کرونا کی موجودہ صورتحال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وطن عزیز نے جب سے لاک ڈاؤن ختم کیا ہے تب سے کیسوں کی تعداد میں روز بروز بہت تیزی اضافہ ہو رہا ہے۔ اب تو مسیحا بھی اس کی لپیٹ میں آرہے ہیں۔ تصدیق شدہ کیسوں 50 ہزار تک پہنچ چکے ہیں۔ اموات کی تعداد بھی بڑھ رہی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کرونا سے 1 ہزار 50 تک ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ ماہر ین کے مطابق جون کے آخر یا جولائی کی ابتدا تک کرونا اپنے پیک پہ ہوگی۔ اگر ہماری حکومت شروع سے مخمصے کا شکار نہ ہوتی اور دانشمندانہ اقدامات کرتی تو حالا ت آج پہلے سے مختلف ہوتے لیکن ہماری حکومت نے سنجیدگی سے اقدامات کر نے کی بجائے دوسرے معاملات کی طرح اس کو بھی حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔

اس کے یہ نتائج ہوئے کہ ملک میں معیشت کا پہیہ بھی نہ چل سکا اور ایک موثر لاک ڈاؤن بھی نہ ہو سکا اور اب لاک ڈاؤن بھی اس وقت کھول دیا گیا ہے جب کرونا بھی اپنے پیک پہ جا رہی ہے۔ بازاروں میں لوگوں کا ہجوم ہے۔ نہ سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھا جاتا ہے اور نہ ہی احتیاطی تدابیر کا۔ خوف آ رہا ہے کہ کل کیسے حالات ہوں گے۔ کسی کو اس بات کی پروا ہی نہیں ہے کہ کرونا جیسی عفریت بھی ساتھ چل رہی ہے۔ حکومت نے تو کرونا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں اور اب ہرڈ امیونٹی کی طرف بڑھ رہی ہے۔

جو بچ گیا وہ بچا جو مر گیا وہ مرا۔ اب عوام نے خود احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اپنے آپ کو، اپنے پیاروں کو اور معاشرے کو کرونا سے بچانا ہے۔ اس لئے اپنے بزرگوں اور بیمار لوگوں کا خاص خیال رکھیں تاکہ بعد میں کوئی دکھ اور پریشانی نہ ہو۔ ہمارے وزیر اعظم ہمیشہ سے اپنی تقاریر میں نچلے طبقے کو اوپر اٹھانے کی بات کرتے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایسے اقدامات نہیں اٹھائے ہیں جن سے ان کی حالات زندگی بہتر ہو جائیں بلکہ ملک میں بے روز گاری اور غربت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔

حکومت کو اگر غریب لوگوں کی بھی زندگی بچانی ہے تو لوگوں کے لئے ماسک اور دستانے فری میں تقسیم کرے۔ ہما رے ملک میں غریب لوگ جن کی آمدنی بہت ہی کم ہے۔ وہ اپنے گھر کے کرایوں اور بجلی کے بلوں کے ساتھ بہت ہی مشکل سے اپنے دیگر خرچے پورے کرتے ہیں۔ وہ لوگ کیسے روز چالیس پچاس روپے کا ماسک اور دستانے خرید سکتے ہیں؟ کرونا کی وبا سے ساری دنیا کی عجیب صورتحال ہوگئی ہے۔ انسانیت موت اور زندگی کے دوراہے پر کھڑی ہے۔

لوگ بے بسی اور خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں یہ وبا ان کے ساتھ کیسا سلوک کرے گی۔ ہمارے وزیر اعظم اور اس کے وزراء اس مشکل وقت میں بھی تحمل برداشت اور رواداری سے کام لینے کی بجائے کبھی سوشل میڈیا اور کبھی وزیروں اور مشیروں کے ذریعے اپنے مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے میں لگے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم اختلاف رائے کو تو شروع ہی سے پسند نہیں کرتے۔ اپنی غلطیوں کو بھی قوم کے مفاد میں سمجھتے ہیں۔ کرونا جیسی عفریت کے دوران بھی ان صوبوں کے وزیراعلی نے بہتر کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہے جہاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتیں ہیں۔

کرونا کی وجہ سے اس دفعہ عید کی رونقیں بھی مانند پڑھ جائیں گی۔ نہ کسی کے گھر جانا ہو گا نہ آنا۔ اس دفعہ اپنے پیاروں سے عید پہ ملاقات بھی وڈیو چیٹ پہ ہی ہوگی۔

ہمارے ملک میں غربت زیادہ ہے۔ کرو نا کی وجہ سے اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمیں عید پہ زیادہ خرچے کرنے اور نئے کپڑے خریدنے کی بجائے ان پیسوں سے بھی ضرورت مندوں کی مدد کرنی چاہیے۔ یہ ہمارے حق میں بہترین صدقہ اور ایثار ہو گا۔ اب لاک ڈاؤن بھی کھل گیا ہے اور زندگی کی گاڑی بھی چل پڑی ہے۔ وبا کے بڑے پیما نے پر پھیلنے کا خطرہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہما ری گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ ہسپتالوں میں وسیع پیمانے پر انتظامات کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے گورنمنٹ آسانی سے نمٹے اور لوگوں کو وقت پر بہتر علاج و معالجہ مہیا کر سکے۔

ملک اب ہرڈ امیونٹی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کیا ہم ہرڈ امیونٹی کے مقاصد حاصل کر نے میں کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں؟ سویڈن نے لاک ڈاؤن نہ کر کے ہرڈ امیونٹی کی حکمت عملی کو اپنایا تھا لیکن وہ اس میں کامیا ب نہ ہو سکے۔ اب وہاں زیادہ تعداد میں لوگ بھی متاثر ہو گئے ہیں اور اموات بھی زیادہ ہو رہی ہیں۔ اللہ کرے کہ ہمارے ملک میں ہرڈ امیونٹی کے بہتر نتائج سامنے آئیں اور لوگ وبا سے بچنے میں کامیاب ہو جائیں۔ ہمارے بزرگ اور بیمار لوگ بھی تندرست رہیں۔

ہم اس میں کتنے کامیاب اور کتنے ناکام ہوتے ہیں یہ تو وقت بتائے گا۔ جون کا مہینہ اہم ہے اس میں کرو نا پیک پہ ہوگا۔ یا تو یہ وبا ہمارے ملک اور لوگوں کے لئے تکلیف اور آزمائش کا باعث بنے گی یا ہم اس کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *