانی نے اسے ہدایت کی کہ جب تک وہ اسے نہ بلائیں وہ ڈسٹرب نہ کرے۔ پیغام سنا تو زور سے ہنس دیے۔ کیا یہ ممکن ہے میں کرنل صاحب سے بات کر سکوں۔ دراز سے کوئی خاص قسم کا فون نکال کر ہمیں اشارہ کیا کہ فون ملائیں۔ کرنل صاحب نے اتفاقاً دوسری بیل پر ہی فون اٹھا لیا۔ جنرل صاحب بیس منٹ تک نوٹس لیتے رہے۔

پاس پڑوس سرحد پار امریکہ یورپ مشرق وسطی، سنٹرل ا یشیا جانے کہاں کہاں کا ذکر تھا۔ فون رکھنے سے پہلے انگریزی میں ہماری طرف دیکھ کر کہنے لگے کہ ہم اور دیوان دونوں ساتھ آئیں گے۔ آپ کو بھی منگلا والی میس میں بلوا لیں گے۔ جنرل مشرف سے وہیں ملاقات ہوگی۔ ملاقات کے اختتام پر خود دروازے تک چھوڑنے آئے۔ اس شفقت کو دیکھ کر وہاں موجود کئی لوگ حیرت زدہ ہوئے۔

اسی شام ہم نے آنٹی عطیہ کو یہ احوال سنایا تو کچھ دیر مراقبہ کرکے کہنے لگیں آپ اور جنرل عثمانی دونوں تبدیل کر دیے جاﺅگے۔ کچھ ماہ بعد مظفرعثمانی صاحب اور ایک اور جو شمشیر و سناں والے جنرلز ہیں وہ فارغ ہو جائیں گے۔ مشرف پر طاﺅس و رباب والے افسران کا غلبہ ہوگا۔ رہ گیا خود جنرل مشرف کا کیا ہوگا۔ . For Him I don’t see a happy end

اکتوبر 2001 میں جنرل محمود اور جنرل عثمانی کی چھٹی ہوگئی۔ ہندی کا محاورہ ہے چھاج چھاج تو چھلنی بھی بولے۔ چھاج اب تو معدوم ہے مگر یہ گھروں میں چاول اور دوسری خشک اجناس چھان پھٹکنے کی ایک ڈیوائس ہوتی تھی۔ ظاہر ہے اس پر اناج کو اچھالا جاتا تھا مگر چھلنی کا بولنا ناقابل یقین تھا۔ جنرل مظفر عثمانی جب فوج سے ریٹائر ہوگئے تو ایم کیو ایم نگوڑی نے الزام لگایا کہ وہ القاعدہ کے چہیتے جرنیل تھے۔ ہم سعید مہدی صاحب چیف سیکرٹری سندھ کو اچھے لگے تو وہ ہمیں کے ڈی اے سے پہلے ہوم ڈیپارٹمنٹ میں اور بعد میں ترقی دے کر محکمہ زراعت میں لے گئے۔

Facebook Comments HS

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan