کنول جھیل کا رستہ اور وہ لڑکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا پاؤں کیبل میں الجھا، ایک سرے سے ٹرائی پاڈ پر رکھا کیمرا ڈول گیا، اور دوسرے سرے پر بوم راڈ کھنچ گیا، سبھی میری طرف متوجہ ہوئے، جس ناہنجار کی وجہ سے رکارڈنگ کا عمل ڈسٹرب ہو گیا تھا۔ ہدایت کار نے نا گواری سے کہا، ”کیا کر رہے ہو؟ تمھارا دھیان کہاں ہے“ ؟ یقیناً میرا چہرہ شرمندگی سے لال پڑ گیا ہو گا۔ میں واقعی وہاں تھا، نہیں تھا، کہیں اور کھویا ہوا تھا۔ جس چاند میں کھویا تھا، کنکھیوں سے اسے دیکھا وہ میری حالت پر زیر لب مسکرا رہی تھی۔ یہی کوئی چوبیس پچیس سال پرانی بات ہے، کنول جھیل کے اطراف میں ایک ٹی وی ڈرامے کی رکارڈنگ تھی۔ آج قریب اتنے ہی برس ہوئے، میں پلٹ کے کنول جھیل نہیں گیا۔

ہدایت کار ایوب (فرضی نام) کو میں پہلی بار اسسٹ کر رہا تھا۔ مری کی لوکیشن پیک اپ کرتے ہم اسلام آباد کی لوکیشن نپٹا رہے تھے۔ مرکزی کردار معروف اداکارہ شیگی (فرضی نام) اور کمال (فرضی نام) ادا کر رہے تھے۔ ہدایت کار سے جھاڑ کھانے کے بعد میں ایک طرف منہ لٹکائے کھڑا ہو گیا۔ شیگی اس شاٹ میں نہیں تھی، میرے پاس آ کے آہستہ سے پوچھا:
”کیا ہوا ہے تمھیں“ ؟
”سائلنس“ ۔ ہدایت کار نے خاموشی کی ندا لگائی۔
شیگی سے بے تکلفی تھی، لیکن اس سے کیا کہتا، کہ اس چاند کے ٹکڑے نے میرا دل موہ لیا ہے؟

مری میں شوٹ کرتے، ایک دن ہدایت کار نے کہا، اسے کہو کانٹی نیوٹی ڈریس پہن کر سیٹ پہ آئے۔ سیسل ہوٹل کا ہال جیسا کمرا تھا، جہاں ہم رکارڈنگ کر رہے تھے۔ وہ اپنی ماں سے کوئی بات کر رہی تھی، میں نے اس تک ہدایت کار کی ہدایات پہنچائیں۔ اس نے میری بات کو سنا ان سنا کر دیا۔ میں نے وہی پیغام دہرایا، تو وہ چیخ کے بولی، ”کرتی ہوں نا چینج۔ ٹھیر جاؤ“ ۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، دور کھڑے ایوب صاحب روشنی کے لپکے کی طرح آئے اور اس کی ایسی کی تیسی کر دی۔

تمھاری جرات کیسے ہوئی میرے اسسٹنٹ پر شاؤٹ کرو ”؟
وہ منمنائی تو اپنے حق میں اور برا کیا۔
”اس نے میرا پیغام پہنچایا ہے۔ تم نے اس پر نہیں (گویا) مجھ پر شاؤٹ کیا ہے“ ۔

جواب میں وہ معذرت ہی کرتی رہ گئی۔ مجھے افسوس ہوا کہ چلو خیر ہے، اس نے شاؤٹ کر ہی دیا تھا، تو ایوب صاحب جانے دیتے۔ بھرے مجمع میں اسے ایسا ذلیل کیا کہ وہ آنسووں سے رونے لگی۔ میں وہاں سے ہٹ گیا۔

دوسری عالمی جنگ کے پس منظر میں لکھی ایک غیر ملکی کہانی کے کچھ حصے ذہن میں ہیں۔ دکھاتے ہیں محل پر باغیوں کا قبضہ ہونے لگتا ہے، تو پرنس اپنی پرنسز کو محل سے فرار کراتے دو بیش قیمت ہیرے دیتا ہے اور وصیت کرتا ہے، دنیا میں تین طاقتیں ہیں، عوام کی طاقت، زمین اور عورت کے آنسو۔ عورت ہونے کے ناتے سے ان میں ایک تمھارے پاس ہے۔ دیگر دو تم حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ اس ناولٹ کا تانا بانا پرنس کے اسی قول کی حقانیت ثابت کرتا ہے۔ وہ ان تینوں قوتوں کا کیسے استعمال کرتی ہے، سبھی تو یاد نہیں، بس اتنا یاد ہے کہ اس کہانی میں شہزادی نے سب سے پہلے آنسوؤں کا طاقت آزمائی تھی۔

رکارڈنگ ختم ہوئی، کہانی بڑھتی رہی۔ خدا جانتا ہے، مجھے ہاتھ دیکھنا نہیں آتا۔ کوئی دن ہو گا، جب اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا، اس کا ہاتھ پکڑے ہتھیلی کی ریکھائیں دیکھ رہا تھا۔ ہاتھ دیکھتے میں اس کی شرارتی آواز سنائی دی:
”تمھارے ہاتھ کیوں کپکپا رہے ہیں“ ؟

میں جھینپ گیا۔ شاید اسے میری جھینپو صورت اچھی لگتی ہو گی، تبھی تو میرے جھینپنے پر زیر لب مسکراتی تھی۔ اس کے سامنے میں زیادہ بات نہیں کر پاتا تھا، لیکن فون کال پر ساری ساری رات گزر جاتی۔ اسے جس سے یک طرفہ پیار تھا، اسی کے قصے کہتی۔ کہا جاتا ہے، دنیا میں کل ملا کے سات کہانیاں ہیں، جنھیں بار ہا لکھا جاتا ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو ان سات میں سے ایک یک طرفہ پیار کہانی یہی ہے۔ بار بار ایک کہانی، اور ایک ہی انجام۔

”میں اس سے شادی کروں گی، جس کے پاس بہت پیسا ہو گا، تم سے تو نہیں“ ۔
”آپ کو کبھی کسی سے محبت ہوئی“ ؟

”ہاں! صرف ایک بار؟ کون کون سا قصہ سنو گی، رہنے ہی نا دیں“ ؟ شادی کے بعد جب پوچھا گیا، تو میں نے سچ سچ بتا دیا۔ ”ملو گی؟ ایک سے ملوا سکتا ہوں“ ۔
اسے فون کال کی، پوچھا: ”میری بیوی سے ملو گی“ ؟
”ہاں! لے کر آؤ نا“ !

اس بار بھی میں اسی سوفے پر بیٹھا تھا، جہاں ہر بار بیٹھتا تھا، لیکن تبدیلی یہ تھی کہ وہ ذرا ہٹ کے فاصلے پر بیٹھی تھی۔ اسٹول لے کر بالکل میری سامنے نہیں۔ وہ میری بیوی سے بہت اچھے سے ملی۔ ایک بار بھی تو ایسی حرکت نہیں کی کہ مجھے جھینپنا پڑے۔ وہ اداس تھی۔ ٹوٹی ہوئی بکھری سی۔ تب اس کی ماں کا انتقال ہوا تھا اور محبوب کی شادی کہیں اور ہو چکی تھی۔

ہاں مجھے یقین ہے، آج تک دنیا بھر میں کہی گئی تمام کہانیوں کے سات ہی پلاٹ ہیں۔ سب کہانیاں ان سات پلاٹس میں رہتے لکھی گئی ہیں۔ کسی کہانی میں کنول جھیل آتی ہے، تو کسی قصے میں عورت کے آنسووں سے بنی جھیل جس میں جدائی کے کنول کھلے۔ عورت ہونے کے ناتے سے اس کے پاس ایک آنسووں ہی کی طاقت تھی۔ ان آنسووں جو پگھلا اسے وہ قبول نہ ہوا۔ ہم وہاں سے لوٹ رہے تھے، تو بیگم نے پوچھا:
”آپ نے اس سے شادی کیوں نہ کی“ ؟

”وہ بڑی حقیقت پسند ہے، اسے کسی غریب سے شادی نہیں کرنی تھی۔ بس تمھی نادان ثابت ہوئیں“ ۔
میں نے جھینپ کر جواب دیا اور کنکھیوں سے دیکھا، شاید میری ہم سفر زیر لب مسکرا رہی ہو۔ وہاں پتلیوں میں چمکتے ستارے ضرور تھے، لیکن میری حالت سے لطف اندوز ہونے کا کوئی تاثر نہیں تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 310 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *