رویت ہلال اور مفتی منیب الرحمٰن پر اعتراضات کا جواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے تو اس بار چاند کے معاملہ پر مفتی منیب بمقابلہ فواد چودھری کا ”ٹرینڈ“ زیر گردش رہا مگر معاملہ فواد چودھری تک محدود نہیں ہے۔ مفتی منیب الرحمٰن کا نجانے اس معاملے پر کس کس سے مقابلہ ہوتا ہے۔ کبھی یہ ٹرینڈ مفتی منیب بمقابلہ مفتی پوپلزئی ہو جاتا ہے، کبھی مفتی منیب بمقابلہ سلیم صافی، کبھی مفتی منیب بمقابلہ سوشل میڈیا، کبھی مفتی منیب بمقابلہ سائنس اور جانے کیا کیا۔

اگر بات مفتی منیب الرحمٰن سے شروع کی جائے تو مفتی منیب الرحمٰن کی ذات نہ صرف مسلکی، علاقائی و گروہی عصبیتوں سے پاک نظر آتی ہے بلکہ بارہا ایسے مواقع آئے جب تمام مسالک کی قیادت نے مفتی منیب الرحمٰن پر نہ صرف مکمل اعتماد کا اظہار کیا بلکہ ان کی تقرری بطور چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کو بھی جاری رکھنے پر اصرار کیا۔ اگر کوئی محض تعصب کا شکار ہو کر مفتی صاحب کی ذات پر کیچڑ اچھالے تو یہ اس کی تربیت کا شاخسانہ ہو سکتا ہے، اس سے آگے کچھ نہیں۔ اگر دین و شریعت اور رویت ہلال سے متعلق چند بنیادی اصولوں کا سرسری سے بھی مطالعہ کر لیا جائے تو علم ہو جاتا ہے کہ اس ساری لڑائی میں کون درست ہے اور کون غلط، کون شرعی اصولوں کی پاسداری کو مقدم رکھ رہا ہے اور کون اپنی خواہش نفس اور انا کی تسکین کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں رویت ہلال کمیٹی پر ہونے والے عمومی اعتراضات کی۔ اک عام اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ پچاس سال پرانی دوربین سے چاند کو تلاش کیا جا رہا ہے۔ اب یہاں دو صورتیں ہیں، ایک تو یہ کہ کیا جدید اور جدید ترین دوربین اس چاند کو بھی لا حاضر کرتی ہے جو پیدا ہی نہیں ہوا؟ یا جس کے نظر آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں؟ دوم، اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ دوربین پچاس سال پرانی ہے (اگرچہ ایسا نہیں ہے ) تو کیا پچاس سال پرانی چیز کام نہیں دے سکتی؟

دوربین خواہ سو سال پرانی ہو، اس کا کام دور کی چیز کو نزدیک کر کے دکھانا ہے، دوربین کے معاملے میں تاحال کوئی جدت نہیں ہوئی، ماسوائے یہ کہ کتنی دور کی چیز دکھا سکتی ہے۔ اگر پچاس سال پہلے اس سے چاند دیکھا جا سکتا تھا، تو آج بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ چاند کو ایک مخصوص سمت میں تلاش کیا جا رہا ہوتا ہے، ممکن ہے کہ وہ فلک پہ کہیں اور موجود ہے۔ یہ نہایت بودا اعتراض ہے، چاند کے نظر آنے کے امکانات اور جگہ کا تعین متعلقہ محکموں کی طرف سے کیا جاتا ہے، اسی لیے دوربین کا رخ ایک مخصوص جگہ پر ہوتا ہے۔ تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ مفتی صاحبان خود چشمے لگا کر دور نزدیک کی چیزیں دیکھتے ہیں وہ آسمان میں چاند کیسے تلاش کر سکتے ہیں، ایسے اور اس قسم کے اعتراضات کو جس قدر چاہیں بڑھا لیں، ان پر کسی کی کبھی تشفی نہیں ہو سکتی۔

اب آتے ہیں، مفتی منیب بمقابلہ مفتی پوپلزئی پر۔ اگر مفتی پوپلزئی کے دلائل کا جائزہ لیا جائے تو اس حد تک تو ان کی بات درست ہے کہ جب کوئی رویت ہلال کی شہادت آ جاتی ہے تو شریعت یہی کہتی ہے کہ کم از کم ایک یا دو شہادتوں کو تسلیم کرتے ہوئے رمضان؍ عید کا اعلان کر دیا جائے۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ مفتی پوپلزئی کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ چاند دیکھیں، رمضان، عید کا اعلان کریں اور ریاست کے متوازی ادارہ قائم کریں؟

اگر کل کو کوئی شخص پشاور میں قاضی عدالت لگا کر بیٹھ گیا اور لوگوں کے فیصلے کرنے لگا تو کیا ریاست اسی طرح تماشا دیکھے گی جیسے ابھی دیکھ رہی ہے؟ یا یہ معاملہ صرف رویت ہلال کے لئے ہی مخصوص ہے؟ ایک ایسے ملک میں جہاں لوگ پیسوں کے لیے جھوٹی گواہیاں اور حلف دیتے ہوں، جو جھوٹ اور بددیانتی میں آخری حدود کو چھوتا ہو، وہاں ہر ایرے غیرے کی گواہی قبول کرنا چے معنے دارد؟ وہ بھی ایسے حالات میں جب تمام تر سائنسی شواہد چاند کے پیدا نہ ہونے یا نظر نہ آنے پر متفق ہوں۔ خالی گواہی کو ماننا بھی درست نہیں بلکہ اس پر جرح کی جاتی ہے اور یہی کام مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرتی ہے۔

یہاں اگر میڈیا ذرا سی ہوشیاری کا مظاہرہ کرے تو آن سکرین جھوٹ کا پردہ چاک کیا جا سکتا ہے۔ چاند دیکھنے کی شہادت دینے والوں تمام افراد کا انٹرویو ریکارڈ کیا جائے کہ انہوں نے چاند کس وقت اور کس جگہ دیکھا، پھر ان تمام بیانات کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو علم ہو جائے گا کہ یہ سب جھوٹ کا پلندا ہے۔ ہمارے یہاں اس حوالے سے ایک جھوٹ بڑا تواتر سے بولا جاتا ہے کہ میں نے غروب آفتاب کے فوری بعد چھت پر جاکر چاند دیکھا۔ درست وقت کوئی نہیں بتاتا، سب کا ایک ہی بیان ہوتا ہے کہ غروب آفتاب کے فوری بعد۔ ایسے میں بھی اگر سمت کا تعین ہو جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

یہ واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کے مطابق (انتیسویں رات ) چاند اس وقت تک دکھائی نہیں دیتا جب تک کہ اس کی عمر غروب آفتاب کے وقت کم از کم 19 گھنٹے اور غروب شمس و غروب قمر کا درمیانی فرق کم از کم 40 منٹ نہ ہو جائے۔ اس کے بعد بھی چاند کا زمین اور سورج ’دونوں سے مخصوص زاویے پر ہونا ضروری ہے۔ لیکن یہاں عالم یہ ہے کہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو تو اس وقت بھی جبکہ چاند پیدا ہی نہ ہوا تھا ( 22 مئی کو جب باقی پاکستان کا اٹھائیسواں روزہ تھا) صرف حیدر خیل سے ہی 9 شہادتیں مل گئیں جن کی تصدیق مفتی صاحب کی ”ذیلی کمیٹی“ کے پانچ علما حضرات نے کی۔

وہ الگ بات کہ جب سعودی عرب نے روزے کا اعلان کر دیا تو مفتی پوپلزئی نے بھی ان تمام شہادتوں کو رد کرتے ہوئے چاند نظر نہ آنے کی بنیاد پر تیس روزے کرنے کا اعلان کر دیا۔ حالانکہ ہفتہ 18 اگست 2012 ء کو میرانشاہ اور بعض دوسرے علاقوں میں ایسی ہی ”شہادتوں“ پر عیدالفطر کی گئی تھی جبکہ اس دن سعودی عرب سمیت پورے ریجن میں روزہ تھا۔ مخصوص علاقے کے لوگوں کی شہادت رد کرنے کا جو اعتراض مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور مفتی منیب پر کیا جاتا ہے وہی اعتراض مفتی پوپلزئی پر کیوں نہیں کیا گیا؟ یا مفتی منیب پر تنقید کوئی قومی شغل ہے کہ جس کا دل کرتا ہے کہ مفتی منیب الرحمٰن کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیتا ہے، کچھ تو ایسے کوڑھ ہوتے ہیں کہ اس معاملے میں واجبی سا علم بھی نہیں رکھتے اور گلا پھاڑ پھاڑ کر مفتی منیب پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔

جو لوگ رویت کے معاملے میں مفتی پوپلزئی کی اقتدا اختیار کرتے ہیں انہیں بھی علم ہونا چاہیے کہ ”روزہ کا دن وہی ہے جس دن تم روزہ رکھو، افطار (عید کا ) دن وہی ہے جس دن تم افطار کرو“ امام ترمذیؒ اس حدیث کی روایت کے بعد فرماتے ہیں کہ بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ روزہ اور عید کا معاملہ جماعت اور امت کی اکثریت ساتھ ہے۔ امام صنعانی، امام ابن القیم، امام ابو الحسن سندھی، امام البانی سمیت جمہور علما کا یہی موقف ہے بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص خود اپنی آنکھوں سے چاند دیکھتا ہے مگر امام اس کی گواہی کو رد کر دیتا ہے تو اس کے حق میں بھی یہ امور یعنی روزہ رکھنا، عید منانا اور قربانی کرنا ثابت نہ ہوں گے اور اس بارے میں جماعت کی اتباع ہی واجب ہو گی۔

اس ضمن میں حضرت عثمانؓ اور حضرت عبداللہؓ بن مسعود کا واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عثمانؓ نے منیٰ میں چار رکعت نماز پڑھائی تو حضرت عبداللہؓ بن مسعود نے ان پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا : ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ، حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت ہی پڑھتے رہے اور حضرت عثمانؓ کے ابتدائی دور خلافت میں بھی دو ہی رکعت پڑھتے رہے اور اب وہ پوری نماز (چار رکعت) پڑھا رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ مجھے تو یہ پسند ہے کہ میری دو ہی رکعتیں جو اللہ کو مقبول ہو جائیں وہ چار رکعتوں سے بہتر ہیں، لیکن جب خود حضرت عبداللہؓ بن مسعود نے نماز پڑھی تو چار رکعت ہی پڑھیں۔ اس پر ان سے کہا گیا کہ ایک طرف آپ حضرت عثمانؓ پر اعتراض کر رہے ہیں اور دوسری طرف آپ خود بھی چار رکعت ہی پڑھ رہے ہیں؟ حضرت عبداللہؓ بن مسعود کا جواب تھا کہ ”الخلاف شر“ یعنی اختلاف بری چیز ہے۔

(یہاں یہ واضح رہے کہ دور عثمانی میں ابتدائی نو برس تک منیٰ میں قصر نماز ہی ادا کی جاتی رہی۔ البتہ دسویں برس حضرت عثمانؓ نے پوری نماز یعنی چار رکعات پڑھائیں اور لوگوں کے استفسار پر فرمایا کہ میں نے مکہ میں نکاح کیا ہے اور میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ جو کسی شہر میں نکاح کر لے وہ مقیم جیسی نماز پڑھے۔ (مسند احمد) اسی طرح ایک جگہ آتا ہے کہ آپؓ نے نماز کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! سنت وہی ہے جو رسول اللہﷺ اور آپ کے دونوں اصحاب (سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ) سے ثابت ہے۔ لیکن اس سال لوگوں کی وجہ سے رش ہوا ہے، (یعنی کافی تعداد میں نو مسلم بھی نماز میں شریک ہیں ) لہٰذا مجھے یہ خوف ہوا کہ یہ لوگ اسے (مستقلاً) ہی نہ اپنا لیں (یعنی اپنے گھروں میں بھی چار کے بجائے دو فرض پڑھنے نہ لگ جائیں ) ، اسی لیے میں نے چار رکعات پڑھائیں۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی)

جب ریاست نے کسی معاملے میں اہتمام کر رکھا ہو، جیسے چاند دیکھنے کا تو اس میں بہرصورت ریاست کی اتباع ہی لازم و ملزوم ہے، جو لوگ ”طاغوتی ریاست“ کی اصطلاح سے اپنے آپ کو تسلی دیتے ہیں، انہیں باقی معاملات میں بھی پھر ”طاغوت“ والا رویہ ہی روا رکھنا چاہیے۔

کچھ طبقات کا خیال ہے کہ ہمیں چاند کے معاملے میں سعودی عرب کی تقلید کرنی چاہیے حالانکہ حدیث شریف میں صریحاً یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر شہر (ملک) کی اپنی رویت ہوتی ہے۔ حضرت کریب بیان کرتے ہیں میں شام میں تھا تو اسی درمیان رمضان کا چاند نکل آیا، ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا، پھر میں مہینے (رمضان) کے آخر میں مدینہ آیا تو ابن عباسؓ نے مجھ سے وہاں کے حالات پوچھے، پھر انہوں نے چاند کا ذکر کیا اور کہا: تم لوگوں نے چاند کب دیکھا تھا؟

میں نے کہا: ہم نے اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا اور لوگوں نے روزے رکھے، اس پر ابن عباسؓ نے کہا: لیکن ہم نے اسے ہفتہ کی رات کو دیکھا، تو ہم برابر روزے سے رہیں گے یہاں تک کہ ہم تیس دن پورے کر لیں یا ہم 29 کا چاند دیکھ لیں۔ تو میں نے کہا: کیا آپ معاویہؓ کے چاند دیکھنے اور روزہ رکھنے پر اکتفا نہیں کریں گے؟ انہوں نے کہا: نہیں! ہمیں رسول اللہﷺ نے ایسا ہی حکم دیا ہے۔ (صحیح مسلم 2528، سنن ابی داود 2332، سنن النسائی 2113، مسند احمد)

اس حدیث کی تشریح میں امام ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ہر شہر والوں کے لیے ان کے خود چاند دیکھنے کا اعتبار ہو گا۔ موجودہ دور میں ایک رویت پر ایک ملک کے لوگوں کے اکتفا کا اجتہاد کیا گیا ہے۔

بعض لوگ رمضان؍ عید کے بعد چاند دیکھ کر یہ کہتے پھرتے ہیں کہ چاند فلاں تاریخ کا تھا، یعنی رویت ہلال کمیٹی نے غلط عید کرائی یا غلط روزہ رکھوایا۔ تو عرض یہ ہے کہ حدیث سے رجوع کریں، ایسے تمام مسائل کا حل وہاں موجود ہے۔

ابو البختری بیان کرتے ہیں کہ ہم عمرہ کو نکلے اور جب بطن نخلہ پہنچے (ایک مقام کا نام) تو سب نے چاند دیکھنا شروع کیا اور بعض نے دیکھ کر کہا کہ یہ تین رات کا چاند ہے (یعنی بڑا ہونے کے سبب) اور بعض نے کہا دو رات کا ہے، پھر ہم سیدنا ابن عباسؓ سے ملے اور ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے پوچھا کہ تم نے کون سی رات میں دیکھا؟ تو ہم نے کہا: فلاں فلاں رات۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دیکھنے کے لیے بڑھا دیا اور وہ اسی رات کا تھا جس رات تم نے دیکھا۔ (صحیح مسلم 2529 )

یہ حدیث امام مسلمؒ نے جس باب میں باندھی ہے، اس کا عنوان ہی یہ رکھا ہے کہ ”چاند کے چھوٹے بڑے ہونے کا اعتبار نہیں اور جب بادل ہوں تو تیس دن شمار کر لیا کرو“ ۔ اس حوالے سے گزشتہ برس مفتی طارق مسعود کا بھی ایک بیان سننے کو ملا تھا، اس میں بھی مفتی صاحب نے یہی بتایا کہ لوگ مجھے فون کر کے کہتے ہیں کہ ہلال تو اتنی دیر نظر ہی نہیں آتا، ہم اسے اتنی دیر سے دیکھ رہے ہیں، ہماری عید غلط کرا دی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اس کے جواب میں مفتی طارق مسعود کا بھی یہی جواب تھا کہ چاند کو انتیس کو نظر آنا تھا لیکن اگر وہ کسی وجہ سے نظر نہیں آ سکا تو جو چاند تیس کی رات کو نظر آئے گا وہ پہلی کا نہیں بلکہ (اپنی پیدائش کے اعتبار سے ) دوسری رات کا ہو گا۔ یہ کامن سینس کی بات ہے مگر لوگ یہ بھی نہیں سمجھ سکتے۔

اب تو اس کی سائنسی توضیح بھی موجود ہے۔ امسال شوال کا چاند 22 مئی کو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات 10 بج کر 39 منٹ پر پیدا ہوا۔ ہفتہ 23 مئی کی شام غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر پاکستان کے تمام علاقوں میں 20 گھنٹوں سے کچھ زائد تھی، ایسے چاند کا نظر آنا ناممکن تو نہیں البتہ مشکل ضرور ہوتا ہے۔ بہرحال اسے چند لوگوں نے دیکھا اور ایک مقام پر جم غفیر نے اسے دیکھا جس کی بنیاد پر رویت ہلال کمیٹی نے عید کا اعلان کیا لیکن اگر بالفرض یہ چاند دکھائی نہ دیتا تو جو چاند 24 مئی کی رات کو ہمیں دکھائی دیتا، اس کی عمر غروب آفتاب کے وقت پاکستان کے تمام شہروں میں 44 گھنٹوں سے بھی زائد ہو چکی ہوتی۔ پھر غروب شمس اور غروب قمر کا درمیانی فرق جو کم از کم 40 منٹ ہونا چاہیے وہ 95 سے 98 منٹ تک ہوتا اور چاند پورے ملک میں واضح طور پر دکھائی دیتا (ہوا بھی ایسا ہی) جس پر لوگ شک میں مبتلا ہو جاتے کہ یہ دوسری تاریخ کا چاند ہے حالانکہ مذہبی و سائنسی لحاظ سے وہ یکم ہی کا ہلال ہوتا۔

اسی کلیہ پر اگر مفتی پوپلزئی کو پرکھا جائے تو جو چاند انہیں 22 کو نظر نہیں آ سکا، وہ 23 مئی کو پورے ملک کو نظر آنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا، 23 مئی کو بھی خال خال ہی چاند نظر آیا، جس سے علم ہوتا ہے کہ مسجد قاسم کی دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔

باقی بچے فواد چوہدری صاحب تو ہفتہ 23 مئی کو سب سے بڑے اردو اخبار ”جنگ“ میں بیک پیج پر خبر کی سرخی ہی یہ تھی ”فواد چوہدری کا دعویٰ مسترد، عید پیر کو ہو گی، محکمہ موسمیات“ ۔ چونکہ چاند نظر آنے کے امکانات بہت محدود تھے، اسی وجہ سے محکمہ موسمیات سمیت متعلقہ اداروں کا خیال تھا کہ عید 25 مئی کو ہو گی۔ بہتر ہوتا اگر فواد چوہدری پہلے سے ٹویٹ کرنے کے بجائے جیوانی اور پسنی جا کر میڈیا کو چاند دکھاتے، چاند کی کوئی وڈیو، کوئی تصویر میڈیا میں جاری کرتے، آخر کو وہ ایک وفاقی وزیر ہیں، اتنے تو ان کے ریسورسز ہوں گے، اگر وہ یہ کچھ نہیں کر سکتے تو بہتر ہو گا کہ نت نئے شوشے چھوڑنے کے بجائے وہ سپارکو، محکمہ موسمیات اور پاکستان نیوی کی طرح رویت ہلال کمیٹی کی معاونت کریں، ویسے شاید انہیں علم نہ ہو، ان کے محکمے کے چند افراد پہلے سے کمیٹی کی معاونت کا کام کر رہے ہیں۔ ویسے ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ جو ”رویت“ ایپ انہوں نے یا ان کی وزارت بنائی تھی، اس میں بھی 23 مئی کو چاند کے نظر آنے کا امکان نہیں بتایا جا رہا تھا۔

جو لوگ رویت ہلال کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا طعنہ مارتے ہیں، انہیں علم ہونا چاہیے کہ فلکیات میں مسلمانوں کا علم کسی کا محتاج نہیں رہا، عبدالرحمٰن الصوفی جیسے افراد کا کام ایک ہزار سال گزر جانے کے بعد بھی چمک رہا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ قمری کلینڈر کس بنیاد پر بنایا جائے گا، کیونکہ عام طور پر دنیا میں نئے چاند کی رویت یا امکان رویت کے حوالے سے قمری ماہ کی 29 تاریخ کو تین ریجن ہوتے ہیں، ریجن اے : جس میں ہلال کی واضح رویت کا امکان ہوتا ہے، ریجن بی: جہاں صورتحال غیر یقینی ہوتی ہے، ریجن سی: جس میں ہلال کی رویت کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔

اگر حقیقی رویت کے امکان پر مبنی کوئی مستقل کیلنڈر بنایا جاتا ہے اور ہمارا ملک ریجن بی میں آتا ہوا تو یہ کیلنڈر ناکام ہو جائے گا لیکن اگر حقیقی رویت کے امکان پر مبنی کیلنڈر نہیں بنایا جاتا تو یہ شریعت کے احکام کے منافی ہے جس میں نہ صرف چاند دیکھنے کا حکم دیا گیا، بلکہ یہاں تک کہا گیا کہ اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس روزے رکھو، یعنی چاند کی پیدائش کے امکان پر تکیہ کر کے نہ بیٹھ رہو۔ جدید سائنس و ٹیکنالوجی صرف یہ بتا سکتی ہے کہ 29 تاریخ کو ہمارا ملک کون سے ریجن میں آتا ہے لیکن کوئی قطعی پیش گوئی رویت سے ہی ممکن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *