سر! یہ تو پھوپھو کی بیٹی لگتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن میں ہمارے گاؤں میں محمد حسین نامی ایک جولاہا رہا کرتا تھا۔ اس نے گھر میں ہی ایک کھڈی لگائی ہوئی تھی جس پر وہ کھدر کا کپڑا۔ کھیس اور سردیوں کے لیے پرانی اون سے جو لنڈے کی جرسیاں ادھیڑ کر حاصل کی جاتی تھی، گرم کمبل بنایا کرتا تھا۔ اس کا بننے کا عمل اتنا خوبصورت ہوتا تھا کہ ہم گھنٹوں اس کے پاس بیٹھ کر اس عمل کو دیکھتے۔ وہ کس محنت سے دھاگوں کو الجھنے سے بچانے کے لیے نلکیوں پر چڑھاتا، پھر ان نلکیوں کو چھت پر لٹکی ہوئی ہکوں سے لٹکاتا۔

زمین میں ایک لمبا سا گڑھا تھا جس کے ایک کنارے پر وہ خود پاؤں لٹکا کر بیٹھتا تھا اور دوسرے کنارے سے لے کر اس کی گود تک لکڑی کے دو بانس ہوتے تھے جن پر وہ کپڑے کا تانا بنتا تھا۔ نلکیوں سے آنے والے مختلف رنگوں کے دھاگوں سے وہ بانا بنتا تو ہماری آنکھیں حیرت سے اس منظر کو دیکھتی تھیں جب ہر تھوڑی دیر کے بعد اس کپڑے میں تانے اور بانے کے ملاپ سے خوبصورت رنگ بکھر جاتے۔ مختلف ڈیزائن تیار ہوتے اور وہ بڑی مہارت سے تانے اور بانے کا ملاپ کرتا۔

تب تو بچپن تھا اور یہ ہمارے لیے ایک دلچسپ کھیل کی طرح تھا لیکن جیسے جیسے ہم شعور کی منزلیں طے کرتے گئے اور معاشرتی و سماجی نظام سمجھ میں آتا گیا تو وہ کھیل ہمیں اپنے پورے معاشرے میں جاری و ساری نظر آیا۔ جہاں ایک گھر میں بہت سے افراد رہتے تھے ان میں سب سے بڑا، چاہے وہ دادا، دادی ہوں، نانا، نانی ہوں، ابا، اماں ہوں یا پھر تایا، تائی، اس جولاہے کی طرح ہوتا تھا جو پاؤں لٹکائے بہت مہارت اور توجہ سے خاندان کے تانے بانے کو ملا کر رشتوں کی خوبصورت چادر تیار کیا کرتا تھا جو پورے خاندان کا وقار ہوا کرتی تھی۔

پھر وقت نے کروٹ لی اور ہوائے زمانہ نے انداز بدلا تو یہ تانا بانا ڈھیلا پڑنا شروع ہوگیا۔ مغربی تہذیب نے یہاں بھی اپنا اثر دکھانا شروع کیا تو ہمارے خاندانی نظام کے دھاگے ڈھیلے پڑنے شروع ہو گئے۔ پھر مزید بات آگے بڑھی تو میڈیا کی آزادی نے مہمیز کا کام کیا۔ آزاد پالیسی کے حامل چینلز نے فیمیلی ڈراموں کے نام سے وہ کچھ دکھانا شروع کیا جو تھا تو خاندانی لیکن ہمارے خاندانوں سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو تھوڑا بہت دم خم ہمارے خاندانی نظام میں تھا وہ بھی ختم ہوگیا۔

اور وہ سگے رشتے جو کبھی ہمارا مان ہوا کرتے تھے اب وہ ہمارے لیے طعنہ بن گئے۔ چکاچوند ڈراموں نے بچوں کو احساس کمتری میں مبتلا کیا تو باپ کے لیے ان کی خواہشات کو پورا کرنا اتنا مشکل ہوگیا کہ اس کے لیے گھر کی طرف توجہ دینا ممکن نہ رہا اور چوبیس گھنٹے چلنے والے ڈراموں نے ماں کے ذہن کو ایسا آلودہ کیا کہ دانستہ و نادانستہ اس نے رشتوں کو زہریلا ثابت کرتے ہوئے یہ نہ سوچا کہ جن رشتوں کی نفرت وہ اپنی اولاد کے دل میں ڈال رہی ہے وہ اس کے اپنے ہی تو ہیں۔ اور اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کلاس روم میں لیکچر کے دوران اگر کسی منفی کردار کی بات آ جائے تو بچیاں نہایت نفرت انگیز طنزیہ لہجے میں کہتی ہیں ؛
”سر! یہ تو پھوپھو کی بیٹی لگتی ہے“

اور میں سوچتا رہ جاتا ہوں کہ آخر یہ پھوپھو کون ہے۔ وہی جس کے خاندان کا خون، کہنے والے کا باپ بھی ہے اور اسی خاندان کا لہو اس کی اپنی رگوں میں بھی تو گردش کر رہا ہے تو پھر یہ سب کیا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply