منیر احمد شیخ کی یاد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں مئی کے ایک ماہ نامے میں منیر احمد شیخ کا افسانہ ”فسانہ کہیں جسے“ پڑھنے کا موقع ملا تو منیر احمد شیخ کے حوالے سے کئی باتیں یاد آ گئیں۔ اردو ادب میں ان کا نام قدرے کم معروف ہے اور اس کی بڑی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ اگرچہ ان کی اٹھان ایک ادیب کے طور پر ہی تھی مگر ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ بیوروکریسی کی دنیا کی نذر ہو گیا اور بیوروکریسی کا بھی وہ شعبہ جس کا کام حکومت کی کارگزاریوں کی اشاعت و تشہیر ہوتا ہے یعنی وزارت اطلاعات، اور شاید وہ اسی وجہ سے اپنے میلان طبع کی مطابق لکھنے پڑھنے کا زیادہ کام نہ کر سکے۔

دوسری وجہ یہ نظر آتی ہے کہ انہوں نے کچھ زیادہ عمر نہیں پائی، وہ 15 مئی 1932 کو پیدا ہوئے اور 28 مئی 1990 کو وفات پا گئے تاہم اپنی سرکاری مصروفیات کے باوجود انہوں نے کئی کتابیں تحریر کیں جن میں ”لمحے کی بات“ (افسانے ) ، بہتے پانی میں عکس (افسانے ) ”ق سے قلم“ (مضامین ) اور ”تہذیبی رویے“ (مقالات ) شامل ہیں۔ ان کے افسانے رومانوی اور بعض اوقات نیم رومانوی مگر زندگی سے قریب تر نظر آتے ہیں۔ اپنے مضامین اور مقالات میں انہوں نے پاکستان کے تہذیبی، ثقافتی اور لسانی مسائل کے ساتھ جڑے مباحث کو بڑی بے باکی کی ساتھ پیش کیا ہے۔

ان میں شعر کہنے کا ملکہ بھی تھا مگر وہ اس پر زیادہ توجہ نہیں دے سکے البتہ انہوں نے پنجابی زبان میں کچھ شاعری کی مگر وہ کتابی شکل میں شائع نہ ہو سکی۔ ایم اے سیاسیات کرنے کے بعد انہوں نے کوئی دس برس کالج کی سطح پر درس و تدریس میں گزارے اور پھر حکومت پاکستان کی وزارت اطلاعات سے وابستہ ہوئے۔ وزارت اطلاعات سے وہ وزارت خارجہ سے منسلک ہوئے اور جرمنی اور ہندوستان کے پاکستانی سفارت خانوں میں بطور پریس قونصلر کام کیا۔ انڈیا سے واپس آ کر وہ دوبارہ وزارت اطلاعات سے وابستہ ہوئے اور اپنی موت تک وہیں کام کرتے رہے۔

میں ان کے نام سے یونیورسٹی کے طالب علمی کے زمانے میں متعارف ہوا۔ ان کے افسانوں کی کتاب ”لمحے کی بات“ نظر سے گزری تو اس کے انتساب نے چونکا دیا۔ ”نصرت کے نام جو شاخ گل کی طرح دامن دل سے لپٹ گئی“ ۔ اس عمر میں ہر وہ بات جو جذبات کو اپیل کرتی ہو، دامن دل کو کھینچتی ہے۔ کچھ ایسی ہی کیفیت اس انتساب کو پڑھ کر ہوئی۔ ”لمحے کی بات“ ہی کے عنوان سے اس کتاب میں ایک افسانہ بھی تھا۔ افسانہ پڑھا تو اس میں اور کتاب کے انتساب میں ایک تعلق نظر آتا تھا اور یہی بات دل میں کہیں اٹک کر رہ گئی۔

ایم اے کرنے کے بعد 1980 میں بطور لیکچرر میرا تقرر خواجہ فرید گورنمنٹ کالج رحیم یار خان میں ہوا تو ایک روز وہی انتساب اور افسانہ خیال میں اس طرح آیا کہ میں نے سوچا کہ اس بات کا کچھ کھوج لگایا جائے کہ کیا واقعی اس انتساب اور افسانے میں کوئی تعلق ہے؟

مجھے یہ معلوم تھا کہ منیر احمد شیخ ان دنوں انڈیا کے پاکستانی سفارت خانے میں بطور پریس قونصلر کام کرتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ تصدیق کے لئے ان سے زیادہ قابل اعتماد ذریعہ اور کون سا ہو سکتا ہے، چنانچہ میں نے ان کو ایک خط لکھ ڈالا۔ انہوں نے کمال شفقت سے میرے خط کا جواب دیا اور میرے اس سوال کا جواب بھی دیا جو میرے ذہن میں ہلچل مچائے رکھتا تھا۔ دراصل ہلچل کی وجہ ایک اور بھی تھی جس کا ذکر بعد میں آئے گا۔ ان کا خط سادہ مگر خوب صورت زبان میں ہے۔ آپ بھی اسے پڑھیے۔

سفارت خانہ پاکستان
چانکیہ پوری
نئی دہلی
6 اکتوبر 1980
محترمی مشہدی صاحب، سلام نیاز

آپ کا محبت نامہ ملا۔ ”محبت نامہ“ اس لئے کہا ہے کہ ایک تو آپ کے خط کے ایک ایک لفظ میں محبت اور پیار کچھ اس طرح گندھا ہوا تھا کہ میں نے اس کی تپش کو محسوس کیا اور دوسرے یہ کہ ایک اجنبی جب کسی دوسرے کو یاد کرے تو سوائے محبت کے اور کوئی جذبہ اس کا محرک نہیں ہو سکتا۔ آپ نے مجھے میری کتاب کے انتساب اور ناصر کاظمی کی رفاقت کی بنا پر یاد کیا، ناصر کاظمی کی رفاقت تو چھوٹ گئی اور وہ ہمیں اس دنیا میں اکیلا چھوڑ گیا، دوسری رفاقت البتہ اب زندگی کا حصہ ہے۔ ”لمحے کی بات“ کا آ خری افسانہ اسی انتساب کی شرح میں لکھا گیا۔ خیر، اب تو زمانہ لد گیا اور دھوپ ڈھلنے لگی ہے، عمر کے سائے پھیلتے پھیلتے اپنے جسم سے لمبے ہو گئے ہیں جن کے پیچھے بالآخر ہمیں جانا ہے۔

میں نے افسانے اور مضامین تاریخ ادب میں یا ادیبوں کی ڈائریکٹری میں نام لکھوانے کے لئے نہیں لکھے بلکہ اپنی کسی اندرونی تکلیف کے مداوے کے لئے لکھے تھے، تکلیف تو جوں کی توں ہے مگر اب مداوے کے راستے مسدود ہو گئے ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری مصروفیات اور پھر ہندوستان میں کام کی زیادتی ذرا بھر مہلت نہیں دیتی کہ ”شوق فضول“ کو جاری رکھ سکوں۔

آپ اردو ادب کے استاد ہیں۔ درس و تدریس کے اس پیشے میں کوئی دس برس ہم نے بھی گزارے اور اب پلٹ کے دیکھتا ہوں تو وہی زمانہ کا سنہری دور تھا۔ اس کے بعد تو ہم ”ملازم پیشہ“ ہو گئے اور اسی دشت کی سیاحی میں اپنا سب کچھ ضائع ہو گیا۔ آپ جس پیشے میں ہیں اس میں یہ فرصت تو آپ کو ملے ہی گی کہ کچھ نہ کچھ لکھتے رہیں اور یوں بھی ایک پروفیسر کا تصور بغیر کسی تصنیف کے ہوتا ہی نہیں ( کم از کم میرے لئے )

میں دوبارہ آپ کے نامے کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ دور دراز کسی دل میں ہماری یاد زندہ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ میں ابھی اپنے آپ کو زندوں میں شمار کر سکتا ہوں۔

والسلام
منیر احمد شیخ

انسانی زندگی اتفاقات سے عبارت ہے اور بعض اوقات ایسے اتفاقات ہوتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ جو صورت احوال اوپر بیان کی گئی اس کے تناظر میں بھی ایک عجیب اتفاق ہوا اور وہ یہ کہ جب میں اگست 1982 میں پی ایچ ڈی کے لئے انگلینڈ گیا تو پی آئی اے کی فلائٹ راولپنڈی/ اسلام آباد سے تھی۔ جہاز میں پنڈی کا کوئی اخبار پڑھنے کو ملا۔ اس میں منیر احمد شیخ کی اہلیہ یعنی ”لمحے کی بات“ کی مرکز محترمہ نصرت کا انٹرویو پڑھنے کو ملا جس میں انہوں نے بتایا کہ جب میرے لئے منیر احمد شیخ کا رشتہ آیا تو مجھے حیرت ہوئی کہ پاکستان میں تو نارمل لڑکیوں کے لئے موزوں رشتے نہیں ملتے مگر میرے لئے ان کا رشتہ؟

واضح رہے کہ وہ جسمانی طور پر کچھ معذوری کا شکار تھیں اور یہی غیر معمولی بات تھی جو میرے ذہن میں ہلچل مچائے رکھتی تھی اور جس کا ذکر میں نے اوپر کیا تھا۔ ”لمحے کی بات“ کا انتساب، اسی عنوان سے ایک افسانہ اور اس افسانے کی عملی تعبیر جس کی وضاحت منیر احمد شیخ نے بھی کی، انسانی تعلقات کا وہ تانا بانا ہے جس کو سلجھانا، سمجھنا اور سمجھانا دشوار ہے مگر زندگی میں ایسا ہو سکتا ہے اور ہوتا بھی ہے، اس لئے کہ زندگی امکانات سے بھری ہوتی ہے اور اس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *