رسول حمزہ توف: ”داغستان“ سے محبت کا اصل نسخہ جاننے والا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے ساتھ اس کا پہلا تعارف فیض صاحب نے کرایا، جب انٹرنیٹ والے گورکھ دھندے سے بہت پہلے فیض کی کتابوں میں ان کی نظموں کے منظوم تراجم پڑھے۔ فیض صاحب کے قلم سے کیے ہوئے یہ تراجم، نہ فقط اصل شاعر کی شاعرانہ عظمت کا بیان تھے، بلکہ ان نظموں میں فیض صاحب کی اپنی دانشورانہ نکہت بھی شامل تھی اور ساتھ ساتھ یہ تراجم فیض صاحب جیسے بڑے شاعر کی جانب سے اپنے ہمعصر ایک دوسرے بڑے اور اہم ترقی پسند عالمی شاعر کی عظمت کا اقرار اور سند ستائش بھی تھے۔

وہ 1994 ء میں اکادمی ادبیات پاکستان کی دعوت پر پاکستان آئے اور اسلام آباد میں ”اہل قلم کانفرنس“ میں شریک ہوئے۔ ان کے ساتھ پاکستان کے کم و بیش تمام ادیبوں نے جس ڈھب میں عقیدت اور محبت کا اظہار کیا، اس نے اس حقیقت کو ظاہر کیا کہ 1968 ء میں لکھے ان کے ادبی شاہکار ”میرا داغستان“ نے ادبی رفعت کی وہ منزل حاصل کر لی ہے، جو ہر قلمکار کا خواب ہوا کرتی ہے اور جو کسی بھی ادیب کو تا دیر زندہ رکھنے کے لیے کافی ہوا کرتی ہے۔ نام تھا ”رسول حمزہ تو وچ حمزہ تو ف“ ۔ ۔ ۔ دنیا نے جانا ”رسول حمزہ تو ف“ کے نام سے۔ ۔ ۔

فیض صاحب کی جانب سے ترجمہ کی ہوئی رسول حمزہ تو ف کی یہ نظم پڑھیں، جس کا عنوان ہے : ”داغستانی خاتون اور اس کا شاعر بیٹا“

اس نے جب بولنا نہ سیکھا تھا،
اس کی ہر بات میں سمجھتی تھی
اب وہ شاعر بنا ہے نام خدا
لیکن افسوس کوئی بات اس کی
مرے پلے ذرا نہیں پڑتی
یا پھر یہ نظم، جس کا عنوان ہے : ”تلوار کی نوک سے“
میرے آبا،
طوق اور زنجیر سے واقف نہ تھے۔ ۔ ۔
یہ سبھی موضوع،
جو میری لکھ رہی نوک قلم۔ ۔ ۔
جد امجد یہ مرے لکھتے رہے،
نوک سے شمشیر کی، نوک پر تلوار کی۔ ۔ ۔
روشنائی سے جو میں ہوں لکھ رہا،
پیار کے قرطاس پر۔ ۔ ۔
یہ، وہ پتھر دشت پر تھے خون سے لکھتے رہے۔

رسول حمزہ تو ف کا رسمی تعارف تو روسی شاعر، نثر نویس، مترجم، دانشور، سیاستدان، تھیٹر نگار اور ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھنے والے کے طور پر۔ ۔ ۔ مگر کسی بھی شاعر کی پہلی اور آخری شناخت شاعری ہی ہوا کرتی ہے، مگر تمام دنیا کے لیے ان کی سب سے اہم اور بڑی پہچان: ان کا دیس۔ ۔ ۔ ”داغستان“ ۔ ۔ ۔ جو سابقہ سوویت یونین اور موجود روس کی ایک چھوٹی سی جمہوری ریاست۔ ۔ ۔ جس کا ذکر اگر حمزہ تو ف نہ کرتے، تو شاید دنیا داغستان کو اتنا نہ پہچانتی۔

انہوں نے، اسی داغستان کے شمال۔ مشرقی علاقے ”قفقازی آوار“ کے ”سدا“ نامی ایک چھوٹے سے پہاڑی گاؤں میں، ”حمزہ سداسا“ نامی، نواح کے مشہور مقامی روایتی چرواہے (جو پہاڑوں میں اپنی سریلی آواز میں گیت گنگنا کر بھیڑ بکریوں کے ریوڑ ہانکا کرتا تھا۔ ) کے گھر میں 8 ستمبر 1923 ء کو آنکھ کھولی۔ یہ گاؤں ایک پہاڑ کی چوٹی پر واقع تھا۔ حمزہ تو ف نے شعر کہنے کا اولین رسمی ”گر“ تو اپنے ابا ہی سے سیکھا اور کچھ تو مؤروثی طور پر اس کے خون میں یقیناً موجود ہوگا، مگر ظاہری طور پر فقط 11 برس کی عمر میں رسول کی شعر گوئی کی شروعات کا محرک، جو حیرت انگیز واقعہ بنا، وہ اس کے پہاڑی گاؤں کے قریب ایک جہاز کی ایمرجنسی لینڈنگ تھی، جو اس وقت اس کم عمر نونہال تو کیا! بڑوں کو ہی بالکل ششدر کر دینے والا واقعہ تھا، جس نے حمزہ تو ف کو انگشت بدنداں کر دیا اور اس کی زندگی کا پہلا تخیل، شعر بن کر اس جہاز کے ہنگامی طور پر اترنے کے موضوع پر اس کے قلم کی جنبش کا باعث بنا اور کاغذ پر اظہار کی صورت تحریر ہوا اور اس طرح آوار چرواہے ”حمزہ سدا سا“ کا بیٹا بھی شعر کہنے لگا۔

رسمی تعلیم کے دوران ہائی سکول کی تعلیم کے بعد اساتذہ کی تربیت والے کالج میں تعلیم کے حصول کے مراحل میں داغستان کی سرحد پر جنگ چھڑی، تو رسول کے حصول تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ اس جنگ کے لیے انہوں نے خود بھی رزمیہ اور قومی انقلابی گیت لکھے، جو داغستانی افواج کا حوصلہ بلند کرنے میں بھی معاون ثابت ہوئے۔ ان کا نامکمل تعلیمی سلسلہ اس جنگ کے بعد 1945 ء میں دوبارہ شروع ہوا اور انہوں نے پانچ برس ماسکو میں مشہور زمانہ روسی ادیب اور سوشلسٹ رئیلزم طرز ادب جی بانی، ”میکسم گورکی“ ( 1868 ء۔

1936 ء) کے نام سے منسوب ادبی ادارے ”گورکی انسٹیٹیوٹ برائے عالمی ادب“ میں تعلیم حاصل کی، جہاں سے 1950 ء میں فارغ التحصیل ہوئے، جہاں ان کی سنگت و صحبت لاتعداد روسی خواہ بین الاقوامی ادیبوں اور قلمکاروں کے ساتھ رہی۔ ان پانچ برس کے دوران مسلسل یکے بعد دیگرے ان کے شعری مجموعے شایع ہوئے، جنہوں نے انہیں نہ صرف سوویت یونین کی مختلف ریاستوں، بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں بھی متعارف کرایا اور ان کی شاعری خواہ نثر کے دنیا کی دیگر زبانوں میں بھی تراجم ہوئے اور ان میں سے کچھ، کتب کی صورت مختلف ممالک سے شایع بھی ہوئے۔ جنہوں نے انہیں ایک عالمی شاعر کے طور پر مقبول اور نامور بنا دیا۔ ان کے لکھے معروف روسی گیت ”زہوراولی“ کو مشہور عالم سوویت نغمے کے طور پر شہرت ملی۔ اس کے علاوہ بھی رسول کے کئی گیت عوام میں بے حد مقبول ہوئے، جو آئندہ طویل عرصے تک لبوں پر بکھرتے رہیں گے۔

رسول حمزہ تو ف بجا طور پر ایک عوامی شاعر تھے۔ ان کی شاعری صدیوں کی روایات اور لوک ذہانت کا تسلسل ہونے کے ساتھ ساتھ جدت کا اظہار بھی ہے۔ حب الوطنی ان کے شعر کا مستقل رنگ ہے، جو ان کی تمام شاعری میں واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ وہ بڑے شاعر تو تھے ہی، مگر اپنے مجازی محبوب خواہ محبوب وطن کے ساتھ رغبت و محبت کا مجسم اظہار بھی تھے، جنہوں نے اپنے دیس ”داغستان“ ، اپنے گاؤں ”سدا“ اور اپنی مادری زبانوں ”آوار“ اور ”روسی“ کے ساتھ پیار کا جو عملی اظہار کیا، اس نے تمام عالم ادب کو ان کے طفیل داغستان اور آوار سے عشق میں مبتلا کر دیا اور ان کی زبان خواہ دیس کو عالمگیر بنا دیا۔

وطن کی یہ مستقل محبت، ایک نہج پر آ کر، انقلاب کی چنگاری بن کر ان کے کلام کا خاصہ اور انفرادیت بن گئی۔ ان کے پاس رومان کے موضوعات میں لوگوں کے مابین محبت کے ناتے، انقلابی آدرشوں اور ان کے حصول کے لیے ہر حد تک جانے کا پیغام انہیں عوام میں مزید مقبول بنانے کا محرک بنا۔ انہوں نے دنیائے ادب کو نہ صرف ”میرا داغستان“ جیسا شاندار نثری مجموعہ اور ”میرا سال پیدائش“ جیسا خوبصورت مجموعۂ کلام دیا، بلکہ دیگر تخلیقات کے ساتھ ساتھ روس کے روشن خیال شاعر اور ڈراما نویس ”الیگزینڈر پشکن“ ( 1799 ء۔

1837 ء) ، معروف روسی رومانوی شاعر اور مصور ”میخائل لیرمونتوف“ ( 1814 ء۔ 1841 ء) اور منجھے ہوئے روسی انقلابی شاعر اور مستقبلیت (فیوچرزم) کے سب سے بڑے حامی و پیروکار ”ولادمیر مایا کوفسکی“ ( 1893 ء۔ 1930 ء) کی تخلیقات کو اپنی مادری ”آوار“ میں بھی ترجمہ کیا، جو ان کی جانب سے کیے گئے ترجموں کی اعلیٰ مثالیں ہیں اور انہیں اعلیٰ درجے کے مترجم کے طور پر بھی متعارف کراتی ہیں۔

رسول حمزہ تو ف، ”انجمن مصنفین داغستان“ کے طویل مدت کے لیے چیئرمین بھی رہے۔ انہیں حکومت روس کی جانب سے نہ صرف ”اسٹالن انعام“ ( 1952 ء) ، ”لینن پیس پرائز“ ( 1963 ء) ، ”ہیرو آف سوشلسٹ لیبر“ ( 1964 ء) ، ”آرڈر آف سینٹ ایڈریو“ ( 2003 ء) جیسے اعلیٰ ترین سرکاری اعزازات دیے گئے، بلکہ ان کی وفات کے 11 برس بعد 2014 ء میں ان کے نام سے منسوب سالانہ ”رسول حمزہ تو ف ایوارڈ“ کا اجراء بھی کیا گیا ہے، جو ہر سال روس کے باصلاحیت شعراء کو دیا جاتا ہے۔ انہیں عالمی سطح پر بھی ”لیرمونتوف ایوارڈ“ اور ”فردوسی ایوارڈ“ سمیت لاتعداد اعزازات سے نوازا گیا۔ منجانب بھارت انہیں ”جواہر لال نہرو ایوارڈ“ بھی دیا گیا۔

رسول حمزہ تو ف نے 80 برس کی عمر میں 3 نومبر 2003 ء کو روس کے دارالحکومت ماسکو میں دنیا سے الوداع کہا۔ داغستان کے اس سودائی کو ہم سے بچھڑے لگ بھگ ساڑھے 16 برس بیت چکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *