یوکلیپٹس کے درخت جنہوں نے گولان پر اسرائیل کا قبضہ کروا دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کئی عشرے پہلے برطانیہ والوں نے اپنی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے حوالے سے ایک خیالی کردار کو جیمز بانڈ کا روپ دے کر فلمیں بنانا شروع کیں جنہوں نے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی۔

پھر شرلاک ہومز کی باری آئی اور یہ کردار کتابوں کی دنیا سے نکل کر سکرین پر چلنے پھرنے لگا۔ امریکا والے کب کسی سے پیچھے رہنے والے تھے انہوں نے بھی اپنی ایف بی آئی اور سی آئی اے کے کارناموں پر مشتمل ٹی وی سیریز، ڈراموں اور فلموں کے کشتوں کے پشتے لگا دیے۔ نیٹ فلکس پر اسی سلسلے کی تازہ پیشکش ”دی سپائی“ سیریز ہے جسے اردو میں ”ایک تھا جاسوس“ کہا جا سکتا ہے۔

چھ قسطوں پر مشتمل اس منی سیریز کی کہانی الی کوہین نامی شخص کی ہے جسے بعد میں اپنے ملک کے عظیم ترین جاسوسوں میں سے ایک قرار دیا گیا۔ الی کوہین مصر میں پیدا ہوا اور یونیورسٹی تک تعلیم قاہرہ میں حاصل کی۔ قریب تیس سال کی عمر میں وہ اسرائیل منتقل ہو گیا اور وہاں ایک دفتر میں معمولی نوکری کرنے لگا۔ انیس سو ساٹھ میں شام اسرائیل کشیدگی میں اضافہ ہونے لگا تو موساد کو ایک ایسے جاسوس کی ضرورت محسوس ہوئی جو سرحد پار جا کر دشمن کے متعلق خبریں دے سکے۔ خاص طور پر گولان کی پہاڑیاں جو اس وقت شام کا حصہ تھیں ان کے آس پاس شامی فوج کی نقل و حرکت سے آگاہی بہت ضروری تھی۔

الی کوہن ایک امیر شامی نژاد مصری بزنس مین، کامل امین ثابت بن کر پہلے ارجنٹائن گیا جہاں اس نے نے شامی سفارت خانے میں تعلقات بنائے۔ پھر دمشق پہنچ گیا۔ ان تعلقات کی بدولت فروری انیس سو با سٹھ میں وہ لبنان کے دارالحکومت بیروت سے دو گھنٹے کی مسافت پر سرحد پار کرنے میں کامیاب ہوا۔

سیریز کے مطابق کامل امین ثابت ارجنٹائن میں شامی سفارت خانے میں تعینات ایک اعلیٰ فوجی افسر امین الحافظ سے تعلقات بنانے اور اس سے شام میں داخلے کا سفارشی خط حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ شومئی قسمت امین الحافظ نے اگلے سال ملک میں اقتدار پر قبضہ کیا اور شام کا صدر بن گیا۔ کچھ عرصے بعد اس نے کامل کو شام کا نائب وزیر دفاع بھی بنا دیا۔ اپنے ایک انٹرویو میں سابق شامی صدر نے ان تمام الزامات کی تردید کی۔ لیکن بہرحال اتنی حقیقت ضرور ہے کہ کامل امین شام کے اعلی حکومتی حلقوں تک رسائی حاصل کرنے میں بہت کامیاب رہا۔

سیریز کا ایک اور دلچسپ پہلو سعودی ارب پتی اور مشہور تعمیراتی کمپنی بن لادن گروپ کے مالک محمد بن لادن کا کردار ہے جو کہ اسامہ بن لادن کے والد تھے۔ شامی حکومت نے سعودی حکومت کے تعاون سے منصوبہ بنایا کہ شام اور اردن کی شمالی سرحد کے درمیان بحیرہ طبریا سے جو اسرائیل کا تازہ پانی کا واحد ذریعہ تھا وہاں خفیہ طور پر بڑے بڑے پمپ نصب کر کے اسرائیل تک پانی کی رسائی کو رفتہ رفتہ کم کر دیا جائے۔ کامل امین نے محمد بن لادن سے کاروباری تعلقات بنائے اور اسے اس منصوبے کی سن گن مل جاتی ہے۔

اس موقع پر سیریز میں مسالہ ڈالنے کے لئے کم عمر اسامہ بن لادن کی جھلک بھی دکھائی گئی۔ اس کی معلومات کی بنیاد پر اسرائیل فضائیہ حملہ کر کہ اس منصوبے کو ناکام بنا دیتی ہے۔

اس سیریز کا ایک سنسنی خیز انکشاف یہ ہے کہ کامل امین اپنے ایک شامی دوست کے ہمراہ گولان کی پہاڑیوں کے دورے پر گیا۔ وہاں تعلقات کی وجہ سے اس کو سرحد کا تفصیلی دورہ کروایا گیا۔ گولان کی پہاڑیوں پر شامی فوج بلندی پر ہونے کی وجہ سے اسرائیل کی نقل و حرکت پر مکمل نظر رکھتی۔

یہاں موجود زیر زمین بنکر اس مہارت سے بنائے گئے تھے کہ اسرائیل والوں کے لئے ان کی نشاندہی کرنا ناممکن تھا۔ کامل امین نے مقامی کمانڈر سے کہا کہ وہ یہاں اپنے شامی فوجی بھائیوں کے لئے جو سخت گرمی میں رہتے ہیں درخت لگوانا چاہتا ہے۔ کمانڈر اس کے جذبے سے متاثر ہو کر اجازت دے دیتا ہے واپس جا کر کامل چند مہینوں میں یوکلیپٹس کے سینکڑوں پودوں کا انتظام کرتا ہے۔ یہ پودے عین فوجی بنکروں کے ساتھ ساتھ ایک طویل قطار میں لگا دے جاتے ہیں۔ سیریز کے اختتام میں نہایت فخر سے یہ بتایا گیا ہے کہ پانچ سال بعد جب اسرائیل کی فضائیہ نے شام پر حملہ کیا تو کامل امین کے لگوائے ہوئے ان درختوں نے زمین پر ان کے لئے نشاندہی کا کام کیا۔ بعد میں گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا قبضہ ہو گیا جو آج تک قائم ہے۔

سیریز میں ایک اور حقیقت پر مبنی کردار احمد سوڈانی کا ہے جو کہ شامی خفیہ ایجنسی کا چیف ہے اور صدر کے وفادار ساتھیوں میں سے ہے۔ وہ ارجنٹائن کے دنوں سے کامل امین کو جانتا ہے اور اس سے خائف رہتا ہے۔

آخر میں شامی ایک روسی انجنیئر کی مدد سے کامل امین کی مورس کوڈ اور ٹیلیگراف کے ذریعے خفیہ پیغام رسانی کا پتہ لگانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور احمد سوڈانی اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیتا ہے۔ سیریز میں اداکاری کے لحاظ سے احمد سوڈانی کا کردار سنسنی سے بھرپور ہے۔

شام میں داخلے کے تین سال بعد جنوری انیس سو پینسٹھ میں کامل امین پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر اس کی بیوی نادیہ نے انسانی حقوق کے ایک معروف فرانسیسی وکیل کی خدمات حاصل کی۔ تاہم مقدمے کا فیصلہ ملک کے قانون کے مطابق کر دیا گیا اور چار مہینے بعد دمشق کے چوک میں اکتالیس سالہ الی کوہن عرف کامل امین ثابت کو پھانسی دے دی گئی جہاں اس کی لاش چھ گھنٹے تک لٹکی رہی۔

سیریز میں الی کوہن کی بیوی نادیہ کو اس کی غیر موجودگی میں گزر بسر کے لئے سنگر کی ایک پرانی سلائی مشین پر کپڑے سیتے اور نہایت مشقت سے اپنے تین بچے پالتے دکھایا گیا ہے۔ الی کوہن، جاسوسی کے دوران شام سے اسرائیل اپنی بیوی کے لئے جو ایک محبت بھرا تحفہ بھیجتا ہے وہ سنگر کی نئی سلائی مشین ہو تی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *