کیا آپ کامیاب ادیب بننے کے راز جانتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل صاحب!

میں آپ کے کالم بڑی دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔ ان سے مجھ پہ نفسیات کے بہت سے در وا ہوتے ہیں۔ آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ نے بہت سے لوگ دیکھے ہوں گے جو کثیرالجہت منصوبے تشکیل تو دے لیتے ہیں۔ مگر ان کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے۔ مجھے افسوس ہے کہ کبھی تو اس وقت منزل ہاتھ سے نکل جاتی ہے جب دوگام کا سفر باقی نظر آنے لگتا ہے۔ گویا ساحل کے قریب آ کر کشتی گرداب میں پھنس جاتی ہے۔ اس کی وجوہات، تدارک پر روشنی ڈال دیں۔ اور مشورہ دیں کہ ایسے افراد کیا کریں؟ کیا ایک ساتھ بہت سے کام شروع کرنا ہی غلطی ہے یا کام ادھورا چھوڑ دینے کے پیچھے صرف عادت کا ہاتھ ہے؟

مخلص
ارشاد سعیدی

***     ***

محترمی ارشاد سعیدی صاحب!

یہ میرے کالموں کی خوش بختی کہ انہیں آپ جیسا دانشور قاری ملا اور یہ میری خوش قسمتی کہ آپ نے مجھے ایک ادبی محبت نامہ بھیجا۔ آپ نے جو سوال پوچھا ہے وہ بہت اہم ہے کیونکہ میں بہت سے ایسے شاعروں ’ادیبوں اور دانشوروں سے مل چکا ہوں جنہیں اس مسئلے کا سامنا ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایک تخلیقی انسان کے ذہن میں بہت سے خیالات اور سوالات ابھرتے رہتے ہیں جو ایک غزل، ایک افسانہ یا ایک مقالہ بن سکتے ہیں۔ جب کسی ادیب کا ذہن کسی نئے خیال سے حاملہ ہو جاتا ہے تو اسے اس حمل کا خیال رکھنا پڑتا ہے تا کہ وہ اس کے ذہن میں پنپے اور نشوونما پائے تا کہ ایک فن پارہ پیدا ہو۔ اگر فنکار اس نئے خیال کا پوری طرح خیال نہیں رکھ پاتا تو اس کا اسقاط ہو جاتا ہے۔ میں اسے creative miscarriage کا نام دیتا ہوں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بہت سے شاعروں اور ادیبوں کی میزوں کے درازوں میں نامکمل غزلیں‘ نظمیں ’افسانے اور ناول ہفتوں‘ مہینوں اور برسوں پڑے رہتے ہیں اور وہ لکھاری ان نامکمل مسودوں کو دیکھ دیکھ کر کڑھتے رہتے ہیں۔

میرا یہ خیال ہے کہ بہت سے تخلیقی شخصیت رکھنے والے شاعر، ادیب اور دانشور اپنے مزاج میں متلون مزاج ہوتے ہیں۔ بعض اپنی نوکری کی مجبوریوں اور بعض خاندان کی ذمہ داریوں میں اتنے الجھ جاتے ہیں یا تھک جاتے ہیں کہ ان کے پاس اپنے تخلیق کام کے لیے نہ وقت بچتا ہے نہ توانائی۔

میں اپنے ادیب شاعر اور دانشور دوستوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنے تخلیقی کام کے لیے ہر ہفتے ایک خاص وقت مقرر کر لیں اور اس وقت کاغذ اور قلم لے کر بیٹھ جائیں اور اپنے نئے فن پارے کے بارے میں سوچیں۔ ہو سکتا ہے پہلے چند ہفتے وہ سفید کورا کاغذ سفید ہی رہے لیکن پھر ان کے دماغ کو ایک خاص ریاضت کی عادت پڑے گی اور وہ کچھ تخلیق کرنا شروع کرے گا اور آہستہ آہستہ اپنے نئے فن پارے کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گا۔

میں نے برسوں کے تجربے اور مشاہدے سے ادبی کامیابی کے جو راز پائے ہیں وہ آپ سے شیر کرنا چاہتا ہوں ہو سکتا ہے ان سے آپ کو کچھ فائدہ ہو۔

پہلا راز۔

میں نے چند سال پہلے یہ جانا کہ میں جب صبح اٹھتا ہوں تو میرا ذہن تخلیقی کام کے لیے آمادہ ہوتا ہے۔ اس لیے میں نے ہفتہ ’اتوار‘ پیر اور منگل کی چار صبحیں اپنے تخلیقی کام کے لیے مختص کر دی ہیں۔

دوسرا راز۔

چونکہ میں انٹرنیٹ پر باقاعدگی سے کالم لکھتا ہوں تو میں ہر روز اپنے سامنے ان موضوعات کی ایک فہرست رکھتا ہوں جن پر مستقبل میں میں کالم لکھ سکتا ہوں۔ اس فہرست میں ہر ہفتے اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ میں نئے خیالات اور سوالات اس فہرست میں شامل کرتا رہتا ہوں۔

تیسرا راز۔

میں رات سونے سے پہلے اس فہرست کو دیکھتا ہوں اور ایک موضوع کو چنتا ہوں جس پر میں نیا کالم لکھنا چاہتا ہوں اور پھر سو جاتا ہوں۔ صبح اٹھتا ہوں تو یوں لگتا ہے میرا لاشعور میری سیکرٹری اور میری میوس بن کر میرے کالم کے لیے تحقیق کر رہا تھا اور میرے لیے مواد جمع کر رہا تھا۔

چوتھا راز۔

میرے ارد گرد میرے مخلص ادیب اور شاعر دوستوں کا ایک حلقہ ہے۔ میں اپنی ہر نئی تحریر کسی ادیب یا شاعر دوست کو فون پر سناتا ہوں اور ان کی رائے لیتا ہوں اس طرح ہماری ادبی دوستی بھی مضبوط ہوتی ہے اور مجھے اپنے کالم کو بہتر کرنے کے مفت مشورے بھی ملتے ہیں۔

پانچواں راز۔

میں اپنی میز پر دوسرے ادیبوں ’شاعروں اور دانشوروں کی ادب عالیہ کی کتابیں بھی رکھتا ہوں اور جو تحریریں مجھے انسپائر کریں ان کا اردو میں ترجمہ بھی کرتا ہوں یا ان کتابوں پر تبصرہ بھی لکھتا ہوں۔ اس طرح میں زندہ ادیبوں کے ساتھ ساتھ ادب کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ماضی کے ادیبوں سے بھی ہمکلام رہتا ہوں اور عالمی ادب سے استفادہ کرتا ہوں۔

چھٹا راز۔
میری نگاہ میں تخلیقی کاموں کی ایک درجہ بندی ہے۔
سب سے نیچے تراجم یا تبصرے ہیں
ان سے اوپر مضامین اور مقالے ہیں
اور سب سے اوپر افسانہ اور غزل ہیں

پچھلے ہفتے میرے ذہن میں ایک نئے افسانے کی تحریک پیدا ہوئی۔ اس تحریک کے ساتھ میں نے اپنے ادھورے ترجمے اور ادھورے کالم کو چھوڑ دیا اور نیا افسانہ لکھ لیا۔ میں جانتا تھا کہ میں کالم اور ترجمہ بعد میں بھی مکمل کر لوں گا لیکن اگر نیا افسانہ لکھنے کا موقع کھو دیا تو وہ پھر لوٹ کر نہ آئے گا۔

نیا افسانہ اور نئی غزل لانے والی muse بہت حاسد ہوتی ہے۔ اگر آپ اس کو فوراٌ توجہ نہ دیں تو وہ ناراض ہوجاتی ہے۔ میں اسے بہت خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہوں اور اسے ناراض نہیں ہونے دیتا۔

میرا ایک اور مسئلہ بھی ہے اور وہ یہ کہ میری دو میوس ہیں۔ ایک انگریزی کے ادبی تحفے لاتی ہے ایک اردو کے اور ان دونوں کے دلوں میں بھی سوکنوں کی طرح حسد کی آگ جلتی رہتی ہے۔ میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ دونوں کو خوش رکھوں۔ کبھی اس کوشش میں کامیاب ہو جاتا ہوں کبھی نہیں اور پھر مجھے ناراض محبوبہ کو منانا پڑتا ہے۔

ساتواں راز۔

میں ہر نئے سال کی یکم جنوری کو اپنی نئی کتاب کا ادبی خواب دیکھتا ہوں اور پھر سارا سال اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس سال کا خواب ’ہم سب‘ کے کالموں کا انتخاب۔ ۔ ۔ آدرش۔ ۔ ۔ چھپوانا ہے جسے لاہور کے سانجھ پبلشر نے چھاپنے کا وعدہ کیا ہے۔ میں چند مہینوں کے کام کے بعد ایک ہفتے کی چھٹی لیتا ہوں تا کہ نامکمل پروجیکٹ کو مکمل کر سکوں۔

میں مذہبی انسان نہیں ہوں لیکن اپنا تخلیقی کام ایک سیکولر عبادت سمجھ کر کرتا ہوں۔ ایک شاعر ادیب یا دانشور بننا ایک full time job ہے وہ ایک کمٹمنٹ اور ایک ڈسپلن مانگتا ہے۔ اکثر ادیب شاعر اور دانشور اپنی میوس سے فلرٹ کرتے رہتے ہیں اسی لیے وہ میوس بھی ان سے فلرٹ کرتی رہتی ہے۔ اسی لیے ان کی غزلیں نظمیں افسانے اور ناول نامکمل رہتے ہیں۔

محترمی ارشاد سعیدی صاحب!

میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ پہلے اپنے تمام ادبی منصوبوں کی ایک فہرست بنائیں پھر دوسری فہرست بنائیں جس میں سب سے اہم پراجیکٹ سب سے اوپر آئے۔ پھر ہفتے میں چند گھنٹے اپنے تخلیقی کام کے لیے مختص کریں اور پھر اپنے تخلیقی کام کو عبادت سمجھ کر خشوع و خضوع سے کریں۔

میرے بہت سے ادیب شاعر اور دانشور دوست فیس بک اور سوشل میڈیا پر گپ شپ میں اپنے قیمتی تخلیقی وقت کا ضیاع کرتے ہیں۔

میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بعض شاعر اور ادیب میگزین کے ایڈیٹر بن گئے ہیں اس سے ادب کو تو فائدہ ہورہا ہے لیکن ان کی اپنی تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ وہ جب ہر روز دوسرے ادیبوں کی بہت سی تخلیقات پڑھتے رہتے ہیں تو ان کی اپنی حاسد میوس ان سے روٹھ جاتی ہے۔

امید ہے میری ان گزارشات اور معروضات سے آپ کو کچھ فائدہ ہوگا۔
آپ کا ادبی دوست
خالد سہیل

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 346 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *