بھارت کو تاریخی رسوائی پر شرم نہیں آتی!


چین نے بھارت کے ساتھ وہی کیا جو ایک آزاد ’خود مختار غیرت مند ریاست کو زیب دیتا ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی طرح لداخ کا سٹیٹس تبدیل کرنے کی کوشش کی اور اس کے فوجیوں نے لداخ کی سرحد پر متنازعہ علاقے میں خرمستیاں شروع کر دیں‘ چین نے ایک دو بار وارننگ دی کہ بھارت اپنی چھیڑ خانیوں سے باز رہے، مگربھارتی حکومت نے شریفانہ تنبیہ کی پروا نہ کی اور اپنی چھیڑ چھاڑ جاری رکھی، جس کے نتیجہ میں بھارتی فوج کو بہت زیادہ رسوائی بھگتنا پڑی ہے۔

بہادر چینی فوجیوں نے نہ صرف متنازعہ علاقے میں موجود بھارتی فوجیوں کی خوب پٹائی کی ہے، بلکہ درجنوں کو گرفتار بھی کیا ہے، چین نے بار بار باضابطہ اپیل پر گرفتاربھارتی فوجی تو رہا کر دیے، مگر علاقہ خالی نہیں کیا ہے، اب بھارتی افواج چینی فوج کا مقابلہ کرنے کی بجائے ایک بینر لہرا کر علاقہ خالی کرنے کی اپیل کرتی نظر آتی ہیں۔ یہ ہندو بنیے کی خصلت میں شامل ہے کہ پہلے وہ مخالف پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن جب مخالف اپنے موقف پر ڈٹ جائے تو پھر منت سماجت پر اتر آتا ہے۔

یہ امر واضح ہے کہ بھارت اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ امن و سکون کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتا ہے، اس نے پا کستان سمیت دیگر تمام ہمسائیہ ممالک کی سر حدوں پر اپنی جارحانہ سر گرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ پا کستان کا جواب تو کنٹرول لائن پر گولی کے بدلے گولی تک محدود رہا ہے، مگر چین نے بھارتی فوج کو گھٹنے ٹیکنے اور پاؤں پڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کی طرح لداخ کو بھی تر نوالہ سمجھ رہا تھا، اس کے فوجیوں نے لداخ کی سرحد پر متنازعہ علاقے میں خرمستیاں شروع کیں تو چین نے ایک دو بار وارننگ دی، مگر امریکی شہ پر بھارتی حکومت نے شریفانہ تنبیہ کی پروا نہ کرتے ہوئے چھیڑ چھاڑ جاری رکھی، اس پر بہادر چینی فوجیوں نے متنازعہ علاقے میں موجود بھارتیوں کی نہ صرف پٹائی کی، بلکہ درجنوں کو گرفتار بھی کیا اور علاقے میں ٹینٹ لگا کر بیٹھ گئے ہیں۔

بھارتی فوج مقابلہ کرنے کی بجائے منت سماجت پر اتر آئی ہے، جبکہ میڈیا پر چین کے خلاف پراپیگنڈا مہم چل رہی ہے، مگر اس میں نہ بھارتی علاقے پر غیر قانونی قبضے کا واویلا ہے اور نہ بھارتی فوج، اسلحہ و علاقائی برتری کے دعوئے، البتہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ایک بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ پاک افواج ہر قسم کی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے، پاکستان آرمی چیف نے بھی پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کا یقین دلا یا ہے۔ پاکستان اور چین دونوں کے لئے لداخ اہمیت کا حامل ہے، بھارت گلگت بلتستان پر حملے، سی پیک روٹ اور دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹ کے لئے لداخ سے کوئی مہم جوئی کر سکتا تھا، اس خطرے کے پیش نظرچین نے کارروائی کرتے ہوئے رداندازی کا راستہ بند کیا ہے۔

بھارت کا علاج بھی صرف یہی ہے کہ اس کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کی جائے، جب تک پا کستان آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرتا رہا، بھارتی حکمرانوں نے کبھی متکبرانہ انداز اختیار نہ کیا، مگر جب پاکستانی حکمران اشرافیہ نے بڑے بھائی اور چھوٹے بھائی کی تکرار شروع کرتے ہوئے بھارتی حکمرانوں اور ان کے بیرونی سرپرستوں کی خوشنودی پر کم کس لی تو مودی اینڈ کمپنی کے تیور بدل گئے ہیں، انہوں نے جموں و کشمیر کا سٹیٹس تبدیل کرنے کے علاوہ ایک کروڑ کشمیریوں کو گھروں میں قید کر دیا ہے، تاریخ میں ایسے کسی فوجی لاک ڈاؤن کی مثال نہیں ملتی کہ ایک کروڑ زندہ انسانوں کو گھروں میں بند کر کے فوجی پہرہ لگا دیا جائے۔ قدرت کورونا وباکے ذریعے پورے ہندوستان کو لاک ڈاؤن کے انجام سے دوچار کیا، بلکہ مسلم اور غیر مسلم کی تمیز کے بغیر دوسو سے زائد ممالک کو ایسے ہی لاک ڈاؤن کا مزہ چکھایا ہے، مگر اس کے باوجود کوئی اصلاح احوال پر آمادہ نہیں ہے۔

یہ امر باعث شرم ہے کہ دنیا لاک ڈاؤن کی اذیت برداشت کرنے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے لاک ڈاؤن پر خاموش ہے، بھارت سدھرا ہے نہ اس کے مغربی سرپرستوں میں سے کسی کو شرم آئی ہے۔ پاکستان نے زبانی کلامی ہی سہی، پرزور احتجاج جاری رکھا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی جنرل اسمبلی میں کھڑے ہو کر عالمی برادری کو شرمندہ کیا، مگر عالمی برادری ذاتی مفادات کے پیش نظر شرمندگی سے عاری نظر آتی ہے۔ ہمارے کنٹرول لائن پر فوجی اور شہری آئے روز شہید ہورہے ہیں اور ہم بھارتی سفیر کے علاوہ عالمی مبصرین کے ہاتھ میں ایک مراسلہ تھما کر مطمئن و شاد رہتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ لاتوں کے بھوت، باتوں سے نہیں مانیں گے۔

ہمارے چینی بھائیوں کو بآسانی یہ بات سمجھ آ گئی تھی، اسی لیے بھارتی فوجیوں کی دوڑیں لگائیں، لیکن ہم اب تک سمجھ نہیں پارہے ہیں کہ بھارت کی جارحیت کا کیسے جواب دیا جائے۔ بھارت مسلسل خطے کو ایٹمی جنگ کی جانب دھکیلنے کے در پے ہے اور عالمی ادارے و بین الاقوامی قوتوں سمیت کوئی اس کا ہاتھ روکنے والا نہیں، جبکہ بھارت کے جنگی جنون کی سزا کشمیری عوام بھگت رہے ہیں جن کا واحد جرم اسلام سے وابستگی اور پاکستان سے محبت ہے۔

اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے بچنے کی تدابیر میں مصرف ہے، جبکہ مودی سر کار جنوبی ایشیا کے پورے خطے کو جنگ کے شعلوں کی نذر کرنے پر تلی ہے۔ ایک طرف پا کستان تو دوسری جانب چین ایک بڑی ایٹمی طاقت ہے، بھارت دونوں سے جارحیت کرکے عالمی جنگ کو دعوت دے رہا ہے، اگریہ جنگ شروع ہوگئی تو محض خطے تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔ اس صورت حال کے پیش نظر پاک آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے بھی قوم کو یقین دلا یا ہے کہ پاک فوج غیر متزلزل عزم کے ساتھ فرض اداکرتی رہے گی اورکسی بھی جارحیت کے ذریعے متنازعہ حیثیت میں تبدیلی کی ہر کوشش کا قومی عزم و طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

ا گرچہ بھارتی فوجی برتری کا غرور پہلے ہی کشمیری عوام توڑچکے، چینی بھائیوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی، اس کے باوجود بھارت کو اپنی تاریخی رسوائی پر شر نہیں آتی، بلکہ بڑی بے شرمی سے دنیا امن و استحکام کو خطرے میں ڈالنے پر تلاہے، اب یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کی طرف سے اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحیت کی پا لیسی کی بھر پور مذمت کے ساتھ ممکنہ جنگ کو روکنے کے سنجیدہ عملی اقدامات کرے، ذرا سی دیر دنیا کو تباہی کے دہانے پر لانے کا سبب بن سکتی ہے۔

Facebook Comments HS