ہمارے انصار بھائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں رشتے خون کے نہیں بلکہ احساس کے ہوتے ہیں۔ ایسے ہی ایک رشتہ بہت سے لوگوں کا انصار نقوی کے ساتھ جڑا تھا۔ نیوز فلور پر انصار بھائی کی موجودگی شجر سایہ دار جیسی تھی، جہاں کسی کو کوئی مسئلہ یا پریشانی لاحق ہوئی وہیں انصار بھائی اس کے مسئلے کا حل بن جاتے تھے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ انصار بھائی سے لوگوں کا تعلق کسی ادارے میں رہنے کی حد تک محدود نہ تھا، ایک بار انصار بھائی نے اپنا دست شفقت جس کے سر پر رکھ دیا تو یہ تعلق عمر بھر قائم رکھا۔

انصار نقوی صاحب جیو نیوز میں کنٹرولر نیوز تھے لیکن ان میں کبھی اپنے عہدے کا غرور دکھائی نہیں دیا ہمیشہ ایک بڑے بھائی کی طرح اپنے پاس آنے والے ہر انسان کا مدعا سنتے اور بہترین حل بھی پیش کرتے۔ انصار بھائی کو بلاشبہ ایک اچھے ادارے کا بہترین باس کہا جاسکتا ہے۔ وہ جیو نیوز جیسے بڑے ادارے میں ایک شجر سایہ دار کی طرح تھے جن کی وجہ سے بہت سے لوگ بہت سے مسائل سے بچ جایا کرتے تھے۔

ہوائی جہاز کے حادثے کی خبر جب پہلے پہل کانوں میں پڑی تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ حادثہ انصار بھائی کو ہم سب سے اتنا دور لے جائے گا۔ بلکہ کچھ وقت تو یہ گمان واثق رہا کہ انصار بھائی حادثے میں جانبر ہوجانے والوں کی فہرست میں شامل ہیں اور اس خوش گمانی پر بہت سے دوستوں نے بھی مہر تصدیق ثبت کی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس گمان پر حقیقت غالب آتی گئی اور آخر کار انصار بھائی کے چلے جانے کی تکلیف دہ خبر پر یقین کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ چند ثانیے تو لب مزید کچھ کہنے کے روادار ہی نہ رہے پھر آہستہ آہستہ خود کو یہ یقین دلانا ہی پڑا کہ دنیا فانی ہے اور یہاں ایک کے بعد ایک، جانے اور آنے کا سلسلہ جاری ہے، جو آیا ہے اس کو جانا ہے بس جلد بدیر کا معاملہ اللہ رب العزت کی مرضی و منشا پر منحصر ہے۔

اچھے انسان کو اس کے چلے جانے کے بعد بھی اچھے الفاظ میں ہی یاد کیا جاتا ہے۔ ۔ ۔ لیکن کہتے ہیں کہ جانے والے کا اچھا عمل، اچھا اخلاق دنیا میں اس کے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں اس کا مقام بنائے رکھتا ہے، ایسا ہی کچھ حال انصار بھائی کا بھی تھا، ان کی نرم لہجے میں کہی سخت بات بھی دل کو تکلیف دینے کے بجائے اصلاح کا کام دیا کرتی تھی۔ شاید یہ ہی وجہ تھی کہ دوسرے ڈپارٹمنٹ کے لوگ بھی انصار بھائی کے پاس آکر اپنے مسائل بیان کیا کرتے تھے۔

آج جب انصار بھائی کے لیے یہ تحریر لکھنے بیٹھی تو کئی بار انگلیاں الفاظ کا ساتھ دینے سے انکار کرتی نظر آئیں اور دل اب تک یہ ماننے سے قاصر ہے انصار نقوی اب اس دنیا میں نہیں۔ میڈیا میں شجر سایہ دار کی حیثیت رکھنے والا محنتی صحافی اتنی خامشی سے اس دنیا سے چلا جائے گا کسی نے بھی نہ سوچا تھا، تمام تر حقائق کے سامنے ہوتے ہوئے بھی دل کسی معجزے کا خواہشمند ہے جو انصار بھائی کی واپسی کی نوید سنا دے مگر کیا کیجیے کہ خواہش اور حقیقت کبھی ایک ہو نہیں پائے۔ بس دامن میں صرف انصار بھائی کے لیے کچھ دعا کے پھول ہیں جو ان کی نظر کیے دیتے ہیں۔

نجانے کیوں یہ تحریر لکھتے ہوئے کئی بار یہ خیال دامن گیر ہوا کہ اگر اس وقت انصار بھائی میری اس تحریر کو پڑھتے تو ان کے تاثرات کیا ہوتے؟ مجھے نہیں معلوم لیکن بس ایک گمان سا ہے کہ وہ دھیمے سے مسکرا کے کہتے ایک بار پھر لکھ کے دیکھو۔ شاید میری کوئی اور بات یاد آ جائے تو وہ بھی اس تحریر میں شامل کرلی جائے۔ ۔ ۔ مگر انصار بھائی کی اچھی یادیں اس مختصر تحریر میں کیونکر سما سکتی ہیں۔ بس دعا ہے کہ اللہ انصار بھائی کے درجات بلند کرے اور ان کے اہل خانہ کو اس دکھ کو برداشت کرنے کا حوصلہ بھی عطا کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *