بچوں کے لئیے ایک خطرناک معاشرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان لڑکیوں سے زیادہ لڑکوں کے لیے خطرناک ملک بن چکا ہے۔ جہاں پر ہر کچھ دنوں کے بعد ایسا واقعہ جس میں کسی لڑکے کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا ہو خبروں کی زینت بنتا ہے۔

حالیہ دنوں میں حافظ سمیع الرحمان کو بدفعلی پر آمادہ نہ ہونے پر خبیث کانسٹیبل نے بے دردی سے قتل کر دیا، اس سے پہلے قصور تو ان واقعات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہو چکا ہے۔ قصور کا نام ذہن میں آتے ہی ایسے علاقے کا تصور ابھرتا ہو جس میں کوئی بچہ اور کوئی بچی محفوظ نہیں ہے۔ قبل ازیں چونیاں میں جو واقعات ہوئے تھے جن میں تین بچوں کو جن کی عمریں بالترتیب آٹھ، نو اور بارہ سال تھیں زیادتی کے بعد انتہائی بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیا گیا اور ان کی لاشوں کو کھیتوں میں پھینک دیا گیا تھا، عالمی میڈیا کی زینت بنے۔

یہ وہ واقعات ہیں جن میں زیادتی کے بعد بچوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ شاید قتل ہونے کی وجہ سے یہ میڈیا میں آ جاتے ہیں، لیکن ایسے حادثات و واقعات ہزاروں میں ہوں گے جن میں بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنا کر چھوڑ دیا جاتا ہے، اور بچے خوف یا شرم کی وجہ سے کسی کو نہیں بتاتے یا اگر بتاتے بھی ہیں تو ان کے ماں باپ رپورٹ نہیں کرتے اور اپنی نام نہاد عزت کو بچانے کے لیے خاموش رہتے ہیں، ایسے بچے عمر بھر کے لیے مختلف ذہنی بیماریوں اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مدارس میں تو یہ واقعات انتہائی زیادہ ہیں کیونکہ وہاں پر بچے بالکل ہی اپنے ماں باپ سے دور دن رات ان قاریوں اور مولویوں کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں، ان میں سے ہمیں صرف ان واقعات کا پتا چلتا ہے جو کہ میڈیا میں رپورٹ ہوتے پیں یا کسی نہ کسی طریقے سے ان مدرسوں کی چار دیواری سے باہر نکل آتے ہیں، لیکن یقین کریں ایسے واقعات اس سے کہیں زیادہ ہیں جو کہ ان مدرسوں کی چار دیواری کے اندر ہی دم توڑ دیتے ہیں، باہر کی دنیا کو بالکل بھی پتا نہیں چلتا۔

پاکستانی معاشرہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہے، ہر معاملے میں معاشرہ منقسم ہو جاتا ہے۔ جب کسی مدرسے میں ایسا معاملہ پیش آتا ہے تو ہمارے مغرب سے متاثر لوگ سنگ ہاتھوں میں اٹھا کر مولویوں، قاریوں اور ان کے پردے میں اسلام پر سنگ باری شروع کر دیتے ہیں جبکہ اگر ایسا ہی کام کوئی کلین شیو کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے تو اپنے تئیں اسلام کے محافظ تیر اور نیزے اٹھا کر میدان میں آ جاتے ہیں اور لبرلز کو اور لبرل روایات کو نشانہ بناتے ہیں۔

اس تقسیم میں اس لڑائی میں اصل واقعات سے توجہ ہٹ کر کسی اور طرف مرکوز ہو جاتی ہے اور اصل مدعا اور واقعہ کہیں پیچھے رہ جاتا ہے، اس پر کوئی بات نہیں کرتا کہ ایسے واقعات کے اسباب کیا ہیں، ان اسباب کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے اور ایسے واقعات مستقبل میں نہ ہوں اس کے لیے کیا اقدامات کئیے جا سکتے ہیں، کیا قانون سازی کی جا سکتی ہے، بحث کسی اور طرف نکل جاتی ہے۔

پنجاب چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئر پرسن سارہ احمد کے مطابق پاکستان میں ہمیں بچوں کی حفاظت کے قانون کو سخت بنانے کی ضرورت ہے جو کہ فی الحال کافی کمزور ہے۔ ان کے مطابق ایسے واقعات صرف کچھ علاقوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ پورے ملک میں ہوتے ہیں، ان کو دن یا مہینوں میں نہیں روکا جا سکتا بلکہ اس کے لیے کئی سال درکار ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان کی روک تھام کے لیے قدم تو اٹھائیں، ایک سنجیدہ بحث کا تو آغاز کریں، قانون سازی تو کریں، لیکن یہاں پر میڈیا میں بھی اور پارلیمنٹ میں بھی فروعی معاملات پر بحث ہوتی ہے، چسکے دار موضوع ہوتے ہیں، گالم گلوچ کروا کے ریٹنگ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، زبان دراز سیاستدان کو پرائم ٹائم میں اکیلے بٹھا کر ایک ایک گھنٹے کے پروگرام کئیے جاتے ہیں، پارلیمنٹ میں سنجیدہ بحث کے بجائے ایک دوسرے پر گھٹیا فقرے کسے جاتے ہیں اور جملے چست کئیے جاتے ہیں، پارلیمنٹ کا مقصد یہ ہی رہ گیا ہے کہ اپنے لیڈر کو فرشتہ ثابت کیا جائے اور دوسرے کے لیڈر کو شیطان، پارلیمنٹیرینز کی تقاریر سن کر حقیقتاً دکھ ہوتا ہے کہ یہ لوگ ہمارے نمائندے ہیں، جہاں پر عوام کے مسائل، ان کے حل کی بات ہونی چاہیے وہاں پر ایک دوسرے کو گالیاں دی جاتی ہیں، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے اور ان طعن و تشنیع پر عوام کے کروڑوں روپے اڑا دیے جاتے ہیں۔

ہمیں ان اسباب پر بحث کر نی ہے، ان وجوہات کو جاننے کی کوشش کرنی ہے کہ ایسا معاشرہ جو کہ اپنے آپ کو مذہبی معاشرہ کہتا ہے جو کہ اپنا ہر عمل مذہب کو بنیاد بنا کر کرنے کا دعوی کرتا ہے، جو کہتا ہے کہ میرا سونا جاگنا، اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، دکھ سکھ، غم خوشی، سب کچھ مذہب سے ڈرائیو ہوتا ہے، میں بلند اخلاقی اقدار کا امین معاشرہ ہوں، جس کی الہامی اور مقدس کتاب میں اس قباحت میں مبتلا پوری قوم پر عذاب کا ذکر ہے اس معاشرے میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں، اس کی کیا وجوہات ہیں، کیا اسباب ہیں، ان واقعات کی کون کون سی نفسیاتی، سماجی، معاشی وجوہ ہیں ان کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے اور ان پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے، کوئی ہے جو معاشرتی بیماریوں پر بحث کا آغاز کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *