تبلیغی جماعت اور نور کی چادر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ مجھے تبلیغی جماعت کے اجتماع میں لے جانا چاہتے تھے تبلیغ اور تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میں بنیادی طور پرایک غیر مذہبی قسم کا انسان ہوں۔ جب چھوٹا تھا تو گھر قرآن بھی پڑھایا گیا، نماز بھی سکھائی گئی۔ اسکول میں بھی نماز پڑھتا تھا اور گھر میں دادی جان ہمیشہ نماز کے وقت ٹوک دیا کرتی تھیں کہ نماز پڑھ لو۔ جب تک وہ زندہ رہیں میں پابندی سے نماز پڑھتا رہا۔ ان کی موت کے بعد بھی کافی دنوں تک نماز میں بے قاعدگی نہیں ہوئی مگر کالج آکر کچھ ایسا ہوا کہ ظہر کی نماز پابندی سے چھوٹنے لگی۔ پھر نہ جانے کیسے میں نے پانچ وقت نماز پڑھنی چھوڑ دی تھی۔

مسجد سے تعلق جمعہ کا تعلق ہوگیا تھا۔ میں پابندی سے جمعہ کی نماز باجماعت پڑھتا تھا۔ روزے پابندی سے رکھتا تھا اور روزوں کے ساتھ کم ازکم تین وقت کی نماز تو ہو ہی جاتی تھی۔ اس سے زیادہ مذہبی ہونے کا نہ مجھے شوق تھا اور نہ کسی نے پابندی لگائی تھی۔ ہاں کبھی کبھار ایسا ضرور ہوتا تھا کہ دادی کا مہربان چہرہ خواب میں آکر بڑے پیار سے کہتا تھا بیٹے نماز پڑھنا نہ بھولنا، بیٹے جھوٹ کبھی مت بولنا: وہ خواب بہت اچھے لگتے تھے انہوں نے ہمیشہ پیار اور دعا دی تھی اور جائز ناجائز طرف داری کی تھی۔ ان کا کہنا مجھے کبھی برا نہیں لگتا۔ میں دل میں ہنس کے کہتا دادی نماز تو میں نہیں پڑھتا ہوں پر جھوٹ کبھی نہیں بولتا ہوں۔ ففٹی ففٹی پر سمجھوتہ ہو جائے اور وہ ہنس دیتی تھیں۔  ۔ ۔ ۔

پھر ایسا ہوا کہ صلا ح الدین بھائی نے مجھے راستے میں پکڑ لیا۔ ان کو ریٹائر ہوئے دو سال ہو گئے تھے اور وہ بہت سرگرمی سے تبلیغی جماعت کے ساتھ ملوث ہو گئے تھے۔ تبلیغی دوروں میں جاتے۔ اجتماع میں بہت پابندی سے موجود ہوتے۔ ان کا حلیہ بھی مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ سفید شلوار قمیض، سفید و سیاہ لمبی سی داڑھی اور پابندی سے شیو ہوتی ہوئی مونچھیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگ کہتے تھے کہ ایک عجب طرح کا نور سا آ گیا ہے ان کے چہرے پر۔

ان کو میں بچپن سے جانتا تھا۔ وہ میرے بھائی صاحب کے کلاس فیلو تھے۔ میں اسکول میں تھا تو ان دونوں نے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا۔ میں میٹرک میں تھا تو وہ لوگ بی ایس سی کرنے کے بعد مقابلے کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔ میں انٹر میں تھا تو وہ دونوں لاہور میں ٹریننگ کر رہے تھے۔ جب میں نے بی کام کا امتحان پاس کر لیا تھا تو وہ دونوں ایس ڈی ایم لگ گئے تھے۔ بھائی جان اور صلاح الدین بھائی دونوں ہی سول سروس میں ایڈمنسٹریشن ڈویژن میں چلے گئے تھے۔

مجھے ان سے ہی ان کے بارے میں خبریں ملتی رہتی تھیں۔ صلاح الدین لاڑکانے میں ہے، اچھا کام کر رہا ہے۔ بھٹو صاحب بہت خوش ہوئے، اس سے الیکشن کے بعد اس کی ترقی ہوگئی۔ اسے حیدرآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں بھیج دیا گیا ہے۔ کچھ زمین اس نے اپنے لیے بھی لے لی ہیں اور بھائیوں بہنوں کے نام سے بھی جائیداد بنائی ہے۔

ضیاء الحق کے زمانے میں کچھ دنوں کے لیے افسر بکار خاص مقرر کر دیا گیا تھا مگر وہ عرصہ بھی کچھ زیادہ نہیں چلا۔ یہ وہ افسر ہوتے ہیں جنہیں عارضی طور پر معطل کر دیا جاتا ہے، معطلی کے دوران تنخواہ ملتی رہتی ہے۔ جب حکام اعلیٰ کی ناراضگی ختم ہوتی ہے تو نوکری بھی بحال ہوجاتی ہے۔ اسلام آباد میں ان کے کوئی رشتہ دار تھے جن کی آرمی ہیڈ کواٹر میں بڑی دوستی تھی ان کے ذریعے سے کوئی بات ہوئی تھی اور انہیں بحال کر کے محکمہ آب پاشی میں بھیج دیا گیا تھا۔

محکمہ آب پاشی تو ایک عجیب و غریب محکمہ ہے، اوپر کی آمدنی کے ایسے ایسے انمول طریقے ہیں کہ محکمے کو چھوڑنا ایک کی طرح کی سزا ہوتی ہے۔ صلاح الدین بھائی نے اس محکمے میں رہ کر جہاں فوجیوں کو ان کی زمینوں پر فائدہ پہنچایا وہاں سندھ کے بڑے بڑے وڈیروں سے دوستی بھی کرلی۔ اسی زمانے میں ان کی دوسری شادی بھی ہوئی۔

دوسری شادی کہ قصے سے پہلے ان کی پہلی شادی کا قصہ زیادہ دلچسپ ہے۔ بچپن سے ہی ان کی شادی ان کی خالہ کی بیٹی سے طے تھی۔ یہ خالہ وہ تھیں جن کی پرورش ان کے گھر میں ہی ہوئی تھی اور صلاح الدین بھائی کے ابا جان نے ان کی شادی کرائی تھی مگر یہ وہ زمانہ تھا جب یہ لوگ نئے نئے پاکستان آئے تھے۔ غربت کی زندگی تھی اور تنگ دستی کا عالم تھا۔ ان کے خالو ایک شریف آدمی تھے۔ محکمہ انکم ٹیکس میں کام کرنے کے باوجود غربت کی زندگی گزارتے تھے۔

صلاح الدین بھائی کی اڑان بہت اونچی تھی اب انہیں اپنے اوسط درجے کے خاندان کی خالہ کی بیٹی سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ مگر ان کے ابا کے سامنے ان کی چلی نہیں۔ ابھی وہ بڑے افسر بھی نہیں ہوئے تھے اور ماں باپ کا لحاظ بھی تھا۔ شادی تو انہیں کرنی پڑی مگر وہ اس شادی سے کبھی خوش نہیں رہے۔ دو بچے ضرور ہو گئے خالہ کی بیٹی گھر میں بیوی کی طرح رہیں بھی مگر وہ ان سے نہ محبت کرسکے اور نہ انہیں وہ عزت دے سکے جو بیوی کا حق ہوتا ہے۔

مجھے یہ سب باتیں بھائی جان سے پتہ چلتی رہتی تھیں۔ بھائی جان سرکاری نوکری سے بڑے پریشان تھے۔ سرکاری کام میں اور اس قسم کی افسر شاہی میں آدمی صرف عزت سے غربت کی زندگی گزار سکتا ہے، عیاشی نہیں کر سکتا ہے۔ عیاشی کرنے کے لیے ناجائز ذرائع اختیار کرنے پڑتے ہیں گاڑیاں، بنگلے، پلاٹ، تحفے تحائف، جائیداد اور دورے ان سب کے لیے سرکاری کھاتے میں وہ کچھ کرنا پڑتا ہے جو نہیں کرنا چاہیے۔ بھائی جان کی طبیعت میں یہ سب کچھ نہیں تھا۔ وہ ایمان داری سے زندگی گزارنے کی کوشش میں ناکام ہوتے جا رہے تھے۔

بھائی جان نے امریکہ میں ایک تعلیمی وظیفے کے لیے درخواست دی اور ان کا انتخاب ہوگیا تھا۔ وہ امریکہ چلے گئے اور وہاں ہی انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان میں کام نہیں کریں گے۔ واپس آنے کے بعد انہوں نے سرکار سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اپنے حسابات صاف کرنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امریکہ چلے گئے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے کہا تھا اگر مہاجر ہی بن کر رہنا ہے تو اس ملک میں رہنا چاہیے جہاں سب مہاجر ہیں۔ سب محنت اور ایمان داری پر یقین رکھتے ہوں۔ یہاں نا محنت کی قدر ہے اور نہ ایمان داری کی قدر۔ روز روز جھوٹ بولو تبھی ترقی ہوگی، تبھی آپ قابل قبول ہیں۔

مجھے دادی یاد آ گئی تھیں، جھوٹ کبھی نہیں بولنا چاہیے، چاہے حالات جس طرح کے ہوں۔ بھائی جان امریکہ چلے گئے۔ وہاں بڑی تیزی سے انہوں نے ترقی کی۔ کچھ امتحانات پاس کیے مختلف قسم کے کام کرتے رہے پھر انہیں پینٹا گون میں نوکری مل گئی تھی۔ وہاں کچھ سال کام کر کے انہیں ایک بہت اچھی نوکری ورلڈ بینک میں مل گئی تھی ورلڈ بینک میں کام کرتے ہوئے وہ کئی دفعہ پاکستان آئے انہیں افریقہ اور ایشیا کے دوسرے ملکوں میں جانا پڑا۔ مجھے لگتا تھا کہ وہ اپنے کام اور زندگی سے بہت مطمئن ہیں۔

انہوں نے ورلڈ بینک چھوڑ ا تو انہیں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو میں لے لیا گیا تھا جس کی طرف سے وہ کئی سال تک ویانا میں رہے اور وہاں سے ہی ریٹائر ہو گئے۔ بھائی جان ریٹائر ہو کر واپس امریکہ ہی چلے گئے تھے اور اب نیوجرسی میں اپنے بچوں کے ساتھ بڑے آرام سے رہ رہے تھے ان کے بیٹے نے ہارورڈ یونیورسٹی بوسٹن سے بزنس میں ماسٹر کیا تھا اور اب پی ایچ ڈی کر کے وہاں ہی پڑھا رہا تھا۔ ایک بیٹی نے ہارورڈ یونیورسٹی سے ہی میڈیسن کیا اور اب نیویارک میں بچوں کی ڈاکٹر تھی اور اپنے شوہر کے ساتھ وہاں ہی رہ رہی تھی سب سے چھوٹی بیٹی نے بھی ڈاکٹر بننا پسند کیا تھا اور شکاگو میں کینسر کے علاج کے سب سے بڑے اسپتال میں فیلوشپ کر رہی تھی۔

ابو امی کی زندگی تک بھائی جان ہر سال کبھی سال میں دو دو دفعہ پاکستان کا چکر لگاتے رہے۔ مگر اب ذرا ان کا آنا کم ہوگیا تھا لیکن فون پر بہت پابندی سے ہماری بات ہوتی تھی۔ میرے چھوٹے بھائی اور بہن کو بھی انہوں نے اسپانسر کر کے امریکہ بلا لیا تھا۔ اسپانسر تو مجھے بھی کیا تھا مگر نہ جانے کیوں مجھے امریکہ نہیں پسند آیا۔ میں کئی دفعہ وہاں گیا، گھوما پھرا، شہر دیکھے، عجائب گھروں میں وقت نکالا، میوزیم میں بہت کچھ سمجھا اچھے ہوٹلوں اور تفریح گاہوں میں لطف لیا مگر واپس آ گیا۔

ہر قسم کی خرابیوں کے باوجود مجھے پاکستان ہی اچھا لگتا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ میرا کام اچھا تھا۔ میں نے چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کی تھی اور ابا جان کے دوست کے فرم میں کام شروع کرنے کے بعد ان کا پارٹنر بن گیا تھا۔ سرکار سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ آمدنی بہت اچھی تھی۔ بڑے صنعت کاروں اور افسران بالا سے لے کر مشہور مشہور لوگوں سے دوستی تھی۔ کوئی کام رکتا نہیں تھا اور اگر یہ سب کچھ میسر ہو تو پھر پاکستان سے اچھا ملک کہاں مل سکتا ہے۔

بات صلاح الدین بھائی کی ہو رہی تھی۔ ہوا یہ کہ محکمہ آب پاشی کی نوکری کے دوران ہی ان کا کچھ آنا جانا سندھ کے ایک مشہور خاندان میں ہوگیا۔ وہ لوگ بڑے زمیندار تھے، زمین بھی تھی جاگیریں بھی تھیں اور ہر آنے جانے والی حکومت میں ان کے تعلقات بھی تھے۔ ان لوگوں کی ایک بیٹی تھی جسے کسی وجہ سے طلاق ہوگئی تھی۔ زیادہ تفصیلات کا کسی کو پتہ نہیں ہے، بس یہ پتہ ہے کہ صلاح الدین بھائی نے یکا یک اس خاندان کی اس لڑکی سے دوسری شادی کرلی تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *