زوال کے دھندلے میں نجات کا راستہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاد کی ڈاک گاڑی نامانوس گھنے جنگلوں میں پہنچ رہی ہے۔ یہاں دو وقت ملتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کی راکھ سے جنم لینے والے ققنس رخصت ہو رہے ہیں۔ غیر ملکی غلامی سے آزادی کا خواب مقامی حبس بے جا میں نظر بند ہو گیا اور اس المیے سے دوبدو ہونے والی نسل رخصت ہو رہی ہے۔ ہماری نسل کے لئے زیاں اور یافت کی دبدھا کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ باہر اندھیرا پھیل رہا ہے اور اندر بھیروں کی پو پھٹ رہی ہے۔ کوتاہی کے ملال پر زندگی کے تشکر کی کرن پڑ رہی ہے۔ یہ خواب کی امانت سونپنے کی گھڑی ہے، یہ زاد سفر سے سبک دوشی کا وقت ہے۔ ڈاکٹر مبشر حسن کے ارتحال کو دس ہفتے گزر چلے، درویش کچھ لکھ نہیں پایا۔ موتیے کی خوشبو اور تتلی کے رقص کو لفظوں میں کیسے سمیٹا جائے۔ چونتیس برس پر پھیلی اس چھائوں کا بیان کیسے ہو جس نے جینے کا اسلوب سکھایا اور انسانوں سے محبت کی راہ دکھائی۔ مٹی نے اپنی امانت واپس لے لی۔ مٹی سے ہمارا رشتہ پرانا ہے، آسمان تو محض امکان کے دشت کی حد نظر ہے جسے غالب نے ایک نقش پا کے برابر سمجھا تھا۔ براؤننگ نے بھی تو کہا تھا What men shall do…and we in our graves. غالب کی موت کے ٹھیک سو برس بعد نیل آرم سٹرانگ چاند پر پہنچا تو اس نے “One small step for a man…” ہی کہا تھا۔ اڑچن یہ ہے کہ ہر انسان کے لئے رسائی کا ایک جیسا حق مہیا کئے بغیر اس نقش پا کے خدوخال مکمل نہیں ہوتے۔

معیشت کی منطق بے رحم مقابلہ ہے اور جنگل کا ورثہ ہے۔ سیاست کی مدد سے معیشت کے سینے میں احساس کی حرارت اتاری جاتی ہے۔ دلیل سے واضح کیا جاتا ہے کہ معیشت کے خوان نعمت پر بہت سی خالی جگہ موجود ہے۔ یسوع مسیح نے اسے بھائی چارے کا دسترخوان کہا تھا۔ جنگل کے مقتل سے شہر کی تہذیب کا راستہ سیاست کی گلی سے ہو کر گزرتا ہے۔ پرشین جنرل کلاز وٹز کے اس قول پر دو صدیاں گزر چکیں کہ جنگ بھی سیاست ہی کا ایک مختلف ڈھنگ ہے۔ آج کے دستیاب ہتھیاروں سے جنگ صرف تباہی بانٹ سکتی ہے، مفاد کا دائرہ پھیلانا جنگ سے ممکن نہیں رہا۔ سیاسی مکالمے کی مدد سے آگے کا راستہ ڈھونڈنا چاہیے۔ یہ اچھا شگون نہیں کہ ہم نے اس ملک میں سیاست کو جرم اور صحافت کو گالی بنا دیا ہے۔ معیشت اور سیاست کے تال میل پر کچھ عرض و معروض سے پہلے ملک کے تین قابل احترام سیاست دانوں سے تعزیت کہ اعتزاز احسن، پرویز رشید اور میاں افتخار حسین اپنے اپنے بھائیوں سے جدا ہو گئے ہیں۔ آپ سے یہ درخواست بھی کرنا ہے کہ محترم حاصل بزنجو کی صحت یابی کے لئے دعا فرمائیں۔

آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا لیکن اصل خبر تو اس سے پہلے آ چکی۔ ہمارے جی ڈی پی کا حجم کم ہو کر 264 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔ 2018 میں ہمارا جی ڈی پی 314.6 ارب ڈالر تھا اور شرح نمو 5.8 فیصد تھی۔ گویا دو برس میں ہماری معیشت کے حجم میں 16 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ موجودہ حکومت میں ہم نے ملکی معیشت کا چھٹا حصہ گنوا دیا اور شرح نمو منفی1.5 ہو چکی۔ وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ کورونا کے باعث برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ نہیں بتاتے کہ ہم نے اس دوران کیا برآمد کرنا تھا؟ 2019 میں ہماری جی ڈی پی کا حجم 284 ارب ڈالر تک گر چکا تھا۔ صرف ایک برس کے دوران مجموعی قومی دولت میں 30 ارب ڈالر کی کمی واقع ہو چکی تھی۔ ابھی کورونا کے بحران میں جو ایک سہ ماہی معاشی تعطل کی گزری ہے، اس کے نتائج کی پوری تصویر سامنے آنا باقی ہیں۔ کیونکہ تیل کی عالمی قیمت میں کمی نیز امدادی اقدامات سے صورت حال کسی قدر سنبھلی ہے۔ بہرصورت ہماری معیشت کا پہیا کورونا کے نمودار ہونے سے پہلے منجمد ہو چکا تھا اور اس کے بنیادی اسباب سیاسی تھے۔

سرمایہ کار اعداد و شمار کے فریب میں نہیں آتا اور وہ اپنی اطلاعات کے لئے میڈیا پر بھروسہ نہیں کرتا۔ 2016 کے وسط سے جو کچھ اس ملک میں ہو رہا تھا، کاروباری طبقے کو اس کی پوری خبر تھی اور اس کے نتائج کا بھی اندازہ تھا۔ یہ البتہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ جولائی 2018 میں بننے والی حکومت بنیادی انتظامی اہلیت سے بھی عاری ہو گی، بیوروکریسی قلم چھوڑ کیفیت میں چلی جائے گی، تحریک انصاف کی حکومت تراشیدہ سیاسی بندوبست کی ناؤ پر بندھے احتساب کے بادبان کو اس مضبوطی سے چمٹ جائے گی کہ معمولات حکومت مفلوج ہو جائیں گے۔ آئندہ بجٹ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے مطابق ہی بنے گا تو اس کھکھیڑ سے کیا حاصل ہوا؟

دیکھیے، 1972 میں امریکا کے بعد جرمنی اور جاپان کی معیشتیں تھیں اور ہر دو کا حجم 266 ارب ڈالر تھا۔ چین 1982 میں اور بھارت 2010 میں پہلی دس معیشتوں میں شامل ہوئے۔ سوویت یونین 1970 میں دوسری بڑی معیشت تھا اور 1992 میں دسویں نمبر پر جا چکا تھا اور اس زوال کے بنیادی اسباب سیاسی تھے۔ دنیا بھر میں معیشت نے 1970 کے بعد غیر معمولی سرعت سے ترقی کی ہے۔ ہمیں بھی اپنی آبادی کے تناسب سے اس ترقی کا حصہ ہونا تھا مگر ہم نے کچھ دوسرے اشغال پال رکھے ہیں۔ اب بھی وقت ہے۔ معیشت کو شفاف آئینی سیاست کے سپرد کیجئے۔ جاننا چاہیے کہ اس ملک میں رہنے والوں سے زیادہ کوئی محب وطن نہیں ہو سکتا۔ وفاق کی اکائیوں پر اعتماد کیجئے، جمہوری عمل پر بھروسہ کیجئے۔ یہاں کے باشندوں کی جفاکشی سے امید باندھیے۔ ریاست اور عوام میں مفاہمت کا یہ دسترخوان ہمیں جہالت، غربت اور ناانصافی سے نجات دلا سکتا ہے۔ 22 کروڑ کی آبادی کو اگلے تیس برس میں 20 عظیم معیشتوں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *