چودھری محمد علی رودولوی کا کلاسیک افسانہ: تیسری جنس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مدی کا اصل نام احمدی خانم تھا۔ تحصیلدار صاحب پیار سے مدی مدی کہتے تھے، وہی مشہور ہوگیا۔ مدی کا رنگ بنگال میں سو دو سو میں اور ہمارے صوبہ میں ہزار دو ہزار میں ایک تھا۔ جس طرح فیروزے کا رنگ مختلف روشنیوں میں بدلا کرتا ہے اسی طرح مدی کا رنگ تھا۔

تھی تو کھلتی ہوئی سانولی رنگت جس کو سبزہ کہتے ہیں۔ مگر مختلف رنگ کے دوپٹوں یا ساڑیوں کے ساتھ مختلف رنگ پیدا ہوتا تھا۔ کسی رنگ کے ساتھ دمک اٹھتا تھا کسی رنگ کے ساتھ ٹمٹماہٹ پیدا کرتا تھا۔ بعض اوقات جلد کی زردی میں سبزی ایسی جھلکتی تھی کہ دل چاہتا تھا کہ دیکھا ہی کرے۔ شمع کی روشنی میں مدی کی رنگت تو غضب ہی ڈھاتی تھی۔ کبھی آپ نے دوسرے درجے کی مدقوق کو دیکھا ہے۔ اگر بیماری سے قطع نظر کیجیے تو رنگت کی نزاکت ویسے ہی تھی۔ آنکھیں بڑی نہ تھیں مگر جب نگاہ نیچے سے اوپر کرتی تھی تو واہ واہ۔ معلوم ہوتا تھا مندر کادروازہ کھل گیا، دیبی جی کے درشن ہو گیے۔ مسکراہٹ میں نہ شوخی نہ شرارت، نہ بنوٹ کی شرم نہ لبھاوٹ کی کوشش۔ لکڑی لوہے کے قلم کو کیسے موقلم کردوں کہ آپ کے سامنے وہ مسکراہٹ آجائے۔

بس یہ سمجھ لیجیے کہ خدا نے جیسی مسکراہٹ اس کے لیے تجویز کی تھی وہی تھی۔ مدی اپنی طرف سے اس میں کوئی اضافہ نہیں کرتی تھی۔ اس کے کسی انداز میں بنوٹ نہ تھی۔ ہاتھ پاؤں، قد، چہرے کے اعضا سب چھوٹے چھوٹے مگر واہ رے تناسب۔ آواز، ہنسی، چال ڈھال ہرچیز ویسی ہی۔ میں مدی سے بہت بے تکلف تھا مگر عشاق میں کبھی نہیں تھا۔ اور جہاں تک میں جانتا ہوں کوئی اور بھی نہیں سناگیا۔ ایسی خوبصورت عورت بلامرد کی حفاظت کے زندگی بسر کرے اورعشاق نہ ہوں، بڑے تعجب کی بات ہے۔ مگر واقعہ ہے۔ ایک روز میں نے کہا مدی اگر ہم جادوگر ہوتے تو جادو کے زور سے تم کو تتلی بناکر ایک چھوٹی سی ڈبیا میں بند کرکے اپنی پگڑی میں رکھ لیتے۔ اس فن شریف سے واقف کار حضرات جانتے ہیں کہ جوحربہ میں نے استعمال کیا تھا وہ کم خالی جانے والا تھا۔ مگر اس کے بھی جواب میں وہی بے تکلف مسکراہٹ کی ڈھال جو تلوار کے منہ موڑدے۔

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا

لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

اکثر خیال گزرتا ہے کہ یہ استغنا تحصیلدار مرحوم کی سفید داڑھی کے سایہ میں پرورش پانے کا اثر ہے۔ مگر پھر عقل کہتی تھی کہ جوش حیات نے نہ معلوم کتنی سفید داڑھیوں میں پھونکا ڈالا ہے۔ وہ سفید داڑھی قبر میں بھی پہنچ گئی۔ اس کا اثر کہاں سے آیا۔ بہرحال قصہ سنتے جائیے اور رفتہ رفتہ رائے قائم کرتے جائیے۔ مدی کے ہر انداز میں نسوانیت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ ایک بات البتہ تھی جو گو عورتوں میں بھی ہوتی ہے۔ مگر ہم ایسے بورژوا لوگ اس کو مرد ہی سے منسوب کرتے ہیں۔ یعنی اپنے ہم طبقہ عورتوں میں اور اسی طبقے کے مردوں میں مدی حکومت خوب کرلیتی تھی۔ ہرشخص عورت ہوکہ مرد، ان کا تابع فرمان رہتا تھا۔ اور ان کے اشارے پر چلنے کو تیار۔

اب شروع سے قصہ سنیے۔ تحصیلدار صاحب کا نام کیا کیجیے گا جان کر۔ مرحوم بڑے اچھے آدمی تھے مگر بے عیب خدا کی ذات۔ کچھ خاص خاص کمزوریاں کہی جاتی تھیں۔ پرانی وضع کے لوگ تھے۔ بڑی شان سے تحصیلداری کی۔ لاکھوں کمائے اور ہزاروں اڑائے۔ مگر اولاد نہ ہونے کی وجہ سے ان کی زندگی کچھ بے مرکز کی سی ہوگئی تھی۔ بی بی بہت دن ہوئے مرچکی تھیں۔ کوئی قریب کا عزیز بھی نہ تھا۔ صرف ایک نوکر تھا وہی سیہ سپید کا مالک تھا۔ تنخواہ اسی کے ہاتھ آتی تھی اور جب پنشن ہوئی تو پنشن کابھی وہی حقدار ٹھہرا۔ میاں کے کپڑے اور کھانا بھی میاں حسن علی ہی پسند کرتے تھے۔ حسن علی کسی کام کو بازار گیے۔ دو تھان رادھا نگری ڈوریے کے لیے چلے آتے ہیں۔ میاں کے کرتے بنیں گے مگر میاں کو اس وقت خبر ہوئی جب درزی قطع کرنے لگا۔

”ارے میاں حسن علی یہ ڈوریہ کیسا لائے ہو؟ “

حسن علی: ”آپ کے کرتوں کے لیے۔ ڈوریہ وضعدار ہے۔ سلنے پر اور کھلے گا۔ “

”کھلے گا تو مگر کرتے تو میرے پاس تھے۔ ابھی اس دن شربتی لے آئے۔ آج ڈوریہ لیے چلے آتے ہیں، آخر پوچھ تو لیا ہوتا۔ “

”پوچھ کے کیا کرتا۔ آپ یہی تو کہتے کہ رہنے دو۔ گھر میں ایک چیز ہوگئی۔ برسات کازمانہ ہے۔ دھوبی دیر میں آیا کرے گا۔ دو جوڑے فاضل اچھے ہوتے ہیں۔ “

”خیر بھئی! “

تحصیلدار کھانے پر بیٹھے ہیں۔ ”میاں حسن علی آج کل بازار میں مچھلی نہیں آتی۔ “

”آتی تو ہے مگر گرمیوں کی وجہ سے میں نے نہیں منگوائی۔ اس فصل میں مچھلی نقصان کرتی ہے، صبح کو مرغ پک جائے گا۔ “ تحصیلدار صاحب پر حسن علی کی شخصیت ایسی غالب آئی تھی کہ جو بات وہ پسند کرتے تھے تحصیلدار سمجھتے تھے کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔ اسی وجہ سے غیرذمہ دار لوگ دونوں کا ذکر کرکے مسکراتے تھے۔ اور آپس میں آنکھیں مارتے تھے۔ میاں حسن علی کا استرے سے صفاچٹ چہرہ اور تحصیلدار صاحب کی بھبوڈاڑھی پر چہ میگوئیاں ہوتی تھیں۔ داڑھی مونچھوں کا صفایا صرف انگریزی داں حضرات کا حق ہے۔ اگر حسن علی ایسے اپنی چال چھوڑ کر ہنس کی چال چلیں گے تو اللہ ہی نے کہا ہے۔ لوگ کوئی نہ کوئی نی نکالیں گے۔ بہرحال اصلیت کی خبر خدا کو ہے۔ ہم تو جو کچھ دیکھتے تھے وہ یہ تھا کہ تحصیلدار کا ہمدرد دنیا جہان میں حسن علی کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ حسن علی کو بھی اس سے اچھا آقا اگر چراغ لے کے ڈھونڈتے تو نہ ملتا۔

اللہ میاں نے دو جنسیں بنائی تھیں۔ عورت اور مرد۔ یورپ کے ڈاکٹروں نے تحقیقات کرکے ایک اور جنس ایجاد کی ہے جو اپنے ہی جنس کی طرف راغب ہو۔ اس جنس میں عورتیں بھی شامل ہیں اور مرد بھی۔ اب نہ معلوم تحصیلدار اور حسن علی اس تیسری جنس میں سے تھے یا ویسے ہی تھے جیسے ہم آپ یا بعد کو کچھ اَدل بدل ہوئی۔ اس کو نہ ہم جانتے ہیں نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ جانیں اور ان کا کام۔ ظاہر بظاہر ان دونوں کے افعال سے دوسروں کی سماجی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ اس لیے ہم کو کھوج کی کوئی ضرورت بھی نہیں معلوم ہوتی۔ تحصیلدار صاحب بھاری بھرکم آدمی تھے۔ اولاد نہ ہونے کا دکھڑا کیا روتے مگر اولاد کی تمنا اس بات سے ظاہر ہوتی تھی کہ جب کھانا کھاتے تو حسن علی کی لڑکی احمدی کو بلوا بھیجتے تھے کہ دسترخوان پر بیٹھ جائے۔ اسی وجہ سے کھانا تنہائی میں کھانے لگے تھے۔ نوکر کی لڑکی کو دسترخوان پر کھلائے کچھ اچھا نہیں لگتا تھا۔ اس کے علاوہ اگر سب کے سامنے کھلاتے تو صاحب اولاد نہ ہونے کا رنج اور بچوں کی تمنا لوگوں پر کھل جاتی۔

بی احمدی خانم عرف مدی بیگم کا سن چار برس کا رہا ہوگا۔ دسترخوان پر شوربا گرانا، لقمہ ڈبونے میں دال کا پورا پیالہ گھنگول دینا، بچوں کا شیوہ ہے۔ اور نفیس لوگ اسی وجہ سے بچوں کو الگ کھلاتے ہیں۔ گو کہتے یہی ہیں کہ جوانوں والا کھانا بچوں کو نقصان کرتا ہے۔ مگر تحصیلدار صاحب کو اس میں لطف آتا تھا۔ ادھر دسترخوان پر بیٹھے اور ادھر بی مدی کی طلب ہوئی۔ رفتہ رفتہ مدی خود وقت پہچان گئیں۔ تھوڑے دنوں میں مدی تحصیلدار صاحب ہی کے یہاں رہنے لگیں۔ یا تو گھر میں ایک طرف یہ، ایک طرف چھوٹا بھیا اور بیچ میں حسن علی کی بی بی تھیں یا ان کی پلنگڑی الگ بنی۔ صاف چادر لگائی گئی۔ چھوٹے چھوٹے تکیے بنوائے گیے۔ تحصیلدار صاحب کے پاس ان کی بھی پلنگڑی بچھنے لگی۔ جوتی پہنے رہنے کی تقید ہوئی کہ بچھونا میلا نہ ہو۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
چودھری محمد علی رودولوی کی دیگر تحریریں

Pages: 1 2 3

Leave a Reply