ہر شاخ پہ ٹڈی بیٹھی ہے انجام گلستاں کیا ہو گا

یہ کہنا قطعاً غلط نہیں ہو گا کہ دنیا اس وقت تاریخ کے کٹھن اور صبر آزما دور سے گزر رہی ہے، مگر غور کیا جائے تو دنیا کی پیدائش سے لے کر اب تک ہر دن اس کے لئے نئے چیلنج لاتا رہا ہے اور اسی بنا پر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ دنیا اپنی تخلیق سے اب تک زیر تعمیر ہی رہی ہے۔ بنی نوع انسان کو آغاز سے ہی قدرتی آفات کا سامنا رہا ہے ارتقا کے اس سفر میں جہاں ان آفات نے انسانی بستیاں اور آبادیاں تباہ کی زندگی کو مفلوج کیا وہیں انسانوں کو ترقی اور جدت کے سفر پر روانہ بھی کیا۔ اگر آسمان سے بارشیں تیز ہوائیں اور بجلیاں نہ گرتی تو انسان چار دیواری بنانے کا نہ سوچتا۔ اگر سیلاب نہ آتے تو پکے اونچے آج کے جدید مکان شاید نہ ہوتے۔ یہ آفات انسانوں کو بہتر سے بہتر اور منظم کرنے اور زندگی کو دوبارہ سے نئے سرے سے بہتر اور مفید طریقے سے ترتیب دینے کے لئے فائدہ مند بھی ثابت ہوئی ہیں۔ دنیا اپنے آغاز سے اختتام تک انہی آفات کے زیر اثر ترقی اور جدت کی طرف گام زن رہی ہے۔

آج پوری دنیا جہاں کورونا وائرس کے زیر اثر لقمۂ اجل بن رہی ہے، وہیں ایک آفت ٹڈی دل فصلوں کو اجاڑ کر ملکی فوڈ چین کو توڑ کر غذائی قلت اور قحط کا ڈنکا بجا رہی ہے۔ افریقہ کے صحراؤں سے نمودار ہونے والے اس لشکر نے تئیس ممالک پر چڑھائی کر دی ہے۔

Read more

یہ شخص کب تک یوں اُداس رکھے گا!

جب جب اِس کی تصویریں نظروں سے گُزرتی ہیں اِس کے جانے کا غم غیر ارادی طور پر گھیر لیتا ہے یہ کیسی چاہت ہے کہ جس کا احساس کسی کے جانے کے بعد ہو پتہ لگے کے اُس کے ساتھ تو تعلق ہی بڑا شدید تھا ایسا رشتہ تھا جو لمبی سی ڈور سے بڑی مضبوطی سے دونوں طرف بندھا تھا اب جو ایک سرے سے ٹوٹا ہے تو سمجھ نہیں آ رہی دوسرا سرا جو ہمارے ہاتھ میں

Read more