حضرت کا حجرہ اور مثنوی بے معنوی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کا سیٹ اپ کچھ اور طرح کا تھا۔ صوفہ نیا تھا اور کرسیوں کی بھی اچھی طرح چھاڑ پونچھ کر دی گئی تھی۔ میز پر تازہ پھولوں کا گلدستہ بھی تھا۔ عبدل عبدل آج دروازے پر کھڑے تھے اور ایک ایک آنے والے کو بصد احترام و تکریم سیٹوں پر بٹھا رہے تھے۔ حضرت کی کرسی ابھی خالی تھی لیکن برابر والی کرسی پر ایک نسوانی پیکر نشستہ تھا۔ خاتون حضرت کی نئی دریافت تھیں اور چھلانگ مار کر ترقی کرتی ہوئی عبدل عبدل کو دروازے پر پہنچا کر حضرت کے برابر کی نشست حاصل کر چکی تھیں۔ حضرت کی دور رس نگاہیں جان چکی تھیں کہ عبدل عبدل کا بے رونق چہرا اور پھیکی شخصیت شو کو مقبول بنانے میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کر سکتی۔ اس شو کو کسی جاندار اور چمکدار چہرے کی ضرورت تھی۔ گل تازہ یہ ترا رنگ و بُو، ہوا سب سے بڑھ کے ترا عدو۔۔۔

خاتون نے حضرت کی آمد کا اعلان کیا۔ اور وہ مسکراتے ہوئے آ کر کرسی پر بیٹھ گئے۔ عبدل عبدل نے دروازے کے پاس رکھے اسٹول پر جگہ لی۔ روشنیاں ہو گئیں اور کیمرے آن ہو گئے۔

خاتون میزبان نے اپنا تعارف کروایا۔

” میں نور بانو ہوں۔ بہت گمنام ہستی ہوں لیکن شاید اب حضرت کے حوالہ سے میرا بھی کچھ نام بھی ہو جائے۔ میری خوش نصیبی کی انتہا دیکھیئے کہ میں جس کو پوجتی چلی آ رہی تھی آج اسی مہان شخص کے ساتھ بیٹھی اس پروگرام کو کنڈکٹ کر رہی ہوں۔ “۔ نور بانو جذباتی ہو گئیں۔ حضرت شفقت سے مسکرائے۔

“محترمہ آپ کو ہم نوری کہیں گے۔ بھئی آپ نوری بھی ہیں اور ناری بھی۔ اور اب آپ گمنام نہیں رہیں گی۔ آپ کو گمنامی سے نکال کر اوج ثریا تک لے جائیں گے۔ خوش نصیبی میری کہ آپ نے اس پروگرام کو رونق بخشی”۔

اب پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ آج کا موضوع ان کے اپنے بارے میں تھا۔ حضرت نے نہایت سادگی اور انکساری سے اپنے بارے میں بتایا کہ کس طرح وہ اس اعلی مقام تک پہنچے۔ کیسے تعلیم کے سارے مراحل یکے بعد دیگرے طے کئے۔ ہر موضوع اور مضمون پڑھ چکے ہیں بلکہ لکھا بھی۔ ادب، فلسفہ، رواں شناسی، انسانیت، محبت، آزادی اور سماجیات پر پورا عبور حاصل کیا۔ کتابوں پر کتابیں لکھیں، مضمون پر مضمون باندھا۔ زینہ با زینہ منزلیں طےکرتے رہے اور اب ایک ہر دلعزیز شخصیت بن چکے ہیں۔ لوگ ان پر کس درجہ مہربان ہیں۔ ایسا تو کبھی انہوں نے خواب میں بھی نہ سوچا تھا۔ نوری صاحبہ نے ان کی ہر بات پر نہ صرف ہاں میں ملائی بلکہ اس میں اضافہ بھی کیا۔

“حضرت آپ اتنی انکساری سے کام مت لیجیئے۔ آپ کا کریڈٹ بنتا ہے۔ آپ اس کے مستحق ہیں۔ بلکہ اس بھی کہیں زیادہ۔ ” دونوں کی باتوں کے دوران عبدل عبدل دروازے کے قریب بیٹھے جماہیاں لیتے رہے۔

اس کے بعد خطوط کا سلسلہ شروع ہوا جو حضرت کا پسندیدہ کام ہے۔ انہیں خط لکھنے کا بہت شوق ہے اور لکھوانے کا تو اس بھی زیادہ۔ نوری صاحبہ ماڈرن خاتون ہیں انہوں نے کاغذی خطوط نہیں بلکہ لیپ ٹاپ پر ڈیجیٹل پوسٹ پڑھنی شروع کیں۔

” حضرت یہ پہلا خط ہے نرگس بیمار کا۔ لکھتی ہیں۔

جناب۔ پچھلے چار سال سے ڈیپریشن کی مریضہ ہوں۔ کسی چیز میں دل نہیں لگتا۔ میرا خیال ہے سب مجھ سے نفرت کرتے ہیں اور کوئی مجھے نہیں چاہتا۔ مجھے بھی کوئی اچھا نہیں لگتا۔ سب ہی زہر لگتے ہیں۔ میں کیا کروں؟”

حضرت کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔

” نرگس بیمار صاحبہ، آپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ آپ کو کوئی بھی اچھا نہیں لگتا۔۔۔ کیا میں بھی نہیں۔۔۔؟ اور کرنا کیا ہے۔ دل تو آپ کو لگانا پڑے گا۔” (مسکراہٹیں) نوری کچھ لجا سی گئیں۔

 “حضرت آپ تو “ہم سب” کو بہت اچھے لگتے ہیں” حضرت مسکرا دیئے۔ لیکن مجال ہے مسکراہٹ میں ذرا سا بھی تفاخر آیا ہو۔

“حضرت اگلا خط ہے کمال طباطبائی کا جو آپ کے دوست خاص ہیں۔ لکھتے ہیں۔ حضرت آپ کا گرویدہ ہوں۔ آپ سے ملنے پر میرا کچھ ایسا حال ہوتا ہے کہ اس کو دیکھوں یا اس سے بات کروں۔ کیا مقناطیسی شخصیت ہے آپ کی۔ بندہ کھینچا چلا آتا ہے۔ اتنی بڑی شخصیت مجھ جیسے معمولی سے بندے کو اپنا دوست کہے میرے لیے یہ اعزاز ہے”

حضرت مسکرائے اور بولے۔ “ارے بھائی آپ تو خود بلند و بالا شخصیت کے حامل ہیں۔ آپ سے ملنا اور گھل مل جانا تو میرے لیئے اعزاز ہے۔ آپ سے تفصیلی ادبی گفتگو کرنی ہے۔ پچھلی بار تو آپ نے مجھے بولنے ہی نہیں دیا۔ ذرا بلندی سے اتریں اور برابری کی سطح پر آ کر بات کریں۔ کب بلا رہے ہیں؟”

نوری نے توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔ “حضرت یہ ای میل ہے شہزاد کی۔ کہتے ہیں۔ سر جی میں شہزاد ہوں رکشہ والا۔ آپ کو مال روڈ سے سمن آباد چھوڑا تھا میں نے۔ آپ نے اپنا کارڈ دیا تھا اور کہا تھا کہ میں آپ کو خط ضرور لکھوں۔ اور اپنا کوئی مسلئہ بھی بتاوں۔ سر جی خط تو میں نے آج تک کسی کو نہیں لکھا اور یہ کمپیوٹر کا کام تو مجھے آتا بھی نہیں۔ ایک دوست سے کروا رہا ہوں۔ مسئلہ تو مجھے کوئی خاص نہیں۔ بس ایک لڑکی بہت اچھی لگتی ہے لیکن سمجھ میں نہیں آتا اس تک بات کیسے پہنچاؤں؟”

حضرت کچھ بے چین ہوئے”بھائی میں نے کچھ اصرار تو نہیں کیا تھا خط لکھنے پر۔ لیکن اچھا ہوا آپ نے خط لکھ بھیجا۔ آپ اس لڑکی کو خط لکھ کر حال دل بتائیں۔ لیکن خط لکھنا آپ کو آتا نہیں۔ محبوبہ کو خط دوست سے ہرگز مت لکھوائیں۔ وہی بات ہو جائے گی۔ بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا۔ میں لکھ دوں؟

جضرت نوری کی طرف متوجہ ہوئے۔ ” اور کوئی ای میل ہے؟”

” جی یہ ہے محترمہ گل بکاولی کی۔ پڑھ دوں؟ “نور بانو پھر کھلکھلائی

“جی ضرور پڑھیئے۔ کیا فرماتی ہیں آج وہ؟”حضرت کی مسکراہٹ بھی گہری ہو گئی۔

“جی وہ فرماتی ہیں حضرت آپ ہمیں بھلا چکے ہیں کیا؟ ایک بار آپ سے ملے تھے۔ دوبارہ ملنے کی تمنا ہے لیکن آپ کو فرصت نہیں۔ سچ کہوں آپ کو اتنے لوگوں کی چاہت میں گھرا دیکھ کر دل جل سا جاتا ہے۔ کدی ساڈی گلی بھل کے وی آیا کرو جی”

حضرت ہنس دیئے اور چپ رہے۔ پھر کچھ سوچ کر بولے” محترمہ مکرمہ صاحبہ آپ کو بھولنا بھی چاہوں تو آپ بھولنے نہیں دیتیں۔ پھر مجھے رہنا بھی اسی شہر میں ہے۔ آپ کی گلی کا چکر پرسوں ہی لگا تھا۔ آپ نظر بھی آئی تھیں لیکن پیچھے مڑ کر دیکھنے سے ڈر تھا کہ کہیں پتھر کا نہ ہو جاؤں۔ آپ بس جلنا چھوڑ دیں”

“یہ ای میل ہے جو دو مختلف ناموں اور آئی ڈی سے ملی ہے لیکن متن دونوں کا ایک ہے۔ عظمی اور منت دونوں لکھتی ہیں۔ حضرت آپ سے جانے اس زندگی میں کبھی ملنا بھی ہو گا یا نہیں۔ شاید ہم اگلی دنیا میں ملیں۔ پتہ نہیں میرا کیا بنے گا۔ میں کب تک خطوں کے سہارے جی سکوں گی؟ دعایں کر رہی ہوں بلکہ وظیفہ بھی شروع کیا ہوا ہے۔ ملنے کی تدبیر کیجیئے۔ کب آئیں گے؟ میری آئی ڈی کام نہیں کر رہی تھی۔ اس لیے دو نئی بنائی ہیں۔ دونوں سے بھیج رہی ہوں۔ دونوں ہی فرضی ہیں۔ شاید آپ تک پہینچ جائں اور آپ جان لیں”

” محترمہ آپ کسی بھی نام سے لکھیں ہم آپ کو پہچان ہی لیتے ہیں۔ کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے۔ ملنا بھی جلد ہو گا۔ بس دعا کرتی رہیں۔ فقیرا کا گھروندا حاضر ہے۔ اسے رونق بخشیں۔ ہاں اپنے تولیے ساتھ لیتی آئیں۔”

نور بانو نے لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتے ہوئے کہا” حضرت یہ ای میل ایک فکرمند شہری کی ہے۔ حضرت میں بہت پریشان ہوں۔ ہمارا ملک بڑی تیزی سے اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو رہا ہے۔ ہر طرف بے حیائی ہے۔ لڑکیاں بوائے فرینڈز بنا رہی ہیں اور لڑکے بھی۔ چھپ چھپ کر یہ بے ہودہ کھیل کھیلے جا رہے ہیں۔ یہ رحجان ہمارے سماجی ڈھانچے کو لے ڈوبے گا۔ آخر ہم کہاں جا رہے ہیں؟ آپ اس نسل کی رہنمائی فرمایں۔ “

حضرت نے پہلو بدلا اور تشویش سے کہا” میں بھی اس مسئلہ کو دیکھ کر کچھ پریشان ہوں۔ اخر چھپ چھپ کے کیوں؟ آپ کو جہاں جہاں ایسے لوگ نظر آئیں، ان سے کہیں، مجھ سے رابطہ کریں۔ میں رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے لیے حاضر ہوں”

” اور یہ آخری خط ڈاک سے موصول ہوا ہے۔ جناب ظمیر الدین التمش کا۔ وہ لکھتے ہیں۔ حضرت کچھ عرصہ آپ سے دوری رہی۔ میں اپنی کتاب پر کام کر رہا ہوں۔ ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ میں ٹالسٹائی کے ناول وار اینڈ پیس کا پنجابی زبان میں ترجمہ کر رہا ہوں۔ اس میں مجھے بہت وقت لگ رہا ہے۔ پہلے اس روسی زبان کے ناول کا انگریزی میں ترجمہ پڑھا، پھر اس کا اردو ترجمہ پڑھا، پھر کہیں جا کر پنجابی میں لکھنا شروع کیا۔ ٹالسٹائی کا ہی قول ہے کہ ایک نوجوان کے لیے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ وہ ذہین خواتین کی صحبت میں رہے۔ سوچا آپ سے مشورہ کروں آپ کے حلقہ احباب میں تو کئی خواتین ہیں اگر ان میں کوئی ذہین بھی ہیں تو مجھ سے متعارف کروا دیں۔ میں اپنی کتاب کا انتساب آپ کے نام کر دوں گا۔ “

حضرت نے ہنستے ہوئے جواب دیا” جناب میرے حلقے میں کئی ذہین فطین خواتین تھیں، انہیں میں نے لکھنا سکھایا۔ پہلے ذہین نہیں تھیں، میں نے ذہین بنایا۔ اب میں خواتین لکھاریوں کی ایک نئی فصل تیار کر رہا ہوں لیکن وہ سب ان دنوں میرے ساتھ لکھنے میں مصروف ہیں۔ دیکھتا ہوں اگر کوئی ذہین آپ کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہو گئی تو مطلع کر دوں گا۔ انتساب میرے نام کرنے کا شکریہ۔ “

“حاضرین اور ناظرین آپ سب کا بہت شکریہ۔ اسی طرح ساتھ دیتے رہیے۔ ایک دن ہم حضرت کی رہنمائی میں منزل حاصل کر لیں گے۔ ہمارا چینل لایئک کیجیئے اور ہاں۔ لکھنا مت بھولیے گا”

شو ختم ہونے سے پہلے حضرت نے ایک بار پھر خطاب کیا ” دیکھیے آپ لوگ ذرا ادبی اور فلسفیانہ سوالات لکھا کریں۔ اتنی سطحی گفتگو کے لیئے یہ فورم نہیں بنا۔ اپنے مسائل بتائیے، کچھ بحث ہو، کچھ سیکھ سکیں آپ لوگ”

شو کا اختتام ہوا۔ کیمرا اور لائٹس آف ہو گئے۔ عبدل عبدل کرسیاں سمیٹنے لگا۔ نور بانو حضرت کے ساتھ اپنا لیپ ٹاپ اٹھائے باہر نکل گئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *