سیکورٹی سٹیٹ، کرنیل اور ٹھیکیدار وغیرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ لوگوں میں سے جو کوئی بھی حالات حاضرہ سے باخبر رہنے کی عادت بد میں مبتلا ہے اسے ”لوٹ گیا، کھا گیا، بھاگ گیا، نہیں چھوڑیں گے، پیٹ پھاڑ دیں گے“ وغیرہ جیسی بڑھکوں سے گزرتے ہوئے اور وزیر نامہ کی دلدل میں سے پائنچے اٹھائے چلتے ہوئے بھولے سے میڈیائی درشن پا لینے میں کامیاب ہونے والی ایسی خبروں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جو کچھ دیر کو منہ کا ذائقہ خراب کر دیتی ہیں اور کچھ دیر کو آپ کے جذبہ ترحم کو ابھارتی ہوئی ”ہور سناؤ کی حال اے“ کی عافیت پر آکر دم توڑ دیتی ہیں۔ ان زہریلی، کٹیلی خبروں کا موضوع عوام نامی مخلوق ہوتی ہے کچھ اس طرح:

ریلوے کراسنگ پر پھاٹک نہ ہونے کے باعث بچوں کی سکول وین ٹرین سے ٹکرا گئی، اتنے بچے ہلاک ؛ فارم ہاؤس میں گائے گھس آنے پر وزیر مکرم کے محافظوں نے غریب کے گھر پر دھاوا بول دیا، بچوں سمیت سارا کنبہ حوالات میں بند ؛ نمبر دار کی شکایت پر تھانے میں پرائمری سکول ٹیچر کی چھترول ؛ عید پر بچوں کو نئے کپڑے خرید کر نہ دے سکنے والے باپ نے خود کشی کر لی ؛ ماں نے گھریلو حالات سے تنگ آکر بچوں سمیت نہر میں چھلانگ لگادی ؛ نوجوان نے طویل بے روزگاری سے تنگ آ کر پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگادی ؛ غیرت کے نام پر نوبیاہتا دلہن کو شوہر سمیت بے دردی سے قتل کر دیا گیا ؛ توہین مذہب کے شک میں اہل علاقہ نے عیسائیوں کی بستی کو نذر آتش کر دیا ؛ توہین رسالت کے الزام میں قید شخص کے وکیل کو اس کے دفتر میں گھس کر گولیاں مار دی گئیں ؛ فلاں فلاں ٹی وی چینل کو کینٹ کے علاقوں میں آف ائر کر دیا گیا، پیمرا کا اظہار لاعلمی ؛ کرونا وائرس سے طبی عملے سمیت نو سو بیس افراد ہلاک، ایک میجر شہید ؛ دہشت گرد حملے میں سیکورٹی فورسز کے چار جوان شہید، تین راہ گیر جاں بحق ؛ بلوچستان کے فلاں مقام پر مسخ شدہ لاشیں برآمد، مقتولین کو گھروں سے اٹھایا گیا تھا ؛ نہر کنارے سے صحافی کی تشدد زدہ لاش برآمد ؛ موٹر وے پر ”ادارے“ کے افسر کی کار روکنے پر نامعلوم افراد نے تھانے پر حملہ کر دیا، عملے کو بھاگ کر جان بچانا پڑی اور پھر ایک سو چھبیس دن تک دھرنا دینے والے کرکٹر کی جگہ لینے کے لیے گیند چبانے والے کرکٹر کی سرپرستی شروع، وغیرہ وغیرہ۔

طبع نازک پر گراں گزرنے والی خبروں کا طومار ہی ”خبر زدہ“ قاری کی عافیت زدگی کو بدمزہ نہیں کرتا بلکہ اسے خبرناموں بیچ کچھ ناگوار اعداد و شمار سے بھی اکثر سابقہ پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر انسانی ترقی کے انڈیکس میں ڈیڑھ سو ملکوں میں پاکستان کا ایک سو اڑتالیسواں نمبر ؛ گزشتہ ایک سال میں غیر ملکی قرضوں میں ریکارڈ اضافہ ؛ صحافتی آزادی کے حوالے سے پاکستان بدترین ملکوں کی فہرست میں شامل ؛ مذہبی رواداری کے حوالے سے ملک کی درجہ بندی میں مزید کمی ؛ کرپشن کے انڈیکس میں مزید دو درجے تنزلی ؛ خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک اور بدترین سال ؛ ملک میں سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد اڑھائی کروڑ سے تجاوز کر گئی وغیرہ وغیرہ۔

یہ خبریں محض خبریں نہیں ہیں، یہ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک برقی تاریں ہیں جن کے پیچیدہ جال سے سیکورٹی سٹیٹ نامی روبوٹ میں توانائی کی لہریں دوڑانے کا شافی بندوبست کیا جاتا ہے۔ کوئی مجھ جیسا سادہ پوچھ سکتا ہے کہ سیکورٹی سٹیٹ ہے کیا؟ تو بھیا، سیکورٹی سٹیٹ ہٹلر کا جرمنی ہے، مسولینی کا اٹلی ہے، رابرٹ موگابے کا زمبابوے، بشار الاسد کا شام، صدام حسین کا عراق، قذافی کا لیبیا، سوہارتو کا انڈونیشیا، مارکوس کا فلپائن، سلوبودان میلوسووک کا سربیا، اور جانے کس کس کا سوڈان، صومالیہ، ایتھوپیا، روانڈا، چلی، کولمبیا، پاپوا نیوگنی، کمپوچیا، برما اور افغانستان ہے۔ اس فہرست کو آپ ربڑ کی طرح کھینچتے جائیں تو کھنچتی جائے گی اور جب چھوڑیں گے تو یہ ربڑ خود آپ کے منہ پر تڑاک سے آ لگے گا۔ البتہ ایک محب وطن شہری کی حیثیت سے آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ ”ہم زندہ قوم ہیں“ کا ورد کرتے ہوئے اپنے گریبان میں جھانکنے سے گریز کریں۔

معلوم نہیں کہ ماہرین سیاسیات اس باب میں کیا کہتے ہیں لیکن ہمارا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ ایک سیکورٹی سٹیٹ کو چند مخصوص نظریات کا پانی دیا جاتا ہے اور روشن خیالی کی دھوپ سے بچانے کے لیے اسے مخصوص نرسریوں میں پروان چڑھایا جاتا ہے۔ اس طرح کی ریاست پر چند مخصوص طبقات قابض ہوتے ہیں جو ہمہ وقت اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ طبقات اپنی طاقت عوام کی بجائے غیر ملکی طاقتوں سے کشید کرتے ہیں اور بعوض نان جویں ان کی ہر طرح کی خدمات سرانجام دینے پر مستعد رہتے ہیں۔

ان طبقات کو سب سے زیادہ خطرہ عوام سے ہوتا ہے جو کسی بھی وقت تاج اچھالنے اور تخت گرانے کا موڈ بنا سکتے ہیں سو ان کی متحدہ قوت کو توڑنے کے لیے انہیں گروہ در گروہ اور فرد در فرد بانٹ دیا جاتا ہے۔ یہاں تک یہ عوام قوم کی بجائے ایک ایسے ہجوم میں بدل جاتی ہے جس میں ہر فرد کا ایک ہاتھ دوسرے فرد کی جیب میں اور دوسرا ہاتھ اس کے گریبان میں ہوتا ہے۔ چونکہ سیکورٹی سٹیٹ مسلسل عدم تحفظ کا شکار رہتی ہے لہٰذا وہ انتشار زدہ ہجوم پر ہرگز اعتبار نہیں کرتی اور مناسب سمجھتی ہے کہ اس کے منہ میں حب الوطنی کی چوسنی ڈال کر اسے مصنوعی نیند سلا دیا جائے۔

کبھی کبھار یہ طبقات دل لگی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ چور سپاہی کا کھیل بھی کھیلتے ہیں جسے ”خبر زدہ“ عوام اکثر سیریس لینا شروع کردیتے ہیں۔ ایسی ریاست میں طاقت ہی بول چال کی زبان، طاقت ہی کرنسی اور طاقت ہی انصاف کا واحد پیمانہ ہوتی۔ یہاں آگے بڑھنے اور نمایاں ہونے کے لیے نام نہاد انسانی معیار کام نہیں آتے اس کی بجائے حسب نسب، عہدہ، وردی، کسی کو نقصان پہچانے اور دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی صلاحیت معاشرے میں آپ کے مقام کا تعین کرتی ہے۔ اس حوالے سے سب سے قابل رشک صلاحیت قانون کا جال توڑنے کی ہے۔ اگر آپ میں یہ ہمت ہے تو فبہا، آپ کے لیے سلامتی ہی سلامتی ہے۔

تو بھیا جی، اگر ایک کرنیل کی زوجہ محترمہ نے ہزارہ موٹر وے میں کوئی سین پاٹ کر دیا ہے یا کسی ٹھیکیدار کی بیٹی نے کسی گھر میں گھس کر ہلکا پھلکا ڈرامہ کر دیا ہے تو اس میں واویلا کیسا؟ کیا ان کا حق نہیں کہ جہاں اور لوگ اپنی اپنی جگہ پر طاقت کے مظاہرے میں مصروف ہیں وہ بھی شیریں کلامی اور سبک دستی کا مظاہرہ کرسکیں۔ آپ کو تو الٹا اس کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے آپ کو وہ سبق یاد دلا دیا جو آپ سوشل میڈیا اور انسانی حقوق کے پراپیگنڈے میں اکثر بھول جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *