چودھری محمد علی رودولوی کا کلاسیک افسانہ: تیسری جنس


لڑکی تھی پیدائشی سلیقہ مند۔ ایک بار سے دوسری بار بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ پانچ چھ ہی برس کے سن میں ایسا سلیقہ آگیا کہ آدھی بی بی معلوم ہوتی تھیں۔ تحصیلدار صاحب کے پان خود بناتی تھی۔ دس گیارہ برس کے سن میں جنس تلوانا، کھانا پکوانا سب کچھ مدی کے ہاتھ ہو گیا تھا۔ دن جاتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ چودھویں برس بی مدی کا شباب دمک اٹھا۔ دیکھنے والوں کا دل چاہتا کہ دیکھا ہی کریں۔ مدی بھی جب بال بنانے کھڑی ہوتی تھیں تو آئینہ کے ساتھ خود بھی متحیر رہ جاتی تھیں۔ اب ماں کو شادی کی فکر ہوئی۔ تحصیلدار صاحب سے کہا گیا۔ انھوں نے کہا کیا جلدی ہے ہو جائے گی۔ مگر لڑکی حسن علی کے بھتیجے کو بچپن ہی سے مانگی تھی۔ ادھر سے بھی اصرار ہوا کہ جوان لڑکی کا امیروں کے گھر میں رہنا اچھا نہیں۔ لیجیے صاحب شادی ہوگئی۔ تحصیلدار صاحب نے خود تو اپنے گھر سے شادی نہیں کی مگر جہیز وغیرہ خوب سا دیا۔

چوتھی چالے کے بعد پھر وہی تحصیلدار صاحب کے یہاں کا رہنا۔ مدی کے دولہا بھی تحصیلدار ہی صاحب کے یہاں آتے تھے۔ مدی سسرال کم جاتی تھیں۔ گئیں بھی تو کھڑی سواری۔ بہت رہیں تو ایک رات نہیں تو اسی دن واپس آگئیں۔ سسرال والے جاہل، شوہر بھی الف کے نام لٹھا نہیں جانتے۔ گومدی بھی بغدادی قاعدہ اور عم کے سیپارے کے آگے نہیں پڑھی تھیں، مگر پھر بھی پڑھے لکھے ہوئے کی پالی ہوئی تھیں۔ عمر بھر امیری کارخانہ دیکھا تھا۔ مدی کادل سسرال میں کم لگتا تھا۔ کم سنی میں بیاہ کا تجربہ کچھ اچنبھے میں ڈالے تھا۔ شادی کے بعد اگر عورت پر کنوار پنے کی آب نہیں رہ جاتی تو سہاگ کی رونق چہرہ چمکادیتی ہے۔ مگر احمد ی کے چہرہ پر نہ اسی بات کا پتہ چلتا تھا نہ اسی کا۔ میاں بی بی کے برتاؤ کا حال دو چار دن میں کیا کھلتا۔ مگر کسی خاص خوشی یا اطمینان کا انداز اس میں بھی نہیں دکھائی دیتاتھا۔ کچھ ہی دنوں میں یہ بھی نہ رہ گیا اور کھلم کھلا ناخوشی کے آثار ظاہر ہونے لگے۔

شوہر صاحب بھی کچھ دبے دبے سے تھے۔ تحصیلدار صاحب کے یہاں اگر وہ بھی اپنی شوہریت کابرتر درجہ برت نہیں سکتے تھے۔ خود اپنی ہیچ مرزی اور بی بی کی بلندی ان کی نظر میں کھٹکتی تھی۔ ضرورتیں مجبور کرتی تھیں۔ نئی نئی بی بی۔ کچھ روپیہ پیسہ بھی ہاتھ آجاتا تھا۔ اس لیے چپ تھے۔ ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ مدی جو سوکر اٹھیں تو ایک چھڑا غائب۔ بستر پر ادھر ادھر دیکھا، دلائی جھاڑی، پائینتی جھک کے دیکھا، گھر میں ادھر ادھر تلاش کیا مگر کہیں نہ ملا۔ نہ معلوم کیا سمجھ کر چپ ہوگئیں۔ دوپہر کے قریب ماں سے ذکر کیا۔ ماں نے شور مچادیا۔ تحصیلدار صاحب تک خبر ہوئی۔ انھوں نے سنتے ہی کہہ دیا کہ یہ حرکت سوائے مدی کے دولہا کے اور کسی کی نہیں ہوسکتی۔ یہ بھی کہا کہ اس کے جوا کھیلنے کی خبر بھی مجھ تک پہنچ چکی ہے۔ لیجیے صاحب شوہر بھی روٹھ گیے۔ دوچار دن کے بعد رخصتی کا اصرار ہوا۔ مگر چھڑے والی بات پکڑ کر مدی کے ماں باپ نے انکار کردیا۔ ایک روز مدی کے شوہر نے حسن علی کے گھر آکر بہت سخت سست سنایا۔ اور غصہ میں یہ بھی کہا کہ حرام زادی کو جھونٹے پکڑ کر گھسیٹتا نہ لے جاؤں تب ہی کہنا۔ اس وقت تک مدی نے کسی کی جنبہ داری نہیں کی تھی۔ لیکن اب وہ بھی فرنٹ ہوگئی۔ اور ایسی فرنٹ ہوئی کہ مرتے دم تک پھر منہ نہ دیکھا۔ حسن علی نے بھی خیال کیا۔ داماد ممکن ہے کچھ شہدہ پن ہی کر بیٹھے اس لیے مدی کا پورے طور سے تحصیلدار ہی صاحب کے یہاں رہنا اچھا ہے۔ شوہر صاحب ہمیشہ کے لیے معطل کردیے گیے۔

جب سے مدی کی شادی ہوگئی تھی، تحصیلدار صاحب کچھ چپ سے رہتے تھے۔ اس واقعہ کے بعد وہ بھی بحال ہوگیے۔ مدی کے شوہر نے اپنی سفاہت سے یہ بھی کہا کہ تحصیلدار صاحب نے اس سے آشنائی کر رکھی ہے۔ مگر اس کو کون باور کرتا۔ حسن علی والی بات پر تو لوگ ہنسی مذاق بھی کرتے تھے۔ مگر اس بات کو کسی نے جھوٹوں بھی یقین نہ کیا۔ البتہ تحصیلدار صاحب تجربہ کار آدمی تھے۔ انھوں نے موت زندگی کا خیال کرکے مدی کے لیے علیحدہ گھر اور کچھ بودگی کا انتظام کرنا شروع کیا۔ اس واقعہ کے دوسرے ہی سال کے اندر تحصیلدار صاحب کا انتقال ہوگیا۔ تحصیلدار صاحب مرحوم کے یا تو کوئی نہیں تھا یا یکبارگی نہ معلوم کتنی وارث پیدا ہوگیے اور آپس میں مقدمہ بازی شروع ہوگئی۔

بی مدی نے بھاری پتھر چوم کے چھوڑا۔ اٹھ کر اپنے گھر چلی آئیں۔ تخت، چارپائیوں، الماریوں پر نہ ان کا حق تھا نہ انھوں نے دعویٰ کیا۔ نقد جو کچھ تحصیلدار صاحب ان کو دے گیے ہوں وہ کون لے سکتا تھا۔ ہاتھ ناک گلے میں جو کچھ تھا وہ ان کا تھا ہی۔ مدی نے حسن علی کی صلاح سے یہ طریق اختیار کیا کہ اپنے طبقے سے اونچی ہوکر رہنا پسند نہ کیا بلکہ جس حیثیت کے لوگ ان کے ماں باپ تھے اسی برادری میں رہیں۔ البتہ روپیہ پیسہ اور سلیقہ ہونے کی وجہ سے اپنے طبقے میں یوں رہیں جیسے مالی کی ڈالی میں سب پھولوں میں گلاب کا پھول ہوتا ہے۔

تحصیلدار صاحب کے سال ہی بھر بعد طاعون بڑے زوروں کا پڑا۔ اس میں میاں حسن علی اور ان کی بی بی بھی چل بسیں۔ اب صرف بی مدی اور ان کا چھوٹا بھائی رہ گیے۔ اس وقت تک مدی نے جو کچھ اچھا برا کیا ہوگا اس کی ذمہ داری صرف ان کے اوپر نہ تھی کیونکہ ہر معاملہ میں تحصیلدار مرحوم اور اس سے کم درجے تک ان کے باپ کی رائے شامل رہتی تھی۔ اس کے بعد جو کچھ پیش آیا وہ البتہ ان کے دل و دماغ کا نتیجہ تھا۔ مدی کا برتاؤ ہر شخص سے عمدہ تھا۔ کوئی شاکی نہ تھا بلکہ اڑوس پڑوس کی عورتیں ہر وقت ان کی گھر میں موجود رہتی تھیں۔ ان سے بھی جو ہوسکتا تھا آنے جانے والیوں کے ساتھ سلوک کرتی تھیں۔ گھر میں کپڑا سینے کی مشین تھی۔ دن بھر لوگوں کے کپڑے مفت سیا کرتی تھیں۔ کسی کو اگر روپے دو روپے کی ضرورت ہوتی تو وہ بھی قرض کے نام سے دے دیے۔ جس کسی کا کہیں ٹھکانہ نہ لگے وہ بی مدی کے یہاں چلا آئے۔ روٹی اپنی پکائے، دال بی مدی کی ہانڈی سے لے لے۔ پان پتا بھی بی مدی کے پاندان سے کھائے۔

اسی زمانہ میں ایک عورت نہ معلوم کہاں کی باہر سے آئی۔ اس کو بھی بی مدی نے رکھ لیا، عورت سلیقہ مند تھی۔ اپنا بار بھی ان پر نہیں ڈالتی تھی۔ بلکہ پیسے دو پیسے کا سلوک خود ہی کردیتی تھی۔ کچھ انگوٹھیاں، کچھ کیلیں، لیس، صابون وغیرہ بیچتی تھیں۔ صبح ہوئی اور برقع اوڑھ کر نکل گئیں۔ دوپہر کو آئیں۔ کھانا کھایا، آرام کیا۔ اس کے بعد پھر نکل گئیں۔ شام کو لوٹیں۔ یہ مسماۃ آئی تھیں تو یہ کہہ کر کہ دوچار دن میں سودا کرکے دوسری جگہ چلی جائیں گی، مگر مدی سے کچھ ایسی پرگت ملی کہ گھر کی طرح رہنے لگیں۔ محبت و یگانگی کی وہ پینگیں بڑھیں کہ سگی بہنیں مات تھیں۔ صورت شکل کی تو معمولی تھیں مگر قد کشیدہ تھا۔ جب برقع اوڑھ کر راستہ چلتی تھی تو معلوم ہوتا تھا کہ مرد بھیس بدلے ہوئے چلاآتا ہے۔ چال ڈھال قد کے علاوہ بھی کچھ اور باتیں مردوں کی ایسی تھیں۔ مثلاً ہاتھ پاؤں کے دیکھتے سینہ کم تھا۔ کمر، کولہے، پاؤں کی چوڑی چوڑی ایڑیاں بھی عورتوں کی ایسی نہ تھیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3