فلائٹ 8303 کراچی کریش


میں گزشتہ دو دہائیوں سے ائر کریش انوسٹگیشنز پر ریسرچ کر رہا ہوں اور اس بابت میں نے کئی رئیل اور سیمولیٹڈ فلمز اور آرٹیکل دیکھ اور پڑھ رکھے ہیں اور اس موضوع پر کچھ آرٹیکلز بھی لکھے ہیں۔ اس بنیاد پر میرے پاس بہت سی بنیادی معلومات کا ذخیرہ موجود ہے جس کی بنیاد پر میں جہاز میں ہونے والی ایمرجنسی کا کسی حد تک اندازہ لگا سکتا ہوں۔

اب تک جو معلومات مہیا ہیں۔ ان کی بنیاد پر میں اپنا تجزیہ ضرور پیش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ جہاز A 320 ائر بس تھا۔ ائربس فرانس کی کمرشل جہاز بنانے والی کمپنی ہے اور اب تک اس کا کمرشل جہازوں کا ریکارڈ بہت مناسب رہا ہے۔ مگر کئی ایک مہلک حادثات بھی ہوئے ہیں۔ چند سالوں میں ان جہازوں کے ساتھ کچھ غیر معمولی واقعات ہوئے ہیں جن کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے۔ ایک ائر بس 330 A فلائٹ اے ایف 447 جو برازیل کے کیپٹل ریو ڈی جینرو سے پیرس آ رہی تھی۔ جہاز اپنی مکمل اونچائی پر معمول کے مطابق کروز کر رہا تھا کہ اچانک جہاز کی رفتار کا میٹر فالس ریڈنگ دینے لگا اور جہاز اپنی رفتار اور اٹھان میں توازن برقرار نہ رکھ سکا اور سٹال یعنی بے جان ہو کر بحر اوقیانوس میں گر کر تباہ ہوگیا بد قسمتی سے مسافر اور عملے کا کوئی بھی رکن زندہ نہ بچ سکا۔ کمپیوٹر سافٹ وئیر میں تکنیکی خرابی جہاز کی تباہی اور عملے سمیت مسافروں کی جان جانے کا باعث بنی۔

مگر پی کے 8303 کریش لینڈنگ کا معاملہ لگتا ہے۔ جہاز لاہور سے روانہ ہوا تو روانگی سے پیشتر طیارے کی مکمل جانچ پڑتال ایک لازمی روٹین ہے کہ اگر طیارے میں کوئی فنی یا تکنیکی خرابی ہے جس اگر کوئی خرابی دوران پرواز پائلٹ نے نوٹ یا نشاندہی کی ہو تو اسے دور کیا جائے۔ یعنی ہر ایک روانگی سے قبل ہر طیارہ تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد پائلٹ کے حوالے کیا جاتا ہے اور پھر دونوں پائلٹ جہاز کے کاک پٹ میں جانے سے پہلے طیارے کا مکمل بیرونی جائزہ لیتے ہیں۔

لہذا یہ کہنا درست ہو گا کہ پائلٹ نے جب طیارہ روانگی کے لیے گراؤنڈ سٹاف سے وصول کیا تو جہاز کی مکمل چیک لسٹ کے مطابق جانچ پڑتال کی گئی تھی اور طیارہ مکمل طور پر درست حالت میں تھا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اگر جہاز میں چیک لسٹ کے مطابق کوئی خرابی ہو تو اس سے پائلٹ کو آگاہ بھی کر دیا جاتا ہے اور اس بابت خصوصی ہدایات بھی دی جاتی ہیں۔ خرابی کی نوعیت کی رو سے پائلٹ جہاز کو لے جانے سے انکار کردے تو اس خرابی کو مکمل طور پر دور کیا جاتا ہے۔

چونکہ ایسی کوئی بات اب تک منظر عام پر نہیں آئی تو اس سے یہی نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ جہاز میں روانگی کے وقت کوئی ایسی خرابی نہیں ہوگی جس کی وجہ سے پائلٹ اسے اڑانے سے انکار کرتے۔

مذکورہ جہاز میں پہلی خرابی کا انکشاف ڈیسنڈنگ کے دوران اس وقت ہو جب پائلٹ نے لیڈنگ گیئر ڈاؤن کیے اور جہاز کے پہیے نہ کھل سکے۔ لیڈنگ گیئرز ایک ایسا عمل ہے جس سے جہاز کے پہیوں کو ان کے چیمبرز سے باہر نکالنا ہوتا ہے اور خودکار نظام سے انہیں لاک کیا جاتا ہے۔ کا پٹ مین جب پائلٹ گیئر لیور ڈاؤن یعنی نیچے کرتا ہے تو پہیے باہر نکلتے ہیں اور پھر جب وہ مکمل طور پر کھل جاتے ہیں اور اپنی آخری حد تک پہنچ کر لاک ہو جاتے ہیں۔

گیئر لیور کے نیچے انڈیکیٹر لائٹس بتدریج روشن ہوتی ہیں۔ یعنی سرخ بتی پر لینڈنگ گیئر بند ہوتا ہے۔ لیور نیچے کرتے ہی جب پہیے باہر نکلتے اور لاک ہوتے ہیں تو یہ سبز ہوجاتی ہیں۔ a 320 میں تین لیڈنگ گیئرز ہوتے ہیں اور ہر ایک کے باہر نکلنے اور لاک ہونے کی الگ الگ انڈیکیشن لائٹس ہوتی ہیں تاکہ پائلٹ کو معلوم ہو سکے کہ اس کے تمام پہیے کھل گے۔ ہیں اور اپنی جگہ پر مستحکم طور پر لاک ہو چکے ہیں۔ یہ سارا عمل کا پٹ میں (LGCPI ) لیڈنگ گیئر کنٹرول پینل انٹرفیس پر موجود ہوتا ہے۔ مذکورہ پرواز میں طیارے کے لیڈنگ گیئرز ڈاؤن نہیں ہوئے۔ طیارے کے پہیے طیارے کی ٹانگیں اور پیر ہوتے ہیں جن پر طیارے کو دوڑتے ہوئے زمین پر اتارنا ہوتا ہے۔

ایسی صورتحال کو بخوبی سنبھالنے کی پائلٹوں کو باقاعدہ ٹریننگ دی جاتی ہے اور ایسی صورت میں پائلٹ کو ایک باقاعدہ پروٹوکول کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے جس میں سب سے اہم یہ کہ کیپٹن کیبن عملے کو ہدایات دیتا ہے کہ یہاں ایمرجنسی صورتحال ہے۔ طیارے کے پہیے نہیں کھل رہے لہذا ہم بیلی لیڈنگ کرنے والے ہیں تاکہ کیبن کا عملہ مسافروں کو مخصوص حفاظتی تدابیر اختیار کرنے یعنی بریس پوزیشن وغیرہ اور کریش لینڈنگ کے بعد جہاز سے سلائیڈ کے ذریعے جہاز سے باہر نکلنا شامل ہوتا ہے۔ بظاہر ایسی کوئی ہدایات نامعلوم ہیں۔ اگر پائلٹ نے یہ سب ہدایات دی ہیں تو اس کا ریکارڈ کاک پٹ وائس ریکارڈ میں ضرور ہونا چاہیے۔

اب چونکہ جہاز کے پہیے نہیں کھلے تو جہاز کو بیلی لینڈنگ کرنا تھی۔ یعنی پہیوں کے بغیر جہاز کو اپنی باڈی پر زمین سے ٹچ ڈاؤن کرنا تھا اور اپنی باڈی کے بل پر رینگتے ہوئے زمین اور جہاز کی باڈی کے باہمی مزاحمتی رگڑ کی بنیاد پر رکنا بھی تھا کیونکہ پہیوں کے بغیر کسی بریک سسٹم کا عمل ممکن ہی نہیں۔

ایسے میں پائلٹ کی مہارت یہ ہوتی ہے کہ وہ کس قدر نرمائش اور توازن سے جہاز کو زمین سے لگا سکے تاکہ کم سے کم جھٹکا لگے اور جہاز زمین سے ٹکراتے وقت ٹوٹ نہ جائے۔ پائلٹ ایسی کریش لینڈنگ کی مشک بیسیوں مرتبہ سمولیٹر پر کرتے ہیں اور تقریباً ہر پائلٹ اس کام میں ایک حد تک مہارت رکھتا ہے۔ بیلی لینڈنگ پائلٹس کو کبھی نہ کبھی اپنی زندگی میں ضرور کرنا پڑ سکتی ہے۔

پی کے 8303 نے بظاہر بیلی لینڈنگ کی جس کا ثبوت جہاز کے دونوں انجنوں کے نچلے حصوں پر رگڑ کے واضح نشانات سے ملتا ہے۔ ایسا ان تصاویر سے ظاہر ہے جو میڈیا میں آئی ہیں۔ ایسی صورت میں ائرپورٹ کا عملہ حفاظتی نقطہ نظر سے رن وے پر ایمرجنسی تدابیر بھی اختیار کرتا ہے جس میں ایمبولنسوں کے علاوہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں رن وے کے دونوں اطراف قطار در قطار کھڑی کی جاتی ہیں جو رن وے پر ایک خاص قسم کا کیمیکل فوم بچھا دیتی ہیں جس کی وجہ سے ایک تو زمین اور جہاز کی باڈی کے درمیان رگڑ کم ہوتی ہے اور دوسرے اس سے جہاز کو آگ لگنے کے وقت کو بھی بڑھایا جاسکتا مگر ہمیں رن وے پر بھی ایسا کوئی انتظام دکھائی نہیں دیتا۔

یہ بات واضح ہے کہ اس جہاز نے ایک مرتبہ بیلی لینڈنگ ضرور کی۔ اس کے بعد جہاز کے انجن جہاز کے وزن اور زمین سے رگڑ سے ناصرف متاثر ہوئے بلکہ انجن کے ناکارہ ہونا بھی لازمی ہے۔ اس کے باوجود میں پائلٹ نے دوبارہ جہاز کو ریٹیک کیا اور اوپر اڑان لی انجن میں موجود تھرسٹ (طاقت) نے جہاز کو اوپر تو اٹھا لیا مگر اس کے انجن اپنا مکمل تھرسٹ (طاقت) برقرار نہ رکھ سکے چونکہ وہ تو بیلی لینڈنگ پہلی کوشش کے دوران نقصان اٹھا چکے تھے۔

زمینی رگڑ سے انجن کے فریم ڈیشیپ ہو گے۔ تھے اور انجن کے فین بلیڈ ایسے فریم میں اپنا گھماؤ جاری نہ سکے ہوں گے جس انجن میں موجود ایندھن پہنچانے والے پائپ جو بڑی تعداد میں انجن میں موجود ہوتے ہیں۔ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہوں گے۔ فرسٹ افسر کی جو بات کنٹرول ٹاور سے ہوئی اس کے مطابق ٹاور کی ہدایات اسے 3000 فٹ تک جانے کی تھیں مگر جہاز بمشکل 1800 فٹ تک ہی جا سکا اور فوراً ہی فرسٹ افسر نے مے ڈے۔ مے ڈے۔ کال دی اور دونوں انجن ناکارہ ہونے کی اطلاع بھی دی اور لفظ (انجنز) استعمال کیا جہاز اب بغیر انجن صرف فلیپس کی بنیاد پر گلائیڈ (تیر) کر رہا تھا جو اپنی توازن کھو بیٹھا اور گنجان آباد رہائشی علاقے پر کریش ہوگیا۔

کاک پٹ اور ائر ٹریفک کنٹرول کے درمیان بات چیت سے لگتا ہے کہ پائلٹ غالباً ضرورت سے زیادہ پراعتماد تھے اور ائر ٹریفک کنٹرولر کا رویہ بھی کیول یعنی قدر غیر سنجیدہ تھا۔

پائلٹ کو ایسی صورتحال میں پرسکون رہنا ہوتا ہے اور مکمل توجہ طیارے کو توازن کے ساتھ مہارت سے زمین پر اتارنے پر مبذول کرنا ہوتی ہے جس میں پائلٹ جہاز کو ممکنہ حد تک سیدھا رکھتے ہوئے زمین پر لگتے ہی مناسب حد برقرار رکھتے ہوئے طیارے کی نوز یعنی اگلے حصے کو اوپر اٹھانا ہوتا ہے تاکہ طیارے کی ٹیل یعنی پچھلا حصہ زمین کو چھو لے اور طیارہ سیدھا اپنے توازن پر کھڑا رہ سکے اور سونگ ہو کر ٹوٹ نہ جائے۔ مگر اس پرواز کے پائلٹ نے طیارہ انجن کے بل پر رن وے پر اتارا ضرور مگر ساتھ ہی اسے دوبارہ اوپر اٹھا لیا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پائلٹ نے نوز کو شاید بہت زیادہ اٹھا لیا ہو جس وجہ سے طیارہ رن وے سے اوپر اٹھ گیا اور پھر پائلٹ نے طیارے کی مکمل اٹھان بھرنا ہی مناسب جانا ہو اس دوران وہ یہ نظرانداز کر گیا کہ طیارہ انجنوں کے بل پر رن وے کو ٹچ کر چکا ہے اور اس سے انجنوں کو نقصان ہو چکا ہے۔

پی کے 8303 سے بالکل ملتا ایک واقعہ ایوی ایشن کی تاریخ میں ایک مثال کے طور پر موجود ہے کہ جب یکم نومبر 2011 ء پولش ائر لائنز کی فلائٹ نمبر 16 جو نووارک لبرٹی انٹرنیشنل نیو جرسی امریکہ سے وارسا شوپین انٹرنیشنل پولینڈ جا رہا تھا، کے ساتھ بھی پیش آیا اور ڈیسنڈنگ کے دوران طیارے کے لینڈنگ گیئرز ڈاؤن نہ ہوئے اور طیارے کو بیلی لینڈنگ کرنا پڑی طیارے کے کپتان نے نہایت مہارت کے ساتھ طیارے کو زمین پر اتار لیا اور کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا بلکہ مسافروں کے مطابق جب انہیں کیبن عملے نے بتایا کہ جہاز کے پہیے نہیں کھل رہے اور ہمیں بیلی لیڈنگ کرنا ہوگی اور آپ سب حفاظتی تدابیر اختیار کر لیں تو ایک مسافر کے مطابق اس نے اپنے گھر فون کر کے گھر والوں کو آخری سلام پیش کیا اور سب مسافروں نے اپنی اپنی آخری دعا بھی کر لی مگر مسافر کے مطابق جب طیارہ زمین پر اترا تو وہ کسی بڑے جھٹکے کی توقع کیے ہوئے تھے اور بریس پوزیشن میں تھے۔ مگر طیارے کو کوئی جھٹکا تک نہ لگا اور طیارہ کچھ دیر بعد رک گیا کیبن عملہ نے تیزی سے ایمرجنسی دروازے کھولے اور تمام مسافروں کو جلا از جلد سلائیڈ سے جہاز سے باہر نکل کر طیارے سے دور بھاگنے کی ہدایت کی اور سب مسافر کسی بھی چوٹ یعنی انجری کے بغیر بحفاظت طیارے سے باہر نکل آئے۔ یہ واقعہ ایک معجزہ بھی ہو سکتا ہے۔ مگر یہ ایک ممکنہ عمل بھی ہے۔

پی کے 8303 میں کہاں کس سے کیا بھول چوک ہوئی اس کا فیصلہ تو مکمل انکوائری رپورٹ کے بعد ہی ہوگا جس میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ مگر پائلٹ کا زیادہ خود اعتمادی اختیار کرنا اور پھر طیارے کو ٹچ ڈاؤن کے بعد واپس فضا میں بلند کرنا حادثے کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے کیونکہ واپس اڑانا کا آپشن صرف اس صورت میں ہی لیا جاتا ہے جب کہ طیارہ متوازن نہ رہ پائے اور اس کا کوئی حصہ زمین یا رن وے سے نہ چھونے پائے اسے میں کیونکہ پائلٹ کو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے زمین یا رن وے کو نہیں چھوا لہذا اس کا طیارہ اور انجن کسی بھی قسم کے سے نقصان سے محفوظ ہے۔ طیارے کو رن وے پر ٹچ ڈاؤن کرنے کے بعد پائلٹ کا طیارے کو دوبارہ فضا میں بلند کرنا اور ائر ٹریفک کنٹرولر کا عمومی رویہ (غیر سنجیدہ رویہ) لازمی حفاظتی انتظامات کا رن وے پر نہ ہونا بھی طیارے کی تباہی کی وجوہات ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS