پرواز پی کے 8303

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شہادت کا رتبہ بہت عظیم سہی، والدین کبھی بھی اتنا حوصلہ نہیں رکھتے کہ جوان اولاد کی شہادت کی عظمت اپنے نحیف کندھوں پہ اٹھا سکیں۔ شہادت کی موت ہر ایک کا خواب ہو سکتی ہے لیکن ایک ماں ”خواب“ میں بھی اپنے بچے کی موت دیکھے تو اس کی روح تک لرز جاتی ہے۔ جب اولاد کے ”لاشے“ باپ کو وصول کرنے پڑ جائیں تو شہادت کی عظمت میں سر بے شک ”اٹھا“ ہو لیکن اولاد کی موت کا دکھ کندھے ”جھکا“ دیتا ہے۔ ساری عمر اولاد کو کندھوں پہ اٹھانے والے والدین عمر کے کسی بھی حصے میں اولاد کی ”میت“ کا بوجھ اٹھائیں تو جیتے جی مر جاتے ہیں۔

اولاد کی مرگ وہ واحد موت ہے جہاں مذہب بھی گریہ کی اجازت دیتا ہے۔ موت ”برحق“ سہی لیکن ”ناحق“ موت قتل کہلاتی ہے چاہے اس قتل کو ”شہادت“ کا لبادہ ہی کیوں نہ اوڑھا دیا جائے۔ کسی ادارے کی نا اہلی اور کرپشن کو چھپانے کے لئے سارا الزام مرنے والے کے سر تھوپ دیا جائے تو بھی ادارے کی ”نا اہلی“ پہ سوال ضرور اٹھتا ہے۔

بائیس مئی دو ہزار بیس کا دن ساری دنیا وقت کے ساتھ بھول جائے گی لیکن وہ لوگ کبھی نہیں بھول سکیں گے جن کے پیارے عید ملنے کی چاہ میں مٹی میں جا ملے۔ پی کے 8303 کی وہ پرواز جو منزل سے فقط ”ایک منٹ“ قبل کسی اور ہی منزل پہ روانہ ہو گئی۔ کئی نگاہیں جو منتظر تھیں اپنے پیاروں کی دید کے لئے، اب وہ ان کی لاشیں شناخت کرتی ہیں۔ راکھ ہوئے بدن، سیاہ ہو چکی ہڈیاں، جل چکا خون پہچان کے سارے رنگ نگل چکا ہے۔ اپنے پیاروں کے لئے منتظر بانہیں ساری عمر کے لئے وا بھی رہ جائیں تو جانے والے لوٹ کے نہیں آئیں گے۔

99 مسافروں بشمول عملے کے سوائے دو کے باقی سب جان سے گئے۔ سب کو شہادت کے درجے سے سرفراز کر دیا گیا ہے۔ زندہ رہ جانے والے خوش نصیبوں کے لئے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا کہ وہ بھی ”غازی“ کا لقب پا سکیں گے یا نہیں؟ لاجواب سروس کے با کمال لوگ تکنیکی اور فنی خرابی کا رخ کسی اور ہی جانب موڑ دینے پہ بضد ہیں۔ ہماری لاجواب سروس کے با کمال لوگوں کی یہی تو خوبی ہے کہ آج تک جتنے بھی حادثات ہوئے ہیں سب کی ذمہ داری مرنے والوں کے سر تھوپ کر ”رپورٹ“ منظر عام پر لانے سے بری الزمہ ہو جاتے ہیں۔ پھر نیا حادثہ نئی زندگیاں نگل لیتا ہے، پرانے دکھ کچھ دیر کے لئے نئے ہوتے ہیں، آہیں، بین سسکیاں کچھ عرصہ سنائی دیتی ہیں اور گزرتا وقت اس پہ دھول ڈال دیتا ہے۔

آپ کپتان کے والدین اور بچوں کو سوال اٹھانے سے روک سکتے ہیں ساری دنیا کو نہیں۔ ہم جو دیار غیر میں بستے ہیں کہیں منہ چھپانے کے قابل بھی نہیں رہتے جب ہم سے سوال کیا جاتا ہے کہ پی آئی اے کے طیارے اکثر حادثات کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں؟ جب ہمارے اپنے بچے ہم سے سوال کرتے ہیں کہ ہم اپنے ملک کی ائرلائن استعمال کیوں نہیں کرتے؟ ایک آٹھ سال کا بچہ جب یہ سوال کرے کہ پی آئی اے کا مستقبل کیا ہے؟ اور خود ہی جواب دے کہ لگتا ہے یہ ائر لائن ختم ہو جائے گی تو شرم سے ”ڈوب مرنے“ کا مقام ہوتا ہے۔

ہماری رہائش ائر پورٹ سے زیادہ دور نہیں ہے، بمشکل دو منٹ کی فلائٹ سے جہاز ہمارے گھر کی کھڑکی سے گزرتا ہے۔ معمول کے حالات میں ہر پانچ منٹ بعد نیا جہاز گزرتا ہے، آج کل حالات کے باعث کچھ فرق پڑا ہے۔ لاک ڈاؤن کے باعث ہمارے بچوں کی واحد تفریح جہاز دیکھ اسے گوگل پہ ٹریک کرنا ہے۔ اگر کسی جہاز کی پرواز اور آواز میں رتی برابر فرق ہو تو ہم سب سے پہلے محسوس کرتے ہیں۔

طیارہ جہاں گر کر تباہ ہوا وہاں کے لوگوں کے مطابق پرواز اور آواز معمول سے ہٹ کر تھی۔ مرنے والے چلے گئے، زندہ رہ جانے والوں پہ اتنی ”عنایت“ کیجئے کہ انہیں مزید کوئی دکھ نا دیجئے۔ حادثے کی شفاف تحقیقات کروائیے اور ذمہ داروں کو کڑی سزا دلوائیے تاکہ پردیسی آپ کی ائر لائن کے دفاع کی بجائے اس پر سفر کرنے کو ترجیح دیں۔ پرانی حکومتیں ہر برائی کی ”جڑ“ سہی، آپ کوئی نیا کام کیجئے۔ پرانی لکیر پیٹنے کی بجائے نئی لکیر لگا دیجئے۔ جاپان کی طرح اس ”حادثے“ سے سبق حاصل کیجئے اور اس نمبر کی پرواز کو دوبارہ مت اڑائیے تاکہ ہم بھی کبھی باکمال لوگوں کی لاجواب سروس سے مستفید ہو سکیں کہ ہمیں نا تو ایسی شہادت کی تمنا ہے اور نا ہی ایسے حادثے سے بچ کر ”خوش نصیب کہلانے کا کوئی شوق۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply