ہر شاخ پہ ٹڈی بیٹھی ہے انجام گلستاں کیا ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کہنا قطعاً غلط نہیں ہو گا کہ دنیا اس وقت تاریخ کے کٹھن اور صبر آزما دور سے گزر رہی ہے، مگر غور کیا جائے تو دنیا کی پیدائش سے لے کر اب تک ہر دن اس کے لئے نئے چیلنج لاتا رہا ہے اور اسی بنا پر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ دنیا اپنی تخلیق سے اب تک زیر تعمیر ہی رہی ہے۔ بنی نوع انسان کو آغاز سے ہی قدرتی آفات کا سامنا رہا ہے ارتقا کے اس سفر میں جہاں ان آفات نے انسانی بستیاں اور آبادیاں تباہ کی زندگی کو مفلوج کیا وہیں انسانوں کو ترقی اور جدت کے سفر پر روانہ بھی کیا۔ اگر آسمان سے بارشیں تیز ہوائیں اور بجلیاں نہ گرتی تو انسان چار دیواری بنانے کا نہ سوچتا۔ اگر سیلاب نہ آتے تو پکے اونچے آج کے جدید مکان شاید نہ ہوتے۔ یہ آفات انسانوں کو بہتر سے بہتر اور منظم کرنے اور زندگی کو دوبارہ سے نئے سرے سے بہتر اور مفید طریقے سے ترتیب دینے کے لئے فائدہ مند بھی ثابت ہوئی ہیں۔ دنیا اپنے آغاز سے اختتام تک انہی آفات کے زیر اثر ترقی اور جدت کی طرف گام زن رہی ہے۔

آج پوری دنیا جہاں کورونا وائرس کے زیر اثر لقمۂ اجل بن رہی ہے، وہیں ایک آفت ٹڈی دل فصلوں کو اجاڑ کر ملکی فوڈ چین کو توڑ کر غذائی قلت اور قحط کا ڈنکا بجا رہی ہے۔ افریقہ کے صحراؤں سے نمودار ہونے والے اس لشکر نے تئیس ممالک پر چڑھائی کر دی ہے۔

تاریخ کے اوراق میں ان ٹڈیوں کی تباہ کاریوں کے قصے جا بجا ملتے ہیں۔ قرآن، بائبل، مہا بھارت اور دیگر مذہبی و الہامی کتابوں میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ قدیم مصر میں ان ٹڈیوں کا پہلا منظم حملہ ہوا، جس کا نتیجہ ایک بڑے قحط کی صورت میں نکلا۔ اس کے بعد ان کے حملے مسلسل ہوتے رہے مگر جدید زرعی طریقوں اور اصطلاحات اور ادویات نے اس کے نقصان کو کم سے کم کر دیا۔

اس ٹڈی کو دیکھ کر نمرود کی ناک میں گھسا، وہ مچھر یاد آتا ہے جس نے اسے تگنی کا ناچ نچایا اور نمرود کی خدائی کو خاک میں ملا دیا۔ خدا کی قدرت بھی عجیب ہے۔ بڑی بڑی طاقتوں کو خاک میں ملانے اور ان کی اوقات دکھانے کے لئے نہایت ہی معمولی اور ادنی چیزوں سے کام لیتی ہے۔ جیسا کہ وہ خانہ کعبہ کی طرف آتے ہاتھیوں کے لشکر کو کچھ چھٹانک بھر وزن ابابیلوں سے ڈھیر کروا دیا۔ یہ ٹڈی دل عذاب ہے یا خدا کی آزمائش، ہمیں اس سے دعا یا دوا سے نپٹنا تو ہے ہی، اس کے لئے اس کو جان لینا بہت ضروری امر ہے۔

یہ چھوٹے سینگ دار گراس ہوپر کی نوع، جسے انگریزی میں لوکسٹ اور اردو میں ٹڈی کہتے ہیں، حشرات الارض کی فیملی ایکریڈائیڈا اور گروپ آرتھوٹیرا سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک عام سبز ٹڈا اور لوکسٹ ساخت کے لحاظ سے ایک جیسے ہی دکھتے ہیں مگر سبز ٹڈا ہمیشہ تنہا رہتا ہے اور لوکسٹ ہمیشہ تنہا نہیں رہتا بلکہ سازگار ماحول میں یہ جھنڈ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ رنگ بدلتے ہیں اور بڑے مسلز بنا لیتے ہیں اور خوراک کی تلاش میں کروڑوں کی تعداد میں اکٹھے ہو کر سوشل گروپ بنا لیتے ہیں جسے علم الحشرات کی زبان میں گریگیریس کہتے ہیں۔

ان کی پاپولیشن ڈینسٹی کے لحاظ سے تین اقسام ہیں۔ چھوٹے مخصوص علاقے میں انہیں آؤٹ بریک کا نام دیا جاتا ہے۔ اس سے بڑے گروپ کو اپ سرج کہا جاتا ہے اور بہت بڑے گریگیرئیس گروپ کو پلیگ کہتے ہیں، جو سب سے خطرناک ہے۔ بائبل میں بھی ان کی تباہ کاریوں کو پلیگ کا نام دیا ہے۔

لوکسٹ عموماً صحراؤں میں تنہا رہتے ہیں اور آبادیوں کا رخ نہیں کرتے مگر جب صحرا میں بارشیں ہوتی ہیں تو یہ موسم مادہ کے انڈے دینے کے لئے سازگار بن جاتا ہے۔ کیونکہ مادہ صرف نم دار جگہ پر انڈے دیتی ہے تا کہ انہیں خشک ہونے سے بچایا جا سکے اور پھر اس موسم میں صحرا کی ریتلی نم دار زمین ان کے انڈوں سے بھر جاتی ہے اور جب انڈوں سے بچے نکلتے ہیں تو انہیں کھانے کے لئے بہت سارہ سبزہ چاہیے ہوتا ہے جو صحرا میں موجود نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے بڑے گریگیرئیس سوشل گروپ کی شکل بنا کر صحراؤں سے آبادیوں اور سبزہ زاروں کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔

یہ اتنی تیزی سے آبادی بڑھاتی ہے کہ دو ٹڈیاں لاکھوں کا لشکر بنا سکتی ہیں اور لاکھوں سے کروڑوں کی تعداد میں یہ کسی بھی گاؤں علاقے کی فصلوں کو تہس نہس کر سکتی ہیں۔ ایک دن کے اندر یہ جھنڈ ایک سو بیس سے دو سو کلو میٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔ یہ بپھرا لشکر اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو پار کر جاتا ہے۔ اگر ان کے رستے میں کوئی بڑا دریا بھی آ جائے تو اسے پار کرنے کے لئے فرنٹ لائن پانی میں اتر جاتی ہے اور ڈوب جاتی ہے۔ پیچھے کا جھنڈ ان مری ہوئی ٹڈیوں پر بیٹھ کر رات گزارتا ہے اور اگلی صبح پھر اسے پار کرتا ہے۔ یہ اپنے وزن کے برابر کھانا کھا سکتی ہیں۔ پیٹ بھرنے کے بعد بھی یہ پتوں کو کترتی رہتی ہیں۔ اگر یہ ایک گاؤں میں شام کے وقت گھس جائیں تو اگلی صبح تک وہاں موجود فصلوں اور باغات کی سبز کا صفایا کر دیتی ہیں اور پیچھے اجڑے کھیتوں پر بین کرتے کسان چھوڑ جاتی ہیں۔

اس کی روک تھام نہایت مشکل کام ہے۔ روایتی دیسی طریقے مکمل اور ٹھوس حل نہیں ہیں۔ کنستر بجا کر ڈھول پیٹ کو انہیں ایک فصل سے تو اڑایا جا سکتا ہے لیکن پورے ملک سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے کیمیکل کا استعمال کیا جاتا ہے، جس کے اپنے سائیڈ ایفیکٹ اتنے ہیں کہ فصل کو اگر ٹڈیوں سے بچا بھی لیا جائے تو ان ادویات اور اسپرے کی وجہ سے مختلف قسم کی بیماریاں فصل کو گھیر لیتی ہیں نیز ان کیمیکلز کے استعمال سے زمین میں موجود دوست کیڑے بھی مر جاتے ہیں۔

سائنسدانوں کی ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک خاص قسم کی مہک جو ٹڈیوں کے جھنڈ بنانے کے لئے سگنل کا کام کرتی ہے اور یہ اکٹھے ہونا شروع ہوتے ہیں۔ ان کے آپس میں جڑنے سے بہت بڑی مقدار میں نیورو ٹرانسمیٹر سیروٹین بھاری مقدار میں ان کی باڈی میں خارج ہونا شروع ہوتے ہیں۔ یہ وہی سیروٹین ہارمونز ہے جو انسانی باڈی میں بھی خوشی اور ورزش کے دوران پیدا ہوتے ہیں اور موڈ کو تبدیل کرنے میں مدد دیتے ہیں سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اگر اس سینٹ میں موجود مختلف کیمیکلز کے کمبینیشن کو جان لیا جائے تو اس سے لوکسٹ کو کنفیوز کیا جا سکے گا۔

مزید یہ کہ لوکسٹ کی باڈی ایک خاص کیمیکل خارج کرتی ہے جو جھنڈ بنانے کے لئے سگنل خارج کرتا اور مادہ کو سیکس کے لئے سگنل بھیجتا ہے۔ اگر اس کیمیکل کو کنٹرول کر لیا جائے تو ان کی آبادی کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے اور سائنسدانوں نے ایسا ہی ایک کیمیکل لیبارٹری میں تیار کر لیا ہے، جس کے اسپرے سے ان کی سیکس کرنے اور جھنڈ بنانے کی طاقت ختم کی جا سکتی ہے۔ مگر اس کا استعمال انہیں ان کے ملاپ سے پہلے کرنا ہو گا، جس کے لئے ان کی لوکیشن کا پہلے سے ہی اندازہ لگانا ہو گا، جو کہ سیٹلائٹ کی مدد سے با آسانی لگایا جاسکتا ہے۔ ان کو روکنے کا موثر حل یہی ہے کہ جس علاقے میں ان کی معمولی سی تعداد کا بھی علم ہو وہاں ان پر اسپرے کر دیا جائے۔

ٹڈی دل کے لئے فضائی اسپرے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ذرائع نے ممکنہ طور پر خبردار کیا ہے کہ جون کے مہینے میں بہت بڑا ٹڈی دل ایران اور سعودیہ کی سرحد سے پاکستان میں داخل ہو گا۔ حکومت کو چاہیے کہ ان سرحدوں پر اسپرے سے بھرے ہوائی جہاز تعینات کر دیے جائیں جو ان کو فرنٹ لائن پر ہی تلف کر دیں۔

زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل کے حملے سے نقصان کا اندیشہ کورونا کے مقابلے ایک ہزار گنا زیادہ ہو سکتا ہے فوڈ سکیورٹی اداروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ ملک میں غذائی قلت سے قحط کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ کورونا سے بھی تیز یہ ٹڈی دل کا حملہ اگر حکومت نے جنگی بنیادوں پر حل کرنے کا نہ سوچا تو یقین کریں پاکستان کو اپنی تاریخ کے بدترین قحط کا سامنا کرنے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ ایک ہی وقت میں دو وباؤں سے نپٹنا مشکل تو ہے مگر ناممکن نہیں۔ انسان نے اس سے بڑی آفات سے مقابلوں میں جیت حاصل کی ہے اور کورونا کا علاج ابھی دستیاب نہیں مگر ٹڈی دل کا علاج زرعی ماہرین اور پوری پوری ذمہ داری کے ساتھ بچاؤ کے طریقوں پر عمل کر کے ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ اگر دیر ہو گئی تو یہ یاد رہے کسانوں کے اس دکھ میں پورے ملک کو رونا پڑ سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عبیداللہ نور کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *