عزیزم وجاہت مسعود کی گمراہ خیالی اور ’شفاف آئینی سیاست‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وجاہت بھائی! آپ کا کالم پڑھا، “زوال کے دھندلے میں نجات کا راستہ“۔ آپ کی تحریر دل پذیر کا نخچیر ہوں۔ خوبصورت تحریر، پر کشش، شوخ رنگ، زرق برق لباس جیسی ہوتی ہے، جس کی چکا چوند کسی بھی بزعم خویش حسینہ کے خد و خال چھپا لیتی ہے اور شاید اس آتش بازی کا مدعا بھی یہی ہوتا ہے۔ آپ کا معاملہ دوسرا ہے۔ شعر و ادب اور تاریخ و تہذیب کی چاشنی چڑھی تحریر، اس عہدِ بے حرف و صوت میں کوئی کہاں سے لائے گا، لیکن قوس قزح کے رنگوں میں بسی اس تحریر کی زیبائی، موضوع کی رعنائی کو پس منظر میں نہیں جانے دیتی۔ سو میں آپ کو بصدِ شوق، بصدِ اہتمام پڑھتا ہوں کہ اب لکھنے کی اُکساہٹ کی تسکین کی یہی صورت رہ گئی ہے۔

برادرِ خورد! ماشااللہ، شرق و غرب کے قدیم و جدید علوم پر دسترس رکھنے، پاکستانی سیاست کے پیراہن صد چاک کے تار تار کی بافت کو سمجھنے اور ایک استاد کی مسندِ ارشاد پر فروکش ہونے کے باوجود، تم نے کس معصومیت سے “تراشیدہ سیاسی بندوبست” کا نوحہ پڑھتے ہوئے، “شفاف آئینی سیاست” کو نسخہ کیمیا کے طور پر پیش کیا ہے۔ تمھارا مقدمہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ ہمارے زوالِ پیہم کا واحد سبب یہ ہے کہ سیاست کو شفاف آئینی تقاضوں کے مطابق پھلنے پھولنے نہیں دیا جا رہا۔ اس مفروضے میں بنیادی جھول یہ ہے کہ تم قوم و ملک کی تقدیر سازی اور قومی سلامتی جیسے انتہائی وقیع اور سنجیدہ معاملات “شفاف آئینی بندوبست” کے نام پر کروڑوں عوام کے سپرد کر دینا چاہتے ہو۔ صرف اس لیے کہ ہمارا آئین انھیں خلیفۃ اللہ فی الارض قرار دیتے ہوئے، نیابتِ الہی کے استحقاق کے طور پر اپنے نمایندے اپنی آزادانہ مرضی و منشا سے چننے کا حق دیتا ہے۔

عزیزم! بظاہر یہ فلسفہ پر کشش سہی، لیکن تخیلاتی اور تصوراتی دانش ان ٹھوس ازلی و ابدی زمینی حقائق کو نہیں سمجھتی، جو مدبرانہ دیدہ و دماغ رکھنے والے، وہ عالی نسب لوگ سمجھتے ہیں، جنھیں قدرت نے یہ ہنر ودیعت کیا ہے۔ تم جانتے ہی ہو کہ قیامِ پاکستان کے نو برس بعد 1956ء میں ایک دستاویز بنی۔ “شفاف آئینی بندوبست” کے تحت انتخابات سے چند ماہ پہلے متوقع خطرے کو بھانپتے ہوئے 1958ء میں انقلاب لانا پڑا۔ عوام سے رجوع کا پہلا حقیقی خطرہ قیام پاکستان کے 23 سال بعد 1970ء میں مول لیا گیا، لیکن وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ قومی تقاضوں سے بے بہرہ عوام نے ایک “غدار” کو مسلط کر دیا۔ سو اس ناسور زدہ عضو کو ہم نے جسدِ پاک سے کاٹ پھینکا۔ لوگوں نے پھر بھی سبق نہ سیکھا۔ انھوں نے 1973ء کے آئین سے یہ معنی اخذ کر لیے کہ اب “شفاف آئینی سیاست” کا عہد شروع ہونے کو ہے۔ 1988ء، 1990ء، 1993ء میں عوام نے پے در پے غلطیاں کیں، جن کے ازالے کے لیے آئین کے بجائے ایک آئینی ہتھوڑے سے کام لینا پڑا۔ 1997ء اور 2013ء کے انتخابات کی فتنہ گری کو تم نہیں بھولے ہو گے۔ ان میں صرف 2002ء کے انتخابات “شفاف آئینی سیاست” کے مظہر تھے، سو اُن کی طرف کسی نے آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ باقی تمام انتخابات میں عوام کی منفی رائے کو مثبت بنانے کے لیے ایسے اقدامات کرنا پڑے، جن سے دُنیا میں ہماری جگ ہنسائی بھی ہوئی۔

آخر کب تک “شفاف آئینی سیاست” کی عیاشی میں ملک کو تماشا گاہ بنائے رکھا جائے؟ تم خود ہی سوچو! اگر لوگوں کے ان چنیدہ نمایندوں کو منظر سے ہٹانے کے لیے ٹھوس، موثر اور نتیجہ خیز اقدامات نہ کیے جاتے تو “سب سے پہلے پاکستان” اور “وسیع تر قومی مفاد” جیسے سنہری اصولوں کا کیا حشر ہوا ہوتا؟

برادر عزیز! اپنے خود ساختہ فلسفے کو ایک طرف رکھتے ہوئے خدا لگتی کہنا۔ کیا اب ناگزیر نہیں ہو گیا تھا کہ انتخابات کے بعد سامنے آنے والی عوامی رائے کو قومی مفاد کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے داؤ بیچ آزمانے اور بد نامی مول لینے کے بجائے انتخابات سے پہلے ہی ووٹ کے عمل اور “شفاف آئینی سیاست” کو اپنے مطلوب منظر نامے میں ڈھال لیا جائے؟ تم اسے “تراشیدہ سیاسی بندوبست” کہو یا کچھ اور، پاکستان کے مفاد کو داو پر نہیں لگایا جا سکتا۔ رہی معیشت، تو اللہ مالک ہے۔ اور آخر میں تمھاری ضیافتِ طبع کے لیے اپنے دو تازہ اشعار:
ہزاروں کام ہیں روزی کمانے کے تو کیا لازم
اگر دم خم نہیں تو شغلِ قرطاس و قلم رکھنا

حقیقت اور خوابوں میں بس اتنا فرق ہوتا ہے
زمیں پر رینگنا اور چاند تاروں پر قدم رکھنا

والسلام،
عرفان صدیقی

30 مئی 2020ء

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *