عظمیٰ خان معاملہ معمول کی بات ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحافت میں آیا تو شوبز میں تقریباً 7 سال کام کیا جس کے دوران شوبز کے بہت سے ستاروں کے انٹرویوز کیے، شہنشاہ غزل مہدی حسن کا تفصیلی انٹرویو کیا جب وہ بیماری کے باعث گانا چھوڑ چکے تھے، 90 ء کی دہائی میں معروف گلوکاروں علی حیدر، نجم شیراز، حمیرا ارشد اور کئی کے انٹرویوز کیے، نجم شیراز اور حمیرا ارشد سے دوستانہ تعلق رہا، عطاء اللہ خان عیسی خیلوی کے دو شوز میں منتظمین میں شامل رہا، لالہ سے اچھی گپ شپ بھی رہی، شوبز کی خبریں بھی بریک کیں، شوبز کے لوگوں کو بہت قریب سے دیکھا، 7 سال بعد توبہ کرلی اور سنجیدہ سمجھی جانے والی صحافت کی طرف آ گیا۔

چند روز قبل سوشل میڈیا پر اداکارہ و ماڈل عظمیٰ خان کا معاملہ سامنے آیا، دونوں طرف کے موقف سنے اس میں میرے لئے کوئی بات بھی نئی نہیں تھی، عظمیٰ خان تسلیم کرتی ہیں کہ ان کا عثمان سے تعلق ہے اور دو سال سے دوستی چل رہی تھی، شوبز میں دوستیاں معمول ہے بس آپ کے پاس پیسہ ہو یا کوئی بڑا عہدہ، شوبز کے ستارے ٹوٹ کر خود ہی آپ کی جھولی میں آ گرتے ہیں، اس لئے عظمیٰ خان کا معاملہ غیر معمولی نہیں لگا۔

ایک دن کے ویڈیو کلپس دیکھ کر رائے بنا لی یہ کوئی خبر نہیں ہے، ماضی میں بہت سے ایسے معاملات سامنے آچکے ہیں جو قارئین کو یاد ہوں گے۔ ماضی کی ایک عظیم گلوکارہ کا قصہ کسے یاد نہیں جب اس دور کے ایک کرکٹ سٹار کسی کے آنے پر گھر دیوار پھلانگتے ہوئے اپنی ٹانگ تڑوا بیٹھے تھے۔ پھر جنرل رانی کا کردار تو ہماری تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ جنرل رانی کے قصے باخبر لوگ اچھی طرح جانتے ہیں اور بہت کچھ منظر عام پر آ چکا ہے اس لئے یہاں اس کو دہرانا فضول ہوگا

زیادہ دور کی بات نہیں، ماضی میں بھی ایک معروف گلوکارہ کی طلاق کی کہانیاں تو نئی نسل کو بھی یاد ہوں گی، کیسے ایک پارٹی کا سربراہ دل ہار بیٹھا اور پھر ان کا گھر اجڑ گیا، شریف لوگوں نے اقتدار میں رہ کر اور بہت سے گھر تباہ کیے، طلاقیں دلائیں اور خود شادیاں رچا لیں، ان تمام معاملات میں عشق کہیں نہیں، بس پیسہ اور پاور کی بات تھی۔

سچ کہتے ہیں کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے، اداکارہ عظمیٰ خان اور ”متاثرہ“ خاتون آمنہ کے شوہر عثمان کے درمیان دو سال سے ”عشق“ چل رہا تھا تو انجام یہی ہونا تھا، عام زندگی میں بھی بہت سی بیویاں اپنے خاوندوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ چکی ہیں اور خبریں میڈیا پر آتی رہتی ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کو ”نتھ“ ڈال کر رکھے، میرے نزدیک آمنہ عثمان نے ”ریڈ“ کر کے کوئی نیا کارنامہ سرانجام نہیں دیا، ویسے بہتر تھا کہ وہ اس طرح کرنے کے بجائے شوہر کو ”نتھ“ ڈال کر رکھتیں، بہرحال بیٹی غریب کی ہو یا کسی بڑے کی، گھر سب کو ہی عزیز ہوتا ہے۔

ایک کلپ دیکھا کہ آمنہ عثمان مسلح گارڈز کے ہمراہ عظمیٰ خان پر دھاوا بول دیتی ہے اس سے کوئی غرض نہیں کہ وہ گھر کس کا تھا لیکن جب کوئی وہاں رہائش پذیر تھا تو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، گھر میں دھاوا بولنے کی حمایت میں تو نہیں کر سکتا، بہتر ہوتا کہ وہ اپنے شوہر پر برستیں۔

کلپ جو میں نے سنا اس کے شروع میں خاتون نے پہلے عثمان کی گاڑی دیکھی اور جو الفاظ استعمال کیے وہ سب نے سن ہی لئے ہوں گے، پھر اندر جا کر مار دھاڑ اور توڑ پھوڑ کی، پھر خاتون نے جو زبان استعمال کی وہ زیادہ تر شوبز سے تعلق رکھنے والی خواتین ہی استعمال کرتی ہیں، فرماتی ہیں، کال کرو میڈم کو ، شوبز میں میڈم کا مطلب بہت اچھی طرح سمجھتا ہوں، معلوم نہیں انہیں کس میڈم کی آشیرباد حاصل تھی، ان کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاتون کے تعلقات کہاں کہاں ہیں۔

پھر خاتون کے الفاظ سن کر کانوں سے دھواں نکلنے لگا، چکاں ایناں نوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھئی اتنی بڑی بڑک مارنے کی کیا ضرورت تھی، عظمیٰ خان تو ویسے ہی سہمی ہوئی تھی اوپر سے خاتون کو آنٹی کہہ دیا، جب شکار ایک کنکر سے مر سکتا ہے تو اسے توپ سے کیوں مارا جائے۔ عظمیٰ خان کے ڈر کا اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ وہ اب میڈیا میں سرعام کہہ رہی ہیں ایک بار معافی مانگ لیں میں معاف کردوں گی کیونکہ عظمیٰ خان کو اندازہ ہے کہ اس کا کس بلا سے سامنا ہوگیا ہے۔

آمنہ عثمان نے اپنی دوسری ویڈیو میں الزامات لگائے کہ وہاں شراب و منشیات وغیرہ تھیں تو بہتر تھا کہ خود تھانیدارنی بننے کی بجائے گھر کو گھیر کر پولیس کو بلا لیتیں تو پکا کیس بن جاتا مگر کیا کیا جائے۔

جانتا ہوں کہ آمنہ عثمان نے جس سے چکانے کی دھمکی دی اس کے ریٹائر ہونے والے بہت سے افسران اس بڑی شخصیت کے پاس ملازمت کرر ہے ہیں تو کیا وہ اپنی ماضی کی سروسز کو ان کاموں کے لئے استعمال کر رہے ہیں؟ بہرحال دلچسپ واقعہ ہے، قارئین اس کو ایک شغل کے طور پر لیں کیونکہ اس معاملے میں خاتون نے جس کا نام لے کر دھمکی دی ہے اس سے لگتا ہے کہ ہونا کج وی نئی، ایسے ہی نہیں ریمنڈ ڈیوس باعزت امریکہ چلا گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *