سندھ اسمبلی کی پہلی خاتون ’قائد حزب اختلاف‘ کا ٹیوشن پڑھانے سے اپوزیشن لیڈر بننے تک کا سفر

رعنا بتاتی ہیں کہ وہ گھر پر ٹیوشن بھی پڑھاتی تھیں اور یہ وہ وقت تھا جب وہ سیاست کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھیں، آس پڑوس سے ان کے گھر آنے والی خواتین نے انھیں مشورہ دیا کہ ’آپ کو الیکشن لڑنا چاہیے۔‘

Read more

عارف فاروقی نے سب کھو دیا

زندگی پھولوں کی سیج نہیں یہ ہم سب سن چکے ہیں مگر ہماری خدا سے ہمیشہ یہ دعا رہی کہ اللہ ہمیں ہر مصیبت سے بچائے اور وہ عطا کرے جس میں دینی اور دنیاوی سکون ہے۔۔۔ آج دل بہت اداس اور گھٹن محسوس ہو رہی ہے۔ 22 مئی جمعہ المبارک کو طیارہ حادثے نے یہ سوچنے پر مجبور کیا انسان کی چاہ اور اللہ کی چاہ میں فرق کیا ہے۔۔۔ بہت سی جانیں گئیں کئی خاندان اجڑ گے۔ ہم

Read more

سنہ 2020 کی لاپتہ عید

غم کیا ہے، کسی غمزدہ آنکھ سے پوچھیے۔ موت کے رقص میں زندگی کے معنی کیا ہیں، خوف سے پوچھیے۔ سانس سے وابستہ آس کیا ہے، اُمید سے پوچھیے۔ گذشتہ جمعے کو آس، اُمید، زندگی سب ہار گئے۔۔۔ جیتا تو فقط خوف۔

کورونا کے خوف کے سائے میں عید پہلے ہی کچھ خاص پر لطف نہ تھی اور پھر جہاز کے حادثے نے تو گویا تمام رنگ ہی چھین لیے۔

Read more

ہمارے انصار بھائی

کہتے ہیں رشتے خون کے نہیں بلکہ احساس کے ہوتے ہیں۔ ایسے ہی ایک رشتہ بہت سے لوگوں کا انصار نقوی کے ساتھ جڑا تھا۔ نیوز فلور پر انصار بھائی کی موجودگی شجر سایہ دار جیسی تھی، جہاں کسی کو کوئی مسئلہ یا پریشانی لاحق ہوئی وہیں انصار بھائی اس کے مسئلے کا حل بن جاتے تھے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ انصار بھائی سے لوگوں کا تعلق کسی ادارے میں رہنے کی حد تک محدود نہ تھا، ایک بار انصار بھائی نے اپنا دست شفقت جس کے سر پر رکھ دیا تو یہ تعلق عمر بھر قائم رکھا۔

Read more

لاشوں سے لقمے اٹھانے والے گدھ

یہ جملہ نہیں ایک طمانچہ ہے، جو ایک سیاسی رہنما نے بڑی بے رحمی سے نام لے کر ملک کے نامور ترین صحافی کو مارا ہے۔ نہ تو نام ضروری ہیں اور نہ ہی اس بحث کی اہمیت کہ کیا اپنایا گیا لب و لہجہ شائستگی اور تہذیب سے باہر تھا یا فرد کے حق آزادی اظہار رائے کے اندر۔ اصل اہمیت اس مسئلے کی ہے جس کی طرف جانے انجانے میں اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہے قومی

Read more

آہ! انصار نقوی، ایک گوہر نایاب جو ہم سے بچھڑ گیا

آج زندگی کے چند بڑے سانحات میں اپنے پیاروں کو کھونے کے غم عظیم کا ایک اور واقعہ اس وقت پیش آیا جب کراچی میں پی آئی اے کے طیارے کا لینڈنگ سے چند لمحے قبل ائرپورٹ کے قریب آبادی پہ گر کر تباہ ہو گیا اور پھر تھوڑی دیر بعد ایک صحافی دوست نے فون کر کے بتایا کہ اس طیارے میں انصار نقوی بھی سوار تھے تو ایک لمحے کے لیے دل دہل گیا اور زبان پہ بے اختیار درود شریف کا ورد شروع ہوگیا اور دل بے کل اللہ رب العزت سے اس کی خیریت اور درازیٔ عمر کی دعائیں کرنے لگا کیونکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے میں زخمیوں کی بھی کافی تعداد بتائی گئی تھی اور پھر جب پنجاب بینک کے صدر کے سروائیول کی خبر اور پھر فوٹیج دیکھی تو ایک امید سی پیدا ہوگئی کہ انشاءاللہ ہمارا دوست بھائی انصار نقوی بھی موت کو شکست دینے والوں میں شامل ہوگا۔

Read more